ثروت زہرا کا مجموعہ کلام: کتنے یگ بیت گئے


نئی نسل کی شاعرہ ثروت زہرا کا نظموں پر مشتمل مجموعہ کلام ”کتنے یگ بیت گئے“ ہاتھ لگا تو پڑھنے کی سعی میں کتنے ہی دن بیت گئے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک انھیں سنا تھا پڑھا نہیں تھا اور اگر آپ نے ثروت زہرا کو سنا ہے تو آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ثروت زہرا جس لطیف الصوت لہجے میں اپنا کلام پڑھتی ہیں وہ انداز بیاں سماعتوں کو اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ اس میں ان کے مقرر ہونے کو بھی کافی دخل ہے وہ زمانہ طالب علمی میں ایک منجھی ہوئی مقررہ رہ چکی ہیں۔

بہر حال جیسے تیسے ”کتنے یگ بیت گئے“ کی تمام نظمیں پڑھ ڈالیں اور کتاب کے اختتام پر ہمیں چھٹی کی کلاس یاد آ گئی۔ کہاوت کے مطابق اگرچہ چھٹی کا دودھ یاد آنا مستعمل ہے لیکن ہمیں چھٹی کی کلاس اس لیے یاد آئی کہ انگریزی کے پریڈ میں ہماری ٹیچر جماعت سے باری باری انگریزی کا ایک پیراگراف پڑھنے کو کہتیں اور ہم بھی رٹا رٹایا پیراگراف سنا دیتے جبکہ پڑھے جانے والے پیراگراف پر توجہ دینے یا اس کے معنی و مفہوم کو سمجھنے سے کسی کو کوئی سروکار نہیں تھا نہ ہماری ٹیچر کو نہ ہم جماعتوں کو اور نہ ہی ہمیں۔

اور اس ایکسرسائز کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے ریڈنگ میں تو مہارت حاصل کر لی لیکن انگریزی الفاظ کے صوتی اور معنوی تاثرات سے نا بلد ہی رہے۔ دلچسپ بات تو یہ ہے کہ پڑھنے کے اس عمومی انداز کے مزید دور رس نتائج یہ برآمد ہوئے کہ ہم انگلش فلم بھی انگلش سب ٹائٹل کے ساتھ دیکھتے ہیں۔ لہذا ہم آپ کو فلم کے ڈائیلاگز تو سنا سکتے ہیں لیکن یہ نہیں بتا سکتے کہ یہ ڈائیلاگز کس نے، کب اور کس سچویشن میں کہے تھے۔ کیوں کہ فلم بینی کے وقت ہماری توجہ نیچے دیے گئے سب ٹائٹل پر ہوتی ہے نہ کہ فلم کے سین پر۔ ریڈنگ سے ہمارے اخلاص کا اندازہ آپ اس بات سے لگائیے کہ عموماً وہ سینز بھی ہماری آنکھوں سے اوجھل رہتے ہیں کہ جن کی تمنا میں بیشتر لوگ انگلش فلمیں دیکھنا پسند کرتے ہیں۔ مزید براں یہ کہ ہمارا فوکس شرعی نظام تعلیم کے زیر اثر پروان چڑھا ہے لہذا نظریں نیچی رکھنا نہ صرف ہماری مجبوری ہے بلکہ شرعی تقاضا بھی۔

اس ابتدائیہ کا مقصد یہ بیان کرنا تھا کہ ہم نے ”کتنے یگ بیت گئے“ کی نظمیں بھی انگریزی ریڈنگ کے انداز میں پڑھ تو ڈالیں لیکن ان نظموں میں کہی گئی بات اور حقائق و معارف کو سمجھنا اور خیال آفرینی کی گیرائی و گہرائی کو ناپنا ابھی باقی تھا۔ ہمیں یاد ہے جب ایک دفعہ اردو کے مشہور شاعر راحت اندوری کو اپنے شعر پر داد وصول نہ ہوئی تو انھوں نے اپنے سننے والوں سے کہا کہ جو شعر آپ کو سمجھ نہ آئے تو یہ سمجھ لیجیے گا کہ آج راحت اندوری نے کوئی بہت بڑی بات کہی ہے۔ لہذا ہم نے بھی نئی نسل کی سچی اور دیدہ ور شاعرہ ثروت زہرا کی نظموں میں کہی بڑی باتیں سمجھنے کی ٹھان لی اور یہ طے کیا کہ ہم روز ان کی صرف تین نظمیں ہی پڑھیں گے اور اس پر غور و فکر کریں گے۔

تب کہیں جا کر ہم پر یہ عقدہ کھلا کہ ثروت زہرا نے اپنی کتاب ”کتنے یگ بیت گئے“ میں محض نظمیں نہیں کہی ہیں بلکہ کہانیاں لکھی ہیں یا یوں کہہ لیجیے کہ کہانیاں نظم کی ہیں۔ میں انھیں نظمیہ کہانیاں پکارتا ہوں جن میں عورت کا نقطہ نظر اس قدر واضح ہے کہ اگر ثروت زہرا کا نام ان کی نظموں سے ہٹا بھی دیا جائے تو پڑھنے والا پہلی ہی نظر میں انھیں عورت کی تخلیق قرار دے دے گا۔ جیسا کہ ڈاکٹر شاہ محمد مری نے ثروت زہرا کی کتاب کے حاشیہ میں لکھا ہے اگرچہ کافی گنجلک بات ہے لیکن موزوں ہے اور جیسا کہ راحت اندوری کے حوالے سے اوپر بیان کیا گیا ہے کہ جو بات سمجھ نہ آئے وہی بڑی ہوتی ہے۔

لکھتی ہیں ”جس بڑی بات نے اسے توکلی اور لطیف کے قافلے کے آخری ہونٹوں میں شامل کیا وہ تو عورتوں کے سماجی مرتبے کی بحالی کے عنوان کی بحالی کا عنوان ہے“ بھرپور نسائیت اگرچہ ان کی نظموں کا نمایاں پہلو ہے لیکن ہماری نظر میں معنی آفرینی بھی ان کی نظموں کا خاصہ ہے جس سے ان کی کوئی نظم خالی نہیں۔ ان کے ہاں خوش آہنگ الفاظ اور ان کی ترکیب و ترتیب انتسابی خیال کی حیثیت رکھتے ہیں اور نظم کے ایکسپریشن کو رواں رکھتے ہیں اور یہ ہی روانی ان کی نظموں کو بحر عطا کرتی ہے۔

اور اسی کی بنیاد پر خیالات کی پیچیدہ بنت کے باوجود ثروت زہرا کو سہل گوئی کا وہ انداز میسر آ جاتا ہے جو ان کو اتنی ہمت دیتا ہے کہ وہ انتہائی پیچیدہ اور دقیق مسائل و موضوعات پر ایسی نظم کہہ سکیں جو داخلی احساسات و جذبات کی نئے رنگوں کے ساتھ ساتھ کھردرے اور سفاک سچ کو بھی بیان کر سکے۔ ان کی نظموں میں صورت پذیر ہونے والے موضوعات اس قدر وسیع اور متنوع ہیں کہ ان کے بیان کو عموماً تعبیری نثر لکھی جاتی ہے مثال کے طور پہ۔

پدرسری سماج اور نسائی تشخص، وقت کا لا متناہی جبر جس کے نتیجے میں پیدا ہونے والی زمان و مکاں کی گھٹن ہے۔ لیکن کمال ہنر تو یہ ہے کہ ثروت زہرا نے انھیں اور ایسے ہی کئی مضامین نظم کیے ہیں۔ مثلاً ”وقت کا چڑیا گھر، داؤ اور دروپادی کا رشتہ، پاروتی کا نیل کنٹھ، تو کہیں وقت کی بوسیدہ دیواروں پر“ ہیر کی کھونٹی ”پر ٹنگے سسکتے لمحے۔ تو کہیں خدا سے یاوری کرتی“ اے خدا آ کریں گفتگو ”اور بھی کئی نظمیں ہیں لیکن سب کا بیان اس مضمون میں ممکن نہیں۔

معنی افرینی کا ذکر ہو اور کوکھ کا تذکرہ نہ ہو۔ جسے ثروت زہرا کی نظموں سے خاص نسبت ہے اور جو خلق کا بنیادی سانچا ہے۔ اسی کوکھ سے جنم لینے والے جب سنگ دل پدرانہ معاشرے کی بھینٹ چڑھا دیے جاتے ہیں تو انھیں ناف سے نیچے کوکھ دکھائی نہیں دیتی۔ کیسا کرب ہے جو ثروت زہرا نے اپنی نظم ”ماروی سرمد اور تم“ میں بیان کیا ہے۔ ثروت زہرا شاعرہ ہونے ساتھ ساتھ ایک ڈاکٹر بھی ہیں لہذا ان کا سٹیتھوسکوپ اور قلم یکساں تشخیص کا ہنر رکھتا ہے۔

پدر سری سماج کی نبض پر ہاتھ رکھ کر لکھی ہے انھوں نے یہ نظم ”ڈی این اے کی خود سے لڑائی“ جس میں وہ مقتول خواجہ سرا علیشا کا درد منظوم کرتی ہیں۔ کہتی ہیں ”علیشا ہجر تو تم ہو“ پدرسری معاشرے میں خواجہ سراؤں کے درد اور سماجی تنہائی کو کس خوبی سے ایک مصرعہ میں بیان کیا ہے انھوں نے۔ ثروت زہرا سماج کے محروم طبقات کے اقلیتی تشخص پر حملے کو اپنے دل پر لیتی ہیں اور اپنی نظم ”عیسی مسیح“ میں روایتی مذمت کے بجائے وہ پشاور میں مسیحی عبادت گاہ پر ہونے والے حملہ کو کنواری مریم کی کوکھ پر حملے سے تعبیر کرتی ہیں۔ اور یوں وہ ہاتھ سے ریت کی طرح پھسلتی انسانی تہذیب و اقدار کی موت پر مرثیہ کہتی ہیں۔

نسائیت اگرچہ ثروت زہرا کی نظموں کا مضبوط پہلو ہے لیکن ان کی نظموں میں ہمہ جہت انسان کا فکری استدلال، انقلابی اور اخلاقی موقف بھی دیکھنے کو ملتا ہے ”کتنے یگ بیت گئے“ میں ہمیں وہ نظمیں بھی پڑھنے کو ملتی ہیں کہ جن میں وہ سچ کے علمبرداروں اور وفا شعاروں کے گیت گاتی نظر اتی ہیں۔ اپنی نظم ”گیلیلو کو سمجھوتا نہیں کرنا چاہیے“ میں سعودی خبر نگار رائف بداوی جسے کوڑوں کی سزا دی گئی کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے منصور، مخدوم بلاول، برونو، مریم ابن عیسی اور حسین ابن علی کے ساتھ ساتھ اساطیری دیوتا پرومیتھسس کا ذکر بھی کرتی ہیں۔

پرومیتھسس آگ کا دیوتا جس نے اپنے ہم منصبوں سے آگ چرا کر اِنسان کے حوالے کر دی تھی۔ اور جس کی پاداش میں اِس دیوتا کے جگر میں پائے جانے والے انسانی جذبہ کو برسوں تک نوچا جاتا رہا۔  وہ اپنی ایک نظم ”اعتزاز احسن کے نام“ میں اس کم سن شہید کا ذکر کرتی ہیں جس نے خیبر پختون خواہ بم دھماکے میں اپنی جان کا نذرانہ پیش کر کے کئی بچوں کی جان بچائی۔ ثروت زہرا کے ہاں دیوتا اور انسان ایک ہی جذبے سے سرشار دکھائی دیتے ہیں اور یہ ہی بات ان کی نظموں کو غیر معمولی قرار دیتی ہیں۔ اور یہ ہی شوق اظہار ہمیں ان کی ایک اور نظم ”اے خدا آ کریں گفتگو“ میں ملتا ہے جہاں وہ خدا کو گفتگو پر آمادہ کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ سرگوشیوں میں کی گئی مابعد دعاؤں کو گفتگو کے درجہ پر فائز کرنا ان کے پیرایہ سخن کا اعجاز ہے۔

تنقیدی نظر

نشاۃ ثانیہ میں کلاسیکل علوم و فنون کے احیاء نے نئے انداز و اسلوب کو اپنانے کی تحریک پیدا کی جس کا اثر اگے چل کر انیسویں صدی کی انقلابی صورت پذیری میں نمایاں ہوا اور جس نے کم و بیش ہر شعبہ ہائے زندگی کا احاطہ کر لیا۔ اور اب صورت حال یہ تھی کہ ادب میں ترقی پسند خیالات کے در آنے سے حقیقت پسندانہ اظہار میں نغمہ و گل و بلبل اور ردیف و قافیہ سے نتھی بحر مانع تھی۔ اور اس مسئلہ کا حل آزاد نظم میں موجود تھا کیوں کہ آزاد نظم کا بنیادی عنصر ایکسپریشن ہے جس میں پوری نظم باندھی جاتی ہے۔ اور یہ ہی ایکسپریشن نظم کی بحر بھی ترتیب دیتا ہے۔

ایک بڑا اعتراض جو ناقدین آزاد نظم پر کرتے ہیں وہ اس پر نثر کے گمان کا ہے اور عمومی وجہ وہی ہے یعنی بحر کے متلاشی اسے ردیف اور قافیہ سے آزاد دیکھ نہیں پاتے اور ایسے میں نظم کا بیش قیمت خیال نظر انداز ہو جاتا ہے جو ہم سمجھتے ہیں کہ آزاد نظم کے ساتھ نا انصافی ہے۔ ثروت زہرا کا مجموعہ کلام ”کتنے یگ بیت گئے“ آزاد نظموں پر مشتمل ہے اور اسی نسبت سے شعری ادب کی جدید صنف سے تعلق رکھتا ہے۔ ان کی تمام ہی نظمیں آزاد نظم کے ان عروضی اصولوں کے مطابق کہی گئی ہیں جن کی ابتدا انیسویں صدی میں فرنچ شعری ادب سے ہوئی۔ عربی میں آزاد نظم کی بانی نازک ملائکہ نے بھی انھیں اصولوں پر آزاد نظم کہی اور اردو میں محمد اسماعیل میرٹھی، تصدق حسین، میرا جی اور ان کے بعد کتنے ہی سخن وروں نے اظہار خیال کے لیے اس نوع سخن کو اپنایا۔

مزید براں یہ کہ ہم کلاسیکی شعری ادب اور جدید آزاد نظم کے تقابلی جائزے کو درست نہیں سمجھتے۔ ادب کا کام ذوق کی تسکین کے ساتھ ساتھ اپنے عہد کی نشان دہی کرنا بھی ہوتا اس اعتبار سے کلاسیکی ادب کی اہمیت مسلمہ ہے۔ لیکن ہمیں یہ بھی کہنے دیجیے کہ فی زمانہ متنوع مسائل و موضوعات پر آزاد نظم کا ایکسپریشن بہت جامع اور موثر ہے۔ اور اس اعتبار سے ثروت زہرا نئی نسل کی معتبر اور قدآور شاعرہ دکھائی دیتی ہیں۔ آخر میں ہم ثروت زہرا کو ان کی ادبی خدمات پر خراج تحسین اور ان کے نئے مجموعہ کلام ”کتنے یگ بیت گئے“ کی اِشاعت پر مبارک باد پیش کرتے ہیں۔

Facebook Comments HS