ایام طالب علمی کی یادیں


ھم نے پرائمری تک تعلیم اپنے گاؤں کے واحد پرائمری سکول، گورنمنٹ پرائمری سکول چک نمبر 45 ایس پی شکور آباد، تحصیل دیپالپور، ضلع اوکاڑہ سے حاصل کی۔ ہمارے پرائمری سکول کے اساتذہ جو غریق رحمت ہو گئے ہیں اللہ ان کے درجات بلند کرے اور ان کی مغفرت کرے بہت ہی مخلص اساتذہ تھے۔ ان میں ماسٹر محمد جہانگیر، ماسٹر محمد افضل وٹو، ماسٹر ڈاکٹر فقیر محمد، ماسٹر محمد طفیل، ماسٹر محمد قاسم اور ماسٹر محمد رزاق نمایاں تھے۔ یہ سب انتہائی محنتی اور شفیق اساتذہ تھے۔

پرائمری پاس کرنے کے بعد چھٹی جماعت کے لیے چونکہ گاؤں میں کوئی سکول نہیں تھا لہذا 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع شہر حویلی لکھا کے سٹی ہائی سکول نمبر 2 میں داخلہ لے لیا جو شہر کے وسط میں تھا۔ سکول تک پہنچنے کے لیے ہمیں روزانہ فجر کے بعد گھر سے نکلنا پڑتا۔ پانچ کلومیٹر گاؤں سے بس سٹاپ تک پیدل یا سائیکل پر سفر کرنا ہوتا تھا اور پھر بس کا انتظار کرنا پڑتا۔ بس آنے پر یہاں سے بس میں سوار ہو کر شہر پہنچتے اور بس سے اترنے کے بعد بھی ایک بار پھر پیدل ایک کلومیٹر کے فاصلے پر شہر کے وسط میں سکول پہنچنا پڑتا تھا۔ آٹھویں تک ہم نے یہاں تعلیم حاصل کی۔ وہاں ہمیں جو یاد ہیں اساتذہ ان میں سے کچھ اللہ کو پیارے ہو گئے ان میں عبدالستار قمر صاحب، حافظ اللہ وسایا صاحب، لودھی صاحب، صادق صاحب، وٹو صاحب اور مرحوم شبیر حیدر صاحب اب بھی یاد ہیں۔ سید ذوالفقار احمد شاہ بخاری ہمارے ہیڈ ماسٹر تھے۔

نہم جماعت میں ہم نے گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 حویلی لکھا میں داخلہ لے لیا۔ ہمارے کلاس انچارج اللہ انہیں غریق رحمت فرمائے صوفی محمد طفیل صاحب تھے۔ اپنے نام کی طرح بہت ہی صوفی منش انسان تھے۔ وہ ہمیں اسلامیات کے ساتھ ساتھ انگریزی بھی پڑھاتے تھے۔ اس کے علاوہ ہمارے دیگر اساتذہ میں نوری صاحب، اشرف صاحب، صابر وٹو صاحب، رزاق صاحب، زمان اعظم صاحب، محمود الحسن صاحب اور محمد صدیق ثاقب صاحب شامل تھے۔ زمانہ طالب علمی کے دوران ہی ان اساتذہ کی وجہ سے ہمیں بزم ادب میں حصہ لینے کا موقع ملا جہاں ہمیں بولنے اور لکھنے کا شوق پیدا ہوا۔ اسی دور میں تقریری مقابلوں میں حصہ لینا شروع کیا۔ عموماً اپنی تقاریر خود ہی لکھنی پڑتیں۔ البتہ بڑے مقابلوں کے لیے صدیق ثاقب صاحب لکھ کر دیا کرتے تھے جنہیں ہم زبانی یاد کر لیتے تھے اور حافظے میں محفوظ کر لیتے۔

گورنمنٹ ہائی سکول نمبر 1 حویلی لکھا کی ایک نہ بھولنے والی یاد یہ بھی ہے کہ ہم نے اللہ تعالیٰ کے کرم و فضل، والدین کی دعاؤں اور اساتذہ کی محنت کی وجہ سے 1996 کے لاہور بورڈ میں میٹرک کے امتحان میں اول پوزیشن حاصل کی اور گولڈ میڈل حاصل کیا۔ آج بھی اس سکول میں لوح امتیاز پر ہمارا نام لکھا ہوا ہے۔ جس میں بورڈ میں نمبر، وظیفہ اور پوزیشن کا ذکر ہے۔

میں سمجھتا ہوں یہ سب شخصیات جن کا میں نے ذکر کیا ہے انہیں کے طفیل یہ سب ممکن ہوا۔ اللہ تعالیٰ اور اس کے نبی کا خاص کرم تھا۔ والدین کی دعاؤں کا اثر تھا ورنہ ہم میں کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی کہ یہ کارنامہ سر انجام دیتے۔

کالج میں تعلیم کے لیے خوش قسمتی سے ہمارا داخلہ لاہور گورنمنٹ کالج میں 1996 میں ہو گیا۔ یہاں ہم کالج کے قدیم ترین ہاسٹل اقبال ہاسٹل میں مقیم رہے۔ ہمارے ہاسٹل وارڈن پروفیسر خالد مسعود صدیقی اور میجر محمد خان اشرف تھے جو بالترتیب انگریزی اور اردو کے بہت اچھے استاد تھے۔ ہاسٹل میں ہم ادبی مجلس کے سیکرٹری رہے اور یہاں کے کتب خانہ میں بہت ساری کتب کا اضافہ کیا۔ اس کے ساتھ ساتھ عرصہ دراز سے تعطل کا شکار ہوسٹل کا سالانہ میگزین ”اقبال“ بھی از سر نو شائع کیا۔

لکھنے کے شوق کو خاص طور پر گورنمنٹ کالج یعنی جی سی یونیورسٹی میں مزید جلا ملی جہاں ہمیں اصغر ندیم سید صاحب جیسے نامور استاد، ادیب، ڈرامہ نویس، شاعر اور لکھاری ملے جو ہمیں اردو پڑھایا کرتے تھے۔ اس کے علاوہ عباس نجمی صاحب مرحوم، محمود الحسن بزمی صاحب، شکیل اسلم صاحب، امتیاز احمد صاحب، شریف اصلاحی صاحب، حسن صاحب، خالد منظور بٹ صاحب، ڈاکٹر سعادت سعید، ڈاکٹر نیر صمدانی صاحب، ڈاکٹر خالد محمود سنجرانی، کالج لائبریرین فرخندہ لودھی، عبدالوحید صاحب، نعیم صاحب اور ان جیسے دیگر نامور اساتذہ سے لکھنے، بولنے اور سیکھنے کا بے حد موقع ملا۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی لاہور کا ماحول طلبہ و طالبات کے لیے انتہائی موزوں تھا۔ ان نامور اساتذہ کے ساتھ ساتھ ہمارے کچھ ہم جماعت اور سینئرز طالب علم بھی ایسے تھے جن سے ہمیں مل بیٹھنے اور سیکھنے کا موقع ملا ان میں محمد صدیق اعوان، الیاس نظامی، صلاح الدین ایوبی، حافظ بلال فاروق، شاذان دانش، طارق عزیز سندھو، سفیر حیدر، بابر نسیم آسی، نعیم بزمی، اورنگزیب نیازی نمایاں ہیں جو آج بھی اپنے اپنے شعبوں میں نمایاں خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔

گورنمنٹ کالج کے دنوں میں ہی ہم کالج گزٹ، کالج کے سالانہ میگزین اور علمی و ادبی و مجلہ راوی، سوندھی ٹرانسلیشن سوسائٹی کی سالانہ کتاب تخلیق مکرر کی مجلس ادارت میں شامل تھے۔ اس کے علاوہ مجلس صوفی تبسم، ایجوکیشن سوسائٹی، پنجابی مجلس اور دیگر مجالس کے رکن تھے۔ ان کے اجلاسوں میں اٹھنے بیٹھنے اور شمولیت کا موقع ملا۔

ہم کالج کے زمانہ طالب علمی میں جی سی میں کافی متحرک رہے اور اچھے نمبروں کے ساتھ ساتھ ہمیں کالج کا سب سے اعلیٰ طالب علمی ایوارڈ یعنی ”رول آف آنر“ ملا جو کہ ایک اعزاز سے کم نہیں ہے۔

گورنمنٹ کالج یونیورسٹی کے ہمارے زمانہ طالب علمی کے دوران یہاں کے آخری پرنسپل اور پہلے وائس چانسلر ڈاکٹر خالد آفتاب تھے۔ وہ انتہائی متحرک منتظم اور قابل انسان تھے جنہوں نے کالج کو عروج پر پہنچا کر یونیورسٹی کی داغ بیل ڈالی۔ وہ نامور ادیب اشفاق احمد کے بھتیجے تھے اور علم و ادب سے رغبت رکھتے تھے۔ لہٰذا وہ طلبہ و طالبات کی سرگرمیوں میں خصوصی دلچسپی لیتے اور ان کے فروغ کے لیے سرپرستی فرماتے۔ وہ خود بھی راوین تھے اس لیے کالج کی تعمیر و ترقی، نصابی اور غیر نصابی سرگرمیوں پر خصوصی طور پر توجہ دیتے ہیں۔

ایام کالج کے دوران ہی ہم نے شہر کے مختلف اخبارات میں اپنی تحریریں بھیجنا شروع کر دی تھیں جن میں ”روزنامہ پاکستان“ اور بچوں کا میگزین ”پھول“ شامل تھا جس کے اس وقت کے انچارج جناب اختر عباس صاحب تھے اور ان کے معاون منظر وحید صاحب تھے۔ شعیب مرزا صاحب سے بھی ہماری دوستی تھی اور اب بھی جاری ہے۔ اس دوران مختلف تحریریں شائع بھی ہوئیں۔

جی سی سے گریجویشن کے بعد ہم نے ماسٹر پنجاب یونیورسٹی سے کیا۔ یہاں بھی طلبہ و طالبات کی سرگرمیوں کی کمیٹی کے رکن منتخب ہوئے۔ مجھے یاد ہے کہ ہم نے اپنے شعبے کا واحد میگزین بھی شائع کیا۔ یہاں پنجاب یونیورسٹی میں بھی ہمیں بہت اچھے اساتذہ ملے جن میں ڈاکٹر محمد سرور صاحب، ڈاکٹر حسن عسکری رضوی صاحب، ڈاکٹر فاروق حسنات صاحب، ڈاکٹر امبرین جاوید، ڈاکٹر ارم خالد اور ڈاکٹر شبیر احمد خان صاحب شامل ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کی یادوں میں یہ بھی ایک سنہری یاد ہے کہ یہاں ہم خصوصی طور پہ جاپان سے وظیفے کے لیے منتخب ہوئے جو یونیورسٹی بھر میں صرف چار طلبہ و طالبات کو ہی دیا جاتا تھا۔

اب جب میں پیچھے مڑ کر اپنے زمانہ طالب علمی کو یاد کرتا ہوں تو مجھے صرف اپنے اچھے دوست اور ہم جماعت ہی نہیں بلکہ اس کے ساتھ ساتھ شفیق، مہربان، قابل، محنتی اور بہترین اساتذہ بھی یاد آتے ہیں جن کا جتنا شکریہ ادا کیا جائے وہ کم ہے۔

یہ ان اساتذہ کی شفقت اور محنت کا ہی نتیجہ تھا کہ آج ہم اس مقام پہ ہیں اور کچھ لکھ پڑھ سکتے ہیں۔
ان عظیم اساتذہ کی شان میں یہ چند الفاظ بطور خراج تحسین پیش خدمت ہیں ؛
وہ خلوص و محبت کے پیکر
وہ علم و دانش کے مرکز
ان کی نگاہ کرم سے کئی مراد پا گئے
با ادب جو تھے وہ زمانے میں چھا گئے
ڈھونڈیں اب کہاں وہ دن اور بستیاں
کہاں کھو گئے وہ وقت اور وہ ہستیاں
چہرے کہاں وہ فقط یاد ابھی باقی ہے
نالے کہاں وہ فقط فریاد ابھی باقی ہے

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti