انتخابات سے پہلے نواز شریف اور عمران خان کی نااہلی

جس طرح عام انتخابات پہ چھائے بے یقینی کے سائے چھٹتے جا رہے ہیں، اسی نسبت سے طاقت کی اس پیچیدہ جدلیات کی پرتیں بھی کھلتی جا رہی ہیں، جس نے پچھلے پچھتر سالوں سے ہماری خواہشات کو اپنی گرفت میں لے رکھا تھا، بلاشبہ جب تک ہمارا ریاستی ڈھانچہ امریکی مقاصد کی تکمیل کے لئے وقف رہا، اس وقت تک مغربی میڈیا میں یہاں کے مقبول سیاسی رہنماؤں کے غیر فطری عروج و زوال کو بھی سیاسی عوامل کا نتیجہ باور کرایا جاتا تھا لیکن کابل سے امریکی انخلاء کے بعد سے یورپی ذرائع ابلاغ سیاسی انجنیئرنگ میں استعمال ہونے والے روایتی ہتھکنڈوں کو بے حجاب کر کے مغرب مخالف رائے عامہ کا رخ مقتدرہ کی طرف موڑنے میں سرگرداں نظر آتے ہیں، شاید 9 مئی بھی اسی سوشل میڈیا ابلاغیات کا شاخسانہ ہو جس کا مواد مغربی صحافتی اداروں نے نہایت مہارت کے ساتھ پی ٹی آئی ٹرولز کے دل و دماغ میں اتارا دیا تھا۔
اس حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ 1954 میں بنگال کے الیکشن سے لے کر 2018 کے عام انتخابات تک پاکستان میں تمام متنازعہ الیکشنز کا اصل بینافشری امریکہ تھا اس لئے مغربی ذرائع ابلاغ تھوڑی بہت طنزیہ تنقید کے ساتھ انتخابی عمل کی اثابت کو تسلیم کر کے آگے بڑھ جاتے تھے لیکن یہ پہلی بار ہوا ہے کہ عالمی میڈیا نے اپنے تمام وسائل کو پاکستانی مقتدرہ کو بدنام اور عام انتخابات کے انعقاد میں رکاوٹیں ڈالنے کے لئے وقف کر دیا، حیرت انگیز طور پہ عالمی ذرائع ابلاغ سابق وزیراعظم عمران خان، نواز شریف اور بلاول بھٹو کی امیج سازی کے ساتھ انتہائی نفاست سے ہماری مقتدرہ کے سیاسی کردار کی طرف انگلی اٹھا کر زخم خوردہ سیاستدانوں اور بپھری ہوئی رائے عامہ کے غصہ کا رخ اسٹبلشمنٹ کی طرف موڑنا چاہتے ہیں، بلاشبہ مغربی میڈیا نے ہمیشہ اسی طرح اپنے جانبدارانہ اصولوں کے ذریعے انسانی آزادیوں کا احاطہ کیا، چنانچہ ان تغیرات کے مضمرات کو نظر انداز کرنا مہلک ہو گا۔
8 فروری کو ہونے والے 12 ویں عام انتخابات میں دو ہفتے سے بھی کم وقت رہ گیا، مغربی تجزیہ کاروں نے رواں الیکشن کو ملک کے جمہوری سفر میں سب سے زیادہ متنازعہ انتخابات کی فہرست میں شامل کر لیا۔ مغربی ناقدین تحریک انصاف اور اس کے بانی رہنما کے خلاف ریاستی حکام کے کریک ڈاؤن کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جس کے نتیجہ میں بڑے پیمانے پر مبینہ پری پول دھاندلی جو سابق وزیر اعظم اور ان کی پارٹی کو منصفانہ مقابلے کے لئے لیول پلیئنگ فیلڈ کی راہیں مسدود کر رہی ہے۔
بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے قید ہیں، انہیں کرپشن، ریاستی راز افشا کرنے اور اپنے حامیوں کے ذریعے فوجی تنصیبات پر حملوں سمیت متعدد الزامات کا سامنا ہے۔ ریاستی اداروں کے خلاف مزاحمتی پالیسی سے اکتا کر پارٹی رہنماؤں کی بڑی تعداد پی ٹی آئی چھوڑ گئی، پارٹی کے کئی فعال لیڈرز گرفتاری سے بچنے کی خاطر زیر زمین چلے گئے، کچھ نے منحرف ہو کر دیگر سیاسی جماعتوں میں شمولیت اختیار کر لی۔ پی ٹی آئی کے متعدد امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی کو آر اوز کے ذریعے مسترد ہوتے دیکھا۔
جیسے 2017 میں تین رکنی پانامہ بینچ نے نواز شریف کو وزرات اعظمی سے ہٹانے کے بعد پارٹی قیادت کے لئے نا اہل قرار دیا تھا، اسی عدالتی فیصلہ کو نظیر بنا کر بانی پی ٹی آئی کو گزشتہ ماہ سزا یافتہ ہونے کی وجہ سے پارٹی چیئرمین شپ سے محروم کر دیا گیا۔ گوہر علی خان، نسبتاً غیرمعروف وکیل جنہوں نے تین سال سے بھی کم عرصہ قبل پارٹی میں شمولیت اختیار کی تھی، کو خان نے نیا سربراہ نامزد کر دیا لیکن تاحال وہ پارٹی کے تنظیم امور پہ اپنی گرفت مضبوط نہیں بنا سکے۔
ملک کی سپریم کورٹ میں ای سی پی کے ساتھ قانونی جنگ کے دوران پی ٹی آئی انتخابی نشان، بلے، کو برقرار رکھنے میں ناکام رہی، ایسے اقدامات سے ملک کا سیاسی منظرنامہ کافی حد تک بدلتا دکھائی دیتا ہے کیونکہ یہاں کے عوام فاتح کی حوصلہ افزائی اور شکست خوردہ کی تضحیک میں لذت محسوس کرتے ہیں۔ اگرچہ 2018 کے الیکشن میں اس وقت کی مقبول جماعت نواز لیگ کے ساتھ یہی کچھ ہوا جو اب پی ٹی آئی کے ساتھ ہو رہا ہے لیکن مغربی ذرائع ابلاغ نے ٹریجڈی بنانے کی بجائے اسے پاکستانی قوم کے مجموعی کردار پہ طنزیہ تبصروں سے لطف لینے تک محدود رکھا۔
اس وقت چونکہ پی ٹی آئی اس جبریت کی بینافشری تھی اس لئے مین سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا پہ چور چور کے نعروں کی گونج میں نواز شریف کے خلاف ریاستی کارروائیوں کو التباسات کی دھند میں چھپا دیا گیا مگر اب پی ٹی آئی والے کہتے ہیں کہ جس طرح ان کے کارکنان پر ظلم کیا جا رہا ہے، ملک کی ماڈرن تاریخ میں ایسی ستم گری کی مثال نہیں ملتی، بڑے پیمانے پر کاغذات نامزدگی کا مسترد ہونا اور دباؤ ڈال کر پی ٹی آئی کے امیدواروں کو پارٹی چھوڑنے پر مجبور کرنے جیسے واقعات یہ بتانے کے لیے کافی ہیں کہ پارٹی کو کیا کچھ جھیلنا پڑ رہا ہے۔
علی ہذالقیاس، 240 ملین آبادی کے ملک میں انتخابی جوڑ توڑ کی موجودہ لہر میں شاید ہی کوئی عمل نیا ہو، درحقیقت پاکستانی سیاست کے دیرینہ مبصرین کا کہنا ہے کہ تاریخی طور پر ملک میں زیادہ تر انتخابات مختلف درجوں میں داغدار رہے، ماضی قریب میں جیسے 1988، 1990، 1993 اور 1997 کے انتخابات کو متنازعہ سمجھا گیا۔ 2002 کے عام انتخابات میں، جس وقت ملک کی دونوں مقبول جماعتوں پی پی پی اور نواز لیگ کی قیادت جلاوطن اور پارٹی کارکن پابا جولاں تھے، اس وقت افغانستان میں امریکی جنگ دہشتگردی کے لئے سیاسی حمایت حاصل کرنے کی خاطر ملک بھر کی مذہبی جماعتوں پہ مشتمل ایم ایم اے کی کامیابی کی راہ ہموار بنائی گئی تو مغربی ذرائع ابلاغ میں جبریت کے شکار نواز شریف اور بے نظیر کے لئے ہمدردی کی کوئی رمق نظر نہ آئی۔
کم و بیش پندرہ سال بعد 2013 میں نواز شریف دوبارہ اقتدار میں واپس آئے تو چین کے ساتھ سی پیک منصوبہ کی راہ روکنے کی خاطر عمران خان کی پرتشدد تحریکوں اور عدالتی فعالیت کے ذریعے ان کی حکومت کو مفلوج بنانے کی کارروائیوں کو بھی مغربی میڈیا کی تکنیکی حمایت میسر رہی، 2017 میں عدالتی فیصلہ کے ذریعے شریف حکومت برطرف کرنے کے بعد 2018 کے الیکشن، جس کے بارے میں آج بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ مسلم لیگ کو غیر منصفانہ انتخابات کا شکار بنایا گیا، کی ذرائع ابلاغ نے توثیق کی تھی۔
شریف کو اپریل 2017 میں بیٹے سے قابل الوصول تنخواہ نہ لینے جیسے بیہودہ الزام کے تحت نا اہل قرار دے کر وزارت عظمیٰ سے ہٹا دیا گیا، پھر انتخابات سے محض چند روز قبل، ان کی سیاسی جانشین بیٹی مریم نواز کے ہمراہ بدعنوانی کے الزام میں انہیں 10 سال قید کی سزا دے کر جیل بھیج دیا گیا۔ انسانی حقوق کے اداروں اور مقامی انتخابات کی نگرانی کرنے والے کئی گروپوں سمیت بین الاقوامی برادری نے 2018 میں ہونے والی دھاندلی سے صرف نظر کیا لیکن مغربی میڈیا اب موجودہ الیکشن میں اسی مشق ستم کیش کو مماثلت بنا کر 2018 کے الیکشن کو کافی خراب بتا رہا ہے جس کی ہیرا پھیری کے نتیجہ میں پی ٹی آئی جیت کر ابھری تھی۔
آج بہت سے تجزیہ کار مانتے ہیں کہ پاکستانی مقتدرہ خان کے عروج کے پیچھے کنگ میکر کا کردار ادا کرتی رہی، جس نے انہیں اپنے حریفوں کی قیمت پر کامیابی کا زینہ فراہم کیا۔ اب مغربی تجزیہ کار انتہائی دکھی دل کے ساتھ کہہ رہے ہیں کہ پارٹیاں بدل گئیں، لیڈر بدل گئے لیکن طریقہ کار وہی ہے، کیا مغربی اشرافیہ کے لئے آج 2024 کے انتخابات کو جواز بنا کر پچھلے تمام الیکشنز کو غیر منصفانہ قرار دینا درست عمل ہے؟ اس وقت بڑا فرق یہ ہے کہ ان پرانے ہتھکنڈوں کو اس بار مقامی سیاسی کارکنوں اور مغربی ذرائع ابلاغ کی طرف سے سخت مزاحمت کا سامنا ہے، دوسرا یہ کہ اسٹیبلشمنٹ کے بائیں جانب کھڑی، پی ٹی آئی، مسلم لیگ (ن) کے مقابلے میں اپنی مظلومیت کے بیانیے کو مقبول بنانے میں زیادہ کامیاب رہی، یہی پیش دستی 2024 کے انتخابات کے بعد یہاں گہری سیاسی اور سماجی تبدیلیوں کی راہ ہموار بنائے گی۔ خان کی مزاحمت کی بدولت ریاست میں تضادات شدت اختیار کر رہے ہیں، جو معاشرے اور اداروں میں مخاصمت کو جنم دے رہے ہیں۔
منیر نیازی نے کہا تھا،
اک اور دریا کا سامنا تھا منیر مجھ کو
میں ایک دریا کے پار اترا تو میں نے دیکھا

