مالاکنڈ میں ”فخرِ مالاکنڈ کا موسم“


بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جو علاقے کا فخر ہوتی ہیں اور علاقے کے لوگ ان کو عزت اور احترام کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔ وہ اپنے قائدانہ صلاحیتوں اور ذہانت سے مروج نظام میں بنیادی سقم کا ادراک رکھتے ہوئے اس کو دور کرنے کے لئے مخلصانہ کوشش کرتی ہیں اور جب انہیں اس مقصد میں کامیابی ملتی ہے تو لوگ ان پر فخر کرتے ہیں اور یوں وہ علاقے کے لئے فخر کی علامت بن جاتی ہیں۔

یہاں یہ واضح کرنا انتہائی ضروری ہے اور لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ یہ اصلی قابل فخر لوگ ان بڑے بڑے کاموں پر عوام کے ٹیکس کا پیسہ خرچ نہیں کرتے۔ وہ عوام کو ساتھ لے کر مثبت طریقے سے آگے بڑھتے ہیں اور جب اپنا ہدف حاصل کرتے ہیں تو اس سے علاقے کے تمام لوگ بغیر کسی نسلی، مذہبی اور سماجی حیثیت کے فائدہ اٹھاتے ہیں۔

1969 ء تک ضلع مالاکنڈ کے عوام کو ووٹ دینے کا حق حاصل نہیں تھا۔ ووٹ کا حق حاصل کرنے کا یہ معرکہ ”عوامی خیل تنظیم“ نے بڑی مہارت سے لڑا اور آخرکار اس میں اسے کامیابی ملی جو صوبے کی دوسری ایجنسیوں کو 1997 ء کے انتخابات میں ملی۔ اس عظیم کارنامے کے روح رواں بٹ خیلہ کے حاجی محمد خان تھے۔ وہ علاقے کے انتہائی قابل فخر سپوت ہیں کیونکہ ان کی کامیاب جدوجہد کے نتیجے میں مالاکنڈ ایجنسی کے تمام لوگ ابھی تک استفادہ کر رہے ہیں۔

اس طرح ضلع مالاکنڈ میں ایک کالا قانون ایف سی آر رائج تھا جس کو سابق وفاقی وزیر محمد حنیف خان مرحوم نے اپنی مخلصانہ اور مسلسل کوششوں سے ختم کیا تھا اور اس کا فائدہ اب علاقے کے عوام کو مل رہا ہے۔ ان دو رہنماؤں نے ٹیکس ادا کرنے والے عوام کا ایک دھیلا بھی استعمال نہیں کیا اور کام اتنے بڑے اور بنیادی نوعیت کے حامل ہیں کہ لوگ ان سے قیامت تک مستفید ہوتے رہیں گے۔ اس وجہ سے یہ دونوں شخصیات قابل فخر ہیں۔

آج کل تمام سیاسی پارٹیوں کے وہ علاقائی رہنما جو الیکشن میں حصہ لے رہے ہیں، سب کو اپنی پارٹی کے کارکنان ”فخر مالاکنڈ“ سے یاد کرتے ہیں اور سوشل میڈیا اس طرح کے دعوؤں سے روزانہ بھرا ہوا نظر آتا ہے کہ فلاں فخر مالاکنڈ ہے اور فلاں فخر مالاکنڈ۔

مالاکنڈ کے جن رہنماؤں کے ناموں کے ساتھ ”فخر مالاکنڈ“ کا لفظ بطور لاحقہ لگایا جاتا ہے، ان میں پیپلز پارٹی کے محمد ہمایوں خان، محمد علی شاہ باچا اور تحریک انصاف کے نامزد امیدوار شکیل احمد خان شامل ہیں۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے جنید اکبر، پی پی کے احمد علی باچا، مسلم لیگ نون کے سجاد احمد اور جماعت اسلامی کے شاہراز خان کے ناموں کے ساتھ بھی کبھی کبھار فخر مالاکنڈ کی دم استعمال کی جاتی ہے۔

ہمایوں خان دس سال ضلع مالاکنڈ کے منتخب عوامی نمائندہ کی حیثیت سے پانچ سال صوبائی وزیر اور چار سال ناظم اعلیٰ رہے ہیں۔ اس طرح محمد علی شاہ باچا مالاکنڈ سے تین مرتبہ صوبائی اسمبلی کے ممبر ہونے کی وجہ سے ضلع مالاکنڈ کے با اختیار اعلیٰ عہدوں پر فائز رہ چکے ہیں اور تقریباً سولہ مہینے غیر منتخب ہونے کے باوجود بھی پی ڈی ایم کی حکومت میں وفاقی وزیر رہے ہیں۔

شکیل احمد خان بھی دس سال ضلع مالاکنڈ سے صوبائی اسمبلی کے ممبر ہونے کی وجہ سے صوبائی وزیر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ ضلعی حکومت میں نائب ناظم اعلیٰ کے عہدے پر پانچ سال تک فائز رہ چکے ہیں اور اگر ان کے عوامی کیرئیر میں وہ چار سال شامل کیے جائیں جب وہ ناظم اعلیٰ محمد ہمایوں خان کے ساتھ با اختیار ناظم تھے تو شکیل احمد خان کا مالاکنڈ کی ضلعی حکومت میں عمل دخل تقریباً بیس سال بنتا ہے۔ اس طرح احمد علی شاہ باچا نے بھی دس سال تک ضلع مالاکنڈ میں ایک ذمہ دار اور با اختیار عوامی نمائندہ کی حیثیت سے کام کیا ہے۔ جنید اکبر دس سال قومی اسمبلی کے ممبر ہونے کے ناتے قومی اسمبلی کی مختلف کمیٹیوں کے ممبر رہے ہیں۔ شاہراز خان پانچ سال تک صوبائی اسمبلی کے ممبر اور صوبائی وزیر رہ چکے ہیں۔

یہ تمام سیاسی رہنما جن عہدوں پر فائز رہے ہیں، اس کے لئے حکومت سے تنخواہ اور دوسری بھاری مراعات وصول کرتے تھے اور ضلع مالاکنڈ کے ٹیکس دہندہ گان کے پیسوں سے ہسپتال، سکول و کالج اور سڑکیں وغیرہ بناتے تھے۔ یہاں یہ ذکر انتہائی ضروری ہے کہ یہ کام ضلعی حکومتوں کا ہے اور اسمبلی ممبران کا کام نظام کو بہتر بنانے کے لئے قانون سازی کرنا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہوا کہ یہ رہنما اپنے اصل فرائض یعنی قانون سازی سے پہلو تہی کر کے دوسروں کے کاموں میں دخل اندازی کرتے اور عوام کے پیسوں سے انفراسٹرکچر کھڑے کرتے تھے۔

اور پھر ان کاموں پر اپنے نام کا بورڈ لگوا کر عوام پر احسان جتاتے تھے۔ ان کا یہ عمل بالکل بلا جواز اور عوام کو بے وقوف بنانے کے مترادف ہے۔ عوام کے پیسوں سے انجام دینے والے ان کاموں کو اگلے الیکشن کے لئے جواز بنایا جا رہا ہے اور اپنے سیاسی کارکنوں کے ذریعے ان کے ناموں کے ساتھ فخر مالاکنڈ کا لاحقہ لگا کر عوام کے ساتھ بھونڈا مذاق کیا جاتا ہے۔

اگر کوئی استاد آ کر اپنے ایک شاگرد جو ڈاکٹر بنا ہو، اس کے کلینک پر یہ بورڈ لگائے کہ وہ فلاں استاد کے طفیل ڈاکٹر بنا ہے، تو یہ کس قدر مضحکہ خیز بات ہوگی۔ لوگ تو یہ کہیں گے کہ استاد کو پڑھانے کی تنخواہ مل رہی تھی یا اگر ایک انجنئیر کسی پل یا سڑک پر اپنے نام کی تختی لگائے تو عوام یقیناً اس کا برا منائیں گے اور کہیں گے انجنئیر صاحب نے یہ کام اپنے ذاتی پیسوں سے تو نہیں کیا ہے، اس پر عوام کے ٹیکس کی رقم لگی ہے اور انجنئیر کو اپنے کام کی باقاعدہ تنخواہ ملتی ہے۔

عوامی انفراسٹرکچر میں غیر معمولی دل چسپی لینا اور بڑے بڑے کنٹریکٹرز کا ان بڑی سیا سی جماعتوں کے ساتھ خصوصی وابستگی سیاسی رہنماؤں پر سوالات بھی اٹھاتے ہیں۔ عوامی حلقوں میں یہ شک جنم لیتا ہے کہ سیاسی رہنما اس لئے بڑے بڑے ترقیاتی کاموں میں غیرمعمولی دل چسپی لیتے ہیں تاکہ وہ ان میں کمیشن لے سکے۔

اگر سیاسی رہنما حقیقت میں شفاف اور اقربا پروری سے پاک منصفانہ کام کرتے اور اپنے آئینی فرائض پر توجہ دے کر نظام میں مثبت تبدیلی لاتے تو پھر واقعی وہ ہمارے لئے قابل فخر ہوتے اور آج مالاکنڈ کی اتنی ناگفتہ بہ حالت نہیں ہوتی۔ ضلع مالاکنڈ میں امن وامان کا مسئلہ بڑی حد تک خراب ہے۔ لوڈشیڈنگ نے زندگی کو مفلوج کر رکھا ہے۔ نشہ آور چیزیں اتنی زیادہ مقدار میں فروخت ہو رہی ہیں کہ لوگوں نے اپنے بچوں پر پہرے بٹھا دیے ہیں اور قتل و غارت کی ہر واردات کے ایف آئی آر میں نامعلوم افراد کا لفظ شامل کر کے پولیس اور انتظامیہ اپنے آپ کو تحقیقات کرنے سے بچاتے ہیں جس سے چوروں اور قاتلوں کی حوصلہ افزائی ہو جاتی ہے۔ تمام محکموں میں اقرباپروری اور نا انصافی کا دور دورہ ہے۔ عدالتوں میں بلند سماجی حیثیت اور امیر ہونے کی وجہ سے کام آسانی سے ہو جاتے ہیں اور غریب حق پر ہوتے ہوئے بھی عدالتی مقدمات میں ہار جاتے ہیں۔

یہاں اس امر کا تذکرہ بھی دل چسپی سے خالی نہیں ہے کہ مذکورہ رہنما اکثر اپنی پارٹیوں کے اہم پراجیکٹس مثلاً بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، صحت سہولت کارڈ اور تعمیر وطن جیسے پروگرام اپنے اپنے کھاتوں میں ڈالتے ہیں لیکن درحقیقت عوامی فلاح و بہبود کے ان مشہور پروگرامز میں علاقائی رہنماؤں کا کوئی کردار نہیں ہے۔ یہ ان پارٹیوں کی مرکزی قیادت نے اپنے اپنے منشور کو سامنے رکھتے ہوئے وضع کیے ہیں۔

تمام سیاسی رہنما ہم سب کے لئے قابل احترام ہیں۔ کیونکہ میری نظر میں سیاست لوگوں کی خدمت کرنے کا ایک مقدس ذریعہ ہے۔ سیاست کو مخلصانہ طور پر عام آدمی کی فلاح و بہبود کے لئے بروئے کار لایا جاسکتا ہے۔ سیاست کے پیشے کو استعمال کر کے یہ رہنما اس وقت قابل فخر ہونے کا اعزاز حاصل کر سکتے ہیں جب وہ نظام میں ایسی تبدیلی لائے جس سے عام انسان کی زندگی میں آسانی ہو۔ مال دار اور غریب کے ساتھ یکساں سلوک ہو۔ سرکاری دفاتر اور عدالتوں میں سب کو انصاف ملے۔ عام آدمی کے لیے روزگار کے مواقع پیدا ہوں اور معاشرے میں امن و امان اور خوشحالی ہو۔ اگر ایک سیاسی رہنما سیاست کو اپنے ذاتی مفادات کی بہ جائے ملک و قوم کی فلاح و بہبود اور ترقی و خوشحالی کے لئے استعمال کرے تو اس سے یقیناً وہ حقیقی معنوں میں ”قابل فخر“ کا اعزاز حاصل کر سکتا ہے۔

Facebook Comments HS