انسانی زندگی کے رنگ


dr latif javed

وہ کون تھا؟ جس نے اپنے حالات سے انسانی زندگی کے رنگ نمایاں کیے ۔

دسمبر کی یخ بستہ رات ڈھل چکی تھی۔ ایک عورت شام سے درد زہ میں مبتلا تھی۔ ماں دائی کی ابھی تک کوئی تدبیر کارگر نہ ہوئی تھی۔ یخ بستہ ہوائیں، ٹوٹے پھوٹے دروازے سے شاں شاں کرتی کمرے پر حملہ آور تھیں۔ دائی اماں شور مچا رہی تھی کہ کمرہ سرد ہے، اسے گرم کرو۔ دروازے پر لٹکا بوسیدہ سا پٹ سن کا ٹاٹ لہرا لہرا کر کمرے میں سرد ہوا کے داخلے کی گواہی دے رہا تھا۔ آنے والے مہمان بچے کا باپ باہر گوبر کی آگ جلائے، حقہ گڑگڑاتے ہوئے آگ تاپ رہا تھا اور سردی سے کانپ رہا تھا۔ آخر شب کا سماں دم توڑ گیا، مرغ بانگیں دینے لگے۔ چڑیوں نے چہچہاتے ہوئے صبح نو کا اعلان کیا۔ اور ایک بچے کی رونے کی آواز بھی ان میں شامل ہو گئی۔ یہ انسانی زندگی کا پہلا رنگ ہے، جس سے ہر کوئی گزر کر آتا ہے۔

جس دن اس نے پہلی کروٹ لی گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ہر کوئی کہہ رہا تھا دیکھو تو سہی کتنا بڑا ہو گیا ہے۔ الٹا ہو جاتا ہے اور سر اٹھا کر سب کو دیکھتا ہے۔ دراصل یہ اس کے کھیلنے کے دن نہ تھے، یہ تو بڑوں کے اس کے ساتھ کھیلنے کا ساماں تھے۔ بزرگوں نے اسے فٹبال بنایا ہوا تھا جو بھی قریب سے گزرتا اسے چھیڑ کر گزرتا تھا۔

جب وہ تین سال کا ہوا تو گلی میں کھیلتے بچوں میں شامل ہو گیا۔ وہ گھر کی چاردیواری سے نکل کر خوش ہوا کہ اسے نئے نئے دوست اور سہیلیاں مل گئے تھے۔ کھیل کود، دھماچوکڑی اور ہنسی مذاق کی محفلیں سجانے کے مواقعے میسر آ گئے تھے۔ اسکول جانے کی عمر کو پہنچا تو اسے اسکول میں داخل کرا دیا۔ علم کے زیور سے آراستہ کرنے اور شفقت سے پیش آنے والے استاد ملے۔ جنہوں نے زندگی میں آگے بڑھنے کے ڈھنگ بتائے، سکھائے، سمجھائے اور کچھ پانے کی لگن اور تڑپ جگا دی۔ وہ محنت اور لگن سے تعلیم حاصل کرنے لگا۔

پھر رہ زندگی میں عجب موڑ آیا۔ اک ہنگامہ سا برپا ہو گیا۔ بلوغت کی منہ زور گھٹا آئی اور ہر سو چھا گئی۔ سب کچھ بدل گیا۔ مسیں بھیگ گئیں۔ شکل بچگانہ نہ رہی اور آواز بھاری ہو گئی۔ جنسی اعضاء نے نشوونما پائی اور چھونے پہ لذت دینے لگے۔ ہر موسم ہر نظارہ زیادہ ہی دلکش ہو گیا۔ ویرانے اور پت جھڑ بھی خوبصورت نظر آنے لگے۔ مہم جوئی پر جانے اور طوفانوں سے ٹکرانے کو جی کرنے لگا۔ جگنو کی طرح چمکنے، تتلی کی طرح اڑنے اور بجلی کی طرح گرجنے کو جی چاہنے لگا۔ امنگیں کوہسار کے دریا کی مانند بیتاب ہو گئیں۔ انجانی اور خوفناک راہوں پہ چلنے کو دل کرنے لگا۔

اور دیکھو تو سہی، یہ کیا ہو گیا؟ کئی بدشکل صورتیں من موہنی ہو گئیں اور کچھ سوہنے چہرے بد وضع ہو گئے۔ وہ سکھیاں اور سہیلیاں جو ”ککلی کلیر دی“ اور ”کوکلا چھپاکی“ ساتھ کھیلا کرتی تھیں، پلو سے گھونگھٹ نکالے چلی جاویں جیسے جانتی نہیں۔ وہ سیمو جو لکن میٹی کھیلتے رضائی میں چھپے بغلگیر ہوئے منہ سے منہ جوڑے سر گوشی کیا کرتی تھی۔ وہ سمٹی ہوئی منہ چھپائے دور سے گزر جائے۔ اس کی دیوانی شبو، انجانی ہوئی اور پھر بیگانی ہو گئی۔ واہ رے او زندگی، تیرے ڈھنگ نرالے۔

وہ اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے شہر گیا تو وہیں کا ہو کر رہ گیا۔ تعلیم مکمل کر کے سی ایس پی افسر بنا لیکن وہ مطمئن نہ تھا۔ وہ مزید آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی کرنے لگا کہ اسے لڑنا ہے، آ گے بڑھنا ہے، دولت کمانے، غربت مٹانے اور عزت و شہرت پانے کے لئے۔ دفعتا ً رسم دنیا اور دستور آ ٹپکے۔ اسے بیاہ دیا گیا۔ اس کی توجہ بٹ گئی۔ آدھی خود پر رہی اور آدھی شریک حیات کی طرف پلٹ گئی۔ بچے پیدا ہوئے تو ساری توجہ انہیں پہ وارد ہو گئی، اپنا سب کچھ بھول گیا۔ انہیں کے اعلیٰ تعلیم دینے اور آگے بڑھنے کی منصوبہ بندی ہونے لگی۔ بچوں نے اعلیٰ پروفیشنل تعلیم حاصل کی اور اور ترقی یافتہ ممالک میں جا بسے۔

پھر اک غضبناک اور بے رحم زمانہ آ ٹپکا۔ شاہکار قوتیں اور سوچیں پیچھے کو پلٹ گئیں۔ جوانی کے کرشمے بھول گئے اور بچپن کی معصوم حرکتیں اور حماقتیں یاد آنے لگیں۔ بچپن کے دور میں لوٹ جانے کو جی چاہنے لگا۔ حسن ماند پڑ گیا، رنگت مرجھا گئی۔ ہڈیاں تخریب کاری کا شکار ہو گئیں۔ کوئی بڑھ گئی تو کوئی سکڑ گئی اور کوئی کمزور ہو کر بھرنے لگی۔ دانت گئے تو بڑھاپے کا عمل مکمل ہوا۔ کچھ کھائے تو یوں لگے جیسے دونوں جبڑے کسی ڈھلوان سے گہری کھائی میں گرے بڑبڑا رہے ہوں۔

بچپن اور جوانی میں لگے خوش کن قہقہے عمر رسیدگی کی بیماریوں کے باعث آہوں اور سسکیوں میں بدل گئے۔ وہ لاٹھی جو کندھے پہ ہوا کرتی تھی اور لوگ ڈرا کرتے تھے، وہی لاٹھی وہ زمین پر ٹیکتے ہوئے چلے کہ گرنے کا خوف ہے۔ معدہ مصیبت میں پھنس گیا کہ اسے دانتوں کا کام بھی کرنا پڑے۔ بدن پھول کر کپا ہوا۔ چہرہ سوج کر بد وضع ہو گیا، ناک اور گال لٹک گئے، اپنوں کو بھی پہچاننے میں دیر لگے۔

پھر غذائی نعمتیں روٹھ گئیں۔ لذت شیرینی بند کہ بلڈ شوگر ہے۔ گوشت اور گھی نہ کھائیں کہ کولیسٹرول لیول زیادہ ہے۔ کافی اور چائے کم کہ بلڈ پریشر بڑھنے کا خطرہ ہے۔ من پسند چٹ پٹے لذیذ کھانے منع کہ دل کا معاملہ ہے۔ جان عجب شکنجے میں پھنس گئی کہ پرہیز نہ کیا تو دل گیا، پرہیز کیا تو صحت گئی۔ اب صحت کی تلاش میں جائے تو جائے کہاں؟ وہ سوچ رہا تھا کہ منقوں (سٹنٹ) میں پرویا ہوا جعلی دل، ولائتی لینز سے سجی مصنوعی آنکھیں اور لوہے کے شکنجے میں پھنسی دائیں ٹانگ، سٹیل کی پلیٹ میں پیوست بائیں بازو، کانوں میں لگے بدیسی آلہ سماعت اور منہ میں پھنسی مصنوعی بتیسی سے آخر کوئی کب تک جیئے گا؟ جعلسازی کا یہ کاروبار زندگی کب تک چلے گا؟

بالآخر وہ دن آ گیا۔ طبی ماہرین کے مشورہ پر اسے ایک جدید ہسپتال منتقل کر دیا گیا، جو ایک عالیشان عمارت میں واقع تھا۔ جس کے بلوریں دروازے اور کھڑکیوں پر کمخواب اور اطلس کے پردے خوشنما انداز میں جھول رہے تھے۔ جدید میڈیکل مشینری اس کے بیڈ کے چاروں طرف بچھی پڑی تھی۔ ڈاکٹرز اور نرسیں بہت مصروف تھے۔ پیرا میڈیکل سٹاف بڑی پھرتی سے ان کی معاونت کر رہا تھا۔ اسی تگ و دو میں دن گزر گیا۔ چارہ گر جدید ہتھیاروں سے لیس اس کی بیماریوں سے لڑتے رہے لیکن کوئی افاقہ نہ ہوا۔ جب اسے پتہ چلا کہ شام ڈھل گئی ہے، تو وہ دل ہی دل میں پڑھنے لگا۔

؎ غرق خود اپنے لہو میں آفتاب شام ہے
کیا یہی ہر تابدار آغاز کا انجام ہے؟
چارہ گر منہ تک رہے ہیں نزع کا ہنگام ہے
زندگی کی ساری صبحوں کی یہ تنہا شام ہے

وہ خیالوں میں کھو گیا کہ بازار پر رونق ہوں گے ۔ سڑکوں پر بھیڑ لگی ہو گی۔ ماجھے پنواڑی کی دکان کھلی ہوگی۔ الھڑ جوانیاں قہقہے لگاتی، مٹکتی، مسکراتی اور پان کھاتی چلی جا رہی ہوں گی ۔ سینما گھر سجے ہوں گے ، ہیرو اور ہیروئن دوگانا گاتے ہوئے پیار و محبت لٹا رہے ہوں گے ۔ میکدے آباد ہوں گے ۔ پیمانے جھومتے ہوئے رندوں پہ بلا امتیاز برستے ہوں گے ۔ بچے من موہنی شرارتیں اور اٹکھیلیاں کر رہے ہوں گے ۔ مائیں انہیں سلانے کے لئے مترنم لوریاں سنا رہی ہوں گیں۔ چشمے خاموشی سے پھوٹ رہے ہوں گے اور آبشاریں شور مچاتی گر رہی ہوں گی۔ ندیا دلکش لہروں میں بہہ رہی ہو گی۔ پنچھی نغمے گاتے اپنے آشیانوں کو رواں دواں ہوں گے ۔ وہ خیالوں ہی خیالوں میں کہہ رہا تھا۔

”مجھے پیار ہے ان سر گرمیوں سے، میں ان سے محبت کرتا ہوں لیکن یہ دنیا میری نہیں ہے۔ میرا زمانہ بیت چکا۔ یہ میری وہ شام ہے جس کی رات نہیں۔ اے، کائنات کی دلکش اور دلدار فضاؤ، میرا راستہ نہ روکو مجھے اب جانے دو ۔ موت کو مجھ تک آنے دو ۔“ موت کو سامنے پا کر اسے خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا۔

؎ بیمار محبت نے ابھی یاد کیا تھا
خوب آ گئی اے موت تیری عمر بڑی ہے

وہ موت سے پکارا، اچھا ہوا کہ وہ آ گئی۔ دیکھو تو سہی سانس اکھڑی ہوئی ہے، دل کی دھڑکن بے قاعدہ ہے۔ نبض ڈوب رہی ہے، دم گھٹ رہا ہے۔ سینہ دکھ رہا ہے۔ بدن کانپ رہا ہے۔ اعصاب شل ہو گئے ہیں۔ جینے سے جی بھر گیا ہے۔ اب اسے جانا ہے۔

یہ سن کر موت آگے بڑھی اور اپنی کارروائی شروع کی۔ پہلے سانسیں تھمیں، پھر دل کی دھڑکن رکی۔ دردیں ختم ہو گئیں۔ آفتیں ٹل گئیں۔ دکھ دور ہو گئے، اک سکون وارد ہو گیا۔ وہ مرضیں جو جیون بھر ساتھ تھیں، بے وفا ہو گئیں۔ اس کی کائنات رک گئی۔ زندگی کا تارہ ٹوٹا اور دور کہیں افق میں گم ہو گیا۔ سرہانے پڑے جدید مانیٹر کی بیپ بند ہو گئی۔ سر ڈھلک گیا۔ سٹاف نے سامان سمیٹنا شروع کر دیا۔ نرس نے آگے بڑھ کر اس کی آنکھیں بند کیں۔ ہاتھ پاؤں سیدھے کیے ۔ ہونٹ میچ دیے۔

اگلے دن جب اس کا جنازہ اٹھا تو سب غم زدہ اور آبدیدہ تھے۔ اس نے کفن سے سر نکال کر دیکھا تو معلوم ہوا کہ وہ ایک تابوت میں بند ہے۔ کوئی اسے دیکھ نہیں رہا۔ یہ جان کر وہ خوش ہوا کہ جانے کی تیاری مکمل ہو گئی ہے۔ لوگوں کی ماتم اور رونے کی آواز سن کر وہ کہنے لگا جو کوئی سن نہ سکا۔ غم نہ کرو، پریشان مت ہو۔ نظام کائنات یونہی چلتا رہے گا۔ یہ آمدو رفت جاری رہے گی۔ آج وہ جا رہا ہے اور کئی آ رہے ہوں گے جو اعلان کر رہے ہوں گے ۔ ”ہم آ گئے ہیں۔“ اس نے یہ شعر پڑھا اور چہرہ دوبارہ کفن میں چھپا لیا اور ان دیکھے و انجانے راستوں پر چل دیا۔

؎ جہاں کی نشوونما پہ اب تک نہ کوئی پہرہ بٹھا سکا ہے
یونہی گرتی رہے گی بجلی، یونہی نشیمن بنا کریں گے

Facebook Comments HS