ہاؤس آف ڈیتھ الارم۔ افسانہ: لیوگی پیرآندیلو۔ اٹلی
HOUSE OF DEATH ALARM.
Luigi Pirandello.
ترجمہ: جاوید بسام۔
مہمان نے گھر میں داخل ہوتے ہی بلاشبہ اپنا نام بتا دیا تھا، لیکن بوڑھی اور لاغر سیاہ فام نوکرانی جس نے اس کے لیے دروازہ کھولا تھا اور جو ایپرن باندھے بندر کی طرح لگتی تھی، اس نے یا تو سنا نہیں یا اس کے بارے میں فوراً بھول گئی۔ یوں وہ بے نام بھلا مانس پونے گھنٹے سے گھر کی خاموشی میں ”وہاں“ انتظار کر رہا تھا۔
”وہاں“ سے مراد نشست گاہ تھی۔
بوڑھی سیاہ فام نوکرانی باورچی خانے میں مصروف تھی۔ اس کے علاوہ گھر میں کوئی نہیں تھا اور اتنی گہری خاموشی چھائی ہوئی تھی کہ کھانے کے کمرے میں کہیں لگی دیواری گھڑی کی دھیمی ٹک ٹک باقی تمام کمروں میں صاف سنائی دے رہی تھی۔ گویا وہ گھر کا دل تھی اور دوسرے کمروں میں موجود نیا اور پرانا فرنیچر جو ترتیب سے رکھا گیا تھا، قدرے مضحکہ خیز لگتا تھا کیوں کہ وہ پرانے رواج کا ہو چکا تھا۔ وہ اس ٹک ٹک کو سنتا اور اس احساس سے کسی طور مطمئن ہوجاتا کہ اس گھر میں کبھی کچھ نہیں ہو گا اور وہ سب یوں ہی بیکار اور سکون سے اپنی جگہ پر کھڑے رہیں گے، بس ایک دوسرے کی تعریف کریں گے، خاموشی سے خود پر افسوس کریں گے یا صرف اونگھتے رہے گے۔
گھر کے ساز و سامان، خاص طور پر پرانے فرنیچر میں ایک روح ہوتی ہے جو اسے اس گھر کی یادوں سے ملتی ہے۔ جہاں وہ اتنے عرصے سے رکھا ہوتا ہے۔ اس امر پر قائل ہونے کے لیے پرانی چیزوں کے درمیان کسی نئی چیز کا ظاہر ہونا کافی ہے۔ نئی چیز میں ابتدا میں روح نہیں ہوتی، لیکن محض اس حقیقت کی وجہ سے کہ اسے چن لیا گیا ہے، وہ اسے حاصل کرنے کی کوشش کرتی ہے۔
یہ قابل توجہ ہے کہ پرانی چیزیں، نئی چیزوں کو کس قدر ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتی ہیں۔ ان کے نزدیک وہ گستاخ اور جھوٹی ہوتی ہیں۔ وہ ابھی کچھ نہیں جانتیں اور نہ جان سکتی ہیں۔ البتہ وہ پرانی چیزیں بھی اب ذرا سی بھی خوش فہمی نہیں رکھتیں۔ اسی لیے وہ ہمیشہ بہت اداس رہتی ہیں۔ وہ اچھی طرح جانتی ہیں کہ یادیں وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جاتی ہیں اور رفتہ رفتہ ان کی روح بھی ان کے ساتھ مر جائے گی۔ یہی وجہ ہے کہ ان کی گدیوں کے رنگ اڑ جاتے ہیں، لکڑی کا فریم مکڑی کے جالوں سے ڈھک جاتا ہے اور وہ وہیں کھڑی رہتی ہیں۔ ایک دوسرے سے بات نہیں کرتیں۔ اگر بدقسمتی سے ان کے ساتھ منسلک کچھ یادیں اب بھی زندہ ہیں تو ان میں واحد ناخوشگوار یاد صرف یہ رہ جاتی ہے کہ وہ باہر پھینکے جانے کے خطرے سے دوچار ہیں۔
مثال کے طور پر پرانی کرسی گہرے غم کے ساتھ یہ سب دیکھتی ہے۔ کیوں کہ اس کے کیڑے کھائی ہوئی گدی کی باریک دھول اس کے سامنے میز کی سطح پر گرتی ہے، جس سے وہ نتھی ہے۔ وہ اس بات سے واقف ہے کہ اس کا وزن اس کی کمزور ٹانگوں پر بہت زیادہ دباؤ ڈالتا ہے، خاص طور پر پچھلی ٹانگوں پر، اور وہ ڈرتی ہے کہ یہ بات کوئی نہیں جانتا، کیا وہ اسے پیچھے سے پکڑ کر اچانک باہر کھینچیں گے؟ جب تک وہ میز اس کے سامنے کھڑی ہے۔ وہ خود کو کسی حد تک پر اعتماد محسوس کرتی ہے۔
بہرحال جو بھی ہو۔ ایسا لگتا ہے کہ یہ تحفظ فراہم کرتی ہے اور کرسی واقعی یہ نہیں چاہتی کہ کیڑا کھائی ہوئی گدی سے گرتی دھول میز کو گندا کرے اور وہ اچانک اسے اٹھا کر اٹاری میں ڈال دیں۔ یہ تمام مشاہدات اور غور و فکر اس بے نام ملاقاتی کے تھے، جسے اس کمرے میں بٹھا کر بھلا دیا گیا تھا۔
وہ شخص جو گھر کی خاموشی میں مکمل طور پر تحلیل ہو گیا تھا، اس میں اپنا نام بھول چکا تھا، ایسا لگتا تھا کہ وہ وہاں اپنی شخصیت کھو بیٹھا ہے، وہ ان چیزوں میں سے ایک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ جس سے اس نے خود کو پہچانا تھا۔ وہ دیوار پر لگی گھڑی کی دھیمی ٹک ٹک کو غور سے سن رہا تھا جو وہاں تھوڑے کھلے دروازے سے واضح طور پر سنائی دے رہی تھی۔
ملاقاتی جامنی مخملی غلاف سے ڈھکی ایک بڑی سیاہ کرسی پر دھنسا بیٹھا بہت چھوٹا اور دبلا لگ رہا تھا۔ وہ اپنے ڈھیلے ڈھالے کپڑوں میں تقریباً ڈوبا تھا۔ اس کے کمزور بازو اور ٹانگیں اس کی قمیض کی آستینوں اور پتلون کے پائنچوں میں کھوئی ہوئی لگ رہی تھیں، بس گنجی سپاٹ کھوپڑی نمایاں تھی جس پر دو تیز چمکتی آنکھیں اور چوہے جیسے گل مچھے تھے۔
میزبان یقیناً بھول چکا تھا کہ اس نے خود اس آدمی کو اپنے گھر مدعو کیا تھا اور مہمان نے کئی بار سوچا کہ کیا اس کے پاس اب بھی یہاں بیٹھ کر میزبان کا انتظار کرنے کا کوئی جواز ہے یا ملاقات کا مناسب وقت ختم ہو چکا ہے۔ البتہ اب اسے اس ملاقات کی کوئی خواہش بھی نہیں تھی۔ اگر میزبان آ بھی جاتا تو وہ اس پر خوش نہیں ہوتا۔
وہ اس کرسی پر اس طرح بیٹھا تھا۔ جیسے اس میں ضم ہو گیا ہو۔ بے حرکت، لیکن اضطراب بھری نگاہوں کے ساتھ جو سامنے مرکوز تھیں، اندر بڑھتی ہوئی بے چینی اور سانس لینے میں خلل کے ساتھ، اسے بالکل مختلف اور کسی خوفناک بات کی توقع تھی۔ وہ گلی سے کسی کی چیخ کا انتظار کر رہا تھا، ایک چیخ جس نے اسے کسی کی موت کی اطلاع دینی تھی، اتفاقاً وہاں سے گزرتے ایک راہگیر کی موت، جو گلی سے گزرنے والے بہت سے دوسرے مردوں، عورتوں، جوانوں، بوڑھوں، بچوں کے درمیان چل رہا تھا، جن کے قدم اور آوازیں اب بھی مبہم طور پر اس تک پہنچ رہی تھیں۔ وہ بس اس کا منتظر تھا۔ جسے اب پانچویں منزل پر اس کمرے کی کھڑکی کے نیچے سے گزرنا تھا۔
یہ سب اس لیے کہ ایک بڑی بھورے رنگ کی بلی آدھے کھلے دروازے سے اندر داخل ہوئی اور مہمان کی طرف ذرا سی توجہ دیے بغیر ہلکی سی چھلانگ لگا کر کھلی کھڑکی پر چڑھ گئی۔ تمام جانوروں میں بلیاں سب سے کم شور کرتی ہیں، اس طرح کے پرسکون اپارٹمنٹ میں بلی ہی بطور پالتو جانور رہ سکتی تھی۔
ایک گل شمعدانی (جیرانیم) کا گملا جس میں گلابی پھول تھے، نیلی مستطیل کھڑکی پر رکھا تھا۔ کھڑکی کا نیلا رنگ جو پہلے روشن اور چمکدار تھا، آہستہ آہستہ بنفشی رنگت اختیار کر گیا، گویا شام کے وقت اندھیرے کی ہلکی ہلکی سانس دور سے اس تک پہنچی تھی۔
کھڑکی کے آگے ابابیلیں تیزی سے اڑ رہی تھیں۔ جیسے دن کی آخری کرنوں کے نشے میں ڈوبی ہوں۔ وہ وقتاً فوقتاً چیخیں مارتیں اور کھڑکی کی طرف تیر کی طرح اڑی آتیں، گویا کمرے میں گھسنے کی کوشش کر رہی ہوں، لیکن کھڑکی کی دہلیز تک پہنچ کر وہ فوری طور پر واپس چلی جاتیں، لیکن سب نہیں۔ ہر بار ایک یا دو چھجے کے نیچے چھپ جاتیں، کوئی نہیں جانتا کہ کیوں اور کیسے؟
یہ سب محسوس کرنے والا بلی کے کمرے میں داخل ہونے سے پہلے ہی تجسس سے مغلوب ہو گیا، وہ کھڑکی کے پاس گیا اور گلابی پھولوں کے گملے کے پاس سے باہر جھانکا، وہ اس کی وضاحت تلاش کرنا چاہتا تھا۔ آخر اس نے دریافت کیا کہ ابابیلوں کے ایک جوڑے نے کھڑکی کے کنارے کے نیچے گھونسلا بنا رکھا ہے، لیکن اس میں کیا خوفناک بات تھی؟
اس سڑک پر چلنے والا ہر شخص اپنی پریشانیوں اور معاملات کے بارے میں سوچوں میں ڈوبا ہوا تھا اور ان میں سے کسی کو بھی یہ خیال نہیں آیا ہو گا کہ اس گلی کے بہت سی عمارتوں میں سے کسی ایک کی پانچویں منزل کی کھڑکیوں میں سے کسی ایک کے نیچے دو ابابیلوں نے اپنے لیے ایک گھونسلہ بنا رکھا ہے اور اسی کھڑکی پر گل شمعدانی سے مزین ایک گملا رکھا ہوا ہے اور وہیں ایک بلی ان ابابیلوں کو پکڑنے کی کوشش کر رہی ہے۔
یہ اور بات ہے کہ وہ سڑک پر چلتے ہجوم کے بارے میں سوچ بھی نہیں سکتا تھا، وہ بلی، جو اس وقت پوری طرح سے تیار ہو کر اس پھولوں کے گملے کے پیچھے چھپی ہوئی تھی اور اپنا سر تھوڑا سا دائیں بائیں گھما کر اس کے پیچھے سے جھانکتی تھی۔ جہاں کھڑکی کے باہر ایک بے پروا پرندوں کا جھنڈ ہوا اور روشنی کے نشے میں بہرہ کردینے والی چیخوں کے درمیان دیوانہ وار پروازیں کر رہا تھا۔ جب وہ بار بار اڑتا کھڑکی کے قریب آتا تو بلی کھڑکی کے ساتھ لٹکی ہوئی اپنی دم کی نوک کو ہلکا سا ہلاتی اور گھونسلے میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے دو ابابیلوں میں سے ایک کو اپنے پنجوں سے پکڑنے کے لیے تیار رہتی، لیکن کمرے میں انتظار کرنے والا صرف وہ اکیلا مہمان یہ جانتا تھا کہ جیسے ہی بلی شکار کے لیے بڑھے گی گملا کھڑکی کے کنارے سے نیچے راہگیروں میں سے کسی ایک کے سر پر گر جائے گا۔
بلی کی بے صبری سے حرکت اسے پہلے ہی دو بار اپنی جگہ سے سرکا چکی ہے اور اب وہ کنارے کے بالکل قریب پہنچ گیا ہے۔ مہمان ہیجانی کیفیت میں بمشکل سانس لے رہا تھا، اس کی سپاٹ گنجی کھوپڑی پر پسینے کے قطرے موتیوں کی طرح نمودار ہو گئے تھے۔ یہ پریشان کن امکان اس کے لیے اس قدر ناقابل برداشت تھا کہ اس کے اندر ایک شیطانی خواہش پیدا ہوئی کہ خاموشی سے کھڑکی کے پاس جائے اور جھک کر اپنی انگلی بڑھا کر بلی کے ایسا کرنے کا انتظار کیے بغیر خود ہی اس ملعون گلدان کو نیچے پھینک دے۔ اب وہ لامحالہ معمولی دھکے کا محتاج تھا، بس اور کچھ نہیں کیا جا سکتا تھا۔
اس گھر کی گہری خاموشی سے مکمل طور پر تھک کر اس کے پاس کچھ بھی نہیں بچا تھا۔ وہ بالکل خاموش ہو گیا۔ جسے دیواری گھڑی کی دھیمی ٹک ٹک سے نشان زد کیا جاسکتا تھا۔ یہاں اوپر وہ اس حادثے کا خاموش اور بے حس گواہ بن گیا جو نیچے والی سڑک پر ہونے والا تھا اور جس کا کسی کو علم نہیں تھا۔ اپنے ذہن میں غور فکر کرنے کے بعد وہ جان گیا تھا کہ اسے یہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔ وہ یقین کر سکتا تھا کہ اس وقت کمرے میں کوئی نہیں تھا اور وہ کرسی جس پر وہ بدقسمتی کے وہم سے بندھا ہوا تھا۔ وہ یہاں کھڑکی پر نیچے نامعلوم راہگیر کے سر کے اوپر لٹکی ہوئی ہے۔ اس پر کسی کا قبضہ نہیں تھا۔
اس کے لیے اس حقیقت میں مداخلت کرنا بیکار تھا، یہ قدرتی طور پر بلی، گملے اور ابابیلوں کے گھونسلے کے درمیان پیدا ہونے والا تعلق تھا۔
پھولوں کا گملا یہاں کھڑکی پر سجاوٹ کے لیے تھا۔ اگر ملاقاتی اسے ہٹا دیتا تاکہ وہ سانحہ نہ ہو تو اس میں صرف ایک دن کی تاخیر کر دیتا۔ کل بوڑھی سیاہ فام نوکرانی پھر پھولوں کے گملے کو کھڑکی پر رکھ دیتی، کیوں کہ یہ اس کے لیے صحیح جگہ تھی اور بلی جو آج بھگائی گئی ہے، کل پھر واپس آ کر دو ابابیلوں کا شکار کرتی۔
سب کچھ ناگزیر تھا۔
پھولوں کا گملا کھڑکی کی دہلیز پر اور آگے بڑھ گیا۔ اب وہ چھت کے نچلے کنارے سے پوری انگلی کے برابر آگے نکلا ہوا تھا۔ ملاقاتی اتنی کشیدگی برداشت نہ کر سکا اور بھاگ کھڑا ہوا۔ وہ تیزی سے سیڑھیوں سے نیچے کی طرف دوڑا اور اسی لمحے اسے یہ خیال بجلی کی طرح چھو گیا کہ وہ اس لمحے اپنے آپ کو سڑک پر پائے گا جب کھڑکی سے گل شمعدانی کا گملا سیدھا اس کے سر پر گرے گا۔
ختم شد۔
لیوگی پیرآندیلو ( 1867۔ 1936 ) سسلی میں 28 جون 1867 کو پیدا ہوا۔ وہ اطالوی تھا۔ بون یونیورسٹی سے 1891 میں فلسفے میں ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی، کچھ سال پروفیسر کی حیثیت سے تدریس کا پیشہ بھی اپنایا۔ اس کی صلاحیتوں کا اظہار ڈرامے، افسانے کے علاوہ تنقید اور شاعری میں بھی ہوا۔ بعض نقاد اور عالمی ادب کے ان گنت قاری آج تک یہ فیصلہ نہ کر سکے کہ وہ بڑا ڈرامہ نگار تھا یا افسانہ نگار۔ تاہم اسے 1934 میں نوبل انعام ایک عظیم ڈرامہ نگار کی حیثیت سے دیا گیا۔
اس کا سب سے مشہور اور رسوا زمانہ ڈرامہ ”سکس کریکٹر ان سرچ آف این آتھر“ ہے۔ جسے عالمی ڈرامے میں ایک کلاسک کا درجہ حاصل ہے۔ اس نے عالمی ادب کو بعض ایسے افسانے دیے جو ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ پیرآندیلو آفاقی تاثیر رکھنے والا مصنف تھا۔ اس کی کہانیوں میں انسانی رشتوں کی ان سچائیوں کا معنی خیز اظہار ہوتا ہے جن سے معاشرہ تعمیر ہوتا ہے اور انسانی زندگی کا نقشہ بدل جاتا ہے۔ اس کا انتقال 10 نومبر 1936 کو روم میں ہوا۔


