انارکلی کا نوجوان اور عمران خان کا بیانیہ – قسط اول


یوں تو لاہور اپنی منفرد خصوصیات کی بنیاد پہ پاکستان کے دیگر شہروں سے ممیز ہے، مگر اس شہر کی ایک اور خوبی جو آج بھی ایک طبقے کو اپنی طرف مائل کرتی ہے، وہ انارکلی کے اطراف میں لگنے والا کتب کا بازار ہے۔ یہ بازار تقریباً چالیس سال سے ہر اتوار کو اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہوتا ہے۔ غم روزگار سے پریشاں ہو کر جب سے ہم نے اس شہر میں قدم رنجہ فرمایا ہے، اس بازار کی رعنائیوں سے لطف اندوز ہونے کے لئے ہر بار چلے آتے ہیں۔

اس دفعہ بھی حسب معمول آنے کا ارادہ کیا۔ ہوا میں خنکی کی زیادتی، نمی کی کمی اور درجہ حرارت میں گراوٹ نے سردی کی شدت میں زیادت کا پہلو بڑھا دیا تھا۔ بستر سے نکلنے کے بعد ہر بار کی طرح گزشتہ اتوار کو بھی سیدھا انارکلی کا رخ کیا۔ سردی میں ٹھٹھرتے آہستہ آہستہ چلتے ہوئے منزل مقصود تک پہنچے۔ ماضی کی طرح آج بھی یہ بازار اپنی جوبن پر تھا۔ مختلف مکاتب فکر اور عمروں سے تعلق رکھنے والے حضرات کتب بینی میں مشغول تھے۔

ہم نے بھی ماحول پہ ایک سرسری سی نگاہ ڈالی او پھر کتب کا جائزہ لینے لگے۔ چند ایک کتب دل کو بھائیں، مگر دکاندار نے قیمتیں اونچی لگائیں، پھر بھی دل پہ جبر کر کے کچھ کتب کو خریدا، ابھی یہی عمل تکمیل کے مراحل طے کرنے سے کچھ ہی دور تھا کہ اچانک ہماری نظر ایک پمفلٹ کی طرف پڑی جس میں سوشلزم کے داعیان نے اس کے محاسن بیان کرنے میں زمین و آسمان کے قلابے ملا رکھے تھے۔ جسے پڑھ کر ذہن کے دریچوں پہ دیوار برلن کا نقش ابھرا جو 1961 ء میں تعمیر ہوئی مگر جمہوریت کے زورآور ریلے نے اس بہا دیا اور 1989 ء میں یہ دیوار اپنے انجام کو پہنچی۔

سوویت یونین ٹوٹ گئی اور کارل مارکس کے نظریات اسی کے ساتھ فقط کتب کی زینت ہی بنکر رہ گئے۔ یہاں تک اس نظام بد انجام کے بڑے بڑے داعی ممالک بھی سرمایہ داری کو اپنا کر جدید دنیا کے ساتھ ہم آہنگ ہوچکے اور کیوبا جیسا ملک جو آج بھی اس نظریے کو زندہ رکھنے کا سبب ہے، جدید دنیا سے کچھ پیچھے ہے۔ ابھی انہی باتوں پہ غور و فکر کر رہے تھے ایک نوجوان کے شعلہ بار الفاظ ہماری سماعت کے گوش گزار ہوئے اور ہمیں عالم خیال سے عالم محسوسات کی طرف متوجہ ہونا پڑا۔

دیکھا تو ایک خوبرو نوجوان پتلون شرٹ میں ملبوس ہے اور موجودہ نظام سے نالاں ہے۔ اس کے نزدیک موجودہ نظام اور سیاست دان اس قابل نہیں کہ ملکی مسائل کا پائیدار حل پیش کر سکیں، مگر سوشلزم کے ناتواں کندھے اس بوجھ کو اٹھانے کے قابل ہیں۔ شروع میں تو ہم نے اس کی اس شعلہ بیانی کو نظر انداز کرنا چاہا مگر موصوف کے لب شیریں سے ادا ہونے والے کچھ الفاظ نے ہمیں دوبارہ اس کی طرف متوجہ کیا اور اس دفعہ تو ہمارا ارادہ انہیں ٹوکنے کا بھی تھا اور شاید ہم اپنی عادت بد سے مجبور ہو کر موصوف کی تقریر میں مخل بھی ہو جاتے، لیکن اپنے جذبات پہ قابو رکھا اور زیر لب ہڑبڑاتے ہوئے وہاں سے چل دیے۔

لیکن ان لفظوں کی چبھن نے چین نہیں لینے دیا اور رات کے پچھلے پہر یہ الفاظ صفحہ قرطاس پہ منتقل ہو رہے ہیں۔ ہمارے مہربان کا کہنا یہ تھا کہ پاکستان تحریک انصاف اس وقت اینٹی اسٹیبلشمنٹ ہے اور نون لیگ جو ماضی میں خود کو اس نظریے کا امین کہتی تھی، آج مقتدرہ کی مداح سرائی میں ہمہ تن گوش ہے۔ یہ بیانیہ صرف اس نوجوان کا نہیں بلک پاکستان کے میڈیا پہ بیٹھے اکثر اینکرز حضرات کا بھی ہے جو اس موجودہ کارپوریٹ کلچر کے زیر اثر صحافت کی اقدار سے اعراض برتتے ہیں، اس لئے ضروری محسوس ہوا کہ اس عنوان پہ چند سطور کو قلم بند کیا جائے اور نوجوان طبقے کے سامنے کچھ واقعات کا معروضی جائزہ پیش کیا جائے۔

نواز شریف کے ادوار کا غیر جانبدارانہ تجزیہ اس بات کی صراحت کے لئے کافی ہے کہ میاں صاحب نے عوام کی بالادستی کے کہیں نہ کہیں سعی مشکور کی ہے، ہاں یہ الگ بات ہے کہ وہ بعض مقامات پہ معاملات کو طے بھی کر لیتے ہیں، جسے کہنے والے ہوش مندی سے بھی تعبیر کرتے ہیں۔ مگر کوتاہیوں اور خامیوں کے ساتھ مجموعی طور پہ ان کی شخصیت کا یہ پہلو ان کے ناقدین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ عوامی بالادستی کے قائل ہیں۔ اب ماضی قریب کے گزرے کچھ واقعات کا جائزہ لیجیے!

سب سے پہلے ہمارے محبوب قائد جناب عمران خان صاحب کے طرز عمل کو ملاحظہ کیجئے۔ موصوف نے جب محسوس کیا کہ ان کے ہاتھ سے اقتدار کی زمام پھسل رہی ہے تو جنرل باجوہ کو تاحیات ایکسٹینشن سے نوازنے کا عندیہ دیا جنہیں باجوہ صاحب قبول نہیں کیا۔ اس کے بعد جب حکومت کو گنوا بیٹھے تو اسی مقتدرہ کو میر جعفر و میر صادق کہا جس کے کندھوں پہ سوار ہو کر ہمارے ممدوح اقتدار کی کرسی پہ براجمان ہوئے تھے لیکن ان کی متضاد طبع یہاں بھی انہیں استقامت سے محروم رکھنے میں کامیاب رہی اور خان صاحب دن کے اجالے میں میر جعفر کے نعرے لگاتے اور رات کے اندھیروں میں باجوہ صاحب سے ملاقات کرتے ہوئے پائے گئے۔

اسی پہ معاملہ رفع ہوجاتا تو مورخ کو ان کے مقتدرہ مخالف بیانیے کا یقین ہو ہی جاتا مگر اسی دوران خان صاحب نے کامران خان صاحب کے پروگرام میں اس بات پہ روشنی ڈالی کہ جنرل باجوہ کو مدت ملازمت میں توسیع ملنی چاہیے اور ان کی نگرانی میں ہی انتخابات کا عمل وقوع پذیر ہونا چاہیے۔ اب یہاں پہ ہمارے قارئین کچھ دیر کے لئے ٹھہرے اور نظروں پہ بار نہ ہو تو ہمارے درج کردہ جملوں کو ایک بار پھر پڑھنے کی زحمت کریں۔ یقیناً وہ بھی انگشت بہ دنداں ہوں گے اور محو حیرت سے خان صاحب استفسار کریں گے کہ حضور جس شخص کو غداری کے جرم میں ملوث گردانتے ہیں اور سر بازار ان پہ میر جعفر کے ہم کردار ہونے کی تہمت لگاتے ہیں۔

انہیں پاکستان کی تباہی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں، لیکن پھر اسی شخص کی زیر نگرانی انتخابات کی خواہش کا بھی اظہار کرتے ہیں۔ یہ معاملہ کچھ یوں الجھ جاتا ہے، جسے ایک عام شخص کے لئے سلجھانا شاید آسان نہ ہو لیکن تاریخی واقعات سے فلسفہ تاریخ کی روشنی میں نتائج اخذ کرنے والا ذہن جلد ہی اس نتیجے پہ پہنچ جائے گا کہ خان صاحب مقتدرہ کے مخالف نہیں بلکہ صرف اس بات کے دکھ کا اظہار کر رہے تھے کہ ان کی گرتی ہوئے حکومت کو آخر انہوں نے بچایا کیوں نہیں۔

اس کیفیت کو وہ اپنی تقریر میں بھی بیان کر چکے ہیں کہ اگر مقتدرہ نے میری حکومت گرائی نہیں تو بچائی بھی نہیں، بچا تو سکتے تھے۔ ان واقعات کو پڑھنے کے بعد بھی کوئی ذہن ہمارے اخذ کردہ نتیجہ سے اتفاق کرنے سے گریزاں ہوں تو ہم ایک اور تاریخی شہادت کو پیش کیے دیتے ہیں۔ خان صاحب نومبر 2022 ء میں لانگ مارچ کرتے ہیں اور اسلام آباد پہنچ کر اپنی ہی حکومتیں تحلیل کرنے کا اعلان کرتے ہیں، جس سے ان کے اپنے وزراء پریشان نظر آتے ہیں۔

ان کے محو حیرت چہرے اس کیفیت کے اظہار کے لئے کافی تھے۔ خیر یہ اعلان تو اپنی جگہ اہمیت کا حامل ہے، اس پہ تبصرہ ہم کسی اور بزم کے لئے رکھ چھوڑتے ہیں۔ سردست جس دلچسپ حقیقت کی طرف قارئین کی توجہ منعطف کرنی ہے، اس کا ذکر خود خان صاحب نے اپنی تقریر میں یوں کیا کہ موصوف کو اپنی پنجاب اور خبیر پختونخوا کی اسمبلیاں تحلیل کرنے کا مشورہ باجوہ صاحب نے دیا تھا اور جناب نے انتہائی مؤدب انداز میں اسے نہ صرف قبول کیا بلکہ اس پہ عمل کر کے خود کو ناقابل تلافی نقصان بھی پہنچا دیا۔ اب یہاں پہ بھی مستقبل کا مورخ سوچنے پہ مجبور ہو گا کہ ایک طرف جسے میر جعفر، میر صادق اور اپنا دشمن قرار دیتے ہیں، اسی کے مشورے سے اپنی ہی حکومت تحلیل کیے دیتے ہیں، بقول میر:

میر کیا سادہ ہیں بیمار ہوئے جس کے سبب
اسی عطار کے لونڈے سے دوا لیتے ہیں

بیزار نوجوان طبقے کو بھی ان واقعات پہ تعمق کرنا چاہیے کہ اگر واقعی خان صاحب مقتدرہ کے مخالفت ہوتے تو یہ ان سے ملاقاتیں نہ کرتے، انہیں توسیع کا لالچ دے کر اپنی حکومت بچانے کی سعی ناکام میں ملوث نہ ہوتے اور نہ ہی ان کے مشورے سے اپنی ہی حکومت گنوانے کے احمقانہ مشورے پہ عمل پیرا ہوتے۔ مگر حقیقت یہی ہے کہ خان صاحب کسی نظریے کے امین نہیں بلکہ ان کا بنیادی مقصد صرف اور صرف زمام اقتدار کو دوبارہ حاصل کرنا تھا، جس کے لئے انہوں نے ہر صحیح غلط عمل کو بروئے کار لاکر اپنے مقصد کو حاصل کرنے کی کوشش کی، لیکن شو مئی قسمت جناب کا مقصد بر آور نہ ہوسکا۔ جاری ہے

Facebook Comments HS