کھلی آنکھوں کا خواب (اٹھارہواں حصہ)
بغداد میوزیم
الحمدللہ کربلا اور نجف کے بعد بغداد کی تمام زیارات کر لیں تو ارادہ اور خواہش تو یہ تھی کہ عراق کے عام گلی کوچے دیکھوں۔ عام لوگوں کی زندگی رہن سہن دیکھ کر مشاہدہ کروں۔ ابھی ہمارے پاس دو دن باقی تھے۔ زیارات ہم کرچکے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ باقی کے ان دو دنوں میں اصل عراق دیکھ سکیں گے۔ گرین زون کا الرشید ہوٹل ہو یا کربلا کا ہوٹل بیرن یا دنیا کا کوئی بھی پنج ستاری ہوٹل تھوڑے بہت فرق کے ساتھ ان میں یکسانیت پائی جاتی ہے جب کہ اندرون شہر وہاں کے باشندوں سے مل کر ہی اس ملک کی مٹی کی سوندھی سوندھی خوشبو کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔
مگر چاہنے کے باوجود یہ سب ممکن نہ ہو سکا، جب عائشہ نے بتایا کہ بصرہ میں ایک شادی ہے۔ ہم نے معذرت کی کہ والدین آئے ہوئے ہیں۔ انہوں نے اصرار کر کے آپ کو بھی مدعو کیا ہے۔ بصرہ کا سن کر فوری طور پر حسن بصری، رابعہ بصری کا خیال آیا اور ہم نے جھٹ جانے کی حامی بھر لی۔ احمد نے ہمارے ٹکٹ بدلوائے۔ بصرہ کے لئے ہماری فلائٹ شام چھے بجے کی تھی۔ سو صبح کے چند گھنٹے فارغ تھے۔ ہم نے عائشہ سے کہا کہ چلیں بغداد کا میوزیم دیکھ آئیں۔ نہیں مجھے تو کچھ ضروری چیزیں خریدنی ہیں لیکن ہم اکٹھے نکلتے ہیں، میں خود مارکیٹ اتر جاؤں گی اور ڈرائیور آپ کو میوزیم لے جائے گا۔ وہ ایک اچھا گائیڈ بھی ہے۔ آپ کو بہتر طور پر میوزیم کی سیر کرائے گا۔ نسیم بھی بیٹی کے ساتھ مارکیٹ اتر گئے اور ہم میوزیم جا پہنچے۔
میں راستے میں اس میوزیم کے بارے میں پڑھتی گئی جو کچھ یوں تھا:
بغداد میں قائم عراقی نیشنل میوزیم انسانی تاریخ کے ہزاروں سال پرانے عظیم ترین نوادرات پر مشتمل خزانے کا امین ادارہ ہے۔ وہاں میسوپوٹیمیا کی پانچ ہزار سال سے زائد پرانی ثقافت کی انتہائی گراں قیمت باقیات دیکھی جا سکتی ہیں۔ دارالحکومت بغداد میں عراق کے اس قومی عجائب گھر میں محفوظ نوادرات کو دنیا بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے منفرد اور بڑا خزانہ قرار دیا جاتا ہے لیکن مشرق وسطیٰ کی اس عرب ریاست میں کئی سالہ جنگ سے اس خزانے کو بہت نقصان بھی پہنچا ہے۔ انسانی تہذیب کی اس گراں قدر میراث کی حال ہی میں سیر کرنے والوں میں ڈوئچے ویلے کے کارسٹن کیوہن ٹوپ بھی تھے، جو عراقی نیشنل میوزیم کی سیر کے بعد اس بارے میں اپنے ایک مراسلے میں لکھتے ہیں :
”اس میوزیم میں بابل اور اسوریہ کے تہذیبی ادوار کی بے شمار باقیات موجود ہیں۔ مجسمے، قدیم اشیاء اور ہزاروں سال پہلے کے طرز زندگی کے نمونے بہت سے بڑے بڑے نمائشی ہالوں میں شیشے کی نئی پرانی اور گرد آلود یا چمکتی ہوئی الماریوں میں رکھے گئے ہیں۔ اس میوزیم میں مجموعی طور پر 24 ایسی گیلریاں ہیں، جہاں تک عام شائقین اور مہمانوں کو رسائی کی اجازت ہے۔
عراقی نیشنل میوزیم میں رکھے گئے ہزارہا نوادرات میں سے زیادہ تر کا تعلق میسوپوٹیمیا کی تہذیب سے ہے اور اس عجائب گھر کی بنیاد تقریباً ایک صدی قبل ایک برطانوی خاتون ماہر آثار قدیمہ گیرٹروڈ بیل نے رکھی تھی، جو اس عجائب گھر کی بانی ڈائریکٹر بھی تھیں۔ اس عجائب گھر میں مجموعی طور پر ایک لاکھ چالیس ہزار نوادرات موجود ہیں جن کے اب تک صرف ایک چھوٹے سے حصے ہی کی نمائش کی جا سکتی ہے۔
عراق میں تمام عجائب گھروں کے ڈائریکٹر عباس عابد مندیل کہتے ہیں : ”یہ عجائب گھر دنیا کی عظیم ترین ثقافت کا آئینہ ہے یعنی میسوپوٹیمیا یا ’دو دریاؤں کی سرزمین‘ کی ثقافت کا ۔ اس میوزیم کا اہم ترین فریضہ یہ ہے کہ وہ انسانیت کی اس میراث کو پوری دنیا کو دکھائے کیونکہ یہ ورثہ صرف عراقی عوام کا ہی نہیں بلکہ پوری انسانیت کا ہے۔
بغداد کے اس میوزیم نے اپنی تاریخ کا سیاہ ترین دور اس وقت دیکھا، جب 2003 ء میں امریکا نے صدام دور کے عراق پر فوجی چڑھائی کی۔ المیہ یہ ہے کہ تب امریکی عسکری اور سیاسی قیادت کے پاس عراق کی تیل کی صنعت کے تحفظ کے لیے باقاعدہ منصوبے تو موجود تھے لیکن عراقی عجائب گھروں کی حفاظت کے لیے کچھ بھی نہیں تھا۔
میں ابھی پڑھنے میں مصروف تھی کہ گاڑی میوزیم کے گیٹ پر رکی۔
ہم گاڑی سے اترے تو موسم کی سختی اور شدت کا اندازہ ہوا۔ عراق میں جگہ جگہ ناکے ہیں اور سخت چیکنگ ہوتی ہے۔ چیکنگ کر لی گئی مگر گیٹ بند تھا۔ گاڑی باہر کھڑی کرنی پڑی۔ جتنی دیر میں گاڑی پارک کی گئی، اس دوران میں گرمی سے ہمارا حال برا ہو چکا تھا بلکہ یوں سمجھئے کہ چودہ طبق روشن ہو گئے تھے۔ یہاں کی گرمی اور لو کے گرم تھپیڑوں کے آگے تو پاکستان کی گرمی کچھ حیثیت نہیں رکھتی۔ یہ اور بات ہے کہ بجلی کی کمی نے ہماری گرمی کو اذیت ناک بنا دیا ہے اور یہاں بجلی کی فراوانی نے سہل کر رکھا ہے۔
قادر نے ہوٹل سے ہی وہیل چیئر لے کر رکھ لی تھی کہ میوزیم اتنا بڑا ہے کہ میں وہاں زیادہ دیر تک پیدل نہیں چل پاؤں گی اور واقعی ایسا ہی تھا۔ پہلے تو گیٹ پر دھوپ میں انتظار کرنا پڑا۔ کافی تسلی کرنے پر گیٹ کھلا اور ہم اندر داخل ہوئے بلکہ اچھا خاصا فاصلہ طے کر کے اندر داخل ہوئے۔ ہم نے اندر داخل ہونے کا ٹکٹ لیا۔ اوپر جو پٹی چل رہی تھی، وہاں ٹکٹ کی قیمت ہزاروں میں دکھا رہی تھی۔ ہم نے ڈالرز میں ٹکٹ لیا جس کے عراقی کرنسی میں ہزاروں روپے بنتے تھے۔
خیر ٹکٹ لے کر اپنا پرس اور موبائل ایک لاکر میں رکھا اور بغداد میوزیم میں داخل ہوئے۔ جب ہم پہلے ہال میں داخل ہوئے تو وسیع و عریض ہال میں بہت خوب صورت نقاشی کیے لکڑی کے بھاری دروازے دیکھ کر حیران و ششدر رہ گئے۔ اتنے بھاری اور خوب صورت دروازے جن کے قریب ہی ان کی پوری تاریخ لکھی ہوئی تھی کہ کب اور کہاں بنائے گئے ہیں۔ ساتویں اور آٹھویں صدی کے ایسے دروازے دیکھے کہ بس دیکھتے رہ گئے۔ ہم وسیع و عریض ہال میں قدم بہ قدم صدی بہ صدی آگے بڑھتے چلے گئے۔
گاہے وہیل چیئر پر بیٹھتے۔ پھر دروازوں کا حسن در دل پر دستک دیتا تو اٹھ کر ، انہیں چھو کر دیکھتے اور ان کی تصویر بناتے۔ ہمارے پاس وقت کم تھا، سو مشکل سے یہاں سے نکل کر دوسرے ہال میں داخل ہوئے۔ یہاں ظروف اور پارچہ جات دیکھے جنہیں دیکھ کر موہنجوداڑو اور ٹیکسلا یاد آئے۔ اس طرح کے بہت سے برتن تو آج بھی ہمارے ہاں مستعمل ہیں۔ پھر ایک بڑے ہال میں بڑی سنگی محرابیں اور قبروں کے تعویز دیکھے۔ یہ سارا ہال بھی نادر و نایاب یادگاروں سے بھرا ہوا تھا۔ کچھ جوڑے فوٹوگرافی کر رہے تھے۔
اس سے آگے تو اک حیرت کدہ تھا۔
ایسے ایسے مجسمے کہ بس دیکھتے رہ جائیں۔ یوں لگتا جیسے ابھی بول پڑیں گے۔ ایک دو مجسمے ایسے شاندار کہ بس مگر سر غائب۔ قادر نے بتایا کہ جنگ کے دوران بہت سے قیمتی نوادرات چرا لئے گئے۔ میں کافی دیر ان مجسموں کو دیکھتی رہی اور بنانے والوں کے ہنرمند ہاتھوں کو دل ہی دل میں سراہتی رہی۔
میوزیم کے دوسرے ہال میں بھی کئی ادوار کی نشانیاں اور مجسمے ایستادہ تھے۔ ایک بہت بلند قامت مجسمے کی طرف قادر نے متوجہ کیا۔ یہ دیکھیں یہ نمرود کا مجسمہ ہے۔ اوہ وہ نمرود کی خدائی۔ آگ کا الاؤ اور ابراہیم کا ایمان کامل، کئی اشعار، کئی تلمیحات یاد آئیں۔
بے خطر کود پڑا آتش نمرود میں عشق
افسوس مگر آج کے مسلمان اس عشق سے تہی ہیں اور موجودہ دور کے نمرود کہیں زیادہ سفاک اور بے رحم ہیں۔
؎
آگ ہے نمرود ہے اولاد ابراہیم ہے
کیا کسی کو پھر کسی کا امتحاں مقصود ہے
ایسے ہی خیالات میں غلطاں و پیچاں وسیع و عریض ہال میں گھوما کیے ۔
مغربی لباس میں ملبوس بہترین میک اپ کیے اونچی ہیل میں ٹھک ٹھک کرتی کئی عراقی حسینائیں شستہ انگریزی میں بار بار آ کر گائیڈ کرنے کی پیشکش کرتی رہیں اور ہم مسکرا کر یہ پیش کش رد کرتے رہے کہ قادر کی موجودگی میں کسی گائیڈ کی ضرورت نہ تھی۔
ایک دو ہال مرمت کے لئے بند تھے۔ اس کے باوجود تین گھنٹوں کا پتہ بھی نہیں چلا۔ اس میوزیم کو دیکھنے کے لئے تو ایک پورا دن بھی ناکافی ہے، چہ جائیکہ چند گھنٹوں میں اسے دیکھا جا سکے۔ پھر بھی مقدور بھر ہم نے بہت سی گیلریاں دیکھیں۔ شیشے کی الماریوں میں سجے نوادرات، زیورات، پارچہ جات، محرابیں، قبروں کے تعویذ اور بے شمار مجسمے دیکھے۔ کئی زمانوں، کئی ادوار کو دیکھا اور ابھی مزید دیکھنے کی خواہش تھی کہ قادر نے وقت کا احساس دلایا اور ہم ماضی کی گھپاؤں سے زمانہ حال میں واپس آ گئے۔ باہر آئے تو چمکتی ہوئی گرم دوپہر تھی۔ گاڑی میں بیٹھ کر سکون کا سانس لیا۔ کچھ آگے چل کر ٹھنڈا برف جیسا جوس پیا تو جیسے جان میں جان آئی۔ بغداد کے اساطیری شہر کو دیکھتے ہوئے ہوٹل پہنچے جہاں چند گھنٹوں کے بعد ہمیں بصرہ روانہ ہونا تھا۔


