ایران کے جنوب سے شمال کی طرف کا سفر – تخت جمشید


muhammad taqi kuldan

نو جولائی 2023 کی صبح نو بجے ہم نے اپنے اصفہان کے لئے سفر کا آغاز کیا۔ موسم خوشگوار اور راستے میں ہرطرف سبزہ ہی سبزہ تھا۔ ہمیں اصفہان جاتے ہوئے شیراز سے 60 کلومیٹر شمال مشرق کی طرف مشہور تاریخی جگہ تخت جمشید دیکھنا تھا۔ گوگل سے لوکیشن دیکھ کر ہم اپنی منزل کو روانہ ہوئے۔ تخت جمشید کے متعلق بہت ساری حقیقی اور افسانوی باتیں میں پڑھ چکا تھا۔ ایک تجسس تھا کہ اپنے آنکھوں سے ہخامنشی بادشاہوں کے بنائے ہوئے تخت جمشید کو دیکھ سکوں۔

ہخامنشی حکمران قبل مسیح کے ایرانی حکمران گزرے ہیں۔ ہخامنشی سلطنت کے پہلے بادشاہ کو تاریخ مختلف نام دیتی ہے، سائرس، خورس، کیخسرو، خورش، کوروش۔ مولانا ابوالکلام آزاد کے خیال میں قرآن مجید میں جس شخص کو ذوالقرنین کا نام دیا گیا ہے وہ یہی سائرس ہے۔ ایرانی اسے کوروش کبیر کا نام دیتے ہیں۔ تاریخ اس شخص کو دانا، بہادر، انصاف پسند اور بڑے فاتح کی حیثیت سے جانتی ہے۔ ان کے بارے میں تاریخ یہ بھی کہتی ہے کہ یہ ایک خدا پر اعتقاد رکھنے والا حکمران تھا۔

تخت جمشید کوروش بادشاہ کے بعد کے آنے والے بادشاہوں نے تعمیر کیا۔ تخت جمشید پر جب ہم پہنچے ہمیں اپنے سفر کی اہمیت معلوم ہوئی۔ یہ ہخامنشی حکمرانوں کا تخت جمشید ہے۔ یہ شیراز کے شمال مشرق میں 60 کلو میٹر، ایک کوہ کے دامن موجود ہے۔ اس زمانے میں حکمران اپنے آپ کو دشمنوں سے محفوظ کرنے کے لئے کوہ کے دامن انتخاب کرتے تھے۔ اس کی تعمیر میں 120 سال کا عرصہ لگا۔ تخت جمشید کی تعمیر میں بڑے بڑے پتھر جو دیکھنے سے تعلق رکھتے ہیں استعمال ہوئے۔ اس کھنڈرات کو دیکھ کر اس کی عظمت کا پتہ چلتا ہے۔ کہتے ہیں کہ تخت جمشید کی تعمیر 500 سال قبل مسیح میں شروع ہوئی۔ اس زمانے کے ہخامنشی حکمران انصاف پسند تھے۔ وہ اپنے رعایا کی بہت خیال رکھتے تھے۔ تخت جمشید میں موجود عوام ان کے ماتھے کا جھومر تھے۔ تخت جمشید اپنے اردگرد موجود باغوں اور پھلوں کی وجہ سے پورے دنیا میں مشہور تھا۔

پھر ایک وقت ایسا آیا کہ یونان سے سکندر اعظم نے آ کر اپنے فوج کی مدد سے تخت جمشید کو تاراج کیا۔ اس میں موجود نوادرات کو لوٹ لیا۔ اور اس میں آگ لگادی۔ سکندر اعظم نے دارا سوئم کو شکست دے کر اس عظیم سلطنت کو تباہ کیا۔

اگر آپ تخت جمشید کو آج بھی دیکھیں گے، اس کی شان اور عظمت کا گرویدہ ہوں گے ۔ اس کی دیواروں پر نقش، تصاویر، اس زمانے کی تحریر اب بھی موجود ہیں۔ ان تصاویر سے مختلف باتوں کا اظہار ہوتا ہے۔ اس زمانے میں عید نوروز کے تہوار جن دنوں میں منایا جاتا تھا، آج بھی ان ہی دنوں منایا جاتا ہے۔ پہلے زمانے سردیوں کے موسم جو کہ دسمبر سے شروع ہو کر فروری میں ختم ہوتی تھی، شدید سردی پڑتی تھی۔ اس زمانے میں مارچ کی 21 تاریخ کو سردی کا زور ختم ہوتا تھا۔ اور بہار کا موسم شروع ہوتا تھا۔ ہر طرف سبزہ ہی سبزہ ہوتا تھا۔ اسی نسبت سے اس زمانے کے لوگ نوروز تہوار مناتے تھے۔

ہم جلد ہی تخت جمشید پر پہنچ گئے۔ دور سے آتے ہوئے تخت جمشید کے بلند بالا ستون آپ کو نظر آئیں گے۔ یہ کھنڈرات ایک وسیع علاقے پر پہلے ہوئے ہیں۔ ایرانی گورنمنٹ نے اس تاریخی جگہ میں انفرا اسٹرکچر کا کام بخوبی کیا ہے۔ تخت جمشید پر جب بھی آپ جائیں، وہاں پر ایک گائیڈ کو ہائر کریں، تب آپ کو تخت جمشید کی تاریخ کا بہتر اندازہ ہو گا۔ وہ تخت پر موجود ہر چیز کی وضاحت کرتا ہے۔

تخت جمشید کھنڈرات کا باریک بینی سے مشاہدہ کیا جائے، یہ قدیم فن تعمیر کا بہترین نمونہ ہیں۔ یہاں پر مختلف جانوروں اور انسانوں کے مجسمے اس زمانے کے آرٹ کے زبردست اظہار ہیں۔ جب تخت جمشید کی کھدائی کی گئی یہاں پر زیورات، نوادرات، برتن وغیرہ برآمد ہوئے۔

اس محل کا کل رقبہ 125 ہزار میٹر کیوبک ہے۔ اس میں بہت سارے محلات، بادشاہ کا خزانہ، حفاظتی قلعہ، دربار ہال، داخلے سیڑھی بنی ہوئی تھی۔ تخت جمشید کے کھنڈرات میں بلند ستون آج بھی ایستادہ ہیں۔ یہ ستون دراصل ایک بہت بڑے ہال کی نشاندہی کرتے ہیں۔ ایک بہت بڑا شاندار ہال اس زمانے موجود تھا۔

اب اس ہال کا کھنڈر موجود ہے۔ اس ہال میں پہاڑی دروازے ہیں۔ ہال میں آرائشی سامان رکھنے کے لئے دیواروں میں بڑے بڑے خانے بنائے گئے۔ ان خانوں میں آرائشی چیزیں رکھی جاتی تھیں۔

ایک خاص محل داریوش کبیر نے نوروز کی تقریبات اور غیر ملکی مہمانوں کے لئے تعمیر کیا تھا۔

تخت جمشید کو عالمی ثقافتی ادارہ یونیسکو نے 1979 میں عالمی تاریخی ورثہ قرار دیا۔ تخت جمشید کی ایک دیوار پر اس زمانے کے رسم الخط میں لکھا ہے

عظیم خدا نے زمین کو پیدا کیا۔ آسمان پیدا کیا۔ جس نے انسان کو پیدا کیا، انسان کے لئے خوشی پیدا کیا، جس نے خشیار شاہ بادشاہ کو پیدا کیا۔ عظیم کمانڈر، بادشاہوں کا بادشاہ میں خشیار ہوں، میں نے اس دروازے کو خدا کی رضا کے لئے بنایا۔ اور خوبصورت تخت جمشید میں نے اور میرے والد نے بنوایا۔ یہ جو کچھ بنوایا بے حد خوبصورت لگتا ہے۔ یہ خدا کا احسان ہے۔ میں نے اور میرے والد نے جو کچھ بنوایا، خدا اس کی حفاظت کرے۔

تخت جمشید داخلی دروازہ پر بیل کا مجسمہ ہے۔ اس زمانے میں بیل زرخیزی کی علامت ہوتی تھی۔ اس وسیع عمارت میں تین مرکزی دروازے ہوا کرتے تھے، ایک دروازہ مشرق میں، ایک مغرب میں، ایک جنوب میں۔ یہ تمام دروازے پتھر کے بنے ہوئے تھے۔ ان دروازوں کے درمیان ایک وسیع ہال تھا۔ جس کا چھت اس زمانے کے بہترین لکڑیوں سے بنایا گیا تھا۔ ہال کے درمیان چھت کو سہارا دینے کے لئے ستون تھے۔ اب بھی کچھ ستون باقی ہیں۔ جو دور سے نظر آتے ہیں۔

یہ جگہ ایک چھوٹے سے دریا کے کنارے بنائی گئی تھی۔ تین اطراف دیوار بنایا گیا، اور مشرقی حصہ پہاڑ کو کاٹ کر بنایا گیا۔ اس کے علاوہ پہاڑ کو کاٹ کر ایک بڑا پانی کا تالاب بنا گیا۔

تخت جمشید جب بھی آپ کو جانا ہوتو وی آر سسٹم کا استعمال ضرور کریں۔ وی آر ایک قسم کا چشمہ ہے، آپ تخت جمشید کے جس حصے اس کی ابتدائی شکل دیکھنا چاہیں، وی آر کی بدولت آپ دیکھ سکتے ہیں۔ وی آر سے تخت جمشید کی دبدبہ اس کی خوبصورتی، اس کے اطراف میں باغات، اس زمانے کے لوگ، ہتھیار، کھانا وغیرہ سے آگاہی حاصل ہوتی ہے۔ ختم شد۔

Facebook Comments HS