برطانیہ کی جدید انسانی تجارت

یورپ میں غیر ملکی پناہ گزینوں کے خلاف ایک خاص ماحول بنا ہوا ہے۔ جب بھی کہیں انتخابات ہونے لگتے ہیں اس میں شدت آجاتی ہے۔ اپنے حالات و واقعات سے ستائے ہوئے لوگ کسی نہ کسی طرح جب یورپی سرزمین پہ قدم رکھتے ہیں تو گویا سرمنڈاتے ہی ان کو تختۂ مشق بنا دیا جاتا ہے۔ پھر میڈیا ہو، سیاسی پنڈت ہوں یا سیاسی جغادری ہوں سب کو ایک ایسا آسان ہدف مل جاتا ہے جسے وہ اپنے ابھرتے ہوئے جذبات کو نکالنے کے لئے خوب برانگیختہ کرتے ہیں اور یوں الیکشنوں میں کامیابی یقینی بنا لیتے ہیں۔ پناہ گزینوں کو جرائم میں اضافے کا موجب سمجھتے اور معیشت کی بربادی کا باعث بھی انہیں ہی گردانتے ہیں۔
یہ نسل پرستانہ عمل قابل نفرت بھی ہے اور قابل مذمت بھی ہے۔ مگر ہے تو حقیقت۔ معاشرے ان کو کس طرح اپنے اندر سمونے کی قوت رکھتے ہیں یہ ایک بات ہے جس پہ بحث کی جا سکتی ہے۔ اس صورتحال میں برطانیہ کا کوئی جواب نہیں ہے۔ برطانوی حکومت عدلیہ کے ساتھ مسلسل محاذ آرائیوں پہ اتری ہوئی ہے اور بین الاقوامی و قوانین کو یکسر نظر انداز کرنے اور اپنے پسندیدہ احکامات جاری کرنے پہ مصر ہے۔ آخر وہ ایسا کیوں کرنے پہ بضد ہے۔
اگلے سال میں نئے انتخابات ہونا لازم ہیں اور ان میں کامیابی کے لیے کوئی موقع چاہیئے۔ فرانس سے خوفناک سفر کر کے بذریعہ انگلش چینل آنے والوں کے خلاف ”کشتیاں روک دو“ ان کا نعرہ بن چکا ہے۔ ایک حالیہ تحقیق کے مطابق 20 برطانوی عوام ان پناہ گزینوں کو سب مسائل کی جڑ سمجھتے ہیں۔ بورس جانسن نے آخری ایام میں ایک نعرہ دیا تھا کہ ایسے پناہ گزینوں کو روانڈا بھیج دیا جائے مگر یہ ہر جگہ مقبول عام ہوا اور اب یہ ایک نعرہ ایک نیم سرکاری پالسی بن چکا ہے۔
پریتی پاٹیل نے ایک فارمولا دیا تھا کہ ایسے لوگوں کو روانڈا بھجوا دیا جائے گا اور اس طرح ان پہ وہاں کا مقامی قانون لاگو ہو گا اس سلسلے میں اس نے روانڈا کی حکومت کو اپریل 2022 میں رقم بھی ادا کی تھی 240 ملین پونڈ جو امریکی ڈالروں میں 305 ملین ڈالر بنتی ہے ادا بھی کردی گئی تھی۔ 50 ملین پونڈ اس سال ادا کردی جائے گی۔ پلان کے مطابق ان سب پناہ گزینوں کو فوری طور پر رونڈا بیدخل کردینے کا ارادہ تھا مگر انسانی حقوق کی یورپی عدالت انصاف نے رول 39 کے تحت اسے اس پہ عملدرآمد سے جون 2022 میں روک دیا تھا۔
اس حکم کے بعد نیرنگی سیاست دیکھیے کہ اب تک تین برطانوی وزرائے اعظم تبدیل ہوئے اور پانچ وزرائے داخلہ بدلے جا چکے ہیں۔ پناہ گزینوں بارے ایک خوفناک قانون سازی جولائی 2023 میں کی گئی تھی جس میں برطانوی وزیرداخلہ پہ لازم ہے کہ وہ ایسے لوگوں کو بیدخل کرنے کے لئے احکامات دے اور انہیں کسی دوسرے ملک بھجوا دے اگر وہ کسی مسئلے کا باعث بن سکتے ہوں۔ برطانوی عدالت عالیہ (سپریم کورٹ) نے ان احکامات پہ پابندی اس لئے لگادی تھی کہ روانڈا انسانی حقوق کی پامالیوں میں مصروف عمل ہے اور یوں پناہ گزینوں کی زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔
برطانوی مقننہ کی کوشش ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح ایمرجنسی قانون سازی کر کے اس کو قانونی شکل دے دی جائے کہ کسی بھی پناہ گزین کو وطن سے نکال کر روانڈا روانہ کر دیا جائے۔ سخت گیر اور انتہائی دائیں بازو کی حامل جماعت کے لوگ مثلا سابقہ وزیر داخلہ سیویلا برورمین وزیراعظم رشی سونک پہ سخت دباؤ ڈال رہی ہے اور اسی طور دیگر سخت گیر پناہ گزین مخالف حلقے بھی عالمی اور یورپی انسانی حقوق اور پناہ گزینوں کے قوانین کی دھجیاں بکھیرنے کا کہہ رہے ہیں۔
وہ چاہتے ہیں کہ برطانیہ ایسے معاہدوں کو یکسر نظر انداز کر کے ان سے گلوخلاصی حاصل کر لے۔ امریکی انتظامیہ فی الحال ایسے کسی پلان کی مخالفت کرتی نظر آتی ہے۔ یہ پلان اتنا خوفناک ہے کہ لوگ آنے سے پہلے ہی سوچ کر خوفزدہ ہوجائیں گے اور یہی اس کی اصل کامیابی ہے۔ برطانوی حکومت کی دیگر کم از کم پانچ ممالک کے ساتھ اس طرح کے لئے بات چیت چل رہی البتہ رونڈا کے ساتھ معاملہ بندی ہو چکی ہے اب تک یہ قانون سازی ہاؤس آف لارڈز میں نہیں لائی گئی اور اس کا کسی کو اندازہ نہیں کہ اس منصوبے پہ خرچہ کتنا ہو گا۔ کون سی ائرلائن انہیں منتقل کرنے لئے تیار ہو گی
ایک اندازہ ہے کہ فی آدمی 169,000 پونڈ خرچ ہونگے یا شاید زائد بھی ہوسکتے ہیں۔ لیبر پارٹی کے سربراہ سرکیر سٹارمر اس کی شدت سے مخالفت کرتے ہیں اور اس پلان کو محض ایک مذاق قرار دیتے ہیں۔ اب دیکھنا ہو گا کہ لیبر پارٹی جو اس وقت تاریخی مقبولیت حاصل کرچکی ہے وہ اگر حکومت میں آ گئی تو پھر کیا کرے گی۔ کنزرویٹو پارٹی اس نعرے کو بنیاد بنا کر انتخابات جیتنا چاہتی ہے جبکہ یورپی ممالک اس کو مثال بنا کر اگلا لائحہ عمل اختیار کریں گے۔
اب کیا دوسرے ترقی پذیر ممالک کوڑا دان بننے کو تیار ہیں یہ دیکھنا ہو گا۔ کیونکہ اس میں لوگوں کو پیسہ بہت سا ملنے کی توقع ہے کیونکہ بنیادی طور پہ یہ انسانوں کی اس نئے دور میں کھلی تجارت ہے جی بالکل ویسی ہی جیسے ہم پرانے زمانے میں غلاموں کی تجارت بارے پڑھتے اور سنتے آئے ہیں۔ ہمارے خیال میں یہ انسانی حقوق کی پامالیوں کا ایک نیا دور ہے اور ایسا نہ ہو تو شاید انسان باعزت زندگی گزارنے کا کوئی ڈھنگ سیکھ لیں۔

