کیا پنجاب کی سیاست سندھ سے زیادہ میچیور ہے؟


ایک اور جلوس جاتے ہوئے دیکھا۔ جس میں پہ ایم کیو ایم پاکستان کے جھنڈے اٹھائے بچے بوڑھے نوجوان سب بڑے جوش و خروش سے نعرے بازی کرتے ہوئے جا رہے تھے۔ اردو والوں کی پہچان متحدہ پاکستان۔ اس طرح کہ قومی پرست سیاست کہ تجربات میں نے کراچی میں ہی آ کر دیکھے ہیں۔ جہاں عام لوگوں کو اب ترقیاتی کام سے کوئی لینا دینا نہیں شاید نا ہی لوگوں کو اچھی ٹرانسپورٹ کی ضرورت ہے، نا لوگوں کے سیاسی نعروں میں پہلا نعرہ میٹھے پانی کی ڈیمانڈ ہوتا ہے۔ بلکہ یہاں شہر کراچی میں لوگوں کے دماغ میں یہ سافٹ وئیر اپ ڈیٹ کر دیا گیا ہے کہ اردو بولتے ہو تو متحدہ کو ووٹ دینا فرض ہے اور اگر سندھی بولتے ہوتو پھر پی پی پی تمہاری پہچان ہے۔

اس کی نسبت پنجاب کی سیاست کو میں کافی حد تک میچور سمجھتا ہوں۔ کیونکہ وہاں آج تک ق لیگ ہو یا نواز لیگ تحریک انصاف ہو یا پھر کوئی بھی اور چھوٹی بڑی سیاسی جماعت پنجاب میں کبھی بھی وہ پنجابی ہونے پہ ووٹ مانگتی ہوئی نظر نہیں آئے گی۔ ناں کبھی سرائیکی قوم پرستی کو کیش کرنے کوشش کرتی کوئی سیاسی جماعت سامنے آئے گی۔ نون لیگ نے اکثر ہی پنجاب میں فتح حاصل کی ہے اور ہمیشہ سے پنجاب میں جیت کر ہی انہوں نے وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومت بنائی ہے۔ مگر کبھی بھی پنجابی یا سرائیکی قوم پرستی کو بنیاد بنا کر کہیں سے بھی ووٹ نہیں لیے۔

تحریک انصاف نے بھی 2018 میں پنجاب میں ایک نمایاں پوزیشن حاصل کی تھی۔ مگر کہیں بھی کسی جلسے میں بھی پنجابی ہونے کی وجہ سے ووٹ نہیں مانگا گیا۔ ویسے تو پورے پاکستان میں جمہوری جماعتوں کے سیاسی داؤ پیچ ایک ہی طریقہ کار سے ہوتے ہیں۔ مگر شاید پنجاب اور سندھ کی سیاست میں یہ بنیادی فرق ضرور ہے کہ پنجاب کی سیاست نسبتاً میچور ہے سندھ کی سیاست سے۔ پنجاب میں اکثر لوگ اپنے نمائندوں سے ترقیاتی کاموں پہ سوال جواب ضرور کرتے ہیں۔ اور اسی بنیاد پر ووٹ کاسٹ کرتے ہیں جب کہ سندھ میں ترقیاتی کاموں کا ووٹ شاید کم ہی ملتا ہے لیکن اردو اور سندھی ہونے کا ووٹ بڑی آسانی سے لیا جاسکتا ہے

Facebook Comments HS