غزہ: ظلم و جبر کے خلاف 84 صفحات
فلسطین اسرائیل تنازعہ اکتوبر 2023 کے بعد ایک نئی خوفناک صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس تنازعے نے عالمی دنیا کو بھی جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے۔ ایک طرف جہاں عالمی سطح پر اس جنگ کے خلاف مظاہرے دیکھنے میں آئے اور عالمی دنیا فلسطینیوں کے حق میں یک زبان ہوئی وہیں جنوبی افریقہ اسرائیلی جارحیت کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کرانے، ایک قدم مزید آگے، عالمی عدالت انصاف میں پہنچ گیا۔ جنوبی افریقہ کی جانب سے اسرائیلی جاری جارحیت کے خلاف یہ اقدام یقیناً سراہے جانے کے قابل ہے اور یہ اس امر کی بھی تصدیق ہے کہ جبر و بربریت اور ناروا سلوک کی اذیت وہی بہتر سمجھ سکتا ہے جس نے جبر سہا ہو ظلم برداشت کیا ہو۔
افریقن نیشنل کانگریس کی فلسطینی تحریک کے ساتھ یکجہتی کی طویل کہانی ہے۔ جنوبی افریقہ میں بھی 1994 تک سفید فام اقلیت نے سیاہ فام اکثریت کے خلاف نسل کشی جیسے مظالم روا رکھے۔ فلسطینی حریت تحریک اور ماضی میں افریقن نیشنل کانگریس کی تحریک میں واضح مماثلت نظر آتی ہے۔ سابق فلسطینی رہنما یاسر عرفات اور سابق صدر جنوبی افریقہ نیلسن منڈیلا قریبی دوستوں میں شمار ہوتے تھے۔ غالباً جد و جہد کے اس مسلسل سفر میں دونوں رہنماؤں کی ذہنی ہم آہنگی گہری کا سبب رہی ہو۔ نیلسن منڈیلا نے فلسطینی تحریک کے بارے میں یہاں تک کہا کہ جنوبی افریقہ کی آزادی اس وقت تک مکمل نہیں ہوگی جب تک فلسطینی بھی آزاد نہیں ہو جاتے۔
عالمی عدالت انصاف میں جنوبی افریقہ نے اسرائیل کے خلاف 84 صفحات پر مشتمل ایک قانونی درخواست جمع کروائی ہے۔ جنوبی افریقہ کا اسرائیل کے خلاف موقف یہ رہا کہ اسرائیل اپنی جاری عسکری کارروائیوں سے غزہ میں انسانی نسل کشی کا مرتکب ہوا ہے اور اسرائیل کو جلد از جلد غزہ میں جاری مظالم روکنے کا پابند کیا جائے۔ اپنے موقف کی حمایت میں جنوبی افریقہ نے عدالت کے سامنے اسرائیلی وزیر اعظم کے متعدد بیانات جن میں فلسطینیوں کو تباہ کرنے کا عہد اور واضح نیت کا نظر آنا شامل تھا، دستاویزی ثبوتوں کی صورت میں عدالت کے سامنے رکھے۔
جنوبی افریقہ عالمی عدالت انصاف میں دائر کردہ درخواست کے پیش نظر یہ چاہتا ہے کہ عالمی عدالت انصاف فوری طور پر اسرائیل کو غزہ میں جاری عسکری کارروائیوں سے روکے۔ دوسری جانب اسرائیل نے حسب معمول جنوبی افریقہ کے موقف کی تردید کی ہے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ نسل کشی کے اقدامات کی نیت اسرائیل کی نہیں بلکہ حماس کی رہی، آگر حماس اسرائیلیوں کی نسل کشی کر پاتی تو وہ اب تک ہمارا صفایا کر چکی ہوتی۔ اس کے ساتھ ساتھ اسرائیل نے اپنی عسکری کارروائیوں کے جواز میں کہا کہ اسرائیل کارروائی سے پہلے عام شہریوں کو علاقہ خالی کرنے کا موقع اور وقت دیتا ہے یوں یہ کہنا کہ اسرائیل غزہ میں عام شہریوں کا صفایا کر رہا ہے بے بنیاد ہے۔
عالمی عدالت انصاف اقوام متحدہ کی اعلیٰ ترین عدالت ہے اور اس کے قیام کا مقصد، ریاستوں کے درمیان جاری تنازعات کا فیصلہ کرنا ہے۔ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک، عالمی عدالت انصاف کے رکن ہیں۔ کہنے کو تو عالمی عدالت انصاف کی جانب سے کیے گئے فیصلوں پر عمل کرنے کو فریق ممالک پابند ہیں مگر عملاً ایسا ہوتا نظر کم ہی آیا ہے۔ روس یوکرین تنازعہ میں بھی ہم نے ایسا ہوتے دیکھا ہے۔ اسرائیل کو امریکی حمایت بھی حاصل ہے اور اگر عدالتی فیصلہ اسرائیل کے خلاف بھی آئے تو عمل نہ کرنے کا جواز اسرائیل آسانی سے تراش لے گا۔
پاکستان نے بھی جنوبی افریقہ کے موقف کی تائید کی اور ساتھ ہی ساتھ اسرائیلی جاری فوجی آپریشن کو انسانیت کے خلاف جرم اور نسل کشی کے مترادف قرار دیا ہے۔
جیسا کہ شروعات میں ذکر کیا گیا ہے کہ ظلم و جبر کی شدت سے بہتر طور پر واقف وہی ہو سکتا ہے جس نے ظلم و جبر کے تازیانے برداشت کیے ہوں۔ جنونی افریقہ فلسطینیوں کی نسل کشی میں اپنے ماضی کی جھلک دیکھتا ہے اسی لیے وہ فلسطینیوں کے ساتھ کھڑا ہو گیا۔ فلسطین کی طرز کا ایک خطہ ارض کشمیر بھی ہے جہاں دہائیوں سے جاری مظالم عالمی توجہ چاہتے ہیں۔ کشمیر میں جاری بربریت کا جائزہ آگر محض 1990 کے بعد کے حالات کا لیا جائے تو ہلاکتوں کی تعداد ستر ہزار کا ہندسہ چھو گئی ہے۔ اب تک ہزاروں لاپتہ ہو چکے، لاکھوں تشدد کا شکار بنائے گئے، سینکڑوں نوجوان بیلٹ گنوں کی بھینٹ چڑھ گئے، اپاہج ہو گئے، اندھے ہو چکے۔ عجب ہے کہ ان کشمیریوں کی چیخ و پکار سننے کے لیے کوئی عدالت نہیں کوئی جنوبی افریقہ کی طرز کا وکیل نہیں۔


