جنوبی افریقہ اور اسرائیل: اٹھا لیتے ہیں ایسا بوجھ بھی کچھ ناتواں اکثر


”ارے یہ سب تو میرے اس گھر جیسا ہے۔ ، جہاں میں پیدا ہوا، بڑا ہوا، باشعور ہوا۔ اور پھر اس سب سے نجات پائی۔ ایک دن تم بھی وہ دن ضرور دیکھو گے“ ۔

جنوبی افریقہ کی تحریک آزادی کے ہیرو آرچ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو جب مغربی کنارے کے دورے پر پہنچے۔ فلسطینیوں کے ساتھ اسرائیلی فوج اور پولیس کا رویہ اور چیک پوسٹوں کا جال دیکھا تو بے ساختہ مذکورہ بالا الفاظ کہے۔ انہی کے ملک نے اسرائیل کو ”آئی سی سی ’کے کٹہرے میں لا کھڑا کیا ہے۔

آئی سی سی عالمی عدالت ہے جو بین الاقوامی نوعیت کے جرائم، نسل کشی، انسانیت کے خلاف اقدامات اور جارحیت سے متعلق قضیے نمٹاتی ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے تحت اٹلی کے دارالحکومت روم میں جولائی 1998 ء کو کانفرنس منعقد ہوئی جس میں عالمی جرائم کی تحقیقات کے لیے ایک عدالت کے خد و خال پر غور ہوا۔ کئی مشاورتی اجلاسوں کے بعد ”ضابطہ روم“ پر اتفاق ہوا۔ یکم جولائی 2002 ء کو آئی سی سی کا قیام ہوا۔ دنیا کے 123 ممالک اس عدالت کے سامنے جواب دہ ہیں۔ ”ضابطہ روم“ کے تحت اقوام متحدہ کے رکن ممالک کی قانونی جغرافیائی حدود آئی سی سی کے دائرہ اختیار میں شامل ہیں۔ عدالت ہالینڈ کے شہر ”دی ہیگ“ میں مقدمات کی سماعت کرتی ہے۔ آئی سی سی کے چیف جج کو صدر اور دو معاونین کو نائب صدور کہا جاتا ہے۔ ججز کی تعداد 12 ہے۔

جنوبی افریقہ پہلا ملک ہے جس نے ایک نسل پرست، نسل کش ریاست اسرائیل کو عالمی عدالت انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کر کے یہ تاثر توڑ دیا کہ اسرائیل پر کوئی ہاتھ نہیں ڈال سکتا۔ یہ کار خیر غیر مسلم ریاست کے ہاتھوں انجام پانا مسلم ممالک کے لیے تو تازیانہ ہے مگر اسے روایتی یہود مسلم دشمنی سے تعبیر نہیں کیا جا سکتا۔

جنوبی افریقہ نے 29 دسمبر 2023 ء کو 48 صفحات کی درخواست میں کہا ہے کہ اسرائیل اقوام متحدہ کے 1948 ء میں جاری کردہ کنونشن ”نسل کشی کا مطلب ہے کسی قومی، نسلی یا مذہبی گروہ کو مکمل یا جزوی طور پر تباہ کرنے کے ارادے سے کارروائیاں کرنا اور شدید جسمانی نقصان پہنچانا“ کی خلاف ورزی کا مرتکب، غزہ میں نسل کشی کر رہا ہے۔ 7 اکتوبر 2023 ء سے جاری جنگ میں اسرائیل شہری آبادی کو نشانہ بنا رہا ہے۔ ہسپتال، پناہ گزینوں کے کیمپس محفوظ نہیں۔

غزہ کی 75 فیصد آبادی کو بے گھر اور غزہ کا انفراسٹرکچر برباد کرچکا ہے۔ 24 ہزار سے زائد فلسطینی، 9 ہزار سے زائد بچے شہید، 115 سے زائد صحافی جاں بحق اور 60 ہزار سے زائد فلسطینی زخمی ہیں۔ اقوام متحدہ کے امدادی رضا کار بھی نشانے پر ہیں۔ عالمی عدالت غزہ میں جنگ روکنے کے احکامات جاری کرے۔ جنوبی افریقہ کی نمائندگی کرنے والے وکلاء میں وزیر انصاف رونالڈ رامولا بھی شامل ہیں۔ امریکا، برطانیہ اور فرانس کی سرپرستی سے اسرائیلی وزیراعظم اور وزراء کھل کر یہ کہہ رہے ہیں کہ غزہ کی پوری آبادی کو ہلاک کرنا پڑا تو وہ یہ کام کر گزریں گے۔

امریکی سینیٹر اور سابق صدارتی امیدوار برنی سینڈرز نے غزہ میں وحشیانہ کارروائیوں اور فلسطینیوں کی نسل کشی کی مذمت کرتے ہوئے کانگریس سے مطالبہ کیا ہے کہ اسرائیل کی فنڈنگ فوری طور پر روک دی جائے۔ امریکی ٹیکس دہندگان کو غزہ میں مزید خواتین، بچوں اور معصوم فلسطینیوں کے قتل عام میں شریک جرم نہ بنایا جائے۔ عالمی عدالت اس قضیے کا فیصلہ ماہرین کے اندازے کے مطابق آئندہ چند ہفتوں میں سنا سکتی ہے۔ اگر عالمی عدالت اسرائیل کے خلاف فیصلہ دیتی ہے، تو اس سے فلسطینیوں کے حقوق کی حمایت کرنے والی عالمی وکالت اور سرگرمیوں کو تقویت مل سکتی ہے۔

جنوبی افریقہ کبھی اسرائیل کی طرح نسل پرست تھا اور دونوں میں گاڑھی چھنتی تھی۔ اسرائیل اور جنوبی افریقہ اس دور کے تعلقات کا مختصر خلاصہ یہ ہے۔

•اسرائیل قائم ہوتے ہی نسل پرست گوری اقلیتی وزیر اعظم ڈینیل ملان نے دورہ کیا۔ • 1961 میں جنوبی افریقہ کے وزیر اعظم ہنڈرخ ورورڈ نے تل ابیب میں کہا کہ ”ہم دو نظریاتی نسل پرست دوست ریاستیں ہیں۔ “

• 1975 میں دونوں ریاستوں نے نسل پرستی کو نظریے کی شکل دینے کے لیے ایک مشترکہ سیکرٹیریٹ تشکیل دیا۔

• 1976 میں جنوبی افریقہ کے وزیر اعظم جان وورسٹر نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ وورسٹر دوسری عالمی جنگ کے دوران برطانیہ میں نازی ہمدردی پر قید میں رہے۔ یہ جاننے کے باوجود ان کا اسرائیل نے بھرپور استقبال کیا۔

•اس دورے کے بعد فوجی افسروں کو تربیت کے لیے اسرائیل بھیجا جانے لگا۔ 1981 تک 200 اسرائیلی فوجی مشیر بھی جنوبی افریقہ کی نسل پرست فوج سے منسلک تھے۔

•اسرائیل نے جنوبی افریقہ کی ایلیٹ کمانڈو یونٹ کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا، جس کے ذریعے جنوبی افریقہ اور اردگرد کے ممالک میں افریقن نیشنل کانگریس سمیت دیگر حریت پسند سیاہ فام تنظیموں کی سرکوبی کی جاتی۔

• اسرائیل نے پی ایل او کے ”دہشت گردوں“ سے نپٹنے کا تجربہ جنوبی افریقہ کے نسل پرستوں کو منتقل کیا۔

•اسرائیل نے امریکی ٹیکنالوجی سے استوار کردہ اپنی اسلحے کی صنعت جنوبی افریقہ پہنچائی اور جدید الیکٹرانکس آلات و اسلحہ سازی کی مقامی صنعت استوار کرنے کے لیے ہر طرح کی مدد دی۔

•جنوبی افریقہ کے عالمی اقتصادی و اسٹرٹیجک بائیکاٹ کے باوجود اسرائیل اقوام متحدہ کا واحد رکن تھا جس نے اسی کی دہائی میں جنوبی افریقہ کو پونے دو ارب ڈالر کے 60 لڑاکا طیارے فروخت کیے۔ جنہیں ہمسایہ ممالک انگولا، موزمبیق اور زیمبیا میں قائم ”اے این سی“ کے ٹھکانوں پر حملوں کے لیے استعمال کیا گیا۔

•اسرائیل کے جوہری پروگرام کی بقا کے لیے جنوبی افریقہ کے یورینیم کی بنیادی اہمیت تھی۔ اس کے بدلے اسرائیل نے جنوبی افریقہ کو فوجی سطح کی جوہری افزودگی کی صلاحیت اور میزائل ٹیکنالوجی فراہم کی اور ’کولڈ بلاسٹ ”کے ذریعے اسے ایک خاموش جوہری طاقت بنایا۔

• نسل پرست حکومت کے خاتمے کے بعد انکشاف ہوا کہ جنوبی افریقہ نے چھ ایسے ایٹم بم بنا لیے تھے جیسا ہیروشیما پر گرایا گیا تھا۔

•نوے کی دہائی میں پی ڈبلیو بوتھا آخری وزیر اعظم تھے جنھوں نے اسرائیل کا دورہ کیا۔ جنوبی افریقہ میں نسل پرست حکومت کے خاتمے نے اسرائیل کو براعظم افریقہ میں اپنے سب سے قریبی حلیف سے محروم کر دیا۔

اپارتھائیڈ (نسلی تقسیم) نظام کے زوال کے بعد جنوبی افریقہ میں اکثریتی سیاہ فام حکومت نیلسن منڈیلا کی سربراہی میں قائم ہوئی۔ 27 سالہ قید سے رہائی کے بعد منڈیلا نے کہا کہ ”جنوبی افریقہ کی آزادی فلسطین کی آزادی کے بغیر نامکمل ہے۔“ جب وہ تحریک آزادی میں ساتھ دینے والوں سے ملنے زیمبیا پہنچے تو یاسر عرفات بھی استقبالیہ قطار میں کھڑے تھے۔ منڈیلا کے فلسطینیوں کے بارے میں کہے جملے کی لاج جنوبی افریقہ کی ہر حکومت نے رکھی۔

منڈیلا حکومت کے بعد جنوبی افریقہ نے اسرائیل سے سفارتی و اقتصادی تعلقات تو برقرار رکھے۔ البتہ خارجہ پالیسی اس طرح بدلی کہ پی ایل او کو تسلیم کیا گیا۔ رام اللہ میں جنوبی افریقہ کا سفارتی دفتر قائم ہوا۔ کیپ ٹاؤن کے شہریوں نے فلسطینی اتھارٹی کو 2015 میں نیلسن منڈیلا کا مجسمہ پیش کیا۔ جو اس وقت رام اللہ کے منڈیلا اسکوائر میں نصب ہے۔ جنوبی افریقہ نے نسل پرستی اور نسل کشی کا زہر اور اس کے اثرات بھگتے ہیں اسی لیے اجتماعی بے حسی کے ماحول میں جب سب گوشۂ عافیت کے متلاشی تھے اور ہیں منڈیلا کا پیروکار فلسطینیوں کی مظلومیت کا جو بوجھ کوئی اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوا اپنے ناتواں کاندھوں پر اٹھائے عالمی عدالت انصاف میں کھڑا ہے :

”اٹھا لیتے ہیں ایسا بوجھ بھی کچھ ناتواں اکثر“
خدا کرے کہ بشپ ڈیسمنڈ ٹوٹو کی پیش گوئی فلسطینیوں کی آزادی کی صورت میں جلد پوری ہو۔

Facebook Comments HS