شہر کی ایک بستی
ایک شہر میں دریا کے کنارے ایک بستی آباد تھی۔ یہ شہر کی دیگر بستیوں سے جغرافیائی لحاظ بہتر تھی اور یہاں دیگر حالات زندگی بھی دیگر بستیوں کی نسبت قدرے مختلف تھے یہاں کے لوگ بہت ذہین و فطین تھے مگر دیگر بستی والے انہیں اجڈ اور جاہل تصور کرتے تھے کیوں کہ ان کی سوچ و فکر میں نہ وسعت تھی اور نہ ہی جدید طرز زندگی سے واقف تھے۔ بستی والے مذکورہ بالا دریا سے کم پیمانے پر ضروریات زندگی پوری کر لیتے تھے۔ بستی ہری بری، سرسبز و شاداب تھی۔ یہاں کے لوگوں کا پیشہ ماہی گیری، مال مویشی پالنا اور کھیتی باڑی کرنا تھا۔
سادہ ڈھنگ سے زندگی گزارتے آپس میں محبت و اخلاص سے رہتے اور تہذیب و تمدن کو پروان چڑھاتے رہتے۔
آس پڑوس کی بستیوں سے تعلقات خوشگوار نہ تھے آئے روز کسی نے کسی بات پر لڑ جھگڑتے۔ جھگڑے کی کوئی خاص وجہ بھی نہ ہوتی تھی بلکہ اکثر اوقات یہ جھگڑا کسی سازش کی بنا پر ہوتا۔
بستی کا سیاسی صورت حال کچھ یوں تھا کہ معینہ مدت تک ایک سردار رہتا تھا اس کی حکمرانی ہوتی تھی وہی سردار رعایا کی کثرت رائے سے منتخب ہوتا۔ اس دفعہ نو منتخب سردار جس کا نام بورگئی تھا کچھ زیادہ ہی وحشی اور جابر تھا۔ اس نے بستی والوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیے۔ چھوٹی کوتاہیوں پر کڑی سزائیں دینے لگے، وحشت ان کی آنکھوں سے ٹپکتی تھی ہاتھ مظلوم کے خون سے رنگے ہوئے اور تلوار سے بے کسوں کا خون رستا تھا۔
ان کے سپاہی مثل جلاد تھے بستی کے عوام کو دن دھاڑے لوٹ کھسوٹ رہے تھے۔ حتی کہ بستی کی عورتوں کی چادریں تک محفوظ نہ رہ سکیں۔ علاوہ ازیں سردار کھیتی باڑی پر زیادہ ٹیکس وصول کرنے لگا، ہفتے میں تین دن ماہی گیری پر پابندی لگا دی۔ رعایا کو ذہنی و جسمانی غلام بنانے میں ظلم و تشدد کی ہر حد پار کر دی۔ جو کوئی فرمانبرداری سے انکار کرتا اس کے پاؤں میں زنجیریں ڈال کر چوک چوراہے پر کوڑے مارے جاتے تھے اور جو حکم بجا لاتا اسے سونے و زر سے نوازا جاتا۔
بستی کی حالت ایسی ہوئی کہ کچھ وقت میں رعایا پیٹ بھر کے کھانے کو ترسنے لگی۔ لوگ بھوگ سے نڈھال ہو گئے۔ مال مویشی مرنے لگے، دریا سے نہریں بند ہو گئیں۔ قحط سالی کے اس دور میں محض سردار کے قریبی لوگ، رشتہ دار اور بستی کے دیگر معززین پرسکون اور آسودہ حالی سے رہ رہے تھے بستی کے معززین جابر سردار بورگئی کی وحشت پر خاموش تماشائی بنے تھے۔
بستی کی شکل بگڑ گئی اور خوبصورتی کھنڈرات میں تبدیل ہو گئی۔ زرخیزی بنجر ہونے لگی لوگ یہاں سے دیگر بستیوں کی طرف ہجرت کرنے لگے وہاں آسودہ حالی کے متمنی تھے۔ مگر جو ہجرت نہ کر سکے وہ جابر سردار بورگئی کے ظلم کے نشانے بنتے گئے۔
وقت گزرتا گیا سردار کی تبدیلی کے دن قریب آنے لگے، سردار کی بستی والوں کی کثرت رائے سے ہونی تھی۔ بستی میں ہر طرف چہ گوئیاں ہونے لگیں، بستی کے لوگ یہ ٹھان چکے تھے کہ اس باری دوسرے سردار کو آنے کا موقع دیں گے ظلم و جبر سے نجات کا واحد حل یہی ہے۔ اس طرح موجودہ سردار کے خلاف دبی آوازوں میں مخالفت کرنے لگے دوسری طرف سردار کے قریبی لوگ سردار کی حمایت کر رہے تھے۔ بستی والوں کو ہر گناہ کا مرتکب ٹھہراتے اور سزا کا مستحق قرار دیتے تھے۔
انتخاب کے دن نزدیک آتے گئے بستی کے دیگر معززین نے بھی آہستہ آہستہ سردار کے مخالفت شروع کر دی۔ ان کی زبانوں سے نفرت کے شعلے بھڑکنے لگے۔ تخت چینی کے لیے میدان میں اتر آئے۔ لوگوں کو اکٹھا کرتے رہے اور لمبی چھوڑی تقریروں سے اپنی لیے تخت چینی کی راہیں ہموار کرتے رہے۔ اور لوگوں کو سردار بورگئی کے خلاف متحد کرنے لگے۔ اس طرح بستی والوں کے دلوں کو مزید نفرت و انتقام سے گرما دیا۔ ایک سردار جس کا نام ملا خاشو تھا تقریر کرتے ہوئے سرخ آنکھیں اور منہ سے انگارے نکالتے ہوئے بولے!
بستی والو! ”تمہارے سردار نے تم سب کا خون چوسا ہے۔ اس کے ہاتھ تمہارے خون سے رنگے ہیں۔ تم سب کو اپنا غلام بنایا ہے۔ جبکہ غلامی صرف اللہ کی کرنی چاہیے۔ تمہیں بھوک اور پیاس سے مار دیا۔ اسی نے تم سب پر نہر کا پانی بند کر دیا تمہارے مال مویشی مر گئے، بستی اجڑ گئی۔
ان کے سامنے بیٹھے لوگ غصے سے لال پیلے ہو گئے۔ سب کی سرخ آنکھوں سے انتقام کی آگ بھڑک رہی تھی۔ شور و زور سے سردار بورگئی مردہ باد کے نعرے لگائے۔ انہیں مار دو کے نعرے بلند ہوئے۔ چند ایک اپنے ہاتھوں میں لاٹھیاں اٹھا اٹھا کر انتقام کا اظہار کر رہے تھے۔
سردار ملا خاشو بستی والوں کو مخاطب کرتے ہوئے بھرے ہوئے لہجے میں بولے
بستی والو!
تم لوگوں نے سردار بورگئی کو کثرت رائے سے بستی کا سردار بنایا اس نے تمہارے ہی گلے گھونٹ ڈالے تمہارے بچوں کے منہ سے نوالہ چھینا اور تمہاری نسلوں کو اندھیروں میں دھکیل دیا۔ تم سب کے انتخاب سے ظلمت کے یہ دن دیکھنے پڑے۔ آپ سب بستی والے اس گناہ کبیرہ میں برابر کے شریک ہیں۔ قیامت کے دن اس کا پورا حساب دینا ہو گا۔ (گلا بھر آیا۔ آواز بیٹھ گئی)
لوگوں کی آنکھیں بھر آئیں۔ ندامت کے آنسو گرنے لگے اور کھسیانے سے رہ گئے۔ قیامت کا خوف دل میں لیے اپنی خطا پر سر پیٹنے لگے
سردار ملا خاشو نے اک دم پر زور آواز میں ہاتھ لہراتے ہوئے کہا
بستی والو!
تم سب کا درد میرا درد ہے۔ تمہارے بچے میرے ہی بچے ہیں۔ تمہاری نسلوں کا محافظ میں ہوں تمہاری نہریں میں بحال کر دوں گا۔ بستی میں ہر طرف زرخیزی ہو گی۔ چراگاہیں آباد ہوں گی اور مویشی پھر سے تعداد میں بڑھ جائے گی۔ مگر اس صورت میں مجھ پر اعتبار کرو۔ میں اس بستی کی الٹی تقدیر کو سیدھی کر دوں گا۔ لوگوں کی مرادیں بھر آئیں گی بلکہ کوئی بھوکا نہ سوئے گا
سب لوگ کھڑے ہو کے تالیاں بجانے لگے اور ہاتھ ہلا ہلا کے سردار خاشو زندہ باد کے نعرے بلند کیے۔
تقریر ختم ہوئی لوگ اپنے گھروں کو چل دیے انتخاب کے دن ملا خاشو کثرت رائے سے بستی کے سردار بنے۔
اس دفعہ نو منتخب سردار جس کا نام ملا خاشو تھا کچھ زیادہ ہی وحشی اور جابر تھا۔ اس نے بستی والوں پر ظلم و جبر کے پہاڑ توڑنا شروع کر دیے۔ چھوٹی کوتاہیوں پر کڑی سزائیں دینے لگے، وحشت ان کی آنکھوں سے ٹپکتی تھی ہاتھ مظلوم کے خون سے رنگے ہوئے اور تلوار سے بے کسوں کا خون رستا تھا۔ ان کے سپاہ مثل جلاد تھے بستی کے عوام کو دن دھاڑے لوٹ کھسوٹ رہے تھے۔ حتی کہ بستی کی عورتوں کی چادریں تک محفوظ نہ رہ سکیں۔
لوگ اپنی ازلی تقدیر اور کبیرہ گناہوں پر چھاتی پیٹتے اور بال نوچتے رہے۔


