ناول بنتِ داہر: تاریخ سے ماخوذ مختلف بیانیہ


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

چند سال قبل ایک میڈیا ہاؤس کی ویب سائٹ پر ”اکیسویں صدی کی دوسری دہائی کے دس بڑے ناول“ کے عنوان سے ایک بلاگ چھپا۔ اردو ادب سے لگاؤ کی وجہ سے انگلی خودبخود ہی دب گئی اور مکمل بلاگ آنکھوں کے سامنے آ گیا۔ اس میں بیان کردہ کئی ناول کا تو پہلے ہی سے مطالعہ کر رکھا تھا اور باقیوں سے بھی تعارف تھا ماسوائے صفدر زیدی کے ”بھاگ بھری“ سے۔ ناول منگوا لیا گیا اور دو نشستوں میں ہی ختم کر دیا گیا اور اس پر تبصرہ بھی لکھ دیا جو شائع بھی ہو چکا ہے۔

اب کی بار صفدر زیدی کا 2022 ء میں منظر عام پر آنے والا ناول ”بنتِ داہر“ ہاتھ لگا تو اسے بھی ایک ہی نشست میں ختم کر ڈالا۔ یہ ناول 334 صفحات پر مشتمل ہے اور اس کے 58 ابواب ہیں اور صفدر زیدی نے ناول کو دو انتساب سے نوازا ہے پہلا ”مفتوح اقوام کے نام“ اور دوسرا آخری صفحہ پر ہے جو ”راجکماری کے نام“ ہے۔ ناول آسان زبان میں ہے اور اس کا اسلوب بھی سادہ ہے۔ ناول پیپر بیک میں چھپا ہے اور سرورق کو خاکوں سے مزین کیا گیا ہے۔

صفدر زیدی نے ناول تحریر کرنے سے پہلے متعلقہ تاریخ کی خوب چھان بین کی ہے اور ان دلائل کو تلاش کیا ہے جن کی مدد سے وہ بنو اُمیہ کے سندھ پر حملے سے پہلے کی سماجی، سیاسی، ثقافتی و معاشی صورت حال کو واضح کر سکیں۔ آٹھویں صدی کے سندھ میں جین مت، ہندو مت، بدھ مت کے علاوہ زرتشت اور یہودیوں سمیت مسلمان مہاجرین کو بھی آبادکاری کی اجازت تھی۔ یہ ایک سیکولر ریاست تھی جس کو راجکماری کے ایک مکالمے سے واضح کیا جا سکتا ہے کہ جب راجا کو راج گرو کے بارے میں شکایت کی جاتی ہے کہ وہ لوگوں کے مذاہب بدلنے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے تو راجکماری اپنے باپ کو مشورہ دیتی ہے کہ وہ دربار میں اعلان کروا دیں کہ سیاست کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔

اس کے علاوہ وسائل میں بھی سندھ مالا مال تھا۔ حکومتی خزانے مال و دولت سے بھرے پڑے تھے اور مندروں میں موجود مال و اسباب تو حکومتی ترسیلات زر سے بھی زیادہ تھا اور یہی وجہ تھی کہ بن قاسم کی افواج نے خاص طور پر مندروں کو نشانہ بنایا اور انہیں لوٹ کر تمام مال و متاع باقاعدگی سے خلیفہ کی خدمت میں پیش کیا جاتا رہا۔

محمد بن قاسم کے سندھ پر یلغار کے حوالے سے یہ کہانی زبانِ زدعام ہے کہ سراندیپ (سری لنکا) کے حکمران نے حجاج بن یوسف کو کچھ تحائف بھیجے۔ تحائف سے بھرے ان بحری جہازوں کو دیبل بندرگاہ کے قریب لوٹ لیا گیا۔ ان بحری جہازوں پر عرب تاجر اور کچھ خواتین بھی سوار تھیں۔ جب کچھ افراد فرار ہو کر حجاز بن یوسف کے پاس پہنچے تو انہیں بتایا کہ خواتین آپ کو مدد کے لیے پکار رہی ہیں۔ حجاج بن یوسف نے راجا داہر کو مکتوب میں حکم دیا کہ خواتین اور لوٹے ہوئے مال و اسباب کو واپس کیا جائے۔ لیکن راجا داہر نے انکار کر دیا کہ یہ لوٹ مار اُن کے علاقے میں نہیں ہوئی۔ حجاج بن یوسف راجا داہر کو سبق سکھانے کی غرض سے اپنے بھتیجے محمد بن قاسم کی سربراہی میں سندھ کی طرف فوج روانہ کرتا ہے اور اس طرح سندھ کو فتح کر لیا جاتا ہے۔

مقدمے کو مضبوط بنانے کے لیے یہ تاویل بھی پیش کی جاتی ہے کہ راجا داہر ایک ظالم حکمران تھا اور اپنا تخت بچانے کے لیے اس نے اپنی بہن سے نکاح بھی کر رکھا تھا۔ ظلم اور عدم انصاف کی وجہ سے سندھ کے عوام بھی حاکم کے خلاف تھے اور حجاج بن یوسف نے سندھ کے عوام کو ظالم حکمران سے چھٹکارا دلانے کے لیے سندھ پر حملے کا منصوبہ بنایا۔

محققین اور تاریخ دانوں کا ایک دوسرا دھڑا بھی ہے جو اس بات سے اختلاف کرتا ہے۔ ان کا موقف ہے کہ حجاج بن یوسف کے سندھ پر حملہ کرنے کے دو مقاصد تھے ایک سیاسی اور جغرافیائی طور پر خلافت امویہ کو وسعت دینا اور نئے علاقوں کو فتح کر کے مال غنیمت سے عربوں کی بدحال ہوتی معاشی صورت حال کو سنبھالا دینا، دوسرا راجا داہر کی پناہ میں موجود سادات کو پکڑنا اور محمد بن علافی جو کہ بنو اُمیہ کی مخالفت کی وجہ سے سندھ کے حکمران کے پاس جلاوطنی کاٹ رہا تھا کا قلع قمع کرنا۔ یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جو حکمران اپنی سرزمین پر ظالم اور نا انصافی کا قائل ہو وہ دوسرے ملک کے ظالم حکمران سے عوام کو چھٹکارا دلانے کے لیے کیا جواز پیش کر سکتا ہے۔ صفدر زیدی بھی سندھ پر حملے کو فکشن میں سموتے ہوئے اسی موقف کی تائید کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مصنف نے اس بات سے بھی اختلاف کیا ہے کہ محمد بن قاسم پہلا مسلمان تھا جس نے سندھ کی دھرتی پر اپنے قدم جمائے تھے ہاں البتہ وہ یہ ضرور مانتا ہے کہ وہ پہلا بیرونی حملہ آور ضرور تھا جس نے سندھ پر اسلام کا نام استعمال کرتے ہوئے غاصبانہ قبضہ کیا۔ ناول کے آغاز میں ہی درج ہے کہ جب راجکماری شعور کو پہنچتی ہے تو اسے فارسی اور عرب پناہ گزینوں کی آبادکاری کی ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے۔ کہانی کے آغاز میں ہی مصنف اس رائے کو مضبوط مانتے ہوئے اپنا وزن اس پلڑے میں ڈال دیتے ہیں کہ بنو اُمیہ کے مخالفین عربوں اور فارسیوں نے راجکماری کے دادا چچ کے زمانے سے ہی سندھ میں پناہ لینا شروع کر دی تھی اور یہ سلسلہ راجا چچ کے بعد راجا چندر اور اس کے بیٹے داہر کے زمانے تک جاری رہا۔ مصنف نے دربارِ داہر میں حاضر ہونے والے جین مت کے نمائندے اور راجا داہر کے درمیان ایک مکالمے کے ذریعے یہ بھی باور کروایا ہے کہ انہوں نے خلافتِ اُموی کے مظالم سے ستائے ہوئے سادات کو بھی بلا جھجک پناہ دی تھی۔

آخر میں مصنف نے کہانی کو ادھورا چھوڑ دیا ہے۔ جب مرکز میں خلیفہ کی موت کے بعد نیا خلیفہ برسراقتدار آتا ہے تو وہ حجاج بن یوسف کا اثر و رسوخ ختم کرنے کے لیے اس کے تمام رشتہ داروں کو عہدوں سے ہٹا دیتا ہے۔ بن قاسم کو بھی معزول کر کے گرفتار کر لیا جاتا ہے اور اسی اثنا میں راجکماری محل کے جھروکے سے کود کر اپنا وجود دریائے سندھ کی لہروں کے سپرد کر دیتی ہے۔

ہم میں سے بیشتر تاریخ کے ان کرداروں سے پہلے ہی واقف ہیں لیکن پھر بھی ناول کے اہم کرداروں کا ذکر ضروری ہے تاکہ اس مضمون کے ذریعے وہ لوگ بھی ان کے بارے میں جان سکیں جو تاریخ میں موجود ان کرداروں سے بے خبر ہیں۔ راجکماری سوریا بنتِ داہر اس ناول کا مرکزی کردار ہیں۔ فتح سندھ کی اس کہانی کو مصنف نے ایک مختلف پہلو سے بیان کرتے ہوئے فاتح کی حیثیت سے نہیں بلکہ مفتوح کے نقطہ نظر سے بیان کیا ہے۔ اسی لیے راجکماری سوریا اس کہانی کی مرکزی کردار ہیں اور محمد بن قاسم معاون۔ باقی کرداروں کو دو دھڑوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ایک دھڑا عرب حملہ آوروں کا جن میں اموی خلیفہ الولید، حجاج بن یوسف ثقفی ( گورنر بصرہ و خُراسان) ، ساتھی کمانڈر ابو ہشام و ابو یزید۔ دوسرا دفاعی دھڑا ہے جس میں راجا داہر، راجکماری پری مل، عطیہ بن عوف خُراسان (مُحب اہل البیت) اور کمانڈر محمد بن علافی (مخالف بنو اُمیہ) اہم کردار ہیں۔

مصنف نے اہم موضوعات کو خود سے بیان کرنے کے بجائے مکالماتی ذوق سے سینچا ہے۔ اس فنِ تحریر سے مصنف اپنے آپ کو تحریر سے جدا کر لیتا ہے حالاں کہ کردار وہی گفتگو کر رہے ہوتے ہیں جو وہ اُن کی زبان سے نکلوانا چاہتا ہے۔ اس کا ایک فائدہ تو یہ ہوتا ہے کہ تحریر خوب صورت ہو جاتی ہے اور دوسرا مصنف کرداروں کی باہمی بحث سے اپنے آپ کو پاک کر لیتا ہے۔ صفدر زیدی نے بھی بڑی چالاکی سے اپنی تحقیق اور نظریات کا وزن اپنے ہی تخلیق کردہ کرداروں کے کندھوں پر ڈال دیا ہے۔ جہاں کہیں سندھ اور عرب تہذیبوں کے فرق کو واضح کرنا مقصود تھا وہاں بھی راجکماری اور بن قاسم کی آپسی گفتگو کا ہی سہارا لیا گیا ہے۔

صفدر زیدی کی جمالیاتی حس نے منظر نگاری کو دوام بخشا ہے۔ یہ تاریخی فکشن ہے اگر منظر نگاری کرتے وقت کہیں پہ بھی گرفت کمزور پڑ جاتی تو وہ ہمیں اس دور میں واپس لے جانے میں ناکام رہتے۔ بہرحال اصل موضوع پر ٹکے ہوئے جہاں کہیں ضروری تھا انہوں نے قدرت شناسی کا ثبوت دیتے ہوئے ماحول کو چھوٹی سے چھوٹی تفصیل سے بھی نوازا ہے۔ صفدر زیدی کے قلم نے جنسی لذت کے مناظر کو پُرلطف بنا دیا ہے۔ انہوں نے اسے ایک آرٹ کی طرح پیش کیا ہے۔

مصنف نے بن قاسم کے کردار کو تذبذب میں مبتلا دکھایا ہے جس کو اس کے چچا نے دو جرنیلوں کے ذریعے قابو میں رکھا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ وہ یہ سب کچھ مجبوری میں کر رہا ہے اپنے چچا کے احسانوں کا بدلہ چکانے کے لیے۔ اسے اتنا بھولا بھالا پیش کیا گیا ہے کہ جہاں دونوں جرنیل اُسے جنگ و جدل کی تعلیم سے ہم آہنگ کراتے ہیں وہیں اسے کنیزوں سے جسمانی آسودگی حاصل کرنے کے طریقوں سے بھی روشناس کروایا جاتا ہے۔ بن قاسم کی فتوحات اور جنگی حکمت عملیوں کے جو قصے ہم نے نصابی تاریخ اور نسیم حجازی کے فکشن میں پڑھ رکھے ہیں یہاں معاملہ اس سے الٹ ہے۔ تمام تر کامیابیوں کا کریڈٹ حجاج بن یوسف، ابو ہشام اور ابو یزید کے کھاتے ہیں ڈال دیا گیا ہے۔

دوسری طرف راجکماری سوریا دیوی کو کامل کردار سے نوازا ہے۔ وہ دانش مند ہونے کے ساتھ ساتھ بہادر بھی ہے۔ وہ تعلیم یافتہ اور انتظامی امور میں بھی ماہر ہے۔ اُسے کئی زبانوں پر دسترس حاصل ہے اور وہ اسلام سمیت دیگر ادیان کے بارے میں بھی اچھا خاصا علم رکھتی ہے۔ وہ سازوں و راگوں کا علم بھی جانتی ہے اور ستاروں کی گردش اور اس کے اثرات سے بھی واقف ہے۔ وہ جنسی تسکین کے علوم سے بھی آشنا ہے اور جس طرح وہ بن قاسم کی رہنمائی کرتی ہے وہ دل چسپی سے عاری نہیں۔

بہرحال ناول بنتِ داہر تاریخِ سندھ سے ماخوذ ایک ایسی داستان ہے جسے فتح سندھ کے بجائے سقوطِ سندھ کہا جائے تو بے محل نہ ہو گا۔ ناول میں مفتوح کو فاتح پر ترجیح دی گئی ہے اور نصابی بیانیہ کو رد کرتے ہوئے ایسے تاریخی پہلووں کو اُجاگر کیا گیا ہے کہ جن سے عام شہری لاعلم ہے۔ ناول کے ذریعے یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی ہے کہ عربوں کے سندھ پر حملے کے دو ہی مقاصد تھے، ایک سندھ کی دولت سے ملوکیت کے خزانوں کو بھرنا اور اور دوسرا سادات سمیت بنو اُمیہ کے مخالفین کے سر کُچلنا۔

میرے نزدیک ناول کی قابلِ ذکر بات یہ ہے کہ ہم اپنی دھرتی کے حقیقی نمائندوں کو پہچانیں اور آنے والی نسلوں کو سچ پڑھائیں اور انہیں پورس، داہر اور رنجیت سنگھ جیسے مقامی سپوتوں سے متعارف کروائیں تاکہ وہ ہماری تاریخ کو 712 سے شروع کرنے کے بجائے ٹیکسلا سے ہوتے ہوئے ہڑپہ، موہنجوداڑو اور مہر گڑھ تک پہنچ جائیں۔ بہر حال اب آوازیں اٹھنا شروع ہو چکی ہیں اور یہ ناول اس سلسلے کی ہی ایک کڑی ہے اور صفدر زیدی اس موضوع کو چُننے پر داد کے مُستحق ہیں۔

Facebook Comments HS