تاریخی، تہذیبی اور سیاحتی خزانے


وطن عزیز کو اللہ تعالٰی نے بے شمار نعمتوں سے نوازا ہے۔ کس کس کا ذکر کریں؟

اس خطے کی تہذیب و تمدن، ثقافت اور معاشرت دنیا کی قدیم ترین تہذیبوں اور ثقافتوں میں سے ایک ہے۔ یہ خطہ ارض تاریخ کے خزانوں سے مالا مال ہے۔ مہر گڑھ، بلوچستان کی ہی مثال لے لیں۔ یہاں معلوم تاریخ کے مطابق 9 ہزار سال قبل کے آثار قدیمہ موجود ہیں۔ پھر وادی سوات، موہنجوداڑو اور ہڑپہ، ٹیکسلا اور گندھارا دنیا کی چند اہم ترین آرکیالوجیکل سائٹس میں سے ہیں جو اپنے زمانے کی اہم ترین اور ترقی یافتہ تہذیبوں میں سے تھیں۔ دنیا کی اولین یونیورسٹی ٹیکسلا کے قریب پائی جاتی تھی۔ یہاں بدھ مت اور گندھارا کے آثار پائے جاتے ہیں۔

ہمارا یہ خطہ اپنے دور کے علم و ہنر کا مرکز تھا۔ اسی ارض پاک میں بدھ مت، جین مت، ہندوازم سکھ ازم، اسلام سے قبل اور بعد کے تاریخی اور تہذیبی آثار قدیمہ موجود ہیں اور ان کے اثرات واضح طور پر پائے جاتے ہیں۔ موہنجوداڑو اور ہڑپہ کے تاریخی آثار قدیمہ تو آج بھی دنیا کی بہت سی یونیورسٹیوں کے نصاب میں شامل ہیں اور طلبہ و طالبات کو پڑھائے جا رہے ہیں۔

ہمارے عجائب گھر اور آثار قدیمہ انسانی تہذیب اور تاریخ سے بھرے پڑے ہیں۔ یہ دراصل تاریخی و تہذیبی خزانے ہیں جنہیں کما حقہ محفوظ کر کے دنیا کے سامنے رکھنے کی ضرورت ہے۔ اس سے نہ صرف علم، تاریخ اور سیاحت میں اضافہ ممکن ہے بلکہ ان تہذیبوں سے سیکھ کر اس پر ملک کو آگے بھی لے جایا جا سکتا ہے۔

آپ ذرا عجائب گھروں کا رخ کریں۔ کیا کیا نوادرات یہاں موجود نہیں ہیں۔ تاریخ کے انبار لگے ہیں۔ کیا کیا علوم تھے جو یہاں پروان نہیں چڑھے۔ علم ریاضی اور حساب ہی کو لے لیجیے۔ صفر یعنی زیرو اسی خطے کی ایجاد ہے۔ شطرنج کے کھیل کی ابتداء بھی یہیں سے ہوئی۔ زراعت کو ترقی اسی خطے نے دی اور پوری دنیا میں روشناس کرایا۔ یہ خطہ اپنے دور کا اہم ترین تجارتی مرکز تھا۔ ہر طرف سے تجارتی قافلے یہاں آتے جاتے تھے۔ یہاں کے لوگ خوشحال اور ذہین تھے۔

آبپاشی کا نظام بہترین تھا۔ کیا یہ وہ خطہ نہیں جہاں البیرونی نے زمین کی پیمائش کی اور دنیا کو زمین کے مرکز سے روشناس کرایا۔ ذرا تصور کریں وہ عروج کا دور اور اس خطے کی تاریخی اہمیت۔ دنیا بھر سے علم کے پیاسے اپنی پیاس بجھانے یہاں آتے تھے۔ آج بھی باہر سے آ کر لوگ ان تاریخی نوادرات کو دیکھ کر دنگ رہ جاتے ہیں۔ تحقیقی مقالے لکھتے ہیں اور اعلیٰ تعلیم کے بارے میں ریسرچ کرتے ہیں۔ وہ ہماری ان تاریخی دستاویزات سے استفادہ کر رہے ہیں۔

حیرت کی بات ہے کہ آج ہمارے عجیب گھروں سے کماحقہ فائدہ نہیں اٹھایا جا رہا ہے۔ تاریخی نوادرات اور مسودات کے ڈھیر لگے ہیں۔ ان کو دیکھنے اور ان کے بارے میں تحقیق کرنے اور جاننے والا کوئی نہیں ہے۔ تاہم ان کو جدید طریقوں سے محفوظ بنانے کی ضرورت ہے یہاں غیر ملکی تو نظر آئیں گے لیکن مقامی سیاحوں کی شدید کمی اور عدم دلچسپی ان بیش بہا خزانوں کی بے قدری کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ دنیا کی اہم سیاحتی ممالک میں سب سے زیادہ رش عجیب گھروں، تاریخی مقامات، آرکیالوجیکل سائٹس اور ٹورسٹک سائٹس پر ہوتا ہے۔ ہمارے ہاں مقامی، تاریخی مقامات، ثقافتی ورثہ، عجائب گھروں اور سیاحتی مقامات سیاحوں کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں اور ہم دیگر ممالک کی سیاحت کو زیادہ ترجیح دے رہے ہیں۔

لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ وطن عزیز کے ان تاریخی و تہذیبی خزانوں سے نہ صرف خود فائدہ حاصل کریں بلکہ اسے مزید محفوظ بنا کر دنیا کے سامنے پیش کیا جائے۔ ان سے استفادہ کیا جائے اور اس پر ریسرچ اور تحقیق کر کے مزید ایجادات کی بنیاد رکھی جائے۔ تبھی جا کر ہم اس خطے کے تہذیب و تمدن کے اصل وارث ثابت ہوں گے۔

Facebook Comments HS

اسلم بھٹی

اسلم بھٹی ایک کہنہ مشق صحافی اور مصنف ہیں۔ آپ کا سفر نامہ ’’دیار ِمحبت میں‘‘ چھپ چکا ہے۔ اس کے علاوہ کالم، مضامین، خاکے اور فیچر تواتر سے قومی اخبارات اور میگزین اور جرائد میں چھپتے رہتے ہیں۔ آپ بہت سی تنظیموں کے متحرک رکن اور فلاحی اور سماجی کاموں میں حصہ لیتے رہتے ہیں۔

aslam-bhatti has 45 posts and counting.See all posts by aslam-bhatti