سیاسی چورن کی شکار پاکستانی قوم

جب سے 2024 کے الیکشن اور ان کے نتائج مرتب ہوئے ہیں ہمارے پیٹ میں مروڑ اٹھ رہے ہیں۔ نلی نہاری، بڑے کے پائے اور حلوے مانڈے کھانے اور ہضم کرنے والی قوم کے مضبوط نظام ہضم سے خائف خاکی اینڈ سنز کریانہ اسٹور کے سیاسی شراکت دار اپنی دکان چلانے کے لیے اگرچہ پچھلی کئی دہائیوں سے انواع و اقسام کے سیاسی چورن بیچ رہے ہیں۔ لیکن 2018 میں قوم کے مضبوط نظام ہضم کے پیش نظر سیاسی چورن

Read more

بلا، شیر، تیر، پتنگ اور وہ

بلا، ارے بھائی آخر کب تک نوکنگ کرتے رہو گے کچھ کھیلنے کا موقع بھی تو دو۔ اب تو ٹیل اینڈر ہی بچے ہیں کم از کم ان کے ہاتھ تو لگوں۔ وہ، خبردار جو کھیلنے کی بات کی تم نے پچھلی دفعہ پورے پانچ دن ( پانچ سال ) کا ٹیسٹ میچ دیا گیا تھا تمھیں لیکن تمھارے نا تجربہ کار کھلاڑیوں نے اسے ٹی 20 بنا کر رکھ دیا۔ جیسے دیکھو چھکا لگانے کی سعی میں اپنی وکٹ

Read more

ثروت زہرا کا مجموعہ کلام: کتنے یگ بیت گئے

نئی نسل کی شاعرہ ثروت زہرا کا نظموں پر مشتمل مجموعہ کلام ”کتنے یگ بیت گئے“ ہاتھ لگا تو پڑھنے کی سعی میں کتنے ہی دن بیت گئے۔ بات دراصل یہ ہے کہ ہم نے ابھی تک انھیں سنا تھا پڑھا نہیں تھا اور اگر آپ نے ثروت زہرا کو سنا ہے تو آپ میری اس بات سے اتفاق کریں گے کہ ثروت زہرا جس لطیف الصوت لہجے میں اپنا کلام پڑھتی ہیں وہ انداز بیاں سماعتوں کو اپنی گرفت

Read more

عورت کو غیر مؤثر کرنے کی سماجی حکمت عملی (آخری حصہ)

پدر سری نظام چوں کہ اس بات سے بہ خوبی واقف تھا کہ تاریخ میں عورت نہ صرف مرد کے ہم پلہ رہی ہے بلکہ خاندان اور قبیلہ کی سربراہ بھی رہ چکی ہے۔ لہٰذا پدرانہ معاشروں نے نہ صرف اپنے نوزائیدہ وجود کو برقرار رکھنے بلکہ اسے دوام بخشنے کے لیے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ عورت کو سماجی، معاشی اور سیاسی یعنی ہر سطح پر غیر موثر کر دیا جائے۔ ڈاکٹر مبارک علی کے مطابق یونان

Read more

پدر سری نظام میں عورت پر ملکیتی اختیار کی حکمت عملی (تیسرا حصہ)

سید سبط حسن اپنی کتاب پاکستان میں تہذیب کا ارتقا میں لکھتے ہیں ”وادیٔ سندھ میں اموی نظام قائم تھا یعنی حسب نسب اور وراثت کا سلسلہ ماں کی طرف سے چلتا تھا۔ لہٰذا معاشرے میں عورت کا مرتبہ مرد سے اونچا تھا۔ عورت کی ذات افزائش فصل و نسل کی محرک بھی تھی اور علامت بھی۔ حوالہ ختم“ شاید اسی کے ڈھکے چھپے اعتراف میں آج بھی دھرتی کو ماں پکارا جاتا ہے۔ عورت میں خلق کرنے کی قدرتی

Read more

پدر سری نظام میں صنف کی سیاسی تفریق (دوسرا حصہ)

فعل مختار مرد کی جنسی دادا گیری سیاسی، سماجی اور معاشی یہاں تک کہ محدود عائلی سرگرمیوں کی بنیاد پر بھی یہ بات واضح طور پہ کہی جا سکتی ہے کہ عورت کو مرد کے مساوی حقوق یا اِختیارات حاصل نہیں ہیں۔ اور اِس کی وجہ یہ ہے کہ عورت بحیثیت صنف کے نہیں بلکہ بحیثیت جنس/شے کے برتی جاتی ہے۔ لہٰذا مساوی حقوق کی بات تو درکنار یہ کہنا بھی درست نہیں ہے کہ مرد اور عورت صنفی تفریق

Read more

پدر سری نظام میں ٹرانس جینڈر صنف کی جدوجہد

سنہ 2018 پاکستان کی سیاسی اور سماجی تاریخ میں جس لحاظ سے سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کا تعلق انسان کے بنیادی حقوق کی راہ میں حائل صنفی تفاوت سے ہے۔ جسے اس سال سرکاری اور سماجی تنظیموں اور عوام کی جانب سے نہ صرف موثر انداز میں اجاگر کیا گیا بلکہ اس حوالے سے قانون سازی کا بھی ایک تاریخی واقعہ پیش آیا۔ اس سال دو ایسے واقعات رونما ہوئے جنھوں نے فکر کی مسدود راہوں کو

Read more

کائنات پر سایہ فگن شفقت اور قربان گاہ

رضا صاحب جب اپنا بکرا قربان گاہ کی طرف لے کر چلے تو بکرے نے کہرام مچا دیا آسمان سر پر اٹھا لیا وہ کسی صورت قربان گاہ جانے کو تیار نہ تھا۔ رضا صاحب کے لیے یہ صورت حال اتنی ہی غیر متوقع تھی کہ جتنی بکرے کے لیے۔ گھبراہٹ اور پریشانی کے عالم میں آس پڑوس سے مدد طلب کی تو ایک پڑوسی نے رضا صاحب کو مخاطب کرتے ہوئے کہا۔ مجھے لگتا ہے آپ کا بکرا کسی

Read more

موسیقی کا نیا البم گل مہر سے

فنون لطیفہ تہذیب و تمدن کا اہم جزو ہیں۔ قصہ گوئی، شاعری، مصوری، بت تراشی اور موسیقی تخلیق کے وہ پہلو ہیں جن کا مادہ انسان کے خمیر میں ہمیشہ سے پایا جاتا ہے۔ اور اس کے شواہد آثار قدیمہ نے ان غاروں سے دریافت کیے ہیں کہ جو انسان کا ابتدائی مسکن تھے۔ ان غاروں میں کھدے ہوئے رقص کے خاکے بتاتے ہیں کہ قبل از تاریخ کا انسان بھی رقص کرتا تھا جس کا مطلب یہ ہوا کہ

Read more

ماں کی گستاخ چیخ

یوں تو جون کے آغاز سے ہی گرمیوں نے پورے شہر کو اپنی لپیٹ میں لے رکھا تھا، لیکن آج کا دن حد درجہ گرم ہونے کے باعث قیامت ڈھا رہا تھا۔ نجی نیوز چینل پر محکمہ موسمیات کے ماہرین اپنی رائے پیش کر رہے تھے، ان کا کہنا تھا کہ شہر سے تقریبا 400 کلو میٹر کے فاصلے پر بحیرہ عرب کے مقام پر ہوا کے کم دباو کی وجہ سے جو ڈپریشن بنا ہے، اس نے سمندر کی

Read more

ضمیر کی آواز

خاموش اور سہمی ہوئی رات کی تاریکی میں بوجھل قدموں کی چاپ بھی یوں گونج رہی تھی جیسے فوج کا کوئی دستہ زمین کو اپنے بھاری بھرکم بوٹوں تلے روند رہا ہو، شاید یہی وجہ تھی کہ وہ انتہائی احتیاط سے قدم اٹھانے کے باوجود اپنے ہی قدموں کی چاپ پر چونک اٹھتا، اطراف کا جائزہ لیتا اور پھر چل پڑتا، محتاط انداز میں قدموں کی رفتار برقرار رکھنا اگرچہ مشکل تھا، لیکن اس کے پاس مسلسل تیزی سے آگے بڑھنے کے علاوہ کوئی چارہ بھی نہیں تھا، آدھی رات کا یہ پراسرار سناٹا اس کے کانوں میں یوں گونج رہا تھا جیسے مخبوط الحواس ہجوم ہاتھوں میں ہتھیار اٹھائے چیختا چلاتا اس کی جان کے درپے ہو۔

Read more