زخمی ان داتا۔ کوہ کارونجھر
رائٹرز اینڈ ریڈرز کیفی آرٹس کونسل کراچی کی مہربانی جس نے ہمیں آپ سے مخاطب ہونے کا موقع دیا۔
سب سے پہلے میں اس فورم سے کراچی سندھ کے بیٹے دو معزز جج صاحبان جسٹس ارشد حسن خان اور جسٹس شفیع صدیقی صاحب کو خراج عقیدت پیش کرتا ہوں جنھوں نے کارونجھر کا فیصلہ اس طرح لکھا جس طرح ایک زمین زاد کو یہ فیصلہ لکھنا چاہیئے تھا۔ یہ دھرتی قیامت تک ان دونوں معزز جج صاحبان پر اتنا ہی فخر کرے گی جتنا وہ گورے انگریز سے لڑنے والے زمین زاد ہیرو روپلو کولھی کی امر موت پہ کرتی آئی ہے۔ انھوں نے اپنے فیصلے میں لکھا کہ کارونجھر نامی کوئی پہاڑ مائننگ کے لیے زمین پر موجود نہیں ہے اور کارونجھر کی تہذیبی اہمیت اس کی اقتصادی اہمیت پر حاوی ہے۔ میں غریب آدمی ہوں وہ فیصلہ لکھنے والا قلم پیسوں سے تو خرید نہیں کر سکتا لیکن میری نظر میں اس قلم کی قیمت میری ماں کی ردا ہے جو میں ساتھ لایا ہوں۔
وہ ہمیں ڈراتے ہیں کبھی کسی کا ایجنٹ بولتے ہیں کبھی کسی کا ایجنٹ بولتے ہیں۔ ہم کسی کے ایجنٹ ہوتے تو سب سے پہلے آپ کے ایجنٹ ہوتے۔ ہم تو اپنی دھرتی کا نمک ہیں اپنے پہاڑ کے ایجنٹ ہیں۔
تھرپارکر کے صحرا اور رن آف کچھ کے بیچ میں ایک گلاب جیسا پھول کھلا ہوا ہے۔ آپ جب اس گلابی پہاڑ کو دیکھیں گے تو دیکھتے رہ جائیں گے۔ یہ قدرت کی آرٹ گیلری ہے۔ اس کا ہر ایک پتھر ایک تراشی ہوئی مورت ہے۔ پتھر آپ سے بات کریں گے گفتگو کریں گے۔
سرائیکی زبان کا لیجنڈ شاعر رفعت عباس کہتا ہے کہ یہ کوئی تہذیب ہے جو پتھرا گئی۔
اب سرکار اس حسین پہاڑ کو معدنیات کے نام پر کاٹنا چاہتی ہے۔ مقامی لوگ اس کو بچانے کے لیے پریشان ہیں، پرامن احتجاج کرتے ہیں۔ پہ پہاڑ دنیا میں سب سے پہلے نمودار ہونے والے دوچار پہاڑوں میں سے ایک ہے۔ اس کو پری کئبرین پہاڑ کہا جاتا ہے۔ ایک اندازے کے موجب اس کی عمر ڈھائی ارب سال ہے۔
ڈھائی ارب سال سے یہ پہاڑ مقامی لوگوں کا ان داتا ہے۔ یہ ہمارا باپو ہے جو ہمیں پالتا ہے۔ یہ ہماری میا ہے جو ہمیں لوریاں سناتی ہے۔ یہ پہاڑ خدا نے اپنی طرف سے ہم لوگوں کو پالنے کے لیے بنایا ہے لیکن سرکار اس حاشیے پر رہنے والوں کو خدا کی مخلوق ہی نہیں سمجھ رہی۔ سرکار خدا کی خدائی سے انکار کرنے جا رہی ہے۔ وہ اس پہاڑ کو زندگی نہیں معدنیات کا تودہ سمجھ رہی ہے۔ پہاڑ مقامی لوگوں کے لیے اور ان کی زمینوں کے لیے میٹھے پانی کا واحد وسیلہ ہے۔
زیر زمین پانی کڑوا ہے اور پہاڑ کے چاروں طرف پانی میٹھا ہے۔ جہاں سے مقامی لوگ خود بھی پانی پیتے ہیں اور اپنی زمینوں کو بھی سیراب کرتے ہیں۔ یہاں گزشتہ ایک سال میں ایک ارب روپے کی صرف پیاز ہوئی ہے۔ یہ مال مویشی کی چراگاہ ہے۔ دنیا سے ناپید ہونے والے جانوروں پرندوں درختوں اور جڑی بوٹیوں کا وطن ہے۔ ہماری لوک داستانیں اس پہاڑ سے وابستہ ہیں۔ مہا بھارت کے یدھ میں پانڈووں نے یہاں آ کے پناہ لی تھی۔ پار رشی نے یہاں تپسیا کی۔
گنگا کے بعد ہندومت کا بڑا تیرتھ ساڑدھرو دھام اس پہاڑ میں ہے جہاں ہندو مذہب کے لوگ اپنے پیاروں کی باقیات جل میں بہاتے ہیں۔ جین مت کا ایک پیشوا یہاں رہا ہے۔ جین مت کے لیے یہ پہاڑ مکہ مدینہ جیسا ہے۔ کیا ہم غار حرا کو معدنیات کہ سکتے ہیں۔ نہیں، تو ہندو مت اور جین دھرم کے اس مقدس پہاڑ کو ہم معدنیات کیسے کہہ رہے ہیں۔ کارونجھر پہاڑ اور رن آف کچھ کا یہ ایریا رامسر سائیٹ ہے۔ ہم رامسر کے سنگنیچری ہیں۔ پاکستان میں گدھ چھانگا مانگا کے بعد صرف کارونجھر میں ملتا ہے۔
ہائینا افریکا کے بعد صرف کارونجھر میں ملتا ہے۔ ابھی ایک پرندہ کارونجھر میں ملا ہے جو اسی سال کے بعد دیکھا گیا ہے۔ کیا آپ ان جانوروں پرندوں اور درختوں کو پاکستان کا شہری نہیں مانتے کیا آپ پارکر کے غریب لوگوں کو اس ملک کا شہری نہیں مانتے۔ کیا وطن صرف سرمایہ داروں اور حکمرانوں کا ہے۔ آپ نے کوئلے سے ڈرٹی انرجی پیدا کی۔ اب وہاں لوگ بیماریوں اور آسمانی بجلی گرنے کی وجہ سے بے کسی سے مر رہے۔ کیا وہ اس ملک کے شہری نہیں ہیں۔ آپ ہمیں آنکھیں دکھا کے ہمارا پہاڑ ہمیں سے چھننا چاہتے ہیں۔ ہم نے تاتاریوں عربوں منگولوں اور گوروں کی آنکھیں دیکھی ہیں ہم آپ کی آنکھیں بھی دیکھ لیں گے لیکن ہم اپنے پہاڑ کو اپنے پرندوں کو اپنے جانوروں کو اکیلا نہیں چھوڑیں گے۔
آندھیو تم نے درختوں کو گرایا ہو گا
پھول سے لپٹی ہوئی تتلی گرا کر دیکھو
سندھ وائلڈ لائف ایکٹ 2020 میں لکھا ہے کہ آپ یہاں سے گرے ہوئے درخت کی سوکھی ہوئی لکڑی نہیں اٹھا سکتے۔ آپ یہاں آگ نہیں جلا سکتے۔ آپ یہاں تیل گیس ڈھونڈنے کے لیے بور نہیں کر سکتے۔ یہاں تک کہ آپ زلزلہ کی پیمائش کے لیے بھی زمین میں کوئی ایکٹیوٹی نہیں کر سکتے تو کیا آپ اپنے ملک کے قانون کو نہیں مانتے۔ آپ رامسر کنوینشن کے سگنیچری ہیں کیا آپ رامسر معاہدے کو بھی نہیں مانتے۔ پارکر اور گجرات زلزلے کے زون میں ہیں اور پہاڑ زلزلوں سے بچاتے ہیں۔
آج ننگرپارکر میں زلزلہ آیا ہے گھروں میں دراڑیں پڑ گئی ہیں۔ یہ پہاڑ کاٹ کر آپ ہمیں زلزلوں کے حوالے کر رہے ہیں۔ کارونجھر آراولی جابلو سلسلے سے منسلک ہے۔ سائنس اور لوکل وزڈم دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ جو بادل مشرق کو جاتے ہیں ان کو یہ پہاڑ نارتھ کی طرف موڑتا ہے۔ مطلب کہ صحرا تھر سے روہی چولستان تک سانون کی برساتیں اسی پہاڑ کی مرہون منت ہیں۔ آپ پورے خطے سے اس کا ایکو سسٹم چھیننا چاہتے ہیں۔ یہ پہاڑ کاٹ کے بیچو گے تو ایک سال دو سال سو سال میں ختم ہو جائے گا۔ اگر یہ پہاڑ یہاں موجود رہا تو قیامت تک ہماری پیڑھیوں کو پالے گا۔ ہماری زمینوں کو سیراب کرے گا۔ ہمارے ہاں سانون کی برساتیں ہوں گی۔ ہم زلزلوں سے محفوظ رہیں گے۔ ہماری نایاب جنگلی جیوت سلامت رہے گی ہماری لوک کتھائیں سلامت رہیں گی۔


