گریٹ گیم اور وادی درکوت میں جارج ہیورڈ کا قتل
گریٹ گیم ایک سیاسی اور سفارتی محاذ آرائی تھی جو ماضی کی عالمی سپر پاور تاج برطانیہ اور روسی سلطنت کے درمیان افغانستان اور سینٹرل و ہائی ایشیاء سمیت جنوبی ایشیاء میں بالادستی کے لئے انیسویں صدی کے بیشتر وقت جاری رہی جس کا مرکز گلگت بلتستان تھا۔
گریٹ گیم 1870 میں شروع ہوئی اور اس کے آغاز سے ہی برطانوی راج کو روسی سلطنت سے خطرہ محسوس ہوا اور روسی فوجی پیش قدمی کے پیش نظر انہوں نے گلگت بلتستان پر مفصل تحقیق کے لئے مختلف افراد کو مہم جوئی پر روانہ کیا۔ گریٹ گیم کے دوران گلگت میں تعینات برطانوی پولیٹیکل ایجنٹ جان بڈلف Tribes of the Hindoo Koosh
نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ ”یہ میری خوش قسمتی ہے کہ میں نے کوہ ہندو کش کے پہاڑی سلسلوں کے مشرقی اطراف کے دونوں حصوں میں واقع بہت سارے ممالک کا دورہ کیا ہے۔
اس سے قبل ان ممالک کے بارے میں معلومات دستیاب نہ ہونے کے برابر تھی، ان میں سے بعض ممالک کا اس سے قبل کسی بھی یورپی باشندے نے دورہ نہیں کیا تھا۔
البتہ اس سے قبل 18 جولائی 1870 ء میں یاسین آنے والے ایک انگریز مہم جو George Whitaker Hayward کا وادی یاسین کے گاؤں درکوت میں سفاکانہ قتل کیا گیا تھا۔
جارج ہیوڑ ”درکوت پاس“ پار کر کے پامیر کے خطے میں داخل ہونا چاہتے تھے، لیکن اسے وادی درکوت میں سفاکانہ طور پر قتل کیا گیا اس وجہ سے وادی درکوت قابل ذکر ہے۔
بقول لیفٹیننٹ کرنل بڈلف جب آپ وادیٔ ”درکوت پاس“ تک پہنچتے ہیں تو سنٹرل ایشیاء کے مشہور دریا ”Oxus River“ جسے دریا امو بھی کہا جاتا ہے کا مشرقی کنارہ صرف دو دن کے سفر کی دوری پر واقع ہے۔ جبکہ ہندو کش کے دامن میں آباد ورشگوم کے لوگ اور کوہ قراقرم کے دامن میں آباد ہنزہ اور نگر کے لوگ بروشو قبیلے سے تعلق رکھتے ہیں۔ ورشگوم کے لوگ وہی زبان بولتے ہیں جو ہنزہ اور نگر میں بولی جاتی ہے۔ البتہ لہجے میں تھوڑا سا فرق ہے ”۔
تاریخ گلگت۔ بلتستان میں بروشال ایک ریاست رہی ہے جس سے تبت کے ریکارڈ میں بروزا کہا گیا ہے۔
جرمن اسکالر کارل جیٹمار کے بقول ”ہنزہ، نگر، گلگت سے شمالی چترال تک کا یہ علاقہ ماضی میں لیٹل بلور کے نام سے مشہور تھی جبکہ بلتستان کو گریٹ بلور کہا جاتا تھا، لیٹل بلور اور گریٹ بلور پر مشتمل بلور ریاست ایک اہمیت کی حامل آزاد خودمختار شاہی ریاست تھی۔
تاریخ کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ وادی گلگت کے ان پہاڑوں میں تبت اور چین نے 745 صدی عیسوی میں ایک خونی جنگ لڑی جس کی وجہ سے ریاست بلور ٹوٹ گئی اور یہ علاقہ بیرونی تسلط میں گیا جس کے نتیجے میں کئی چھوٹی آزاد شاہی ریاستیں وجود میں آئی جو تاج برطانیہ اور ڈوگرہ افواج کے گلگت بلتستان پر قبضہ تک برقرار رہی۔
بعد ازاں نیم خود مختار چھوٹی شاہی ریاستیں بھی موجود رہی مثلاً گلگت بلتستان کی دو شاہی ریاستیں ہنزہ اور نگر 1974 تک موجود رہیں پھر پاکستان وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو نے ان کا خاتمہ کیا۔
اس پس منظر میں انگریز مہم جو جارج ہیورڈ کے قتل کے وقت یاسین کا حکمران راجہ میر ولی تھا جو گلگت بلتستان کے نامور حکمران گوہر آمان کا بیٹا تھا جس نے اپنی وفات تک بیرونی جارحیت کا بھرپور مقابلہ کیا اور کئی بار ڈوگرہ افواج کو شکست سے دوچار کیا۔
مہاراجہ ریاست جموں و کشمیر نے جارج ہیورڈ کے قتل کا الزام راجہ میر ولی پر عائد کیا اور انگریز سرکار نے راجہ میر ولی کو ملک چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور کیا، نتیجتاً اس کا بھائی غلام محی الدین یاسین کا حکمران بنا جو عام طور پر پہلوان بہادر کے نام سے مشہور ہے۔
”دی گریٹ گیم“ نامی مشہور کتاب کے مصنف Peter Hopkirk لکھتے ہیں کہ ”جارج ہیورڈ کے قتل کا معمہ آج تک حل نہیں ہو سکا مگر اس قتل کے متعلق مقامی لوگوں میں دو طرح کی آرا پائی جاتی ہیں۔
کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ ورشگوم کے لوگوں نے راجا میر ولی کے کہنے پر جارج ہیورڈ کو قتل کیا تھا، کیونکہ راجا گوہر آمان اس خطے میں بیرونی تسلط کے سخت خلاف تھا اور اس نے مہاراجہ کی افواج کو شکست فاش دے کر اس خطے سے نکال باہر کیا تھا اور راجہ میر ولی بھی بیرونی تسلط کے خلاف تھا، اس لئے راجہ میر ولی نے اپنے باپ کے نقش قدم پر چل کر جارج ہیورڈ کو قتل کرایا تھا۔
اس کی وجہ یہ تھی کہ گوہر آمان کی وفات کے بعد ڈوگرہ افواج نے گلگت پر دوبارہ قبضہ کر لیا تھا چنانچہ اس کو خطرہ لاحق ہوا تھا کہ مہاراجہ کشمیر انگریزوں کے ساتھ مل کر اس کے علاقے یاسین کو فتح کرنے کے درپے ہے۔
جب کہ دوسرے مکتبہ فکر کا ماننا ہے کہ جارج ہیورڈ کے قتل میں مہا راجہ کشمیر کا ہاتھ تھا تاکہ وہ راجہ میر ولی سے اس کے باپ راجہ گوہر آمان کے ہاتھوں شکست کا بدلہ لے سکے کیونکہ بھوپ سنگھ پڑی کے مقام پر راجہ گوہر امان نے سکھ افواج کا قتل عام کیا تھا اور انہیں تاریخی شکست دی تھی۔
لہذا مہاراجہ کشمیر نے جارج ہیورڈ کے قتل کا الزام راجہ میر ولی پر لگایا اور اس کو برٹش انڈیا کے غیض و غضب کا نشانہ بنا کر تخت و تاج سے محروم کر دیا، مگر یہ بھی سچ ہے کہ اس قتل میں مہاراجہ کشمیر کے ملوث ہونے کے بارے میں کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں۔
راجہ گوہر آمان کے پڑ پوتے راجہ ضیا الرحمن صاحب نے جارج ہیؤڈ کے قتل کے حوالے سے راجہ میر ولی پر لگائے گئے الزامات کی بابت بات کرتے ہوئے کہا ”حقیقت یہ ہے کہ جارج ہیورڈ کے قتل میں مہاراجہ کشمیر کا بنیادی کردار تھا جس کی ایما پر مہتر چترال نے اپنے بھانجے میر ولی جو راجہ ورشگوم و مستوج تھے کے ذریعے جارج ہیورڈ کا قتل کروایا۔
مہتر چترال نے راجہ میر ولی کو پیغام پہنچایا کہ جارج ہیورڈ تمہاری سلطنت کے لئے خطرہ ہے۔ یہ مہاراجہ اور انگریز سرکار کے ساتھ مل کر اپ کی سلطنت پر قبضہ کرنا چاہتا ہے لہذا اس سے ہر قیمت پر درکوت پاس پار کرنے نہیں دینا ہے۔
اس قتل میں مہاراجہ کشمیر کے کردار کو اس لئے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے کیونکہ جارج ہیورڈ سانحہ مڈوری کے قتل عام کے بابت تحقیقات کر کے حقائق سامنے لا رہا تھا جس سے اس خطے پر مہاراجہ جموں و کشمیر کے جنگی جرائم کا پول بھی کھلنے کا اندیشہ تھا۔
اپنی مشہور کتاب
THE GREAT GAME
On Secret Service in High Asia
میں پیٹر ہوپکرک، جارج ہیورڈ کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ”وہ ایک جوان سابق برطانوی فوجی افسر تھا، انہیں اس مشن پر رائل جیوگرافک سوسائٹی لندن نے مالی مدد فراہم کر کے بھیجا تھا، ان کی مہم جوئی کا مقصد ان علاقوں کا کھوج لگانا، تحقیق کرنا اور یہاں کے دروں کے نقشے بنانا تھا اور وہ وادی یاسین سے بذریعہ درکوت پاس پامیر ریجن میں داخل ہونا چاہتا تھا، اس مہم جوئی میں وہ اکیلا ہی نکلا تھا اور گریٹ گیم کا شکار ہو گیا“ ۔
سفر میں درپیش خطرے کو مدنظر رکھتے ہوئے آخری لمحے برٹش انڈین وائسرائے لارڑ میو نے اس پر دباؤ بھی ڈالا تھا کہ وہ اس سفر کو ترک کرے مگر اس نے اپنے رسک پر یہ سفر کرنے کی ٹھان لی اور 1870 ء کے موسم گرما میں سری نگر سے اپنے سفر کا آغاز کیا اور 13 جولائی 1870 کو وہ بحفاظت یاسین پہنچ گئے اور 17 جولائی کو وہ درکوت پہنچ گیا مگر اٹھارہ جولائی کو پانچ ملازمین کے ساتھ اس کا بے دردی کے ساتھ قتل کیا گیا ”۔
دنیا کی دور دراز اور ویران ترین جگہ میں اس کی المناک موت کی خبر تین ماہ بعد ہندوستان سے بذریعہ ٹیلی گراف لندن پہنچ گئی مگر برطانوی اخبارات میں اس کی المناک موت کے متعلق کوئی خبر تک شائع نہیں کی گئی۔
ان کی لاش ایک عرصہ تک وادی یاسین کے گاؤں درکوت میں پتھروں کے ڈھیر تلے دبی رہی۔ بعد ازاں ان کا جسد خاکی گلگت لاکر دفنایا گیا جس پر بعد ازاں مشہور شاعر Sir Henry Newbolt نے ایک نظم
”He Fell Among Thieves“
کے عنوان سے لکھ کر جارج ہیورڈ کی المناک موت کی منظر کشی کی اور یوں اسے تاریخ کا حصہ بنایا۔
واصع رہے اس نظم کو پیٹر ہوپ کرک نے اپنی کتاب دی گریٹ گیم کے صفحہ نمبر 344 میں درج کیا ہے۔
جارج ہیورڈ کی لاش برآمد کرنے کے لئے اس کے دوست برطانوی جیالوجسٹ فیڈرک ڈریو نے کوششیں کیں جو مہاراجہ کشمیر کے دربار میں ملازمت کر رہا تھا۔
اپنی جان کی حفاظت کے خوف سے وہ خود تو وادی یاسین درکوت جانے سے قاصر تھے مگر اس نے ایک قابل اعتماد برٹش انڈین سپاہی کو جارج ہیورڈ کی موت کے بارے میں معلومات حاصل کرنے اور اس کی لاش کو تلاش کر کے واپس لانے کے لئے یاسین درکوت روانہ کیا۔
اس سپاہی نے یاسین درکوت میں پتھروں کے ایک چھوٹے سے ڈھیر کے نیچے سے جارج ہیورڈ کی لاش برآمد کرنے کے بعد اسے فیڈرک ڈریو کے پاس گلگت پہنچا دیا۔
جارج ہیورڈ کی لاش کے ساتھ ان کا کچھ سامان بھی اس فوجی نے وہاں سے برآمد کیا جس میں ان کی کتابیں، نقشے اور کاغذات شامل تھے، کہا جاتا ہے کہ ان چیزوں کو اس کے قاتلوں نے بے قیمت اشیاء سمجھ کر چھوڑ دیا تھا۔
21 دسمبر کو جارج ہاؤڑ کے دوست فیڈرک ڈریو نے رائل جیوگرافیکل سوسائٹی لندن کو رپورٹ کیا کہ اس نے اپنے گولڈ میڈلسٹ دوست کو گلگت فورٹ کے پاس ایک باغیچے میں دفنا دیا ہے جو بعد میں Gilgit ’s Christain Cemetery بن گئی۔
بقول پیٹر ہوپ کرک ”گلگت کے پرانے پولو گراؤنڈ کے قریب واقع اس باغ کے مخالف سمت میں واقع ایک موچی کی دکان سے چابی حاصل کر کے اس وقت کوئی بھی شخص جارج ہیورڈ کی قبر دیکھ سکتا ہے“ ۔
جارج ہیورڈ کو دفناتے وقت اس کی قبر کے ساتھ ایک خوبانی کا درخت اگ آیا تھا مگر کہا جاتا ہے کہ اس درخت نے کبھی پھل نہیں دیا۔
گلگت کی وادیوں میں کھیلے گئے اس گریٹ گیم میں جارج ہیورڈ کا بے دردی سے قتل کیا گیا لیکن اس کے قاتلوں کا آج تک پتہ نہیں چل سکا مہاراجہ کشمیر کے ایک سپاہی نے کئی دنوں بعد درکوت سے اس کی لاش برآمد کی اور اسے گلگت پرانے پولو گراؤنڈ کے پاس واقع ریسٹ ہاؤس سے ملحقہ ایک چھوٹے سے باغیچے میں دفنایا گیا جہاں آج بھی وہ ابدی نیند سو رہا ہے جارج ہیورڈ کے مقبرے پر لگے کتبہ میں واضح الفاظ میں یہ لکھا گیا ہے کہ
”His tombstone, paid for by the Maharaja of Kashmir, reads:
”To the memory of G.W. Hayward, Gold Medalist of the Royal Geographical Society of London, who was cruelly murdered at Darkot, 18 July 1870, on his journey to explore the Pamir steppe. This monument is erected to a gallant officer and accomplished traveler at the instance of the Royal Geographical Society.“
مصنف اور سیاح ٹم ہنیگن نے اپنی تازہ ترین کتاب ہندوکش میں قتل جارج ہیورڈ اور گریٹ گیم
(Murder in the Hindu Kush۔ George Hayward and the Great Game by Tim Hannigan) میں اس واقعہ کے اوپر تفصیل سے روشنی ڈالی ہے۔
وادی درکوت میں جہاں جارج ہیورڈ کا قتل ہوا تھا وہ جگہ دیکھنے کے لئے آج بھی غیر مقامی سیاح وادی درکوت کا رخ ضرور کرتے ہیں۔
حیرت انگیز بات یہ ہے کہ 18 جولائی 1870 کی ایک روشن صبح کوہ ہندو کش کے دامن میں واقع وادی ورشگوم میں انگریز مہم جو جارج ہیورڈ کا بے دردی سے قتل ہونے کے افسوسناک واقعے کو 154 سال کا طویل ترین عرصہ گزر چکا ہے، مگر وادی درکوت کے لوگوں کے حافظے میں جارج ہیورڈ آج بھی زندہ ہے۔
آپ وادیٔ درکوت کے کسی بھی شخص سے پوچھ لیں وہ ضرور یہ کہانی آپ کو سنائیں گے۔
اس سے بھی بڑھ کر حیرت انگیز بات یہ ہے کہ گریٹ گیم کی بازگشت آج اکیسویں صدی میں بھی گلگت بلتستان کے بلند و بالا پہاڑوں اور سنٹرل ایشیاء کے اس پار اپنی پوری شدت سے سنائی دے رہی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ آج نیو گریٹ گیم برٹش راج اور سلطنت روس کے درمیان نہیں بلکہ چین اور امریکہ کے درمیان جاری ہے، اور گلگت بلتستان ایک بار بھی اس کی زد پر ہے۔


