اردو کا سمندر اور پنجابی کا تالاب


معروف و مقبول ادیب، فنکار اور کوہ پیما مستنصر حسین تارڑ صاحب کی شہرت و مقبولیت کا سب سے بڑا سبب یقیناً اردو زبان میں ان کی تخلیق کردہ کاوشیں ہی ہیں، اور ان میں سے ان کے سفرنامے زیادہ شہرت و مقبولیت کے حامل ہیں۔ جب کہ ان کی شہرت کا ایک اور بڑا سبب ان کے تحریر کردہ ڈرامہ سیریلز بھی ہیں۔ البتہ بہت سے لوگوں کے لیے شاید یہ انکشاف ہو کہ وہ میدان ادب کے ہی شہسوار نہیں بلکہ باقاعدہ کوہ پیمائی بھی کر چکے ہیں۔ لیکن اردو ان کی ایک بڑی سی وجۂ شہرت ہونے کے باوجود ان کی مادری زبان نہیں ہے۔

یا یوں کہیے کہ کچھ لوگوں کے مطابق وہ ”اہل زبان“ نہیں ہیں۔ تاہم ان کچھ لوگوں کے ایسا سمجھنے کے باوجود وہ ”بے زبان“ بھی نہیں ہیں اور پنجابی ان کی مادری زبان ہے۔ وہ پنجابی بولتے ہیں اور بہت سے پنجابیوں کے برعکس دھڑلے سے۔ اور بقول ان کے تازہ ترین بیان کے وہ دوسروں (دیگر پنجابیوں ) کو بھی مشورہ دیتے ہیں کہ وہ اپنی مادری زبان ہی بولیں۔

بقول شخصے :
تو دکھن کا ہے دکھنیج بول
تجھ کو پرائی کیا پڑی اپنیج بول

تاہم وہ صرف ”پنجابیج“ بولنے کی بات نہیں کرتے۔ اردو میں بھی بات چیت اور لکھا پڑھی کے لیے تیار ہیں بے شک معاوضہ پر سہی!

اس سے قبل مستنصر حسین صاحب کو تقسیم ہند اور پاکستان اور بھارت کے وجود سے متعلق اپنی نسبتاً بے باکانہ تحریروں کی وجہ سے بھی بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ اسی طرح ان کے پنجابی کے بارے تازہ ترین خیالات بھی جو کہ انہوں نے بین الاقوامی پنجابی کانفرنس کے افتتاحی یوم پر کلیدی خطاب میں پیش کیے ہیں انہیں ایک ”قومی صحافی“ نے شاید پاکستان کے ”آخری قومی روزنامے“ میں اپنی تحریر میں ان خیالات کو اردو سے شدید نفرت کا اظہار قرار دیا ہے اور انھیں فوری طور پر ہدف ذم و نقد بنایا ہے۔ (مقام شکر ہے کہ ”قومی پریس“ اس ”ہرزہ سرائی“ کے سلسلے میں خاموش ہے )

روزنامہ ڈان کی ایک خبر کے مطابق وہ خطاب کچھ اس طرح سے تھا

مستنصر حسین تارڑ نے پنجابی ادیبوں پر زور دیا کہ وہ احساس کمتری سے پرہیز کریں۔ انہوں نے پنجابی ادبی اسٹیبلشمنٹ پر زور دیا کہ وہ نئے لکھنے والوں کو خوش آمدید کہیں جو (پنجابی) زبان میں لکھنا چاہتے ہیں۔ وہ بدھ کو یہاں پنجابی انسٹی ٹیوٹ آف لینگوئج، آرٹ اینڈ کلچر (Pilac) میں تین روزہ بین الاقوامی پنجابی کانفرنس کے افتتاحی روز کلیدی خطاب کر رہے تھے۔

اس موقع پر انہوں نے یہ بھی دریافت کیا ”اگر کوئی چینی آدمی آپ کی زبان میں ایک جملہ بھی لکھے تو آپ اس کا خیرمقدم کریں کیونکہ وہ آپ کی زبان میں اپنا حصہ ڈال رہا ہے۔ فیض نے صرف ایک نظم لکھی تھی جو وہ بھی اچھی نہیں اور شریف کنجاہی اردو میں لکھتے تھے۔ کیا آپ (راجندر) بیدی کو اس لیے مارنا شروع کر دیں گے کہ وہ اردو میں لکھتے ہیں۔“ تارڑ نے پنجابی میں لکھاریوں کی حوصلہ شکنی کے رویے کو احساس کمتری قرار دیا۔ اور کہا کہ جو کوئی پنجابی کا ایک لفظ بھی لکھے میں اس کا مشکور رہوں گا۔

اس سلسلے میں اپنے بارے میں کہتے ہیں، ”میں پنجابی میں تب ہی لکھتا ہوں جب زبان مجھے لکھنے پر مجبور کر دیتی ہے۔ ورنہ میں نہیں لکھ سکتا۔ انہوں نے کہا کہ ان کا حالیہ پنجابی ناول“ میں بھنا دلی دے کنگرے ”صرف پنجابی زبان میں لکھا جا سکتا ہے کسی اور زبان میں نہیں۔“

(انہوں نے کہا) ”اردو والے اپنے آپ کو گنگا جمنا تہذیب کا حصہ کہتے ہیں لیکن میں نے کبھی گنگا یا جمنا کو ٹھیک سے نہیں دیکھا۔ میں نے صرف ہیر کا چناب دیکھا ہے۔“

تارڑ (صاحب) نے کہا کہ جب بھی کوئی ان سے ملنے آتا تو وہ ان سے پنجابی میں بات کرنے کو کہتے۔ جب میں بہترین اردو ناول لکھتا ہوں اور ٹی وی پر اردو بولتا ہوں تو وہ پنجابی بولنے کی وجہ پوچھتے ہیں۔ میں روزی روٹی کے لیے اردو بولتا ہوں۔ اگر آپ مجھے اردو بولنے کے لیے پیسے دیں تو میں زبان بول سکتا ہوں۔ ورنہ میں صرف پنجابی بولوں گا۔

تارڑ صاحب کی اس خطاب کے حوالے سے ہم نے بڑی کوشش کی اس خبر و خطاب میں اس ”شدید نفرت“ کو تلاش کریں جس کا کہ انھوں نے اظہار اور قومی صحافی نے انکشاف کیا ہے تاہم ہمیں اس میں یہ بات ہی قابل اعتراض نظر آئی کہ ”وہ روزی روٹی کے لیے اردو بولتے ہیں“ اور ”کوئی انہیں پیسے دے گا تو ہی وہ اردو بولیں گے“ اگرچہ یہ بات واقعی ناگوار گزرتی ہے لیکن اسے بجائے نفرت کے شدید شکایت اور وہ بھی حکومتوں، حکمرانوں اور پرشکوہ اشرافیہ سے شکوہ کے تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔ اور یہ شکایت یا شکوہ کم وبیش اپنی مادری زبان سے محبت کرنے والے تقریباً ہر پاکستانی کے دل و دماغ میں کسی نہ کسی حد تک جاگزیں ہے۔ اور جب اس شکایت کو نفرت، تعصب اور علاقائیت قرار دیا جاتا ہے تو پھر کچھ دلوں اور دماغوں میں یہ شکایت یوں ہی متصور و متشکل ہونے لگتی ہے۔

ہم سمجھتے ہیں کہ اس وقت تارڑ صاحب اس وقت اسی ناراض اور شاکی طبقے کی نمائندگی کر رہے تھے اور مناسب یہی ہے کہ اس طبقے کی آواز سنی جائے جو کہ ماضی میں اپنے پنجابی بولنے پر ہونے والی شرمندگی پر شرمندہ ہے۔

اور ان کا یہ کہنا کہ انہوں نے گنگا یا جمنا کو ٹھیک طرح سے نہیں دیکھا تو یہ بھی ان کا ”لاعلمی کا اعتراف“ تو ہو سکتا لیکن گنگا جمنا کی تہذیب پر اعتراض تو قطعاً نہیں۔ سو اس اعتراف پر بھی اعتراض نہیں بنتا۔

جب کہ راجندر سنگھ بیدی اور شریف کنجاہی جیسے اصحاب کی اردو میں لکھنے کی حمایت میں کہے گئے الفاظ کو اردو کی حمایت ہی سمجھا جا سکتا ہے۔

لیکن کیا یہ افسوسناک بات نہیں ہے کہ ایک قوم یا قومیت زمین سے جڑی ہونے کے باوجود اپنی زبان سے جڑی نہ رہے؟ اور ایک اور برادری جو کہ اپنی زمین چھوڑ چکی ہو لیکن وہ شعوری یا لاشعوری طور پر اپنی زبان نہ چھوڑ کر بھی (جو کہ یقیناً ایک حد تک قابل تعریف عمل ہے ) اسے ملک کی دیگر زبانوں پر (اشرافیہ اور حکمرانوں کی خواہش یا خیال یا حکمت عملی کے تحت؟ ) اس طرح سے مسلط کرنے کی خواہشمند ہو کہ ان زبانوں کے لیے اداروں میں تو جگہ نہ رہے لیکن ان زبانوں کو خانہ بدری پر بھی مجبور کیا جائے؟ (ان زبانوں کو جو کہ دیسی اور مقامی زبانیں ہیں ان کو کم ازکم صوبائی سطح کے اداروں میں تو کچھ جگہ کوئی درجہ کوئی مقام بخش دیں ) اور شکایت کرنے پر کہا جائے کہ اردو ایک سمندر ہے اور پنجابی ایک تالاب۔ قومی صحافی کی مہربانی کہ انہوں ایک پاکستانی زبان کو تالاب قرار دیا گٹر، جوہڑ، نالی یا موری اور بدرو سے تشبیہ نہیں دی!

لیکن کیا وہ صاحب سمندر کو آب زم زم سے بھی مقدم و مقدس گردانیں گے؟
کیا وہ عربی کی بھی فارسی کی طرح تحقیر کریں گے۔ پڑھو فارسی بیچو تیل۔ کی مانند؟

ہم اگرچہ بنیادی طور پر اردو اور ہندی کو الگ زبانیں نہیں سمجھتے تاہم ہمارے اس قسم کے قومی صحافی جب اردو کو سمندر کہتے یا دنیا کی دوسری یا تیسری بڑی زبان قرار دیتے ہیں تو اس وقت وہ اردو اور ہندی کو (ہماری ہی طرح) ایک ہی زبان گردان رہے ہوتے ہیں۔ اور یوں ہندی فلموں کو بھی اردو قرار دینے لگتے ہیں۔ لیکن پھر حسب موقع اسے دشمن کی تہذیب اور ثقافت کی علامت قرار دے کر اس سے نفرت اور گریز کے تبلیغ و تلقین بھی کرنے لگتے ہیں۔

یہاں عرض یہ کرنا ہے کہ جس طرح انہوں نے ہندی اور اردو کے ملا کر سمندر بنا ڈالا اسی طرح سے اگر وہ شاہ مکھی اور گرو مکھی ادب اور پاکستانی اور سرحد پار کی پنجابی کو بھی ملا لیتے تو شاید وہ پنجابی کو بھی کم از کم دریا تو ضرور قرار دیتے۔ اور تالاب کہنے کے بجائے شاید چناب ہی کہ دیتے! ؟ اور ساتھ ہی بلھے شاہ کے یہ الفاظ بھی دہرا لیتے : ”دل دریا سمندروں ڈونگے“

اور اگر سمندر تالاب سے زیادہ اہمیت کا حامل ہے تو پھر اوشین (مہا ساگر) تو اس سے کہیں زیادہ وسیع، بسیط اور عمیق ہے۔ اور اس تناظر میں ہمیں انگریزی کو مہا سمندر /ساگر سمجھنا چاہیے۔ اور اپنے سمندروں، دریاؤں اور تالابوں کو چھوڑ کر اسی سمندر میں کود جانا چاہیے۔ اور یہ عمل بھی کچھ لوگوں کی طرف سے جاری ہے۔

پاکستان میں اردو زبان کا اگر اردو بولنے والوں کے بعد کوئی اور سب سے بڑا حامی و ناصر ہے تو شاید پنجابی ہی ہے۔ اس کا ایک سبب تو شاید وہ احساس کمتری و شرمندگی ہے جس کا اعلان اور اظہار اب پنجابیوں ہی کے ایک اچھے خاصے حصے کی طرف سے بار بار کیا جا رہا ہے، جب کہ دوسرے اسباب میں ان کا اردو میں خواب دیکھنا اور کسی حد تک برصغیر میں اردو کا معاشی اوزار یا ذریعہ معاش ہونا بھی ہے۔ اگرچہ کچھ لوگوں کی طرف سے اردو سے پنجابی سے زیادہ محبت کا دعویٰ بھی کیا جاتا ہے تاہم ہم اس قسم کے دعوے کو ہم اس لیے باطل سمجھتے ہیں کہ (محال ترین استثناء کے علاوہ) یہ دعویٰ کچھ اسی قسم کا ہے کہ کوئی کہے کہ مجھے اپنی ماں کی بجائے کسی اور کی ماں سے زیادہ محبت ہے۔ یا پھر وہ شخص (پنجابی ہونے کی صورت میں بندہ) جسے اپنی ماں یا مادری زبان سے ہی محبت نہیں اسے کسی اور زبان سے محبت کا دعویٰ کہاں زیب دیتا ہے؟

بعض پنجابیوں کو یہ غلط فہمی بھی ہے کہ پنجابی میں ادبی اور تحریری صلاحیت عنقا ہے، تاہم وہ بھول جاتے ہیں کہ شاعر مشرق، حکیم الامت علامہ اقبال (اور بقول ایرانیوں کے اقبا ل لاہوری) نے اس وقت اردو میں شاعری کی جب بقول ان کے گیسوئے اردو ہنوز منت پذیر شانہ تھے۔

بہت سے اردو بولنے والوں اور اردو کے حامیوں کے مطابق مادری زبانوں سے محبت اور ان کی ترقی اور ترویج کی بات تعصب اور علاقائیت ہے۔

جیسے کہ انور مسعود صاحب فرماتے ہیں :
ہاں مجھے اردو ہے پنجابی سے بھی بڑھ کر عزیز
شکر ہے انورؔ مری سوچیں علاقائی نہیں
(خیال سے اختلاف اپنی جگہ۔ ہم ان کی اردو کے پنجابی لہجے کے والہ وشیدا ہیں )

اردو کے پنجابی سے زیادہ عزیز ہونے کا دعویٰ ایک زمانے میں ہر پنجابی ہی کرتا رہا ہے مگر اب اس کے برعکس بھی آوازیں آ رہی ہیں :

غیراں ہتھوں ہرنائیں کیوں
بول پنجابی ڈرنائیں کیوں (غیروں کے ہاتھوں ہارتا ہے کیوں، بول پنجابی ڈرتا ہے کیوں)

(یہاں شاعر نے غیروں کو خواہ مخواہ ہی ملوث کر ڈالا ہے جب کہ اس سلسلے میں ان کے اپنوں کا ہاتھ کہیں زیادہ ہے )

ہم نے کہیں پڑھا ہے کہ فیض احمد فیض صاحب نے فرمایا کہ ”انسان کو شاعری اسی زبان میں کرنی چاہیے جس میں کہ وہ خواب دیکھتا ہے۔“

فیض صاحب جب کہتے ہیں کہ انسان کو شاعری اسی زبان میں ہی کرنی چاہیے کہ جس میں وہ خواب دیکھتا ہے اور تارڑ صاحب کو اردو بولنے کے لیے معاوضہ مطلوب ہے تو ہم خود کو یہ استفسار کرنے پر مجبور پاتے ہیں کہ: آخر ایک پنجابی اپنی مادری زبان میں خواب کیوں نہیں دیکھ پاتا اور اسے پنجابی لکھنے پر معاوضہ کیوں نہیں مل پا رہا؟

Facebook Comments HS