کروڑوں بچے سکول جا کر کیا کریں گے


یونیسکو کا ماننا ہے کہ دنیا کہ پچیس کروڑ بچے سکول نہیں جا رہے۔ یہ ایک عالمی خبر ہے جبکہ پاکستانی خبر یہ ہے کہ دو کروڑ باسٹھ لاکھ بچے پاکستان میں سکولوں سے باہر ہیں۔ یعنی پاکستان میں چالیس فیصد بچے سکول نہیں جا رہے۔ اگر پنجاب کو بیچ میں سے نکال دیا جائے تو باقی پاکستان کے ساٹھ فیصد بچے سکول نہیں جا رہے، اگر صرف بلوچستان کو دیکھا جائے تو ستر فیصد بچے سکول نہیں جا رہے۔ یہ ایک بہت ہی اہم مسئلہ ہے۔ اس وقت دنیا کے بیشتر ممالک جہاں ترقی ہو رہی ہے وہاں تقریباً سو فیصد بچے سکول جاتے ہیں۔

سکول جانا کیوں ضروری ہے؟ اس کی اہمیت اور افادیت سے سب واقف ہیں۔ دی ایجوکیشن 2030 فریم ورک فار ایجوکیشن جو یونیسکو نے جاری کیا ہے اس پر پاکستان افغانستان کو چھوڑ کر باقی دنیا عمل درآمد کر رہی ہے۔ اس فریم ورک میں یونیسکو دنیا کے ممالک سے ایس ڈی جی 4 سے متعلق اشاریوں کے حوالے سے وسط مدتی اہداف طے کرنے کو کہتا ہے۔ اس مشمولہ طریقہ کار میں ممالک کو ایس ڈی جی 4 کے سات اہداف 2025 اور 2030 تک حاصل کرنے میں مدد فراہم کی گئی ہے جن میں قبل از ابتدائی درجے کی تعلیم، سکول میں حاضری، تعلیم کی تکمیل اور خواندگی، صنفی مساوات، سیکھنے کی استعداد، تربیت یافتہ اساتذہ کی دستیابی اور تعلیم پر سرکاری اخراجات شامل ہیں۔

ان ممالک میں پاکستان بھی شامل ہے اور دنیا پاکستان کی اس سلسلے میں خاطر خواہ مدد بھی کر رہی ہے۔ مگر اس کے باوجود ہمارا کرپٹ نظام اور بے کار کالونیل انتظامی نظام بہتری کی جگہ پاکستان کے نظام تعلیم کو مزید خرابی کی طرف لے کر جا رہا ہے۔ پاکستان دنیا کے ان عجیب و غریب ممالک میں شامل ہے جہاں سب کے لیے یکساں نظام تعلیم ہے ہی نہیں۔ پاکستان میں اس وقت دس سے زیادہ نظام تعلیم عملاً رائج ہیں۔ ان نظاموں میں جو سرکاری نظام ہے اسے بھی طبقات کے لیے مختلف رکھا گیا ہے۔

گزشتہ چند برسوں میں پاکستان بدترین مالی اور معاشی بدانتظامی کا شکار ہے جس کی وجہ سے پاکستان میں مہنگائی دنیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اور بے روزگاری کی شرح میں غیر معمولی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ جس سے عام آدمی کی قوت خرید اب نہ ہونے کے برابر ہے۔ جبکہ ان کچھ برسوں میں مہنگائی میں پانچ گنا سے زیادہ اضافہ ہو گیا ہے۔ پاکستانی روپے کی قدر بہت کم ہو گئی ہے، پاکستان میں بجلی، گیس اور تیل کی قیمت کئی گنا بڑھ گئی ہے۔

جس کی وجہ سے وہ والدین جو کچھ برس پہلے تک اپنے بچوں کو پڑھا سکتے تھے وہ یہ اب استطاعت کھو بیٹھے ہیں۔ اور اگر حالات یہی رہے تو مزید کروڑوں بچے سکول جانے سے محروم ہوجائیں گے۔ حکومت پاکستان تعلیم اور صحت پر دنیا میں سب سے کم پیسے خرچ کرتی ہے۔ اور جو پیسے خرچ کیے جاتے ہیں اس کا نوے فیصد خدمات کے عوض جو تنخواہ اور مراعات دی جا رہی ہیں ان پر خرچ ہو رہے ہیں۔ پاکستان تعلیم کے لیے دنیا بھر سے امداد لیتا ہے لیکن اس کا عملی استعمال کرپٹ سسٹم کی وجہ سے ملکی تعلیمی نظام کو فائدہ نہیں دے رہا۔

دنیا کے ممالک تعلیم کو اپنے ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھتے ہیں۔ جس کی وجہ سے ان کے ملک کا انتظام مستقبل میں بہتر طریقے سے چلتا ہے۔ پاکستان میں سرکاری سکولوں کا معیار اتنا خراب ہے کہ وہاں سے فارغ ہونے والے بیشتر بچے دس برس پڑھنے کے باوجود لکھنے پڑھنے اور سمجھنے کی بنیادی صلاحیت تک پیدا نہیں کر پاتے۔ دنیا میں بنیادی تعلیم دینا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ لیکن حکومت پاکستان نے یہ ذمہ داری کبھی پوری نہیں کی۔

انگریزی تعلیم کے لیے بچے پرائیویٹ اداروں کا رخ کرتے ہیں جبکہ سولہ فیصد بچے دینی تعلیم کے لیے مدرسوں کا رخ کرتے ہیں۔ پرائیویٹ سکولوں میں بھی تعلیم دینے کا سلسلہ انتہائی کمتر درجے کا ہے۔ تمام پرائیویٹ ادارے جو سکول چلا رہے ہیں ان کا زور انگریزی بولنے اور انگریزی رٹنے پر ہوتا ہے۔ اور ان سکولوں کے اخراجات اتنے زیادہ ہیں کہ پاکستان کی بیشتر آبادی یہ اخراجات نہیں اٹھا سکتی۔ پاکستان میں جتنی بھی حکومتیں آئیں ان کی ترجیحات میں تعلیم شامل ہی نہیں تھی۔

گزشتہ چار دہائیوں سے زیادہ عرصہ میں ہم نے عملاً اس ملک کو ترقی کی راستے سے دور رکھا۔ اس وقت ملکی سطح پر یکساں نظام تعلیم کے حوالے سے کوئی عملی کام نہیں ہو رہا۔ یہ کوئی زیادہ مشکل کام نہیں ہے۔ لیکن چونکہ اس کام سے حکومتوں میں آنے والے لوگوں کا کوئی فائدہ وابستہ نہیں ہے اس لیے وہ یہ کام نہیں کرتے۔ اس ملک میں اگر صرف سمگلنگ روک دی جائے تو لاکھوں بچے سکولوں کا رخ کر سکتے ہیں۔ اس لیے کہ سمگلنگ کی وجہ سے بلوچستان اور خیبر پختونخوا کے سرحدی اضلاع میں شعوری کوشش سے تعلیمی اداروں کو چلنے نہیں دیا جاتا اور ان بچوں کو اس مکروہ دھندے میں شریک کیا جاتا ہے جن کی عمریں سکول جانے کی ہوتی ہے۔

لیکن سمگلنگ سے چند ہزار لوگوں کا فائدہ وابستہ ہے۔ اور اس کی وجہ سے پاکستان میں بے روزگاری اور غربت بڑھ رہی ہے۔ پاکستان میں دی جانے والی تعلیم اتنی ناقص ہے کہ عملی زندگی میں اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔ آپ کسی بھی میٹرک پاس بچے یا بچی سے بنیادی جغرافیہ کے سوالات پوچھیں کہ پاکستان کہاں واقع ہے، مشرق مغرب شمال جنوب کس طرف ہیں۔ پاکستان میں بارشیں کیسے ہوتی ہیں۔ یا پھر جنرل سائنس کے کچھ بنیادی باتیں پوچھ لیں، یا پھر ریاضی کے بنیادی اصول پوچھ لیں۔

میں نے کچھ سو سے زائد بچوں کو چیک کرنے کے لیے ان سے بنیادی نوعیت کے کچھ باتیں پوچھیں۔ ان بچوں میں وہ بچے بھی شامل تھے جنہوں نے امتحانات میں سو فیصد نمبر لیے ہوئے تھے۔ ان بچوں کو صرف چند رٹے ہوئے جملوں سے زیادہ کچھ بھی نہیں آتا تھا۔ ان تمام بچوں کو یہ پتہ نہیں تھا کہ ان کے مشرق میں کون سا علاقہ ہے اور جنوب میں کون سا ۔ انہیں انسانی ارتقاء کے بنیادی مباحث کا علم بھی نہیں تھا۔ یہ بچے کائنات کے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے تھے۔

ان تمام بچوں نے اپنی پوری تعلیمی زندگی میں کورس یا نوٹس کے علاوہ کوئی کتاب نہیں پڑھی تھی۔ ان تمام بچوں کو اردو کے حروف تہجی یاد نہیں تھے اور نہ ان کی تعداد کا علم تھا۔ اب ایسے نظام تعلیم کا کیا کیا جائے جہاں بچوں کو صرف امتحان میں پاس کروانے کے لیے چیزیں رٹائی جاتی ہیں۔ ان بچوں میں بیشتر بچے پرائیویٹ سکولوں کے پڑھے ہوئے تھے۔ ایک معروف پرائیویٹ سکول نے مجھے چار پانچ برس پہلے اپنے سکول مدعو کیا تھا وہاں بچوں سے ملنے کا موقع ملا۔

میں نے بورڈ پر دس نام لکھے۔ کارل مارکس، فرائڈ، فیثاغورث، ایڈم سمتھ، چارلس ڈارون، ماری کیوری، شاہ رخ خان، مرلی دھرن اور مائرہ خان۔ یہ سکول اس وقت پاکستان کے سب سے بہترین سکولوں میں سے ایک ہے۔ اور جو بچے میرے سامنے بیٹھے ہوئے تھے یہ میٹرک اور ایف ایس سی کے طالب علم تھے۔ ان تمام بچوں کو صرف آخری تین ناموں کا پتہ تھا باقی کے بارے میں ایک بچہ بھی نہیں جانتا تھا۔ یعنی ہمارے بچوں کو صرف فلمی اداکاروں اور کرکٹ کے کھلاڑیوں کے بارے میں پتہ ہے۔

انہیں دس سے بارہ برسوں میں کسی استاد نے سائنس، اکنامکس، ریاضی، حیاتیات اور زندگی کے دوسرے شعبوں کے بارے میں نہیں بتایا تھا۔ میری حیرت کی انتہا یہ تھی کہ اس وقت وہاں موجود اساتذہ میں سے بھی ان میں سے بیشتر علمی ناموں سے ناواقف تھے، اگر آپ کو شک ہے تو اپنے گھر میں یا اردگرد ان بچوں سے ذرا چند منٹ علمی گفتگو کریں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ ہمارا نظام تعلیم ہے کیا اور اس سے نکلنے والے بچے کس قابل ہیں، ہم چونکہ تدریس سے وابستہ ہیں اس لیے ہم اس خرابی کو شدت سے محسوس کرتے ہیں۔

ہمارے ملک کے بچوں کے مقابلے میں آپ دنیا کے بچوں سے پوچھیں تو ان کی قابلیت اور استعداد دیکھ کر آپ دنگ رہ جائیں گے۔ اس لیے کہ ان ممالک میں تعلیم کے شعبہ میں ان افراد کو لیا جاتا ہے جو تعلیم یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ تربیت یافتہ بھی ہوں اور ان کو دیگر شعبوں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ اور مراعات دی جاتی ہیں۔ یہ ترقی یافتہ اقوام اپنے نظام تعلیم کا ہر برس جائزہ لیتے ہیں۔ ضرورت کے تحت اس میں تبدیلی کرتے ہیں۔

اپنے نظام تعلیم کو جدید خطوط پر استوار کرتے ہیں۔ مگر ہمارے ہاں سب سے نالائق لوگوں کو اس شعبہ میں لایا جاتا ہے زیادہ تر سیاسی سفارش، رشوت یا کوٹے میں ملازمت دی جاتی ہے اور ان کی کوئی عملی تربیت نہیں کی جاتی۔ دوران ملازمت ان کو جانچا نہیں جاتا اور ان کو معاشرے کے دوسرے افراد کے مقابلے میں تنخواہ اور مراعات بھی بہت کم دی جاتی ہیں۔ جس کی وجہ سے یہ اپنا کام حقیقی معنوں میں سرانجام نہیں دیتے اور رفتہ رفتہ اس کلچر نے ایک ایسی صورت اختیار کی ہے کہ اب اس سے چھٹکارا پانا عملاً ممکن بھی نظر نہیں آتا۔

اس لیے پاکستان میں تعلیم کی جگہ ڈگری کی اہمیت ہے۔ یہاں بازاروں سکولوں کالجوں اور یونیورسٹیوں میں کھلے عام نقل کرنے کے لیے نوٹس بک رہے ہوتے ہیں مگر اس کو کوئی نہیں روکتا۔ سرکاری سکولوں کے لاکھوں بچے ہر برس امتحان میں فیل ہو جاتے ہیں۔ مگر آج تک اس کی وجہ سے کسی کو کوئی سزا نہیں ملی۔ یہ نظام تعلیم اتنا سڑ چکا ہے کہ اب اس سے بدبو آنے لگی ہے۔

دو ہزار سولہ میں مجھے صوبہ کے چالیس کالج پرنسپلوں کے ایک تربیتی ورکشاپ میں بطور ریسورس پرسن کے بلایا گیا۔ میں نے ان پرنسپل صاحبان کے ساتھ پورا دن صرف کیا اور آخر میں ان کو کہا کہ وہ لائبریری جاکر ایک ایک کتاب اپنی مرضی کی لیں اس کا بک ریویو کر کے مجھے دے دیں۔ آپ یقین نہیں کریں کہ ان میں سے کوئی بھی ایسا نہیں کر سکا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ ان کو ملازمت میں آئے ہوئے تیس پینتس برس سے زیادہ ہو چکا تھا۔ اور بقول ان کے ان کو کبھی لکھنے کی ضرورت نہیں پڑی اور نہ ہی کتاب پڑھنے کی ضرورت پڑی۔ ایک مختصر سا کورس جو ان کو زبانی ازبر ہو چکا تھا وہ وہی طالب علم کو کلاس میں جاکر سناتے رہے۔ یوں ان میں لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت قدرتی طور پر ختم ہو گئی تھی۔

یہ قصور افراد کا نہیں ہے۔ یہ نظام کا قصور ہے۔ جس میں اول تو قابل لوگ آتے نہیں ہیں اور اگر آ بھی جائیں تو سسٹم اس قدر بوسیدہ ہے کہ انہیں وقت کے ساتھ محنت کرنے کی ترغیب ہی نہیں دیتا اور وہ چند برسوں میں جو صلاحیت ان میں ہوتی ہے اسے بھی ضائع کر دیتے ہیں۔ تعلیم سے قومیں بنتی ہیں۔ یہ بات جنوبی کوریا، چین اور اب بنگلہ دیش نے ثابت کردی ہے کہ جو تعلیم پر زیادہ خرچ کرتے ہیں وہ زیادہ فائدے میں رہتے ہیں۔

ملک کی بیوروکریسی اور دیگر ملازمین کی شاہ خرچیاں ختم کردی جائیں اور اس پیسے کو تعلیم پر لگائیں تو چند برسوں میں پاکستان بھی دنیا کے ساتھ آگے بڑھ پائے گا ورنہ دنیا ترقی کے راستے پر جائے گی اور ہم غربت اور جنگوں کا ایندھن بنیں گے۔ دنیا کے لیے تو یہ ایک بریکنگ نیوز ہے کہ پاکستان میں ڈھائی کروڑ بچے سکول نہیں جاتے مگر حقیقت میں دیکھا جائے تو یہ کروڑوں بچے سکول جاکر بھی کیا کریں گے۔ سکول اب تربیت گاہ نہیں رہے۔

اب سوشل میڈیا تربیت کر رہا ہے۔ سکول جانے والے بچوں کے ہیروز بھی وہی ہیں جو سکول نہ جانے والوں کے ہیں۔ پاکستان میں تعلیم کا نظام بدلیں۔ تعلیم کو ترجیحات میں پہلے نمبر پر رکھیں اور اپنے بہترین دماغ اس شعبہ میں لے کر آئیں۔ جو انڈیا اور بنگلہ دیش کر رہا ہے اس کی نقل کریں اس لیے کہ ان کا نظام تعلیم بدل رہا ہے۔ نئی ضرورتوں اور تقاضوں سے ہم آہنگ ہو رہا ہے۔ جس کے ثمرات بھی وہ لے رہے ہیں۔ آنے والا دور ٹیکنالوجی کا ہے۔

اور ٹیکنالوجی دم درود، وظیفوں سے نہیں عملی تعلیمی تربیت سے سیکھی جا سکتی ہے اور اس سے فائدہ اٹھایا جاسکتا ہے۔ بنگلہ دیش کے ایک آئی ٹی سکول کی سالانہ آمدن ہمارے پورے سال کے تعلیمی بجٹ سے زیادہ ہے۔ اور یہی حال بنگلور کے ایک آئی ٹی سکول کا ہے۔ کیا ہم ایسا ایک آئی ٹی سکول نہیں کھول سکتے جو بچوں کی تربیت کرے اور وہ گھر بیٹھے دنیا کو اپنی خدمات بیچیں اور زرمبادلہ کمائیں۔

Facebook Comments HS