ایرانی شمال: بحیرہ کیپسین کی سیر


muhammad taqi kuldan

11 جولائی 2023 کو صبح ناشتہ سے فارغ ہو کر ہم نے صوبہ اصفہان سے صوبہ قزوین جانے کا قصد کیا۔ ایران میں صوبے، پاکستان کے مقابلے میں زیادہ اور چھوٹے چھوٹے ہیں۔ اس سے انتظامی امور بہتر سرانجام دیے جا سکتے ہیں۔ جب سے ہم نے ایران میں اپنے صوبہ بلوچستان سے سفر شروع کیا، جنوب سے شمال کی جانب متعدد صوبوں سے گزر ہوا۔ ایران میں آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑا صوبہ کرمان ہے۔ اس کے بعد بالترتیب تہران، خراسان رضوی، اصفہان، استان پارس، خزوستان ہیں۔

اقتصادی حوالے سے پہلے نمبر پر صوبہ تہران، اس کے بعد بالترتیب خزوستان، بوشہر، ہیں۔ اقتصادی حوالے سے کمزور صوبوں میں پہلے نمبر پر بلوچستان، خراسان شمالی، اورمزگان، اور لورستان ہیں۔

جب ہم صوبہ اصفہان سے نکلے راستے میں ہمیں ایک جگہ رکنا تھا۔ جہاں ایک فیکٹری دیکھنا تھی۔ اس فیکٹری کا مالک قدرت نام کا ایک شخص تھا۔ ان کی سپیڈ بوٹ بنانے کی فیکٹری تھی۔ قدرت اصفہان میں ہمارا دوسرا میزبان تھا۔ ایک گھنٹے کی مسافت میں ہم لوگ قدرت کی اسپیڈ بوٹ بنانے کی فیکٹری میں پہنچ گئے۔ فیکٹری کے اردگرد سبزہ تھا۔ اور ایک چھوٹی سی ندی میں میٹھا پانی رواں تھا۔ فیکٹری میں اسپیڈ بوٹ تیار ہو رہے تھے۔ کاریگر اپنے کام میں مصروف تھے۔

مواد اور مخصوص قالبوں کے ذریعے مختلف ساخت اور سائز کے اسپیڈ بوٹ بن رہے تھے۔ یہ علاقہ اصفہان کے مضافات میں ہے۔ اس پورے علاقے میں بہت سارے مختلف قسم کے چھوٹے چھوٹے فیکٹریاں بنی ہوئی تھیں۔ ایران میں بجلی سستی ہے، اس لیے عام لوگ بھی چھوٹی چھوٹی فیکٹریاں بنا کر اپنی روزی روٹی کماتے ہیں۔ صوبہ اصفہان کے مختلف چھوٹے، بڑے شہروں سے ہوتے ہوئے صوبہ قزوین میں داخل ہوئے۔ آپ جتنا شمال کی طرف سفر جاری رکھیں گے، آپ کو موسم میں تبدیلی کا احساس ہوتا چلا جاتا ہے ۔ اب دوپہر کا وقت ہو چکا تھا۔ ہم نے قزوین سے آگے ایک قصبے میں ٹھیرے۔ وہاں ایک چھوٹے لیکن خوبصورت ریستوران میں کھانا کھایا۔ ہمارے کچھ ساتھی تہران سے نکل کر ہمارے جانب آرہے تھے۔ ہمارا خیال تھا کہ شمال میں ہم اکٹھے رہیں۔

صوبہ قزوین کے مختلف شہروں سے ہوتے ہوئے مزید شمال کی جانب بڑھ رہے تھے۔ راستے میں انار کے بڑے بڑے باغات تھے۔ ان باغات کے باہر گاڑیاں سڑک کے کنارے کھڑے ہو کر آب انار فروخت کر رہے تھے۔ ہم نے ایک جگہ ٹھہر کر آب انار لیا۔ یہ آب انار خالص اور سستا تھا۔ انار کے بنے لواشک بھی خریدے۔ لواشک ایک ایرانی لفظ ہے، لواشک دراصل کسی بھی فروٹ کو خشک کر کے کاغذ کی ورق کی طرح کی ایک مزیدار چیز ہوتی ہے۔ جس کا کھانے کا اپنا ذائقہ ہوتا ہے۔ ہم نے یہاں انار کے لواشک لئے۔ آب انار پینے اور انار کے لواشک کھانے میں لطف آیا۔

شمال کے پہاڑ اب نظر آنے شروع ہو گئے، ان پہاڑوں پر ہریالی ہی ہریالی تھا۔ دور دور تک پھیلے ہوئے یہ پہاڑ دلکش منظر پیش کر رہے تھے۔ ایسے پہاڑ جو سڑک کے بیچوں، بیچ آتے تھے ان میں خوبصورت سرنگیں بنائی گئی تھیں۔ ان میں روشنی کا انتظام تھا۔

اس وقت ہم شمال میں صوبہ گیلان پہنچ گئے تھے۔ صوبہ گیلان سرسبز و شادابی کی وجہ سے پوری دنیا میں مشہور ہے۔ جس وجہ سے یہاں سال بھر سیاحوں کا ہجوم رہتا ہے۔ گیلان صوبے میں 16 چھوٹے بڑے شہر موجود ہیں۔ جو تاریخی، مذہبی، اور سیاحتی اعتبار سے منفرد حیثیت کے حامل ہیں۔ گیلان کی خوبصورتی کو الفاظ کے ذریعے بیان کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ یہ علاقے دیکھنے کے قابل ہیں۔ اللہ تعالی نے اس علاقے کو بہت ہی خوبصورت بنایا۔ صوبہ گیلان بے پناہ تفریحی مقامات پائے جاتے ہیں۔ جن میں جھیلیں، پہاڑ، دریا، آبشاریں، باغات، نیشنل پارک، بین الاقوامی تالاب، چائے کے بڑے بڑے کھیت شامل ہیں۔

ہم لوگ صوبہ گیلان کے مختلف خوبصورت شہروں سے ہوتے ہوئے بندر انزلی کے طرف بڑھے۔ رات کو بندر انزلی میں ہمیں ٹھہرنا تھا۔ عصر کے بعد ہم دریائے خزر پر گئے۔ ایک طرف سمندر اور دوسری طرف سبزہ کیا خوب امتزاج تھا، اس خوبصورت بحیر کو مزید خوبصورت بنا گیا تھا۔ سمندر کے کنارے مرد وزن گھوم رہے تھے۔ چونکہ ہم اپنے روایتی کپڑوں شلوار قمیص میں ملبوس تھے۔ لوگ ہمیں دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ بوڑھی عورتوں کی ایک گروپ نے ہم سے استفسار کیا کہ کیا ہم عرب ہیں، ہمارے دوستوں نے کہا کہ ہم عرب نہیں بلکہ بلوچ ہیں۔

بحیر خزر دراصل رقبے اور حجم کے اعتبار سے دنیا کی سب سے بڑی جھیل ہے، جس کا رقبہ 3 لاکھ 71 ہزار مربع کلومیٹر (ایک لاکھ 43 ہزار 244 مربع میل) جبکہ حجم 78 ہزار 200 مکعب کلومیٹر ( 18 ہزار 761 مکعب میل) ہے۔ یہ ایشیا اور یورپ کے درمیان چاروں طرف سے زمین سے گھرا ہوا خطہ آب ہے۔ اس کی زیادہ سے زیادہ گہرائی 1025 میٹر ( 3 ہزار 363 فٹ) ہے۔

بحیرہ قزوین کو سمندر اس لیے قرار دیا جاتا ہے کہ جب رومی پہلی مرتبہ اس کے ساحل تک پہنچے اور اس کا نمکین پانی چکھا تو انہوں نے اسے سمندر قرار دیا۔ بحیرہ کیپسین بھی اسے کہتے ہیں۔ یہ دنیا کہ کسی بھی سمندر سے جڑا ہوا نہیں ہے۔ ہم نے کیپسین سی میں ایک بحری جہاز کو دیکھا، جو سمندر میں لنگر انداز تھا۔ بحیرہ کیپسین کے ذریعے یورپ اور ایشیا جڑے ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بحر کی وجہ سے بہت سے ممالک ایران سے جڑتے ہیں۔

اسلامی جمہوریہ ایران، روس، جمہوریہ آذربائیجان، ترکمانستان اور قزاقستان بحیرۂ خزر کے ساحلی ممالک ہیں۔ مغرب قریب ہو رہا تھا۔ ہم واپس شہر کی جانب چلے گئے۔ بندر انزلی ہمارے رات کا قیام کا جگہ تھا۔ بندر انزلی خوبصورتی الفاظ میں سمو نہیں سکتا، یہ بندر قدرت کا شاہکار ہے۔ بندر انزلی میں جس ویلا میں ہم ٹھہرے ہیں، وہ ایک خوبصورت ویلا ہے۔ اس ویلا کی ایک رات کا کرایہ تین ملین تمن ہے، جو تقریباً بیس ہزار روپے پاکستانی کے برابر ہیں۔

ویلا نہایت ہی نفیس انداز میں بنا ہوا ہے اس میں ایک ہال، ہال میں اوپن کیچن، دو واش روم، ایک کھانے کا ٹیبل بمع چھ کر سیاں اور خوبصورت صوفے، دو کمرے، کمروں میں ڈبل بیڈ لگا ہوا ہے۔ ہر کمرے میں ہیٹر، ہال میں ائر کنڈیشن، کمروں میں ڈیکوریشن ٹیبل، دو پنکھے، واش روم میں ہر فرد کے لئے ٹوتھ پیسٹ، برش اور دھلے ہوئے تولیے، اور ہر فرد کے لئے الگ جوتے بھی مو جود ہیں۔ جولائی کے مہینے میں نہانے کے لئے گرم پانی کی ضرورت ہے۔ اور گرم و سرد دونوں پانی کی سہولت موجود ہے۔

کمروں میں پورٹریٹ بھی لگے ہوئے ہیں۔ ہال میں ایک وال کلاک بھی آویزاں ہے۔ ایک الماری بھی موجود ہے۔ ویلا کا باہر کا منظر افسانوی تھا۔ ویلا سبزہ سے گھیرا ہوا تھا۔ پیچھے کی جانب ایک نہر تھا۔ نہر کے کنارے ایک شیشوں سے مزین ریسٹورنٹ تھا۔ ریسٹورنٹ میں نہر سے جانے والے اسپیڈ بوٹوں میں مرد اور عورتیں سیر کو جا رہی تھیں۔ ہلکی پھلکی بارش نے اس منظر کو مزید رومانوی بنایا ہوا تھا۔ اس منظر کو مزید بیان کرنے الفاظ ساتھ نہیں دے رہے، بس یوں ہی سمجھو کہ قدرت نے اس سرزمین کو جنت کا ایک ٹکڑا بنایا ہوا تھا۔

Facebook Comments HS