ٹوٹے ہوئے گھر کا بچہ کدھر جائے؟


 انسانی زندگی میں گھر اور گھر والوں کی بہت زیادہ اہمیت ہے۔ اگر یہ کہا جائے کہ خاندانی نظام انسان کو معاشرتی، اخلاقی، نفسیاتی اور روحانی لحاظ سے مکمل کرتا ہے تو غلط نہ ہو گا۔ خاندانی نظام میں بچے کی پرورش اور میاں بیوی کے باہمی رویے کا بڑا عمل دخل ہے۔ میاں بیوی، ماں باپ اور بہن بھائی کے رشتے بنائے ہی سکون اور صحتمند معاشرے کو پروان چڑھانے کے لئے گئے ہیں۔ آج کا موضوع ”بچہ“ ہے۔ میاں بیوی کے درمیان تلخیاں ان کے ماں باپ ہونے پر اثر انداز ہوتی ہیں اور اس طرح بچہ ان تلخیوں کے اثرات سے نہیں بچ سکتا۔

ہمارے ہاں بہت سے حضرات شادی کو اپنی نفسانی تسکین کے لئے اہم سمجھتے ہیں مگر وہ اس کے اس ناقابل فراموش پہلو سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں جسے ”ذمہ داری“ کہتے ہیں۔ شادی بنیادی طور پر ایک ذمہ داری کا نام ہے جس میں میاں بیوی زندگی کی گاڑی کے دو پہیوں کی طرح کام کرتے ہیں۔ اگر میاں بیوی میں باہمی عزت و احترام کا جذبہ نہ ہو تو زندگی عذاب بن کر رہ جاتی ہے۔ اپنی نفسانی تسکین کے لئے شادی کرنے والے حضرات کی ذہنی صحت ایک شکاری کی سی ہے جو اپنے شکار اور اہداف کو تبدیل کرتا رہتا ہے۔

اگر شکاری مرد ہے تو ایک کے بعد ایک عورت اور اگر عورت ہے تو ایک کے بعد ایک مرد۔ ایسے مرد و عورت اپنے بچوں پر اپنے کرتوتوں کے اثرات کی پرواہ نہیں کرتے۔ اس طرح ایک معصوم جان جس تکلیف سے گزرتی ہے اس کا اندازہ کرنا بھی مشکل ہے۔ ہمارے ہاں زیادہ دیکھنے میں یہ آیا ہے کہ مردوں کا شادی کے بعد بچے پیدا کر کے اپنی بیویوں کو چھوڑ کر نئی شادیاں کر لینا یا غیر عورتوں سے ناجائز تعلقات رکھنا زیادہ عام ہے۔ ایسے مرد اپنی نفسانی لذت کے لئے اپنے بچے کی عزت نفس اور خوداعتمادی کو تار تار کر دیتے ہیں۔

جب ایک مرد ایک عورت سے بچہ پیدا کرنے کے بعد بیوی اور بچے کے ساتھ دھوکہ کرے اور انھیں چھوڑ دے تو ان حالات میں بچے پر بہت خطرناک اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ ہم جیسے جاہل معاشرے میں جہاں لوگ دوسروں کے عیب ڈھونڈتے ہیں، جہاں دوسروں پر طنز کرنا اور دوسروں کو نیچا دکھانا عام ہو وہاں ایسے بچے مر مر کر مرتے ہیں۔ ایسے بچے کے اندر جھانکنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس کو پڑھنے والا کوئی نہیں ہوتا۔ اس کو سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔

وہ اس عمر میں جس میں اسے کھیل کود میں مصروف ہو کر زندگی کا مزہ لینا تھا وہ اپنے اندر سنجیدگی کا بیج بو لیتا ہے جو وقت کے ساتھ ساتھ ایک تناور درخت بن جاتا ہے۔ یہ سنجیدگی اسے وقت سے پہلے بوڑھا کر دیتی ہے۔ ماں باپ کے درمیان جھگڑے یا باپ کا بچے سے دور ہونا بچے کی ذہنی صحت کو تباہ کر دیتا ہے۔ اسی طرح بچے کو باپ کے غیر عورتوں کے ساتھ تعلقات کے طعنے کہیں کا نہیں چھوڑتے۔ بچہ اپنے دوستوں میں رہ کر بھی تنہا ہو جاتا ہے کیوں کہ اس کی سوچ اپنی عمر کے لڑکوں سے آگے نکل جاتی ہے۔

باپ کے پیدا کیے ہوئے حالات نے اسے ان گناہوں کی سزا دی ہوتی ہے جو اس نے کیے ہی نہیں ہوتے۔ اکیلی ماں بچے کو مکمل نہیں کر پاتی اس میں باپ کے سائے کا خلا عمر بھر کی محرومی بن جاتا ہے۔ اخلاقی طور پر بیمار مرد صحت مند معاشرے کی تشکیل نہیں کر پاتا اور ایسے مرد کے لئے بچہ پیدا کرنا محض ایک شغل ہوتا ہے۔ اس بچے کی تربیت کرنا ایسے مرد کی سکیم میں شامل ہی نہیں ہوتی۔

مندرجہ بالا مسائل ایک ہی عمل سے شروع ہوتے ہیں اور وہ ہے نفسانی خوشی کے لئے شادی جس کا نتیجہ نکلتا ہے تباہی۔ ایسا لگتا ہے جیسے پاکستانی مردوں کو اسلام نے کوئی خصوصی پیکج دے دیا ہو۔ وہ ہمیشہ خوش ہو کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ اسلام میں چار شادیاں جائز ہیں۔ مگر یہ منافق اس پر بات نہیں کرتے کہ اسلام نے انصاف کرنے کی شرط بھی رکھی ہے۔ اسلام نے ایک عورت کے ساتھ گزارا کرنے کو زیادہ پسند کیا ہے کیوں کہ انصاف کرنا ممکن اور آسان ہے۔ محض نفسانی خواہش کو پورا کرنے کے لئے اور بغیر کسی قانونی یا میڈیکل وجوہات کے اپنی بیوی اور بالخصوص بچے کو قربانی کا بکرا بنانا سراسر ظلم ہے۔ ایسا معاشرہ جہاں شادی فقط فیشن ہو اور باپ اپنی مستیوں میں مگن ہو آپ ہی بتائیں بچہ کدھر جائے؟

Facebook Comments HS