روسی انقلاب کے پس منظر میں تحریر کیا گیا ناول ڈاکٹر ژواگو


Shahzad Hussain Bhatti Lahore

 

معیاری ادب میں قارئین کو مختلف ادوار اور مقامات تک پہنچانے کی انوکھی صلاحیت ہوتی ہے جس کی مدد سے وہ کرداروں کی کامیابی اور مصیبتوں کو اس طرح محسوس کر سکتے ہیں جیسے وہ خود ان لمحات کو جی رہے ہوں۔ بروس پاسترناک کا شہرہ آفاق ناول ”ڈاکٹر ژواگو“ ایسے ہی ادب کی بہترین مثال ہے۔ روسی انقلاب کے پس منظر اور اس کے اثرات پر تحریر کیا گیا یہ ناول بہترین کرداروں، ان کے پیچیدہ رشتوں اور سماجی و سیاسی تبدیلی کی وجہ سے پیدا شدہ صورت حال پر روشنی ڈالتا ہے۔ شاعرانہ انداز نثر اور اہم پلاٹ کی بدولت یہ ناول دنیا بھر کے قارئین کو ابھی تک محصور کیے ہوئے ہے جو تاریخ کے ایک ہنگامہ خیز دور کی نشان دہی کرتا ہے۔

آیے سب سے پہلے ناول کے تخلیق کار کا ذکر کرتے ہیں اور انہیں جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ بورس پاسترناک ( 10 فروری 1890۔ 30 مئی 1960 ) روس کے نامور شاعر و ادیب تھے۔ پاسترناک ایک ایسی ادبی شخصیت تھے جن کا کام فن اور سیاست کی حدود سے ماورا تھا۔ انہوں نے ماسکو کے ایک امیر یہودی گھرانے میں پرورش پائی۔ ان کے والد لیونیڈ پاسترناک آرٹ کے پروفیسر تھے جنہوں نے ٹالسٹائی کی کتابوں کے لیے بھی مصوری کی تھی۔ پاسترناک کی والدہ بھی مشہور پیانو نواز تھیں۔ یعنی آرٹسٹوں کا خاندان ہونے کی وجہ سے پاسترناک کی شخصیت پر بھی اس کے گہرے اثرات تھے۔ 1957 میں جب ”ڈاکٹر ژواگو“ پہلی بار ترجمہ ہو کر اٹلی سے اطالوی زبان میں چھپا تو اس نے پاسترناک کو عالمی شہرت سے نوازا۔ 1958 میں اس ناول کو میلان اٹلی سے ہی روسی زبان میں بھی شائع کیا گیا۔

یہ سرد جنگ کا دور تھا جب ”ڈاکٹر ژواگو“ کو عالمی سطح پر متعارف کروانے اور اس کے ذریعے روس کے عوام تک رسائی حاصل کرنے اور ان کے نظریات پر اثر انداز ہونے کے لیے سی آئی اے نے خفیہ منصوبہ بندی کی تھی۔ 1958 میں ”ڈاکٹر ژواگو“ کو ادب کے نوبل انعام سے نوازا گیا۔ یہ ناول عالمی کلاسیکی ادب کا حصہ ہے اور اب تک یہ دنیا کی تمام بڑی زبان میں ترجمہ ہو کر چھپ چکا ہے۔ اس ناول کا اردو ترجمہ یوسف صدیقی نے 1958 میں کیا اور اس طرح یہ اہم ناول اردو کے قارئین تک پہنچا۔

’ڈاکٹر ژواگو‘ ضخیم اور پیچیدہ ناول ہے جس کا مرکزی کردار شاعر و ڈاکٹر یوری ژواگو ہے جو روس کے نازک ترین دور میں دو عورتوں ٹونیا اور لارا کی محبت میں گرفتار ہو کر پس جاتا ہے۔ ناول کا پلاٹ کئی دہائیوں پر مشتمل ہے اور اسے مختلف حصوں یا ادوار میں تقسیم کیا سکتا ہے جن پر ہم باری باری گفتگو کریں گے۔

انقلاب سے پہلے کا دور: یہ وہ دور ہے جب یوری نوجوان ہے اور ماسکو کی پر رونق گلیوں میں پرورش پاتا ہے وہ بچپن سے ہی یتیم ہے جس کی وجہ سے اس کے چچا اور خالہ اس کی کفالت کرتے ہیں۔ اسی دور میں یوری کو شاعری اور ادب سے اپنے لگاؤ کا پتہ چلتا ہے۔ وہ ٹونیا گرومیکو سے بھی دوستی کرتا ہے اور ان کی دوستی بالآخر ایک رومانوی رشتے میں بدل جاتی ہے۔ جیسے ہی یوری میڈیکل کا طالب علم بنتا ہے تو اس کی ملاقات لارا انٹیپووا سے بھی ہوتی ہے جس کی خوب صورتی کے چرچے ہیں لیکن وہ ایک پر اسرار شخصیت کی مالکہ ہے۔

جنگ عظیم اول اور بالشویک تحریک کا دور: یہ وہ دور ہے جب جنگ عظیم اول کا آغاز ناول کے کرداروں کی زندگیوں میں خلل ڈالتے ہوئے انہیں نئی سمت میں دھکیل دیتا ہے۔ یوری جنگ کی ہولناکیوں اور فوجیوں کے مصائب کا مشاہدہ کرتے ہوئے فرنٹ لائن پر ایک ڈاکٹر کی حیثیت سے خدمات انجام دینے لگتا ہے۔ اسی دوران وہ دوبارہ لارا سے ملتا ہے جو اب ایک نرس بن کر محاذ پر پہنچی ہوئی ہے۔ ناول کے اسی حصے میں جنگ کا نتیجہ سماجی و سیاسی بدامنی کا باعث بنتا ہے جس کی وجہ سے بالشویک تحریک جنم لیتی ہے جو انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہوتی ہے۔

روسی انقلاب کا دور: ناول کے اس حصے میں روسی انقلاب کی عکاسی کی گئی ہے۔ انقلاب کے نتیجے میں نیا نظام رائج ہوتا ہے۔ یوری کی نجی زندگی انقلابی واقعات میں الجھ جاتی ہے وہ پرانے سیاسی نظام کے زوال اور بالشویک طاقت کے عروج کا گواہ بن جاتا ہے۔ یوری کا سوتیلا بھائی یووگراف ایک پر عظم بالشویک بن جاتا ہے جب کہ لارا کا شوہر پاشا اینیٹپوف ایک بنیاد پرست بالشویک کمانڈر بن جاتا ہے۔ انقلاب کے دنوں میں یوری کے لارا کے لیے جذبات میں شدت آ جاتی ہے جب کہ اس کی بیوی ٹونیا یوری سے دوری کے باوجود جذباتی طور پر اس کی وفادار رہتی ہے۔

انقلاب کے بعد کا زمانہ اور جلاوطنی: اس حصے میں یہ باور کروانے کی کوشش کی گئی ہے کہ انقلاب کا نتیجہ امید اور مایوسی دونوں ایک ساتھ لاتا ہے۔ یوری، لارا اور ان کے خاندان نئی حکومت کی وجہ سے پیدا ہونے والی افراتفری اور غیر یقینی صورت حال میں پھنس کر رہ جاتے ہیں۔ لارا اپنی بیٹی کی زندگی کی حفاظت کے لیے مشکل انتخاب کرنے پر مجبور ہو جاتی ہے۔ یوری کی فنکارانہ کوششیں جاری رہتی ہیں، اور اس کی شاعری اس کے لیے خود شناسی اور جذبات سے رہائی کا ذریعہ بنتی ہے۔

اختتامیہ: ناول کے اختتامی حصے میں ناول کا مرکزی کردار یوری اپنے المناک انجام کو جا پہنچتا ہے۔ اس سے پہلے وہ ماسکو واپس آ جاتا ہے اور اس کی زندگی میں ایک تیسری لڑکی مرینا بھی آتی ہے جس سے اس کی دو بچیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اس کے جنازے میں اس کے تمام دوست شرکت کرتے ہیں اور لارا بھی پہنچتی ہے۔ وہ اس کی میت پر اپنے جذبات کا اظہار کرتی ہے وہ اب بھی اس سے شدید محبت کرتی ہے۔

معاشرتی تبدیلیوں اور سیاسی اتھل پتھل کے باوجود ’ڈاکٹر ژواگو‘ خالصتاً رومانوی کہانی ہے۔ لارا کے لیے یوری کی محبت ایک محرک قوت ہے، جو ایک پرجوش تعلق کی نمائندگی کرتی ہے جو سماجی اصولوں اور سیاسی حدود سے ماورا ہے۔ ناول کے کرداروں کو جنگ، انقلاب اور ذاتی چیلنجوں سے گزرنا پڑتا ہے۔ افراتفری کے درمیان برداشت کرنے اور امید کی کرن تلاش کرنے کی ان کی صلاحیت ناقابل تسخیر انسانی جستجو کو اجاگر کرتی ہے۔ روسی انقلاب اور اس کے پس منظر میں بالشویک تحریک کا جنم لینا روسی سماج کو مختلف طبقات میں تقسیم کر دیتا ہے۔

بات یہی تک محدود نہیں رہتی بلکہ اس ناول کے ذریعے بعد از انقلاب پیدا ہونے والی صورت حال کی بھی باریک بینی سے عکاسی کی گئی ہے۔ یوری کی بطور شاعر اور ایک طبیب کی شناخت فنکارانہ اظہار اور انسانی روح کی شفایابی کے درمیان تعامل کو واضح کرتی ہے۔ اس کی شاعری خود کو جانچنے کا ذریعہ بنتی ہے اور ہنگامہ خیز واقعات پر مشاہداتی ردعمل دینے کا طریقہ ہے۔

’ڈاکٹر ژواگو‘ میں روسی معاشرے میں ہونے والی ان تبدیلیوں کی عکاسی کی گئی ہے جو نجی زندگیوں پر تاریخی واقعات کے اثرات کو ظاہر کرتی ہے۔ یہ ایک لازوال شاہکار ہے جو انسانی جذبات اور بندھنوں کی گہرائیوں میں جھانکتے ہوئے روس کی تاریخ کے نازک اور ہنگامہ خیز دور کی کہانی ہے۔ بورس پاسترناک کا شاعرانہ انداز نثر معیاری اور بے عیب ہے۔ وہ اپنی تحریروں میں روسی منظر نامے کو انسانی جذبات کی کسوٹی پر پرکھتا ہے۔ یہ ناول ہمیں یاد دلاتا ہے کہ عظیم سماجی تبدیلیوں کے دور میں بھی انسان اپنی محبت، برداشت اور مقصد کی کھوج پر قائم رہ سکتا ہے۔ اہم موضوع، بہترین کردار نگاری اور سی آئی اے کی مدد سے ڈرامائی انداز میں منظر عام پر آنے کی وجہ سے اس ناول نے دیگر ذرائع ابلاغ میں بھی کامیابیاں سمیٹیں اور 1965 میں ہالی وڈ کے مشہور ہدایت کار ڈیوڈ لین نے اس پر فلم بھی بنائی جسے پوری دنیا میں سراہا گیا۔

Facebook Comments HS