”قدرت کا نظام“ کے بعد نیا کرکٹنگ استعارہ ”حضرت یوسف، کنواں اور مصر کی بادشاہت“
مذہب کا حد سے زیادہ استعمال ہمیشہ وہی لوگ کرتے ہیں جو بدترین قسم کے کرپٹ، نا اہل، نکمے اور بددیانت ہوتے ہیں۔ مذہب اس قسم کے لوگوں کے لیے محفوظ ترین پناہ گاہ ثابت ہوتا ہے جو مذہب کا استعمال صرف ضرورت پڑنے پر کرتے ہیں۔
اس قسم کے لوگ عملی زندگی میں بڑے ماڈرن، سوٹڈ بوٹڈ، کلین شیوڈ اور دنیا داری میں بڑے نپے تلے سے ہوتے ہیں اور اپنے کاروباری لین دین میں انہیں پتا بھی نہیں ہوتا کہ مذہب کیا چیز ہے لیکن جیسے ہی بات خود کے کردار پر آتی ہے تو فوراً مذہب کارڈ استعمال کرنے میں ذرا سی بھی عار یا شرم محسوس نہیں کرتے
اس قسم کے مذہبیوں کو ”لپسٹک ٹائپ مذہبی“ کہا جا سکتا ہے، جو صرف بوقت ضرورت مذہب کو بیچ میں لاتے ہیں باقی ماندہ زندگی میں رج کے دو نمبری کرتے ہیں۔
مذہبی لبادہ آپ کو جواب دہی کے جھنجھٹ سے بچاتا ہے، محنت و ریاضت سے مکت کر کے آپ کو فقط عبادات کا اسیر بنا دیتا ہے۔
کردار جائے بھاڑ میں یہاں کون پوچھتا ہے بھائی!
بس آپ نے اتنا ہی تو کہنا ہے کہ اس میں قدرت کی ضرور کوئی مصلحت ہوگی، بس کام ہو گیا۔ سوال پوچھنے والے یا جواب دہی کا مطالبہ کرنے والے اس قسم کے ماورائی جملوں کو سنتے ہی بت بن جائیں گے اور کچھ بھی پوچھنے سے گریز کریں گے۔
ہم وہ لوگ ہیں جو 21 ویں صدی میں بھی مذہب کو محض اپنی کوتاہیوں، خامیوں اور ناکامیوں کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
آج کل مذہب کا بے جا استعمال ہماری کرکٹ ٹیم کر رہی ہے۔
پہلے ناقص کارکردگی کے جواز میں یہ سننے کو ملتا تھا
” قدرت کا نظام ہے“
کامیابی و کامرانی سے نوازنے والی ذات تو قدرت کی ہوتی ہے، انسان کا بھلا اس میں کیا عمل دخل؟
حال ہی میں پاکستان کی کرکٹ ٹیم کے کپتان شاہین آفریدی کی طرف سے ایک نیا پیغام سننے کو ملا، نیوزی لینڈ کے خلاف مسلسل ناکامی کے جواز میں ہمارے کپتان جی کا کہنا تھا ”مشکل کے بعد آسانی ہے، ہمیں اس بات پہ یقین رکھنا چاہیے، یوسف علیہ السلام کو کنویں سے اٹھا کر قدرت نے انہیں مصر کا بادشاہ بنا دیا تھا، اس لیے ہمیں امید رکھنی چاہیے اور امید پہ ہی دنیا قائم ہے“
کیا اس قسم کی ذہنیت رکھنے والا کسی بھی پروجیکٹ کو اپنی محنت و ریاضت سے کامیابی کے دہانے تک لے جا سکتا ہے؟
کیا اس قسم کے مائنڈ سیٹ کے ساتھ ترقی ممکن ہے؟
کرکٹ اور مذہب کا آپس میں کیا سمبندھ ہو سکتا ہے؟
کیا پروفیشن اور مذہب میں کوئی فرق ہوتا ہے یا دونوں ایک ہیں؟
یہ وہ بنیادی سوال ہیں جن پر غور کرنا ضروری ہے۔
دنیا سوال کرنے میں حق بجانب ہے کہ یہ کیسی ٹیم ہے جو جیتنے پر گراؤنڈ میں ہی سجدہ ریز ہو جاتی ہے اور ہار جانے پر سجدہ ریز ہونا یک دم سے بھول جاتی ہے، جیتنے کا کریڈٹ خود لیتی ہے جبکہ اپنی ہار اور ناکامیوں کا بوجھ قدرت کی کھاتے میں ڈال کر شانت ہو جاتی ہے۔
دنیا بھر کی ٹیمیں ہار جانے یا ناقص کارکردگی پر مغموم سی ہو جاتی ہیں حتی کہ رونا تک شروع کر دیتی ہیں جبکہ ہم بڑے اطمینان سے کہہ دیتے ہیں
” آج قدرت ہمارے ساتھ نہیں بلکہ فلاں ٹیم کے ساتھ تھی“
ہم کتنے مطمئن قسم کے ڈھیٹ ہیں جو اپنی کوتاہیوں کو تسلیم کرنا تو درکنار شرمندگی تک کا شائبہ و احساس بھی اپنے چہرے پر ابھرنے نہیں دیتے۔
اس سے بڑی بے شرمی اور ڈھیٹ پن کی انتہا کیا ہوگی کہ مسلسل چھ سات میچ ہارنے کے بعد صحافی آپ سے پوچھ رہا ہے کہ ہماری ٹیم کی کارکردگی روز بروز تنزلی کی طرف کیوں جا رہی ہے اور جیت ہم سے کوسوں دور کیوں ہوتی جا رہی ہے؟
اس سوال کا جواب پروفیشنل انداز میں یا تکنیکی بنیادوں پر دینے کی بجائے ڈھٹائی سے ہنستے ہوئے آپ یہ کہہ رہے ہیں کہ ہر مشکل کے بعد آسانی آتی ہے کتنی بڑی مضحکہ خیزی ہے؟ دنیا کی کون سی ایسی ٹیم ہوگی جو اپنی ناقص کارکردگی اور خامیوں کو ہنسی میں اڑائے اور میڈیا کے سامنے نان پروفیشنل ہونے کا ثبوت دے اور کپتان پوری سیریز ہارنے کے بعد اپنی کوتاہیوں کی نشاندہی کرنے کی بجائے تبلیغی نمبرز کے حوالے دینا شروع کردے، دنیا کو دکھانے کے لیے اس سے بڑا مذاق کیا ہو سکتا ہے؟
ہم کب یہ بات سمجھیں گے کہ جس کی جو جگہ اور مقام ہوتا ہے اس کو وہیں تک رکھنے میں ہی خیر ہوتی ہے اور اس کی کبریائی اور شان بھی برقرار رہتی ہے۔
اگر ہم مذہب کو ہر جگہ گھسیٹنے کی کوشش کریں گے تو اس کی اوریجنیلٹی و اہمیت ختم ہوتی چلی جائے گی۔
مذہب اندر کی چیز ہوتی ہے اور یہ مخفی جوہر ہوتا ہے، اسے چھپائے رکھنے میں ہی سب کی بھلائی ہوتی ہے، سر بازار یا چوک چوراہوں میں نمائش کرنے سے قباحتیں جنم لیتی ہیں اور ایسا کر کے ہم ایک طرح سے مذہب کی تذلیل کے مرتکب ہو رہے ہوتے ہیں۔
ایک ایسی ٹیم جس کا طوطی پوری دنیا میں بولتا رہا ہوں، جہاں سپن اور سوئنگ کا بے پناہ ٹیلنٹ موجود ہو سوچنا ہو گا نا! کہ آخر ایسا کیا ہوا کہ آہستہ آہستہ وہی نمبر ون ٹیم تنزلی کی اتھاہ گہرائی میں اترتی چلی گئی اور آج بات لگاتار میچ ہارنے تک جا پہنچی ہے۔
سپورٹس مین شپ، محنت و ریاضت اور پروفیشنلزم کیا ہوتی ہے ہم اس سے کوسوں دور چلے گئے ہیں۔
ڈریسنگ روم، پویلین یا کھیل کے گراؤنڈ میں کرکٹ، پریکٹس یا کسرت پر بات کی بجائے اس بات پر غور ہونے لگا ہے کہ اپنی آخرت کو اچھا کیسے بنایا جائے؟ دنیا و آخرت کی کامیابی کے لیے محنت یا پریکٹس کی بجائے قدرت کو عبادت کے ذریعے کیسے راضی رکھا جا سکتا ہے؟ جس چیز کی محنت ہماری ٹیم آج کل کر رہی ہے اسی کا ثبوت ان کے اعمال میں دیکھنے کو مل رہا ہے اور سیریز ہارنے کے بعد شاہین آفریدی نے صحافی کے ایک ڈائریکٹ سوال کا جواب اسی زبان میں دیا ہے جس طرف آج کل ہماری ٹیم کا رجحان ہے۔ عبادت اور تبلیغ کے چکروں میں ہم پروفیشنل ڈس اونیسٹی کے مرتکب ہو رہے ہیں، جس پروفیشن کی تنخواہ لے رہے ہیں اسی سے رو گردانی کر رہے ہیں۔ دنیا پوچھنے میں حق بجانب ہے کہ تم کون لوگ ہو بھائی؟
کبھی ڈفر ترین بندے کو اپنی کرکٹ ٹیم کا کپتان بنا دیتے ہو تو کبھی ملک کا وزیراعظم۔ تہاڈی ستے ای خیراں۔


