مسائل کی پیچیدگی یاانتظامی صلاحیت کی کمی؟


پچھلے ہفتے دفتری ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے مجھے کراچی جانے کا اتفاق ہوا۔ 14 جنوری کو تقریباً عصر کے بعد میں بذریعہ شاہراہ فیصل اپنی منزل کی جانب جا رہا تھا کہ اچانک ٹریفک نے ایک ہجوم کی شکل اختیار کرنا شروع کر دی اور چند ہی منٹوں میں ایک نہ ختم ہونے والے ٹریفک جام جس میں چاروں جانب سے ہارن بجنے اور جذباتی نعروں کی بھی شمولیت تھی نے آ لیا۔ جب بیس سے پچیس منٹ گاڑی ایک انچ بھی نہ ہل سکی تو میں نے گاڑی سے نکل تک صورتحال کا جائزہ لیا تو پتہ چلا کہ کسی سیاسی جماعت کی جانب سے ایک ریلی کا اہتمام کیا گیا ہے جس کے لئے غالباً ضلعی حکومت سے اجازت بھی لی گئی ہو گی۔

لاکھوں کا نہیں تو ہزاروں کا مجمع تو ضرور تھا۔ ہر سو جھنڈے اٹھائے مرد خواتین اور بچے اور جا بجا سڑکوں کے بیچ و بیچ کھڑی گاڑیوں کا دیکھ کر اس بات کا اندازہ تو ہو گیا تھا کہ اگلے چند گھنٹے مجھے میں ریلی میں شمولیت کا اعزاز حاصل رہے گا۔ ویسے کراچی شہر کی سڑکوں پر موبائل اور پرس چھننے کے قصے سن رکھے ہونے کے باعث اس مضمون کے قاری کو تھوڑی تشویش مزید بھی تھی۔ اور میں کافی توجہ سے اپنے اردگرد رش میں موجود افراد کی حرکات و سکنات پر نظر رکھے ہوا تھا۔

خیر تقریباً پچاس منٹ رش میں پھنسے رہنے کے بعد غالباً ریلی اپنا مقصد پورا کر کے ختم پذیر ہوئی اور منتظمین نے احساس ذمہ داری کا مظاہرہ کرتے ہوئے رضاکاروں کو سپیکر میں ہدایت کی کہ سڑکوں کو خالی کروائیں اور راہگیروں کی گزرنے میں مدد کریں۔ اور یوں دس سے پندرہ منٹ مزید انتظار کے بعد میں بھی اپنی منزل کے جانب روانہ ہوا۔

شاہراہ فیصل جو کراچی شہر کی مرکزی سڑک ہے بند ہونے ہزاروں لوگ متاثر ہوتے ہیں۔ اس دن بھی ٹریفک جام میں پھنسے ہوئے لوگوں میں میرے علاوہ یقیناً ضعیف شہری بھی ہوں گے اور بچے بھی بیمار بھی ہوں گے اور وہ بھی جو کسی ایمرجنسی کام کے لئے نکلے ہوں۔ شہری انتظامیہ کی کم از کم اتنی ذمہ داری تو بنتی ہے کہ اگر انہوں نے کراچی شہر کی مصروف ترین اور مرکزی شاہراہ کو ایک سیاسی جماعت کو ریلی کے لئے دیا تو شہریوں کی آگاہی کے لئے خاطر خواہ انتظام کرے۔ بنیادی طور پر تو مرکزی شاہراہوں پر اجتماعات کی اجازت ہونی ہی نہیں چاہیے چاہے مقصد کچھ بھی ہو۔

میں نے اپنی ایک پرانی تحریر میں ہم سب کے قارئین اور حکومتی ذمہ داران کی توجہ اسلام آباد میں ایکسپریس وے کی صورتحال کی طرف دلائی تھی۔ جہاں فیض آباد کے پل کو بند کرنا ایک فیشن سا بن گیا ہے۔ پچھلے چند سالوں میں دو مرتبہ میری بڑی بیٹی صرف اس لئے او لیول اور اے لیول کا ایک پیپر نہ دے سکی کیونکہ سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے نمائندوں نے ایکسپریس وے اور فیض آباد پل کو مکمل بند کر دیا تھا۔ مزید ایکسپریس وے کے دونوں اطراف آبادیوں کے مکین بھی اپنے کسی نہ کسی مسئلے کو لے کر آئے دن راستہ بند کر دیتے ہیں اور ضلعی انتظامیہ سے معاملات طے نہ ہونے تک سینکڑوں گاڑیاں پھنسی رہتی ہیں۔

آپ سب بخوبی جانتے ہیں کہ ہمارے ملک میں جس طرح کی شہری پلاننگ اور سڑکوں کا ڈیزائن ہے رش کی صورت میں عام آدمی تو کیا ایمبولینس اور فائر بریگیڈ کے گزرنے کے لئے بھی کوئی صورت نہیں ہوتی۔ یہ مسئلہ اتنا پیچیدہ ہے نہیں جتنا حکومتی سرپرستی ضلعی انتظامیہ کے پاس مناسب اختیارات کے نہ ہونے غیر واضح قوانین اور ان کے اطلاق اور سب سے بڑھ کر ذمہ داراں کے خلاف سزاؤں کا نہ ہونا اس مسئلے کو تمام شہریوں کے لئے مستقل تکلیف کا باعث بناتا جا رہا ہے۔

مئی 2023 ء میں مجھے ایک کام کے سلسلے میں نیپال جانا ہوا۔ کھٹمنڈو شہری کے مرکز میں پارلیمنٹ اور پرائم منسٹر آفس کے نزدیک ”ٹنڈی خیل“ (Tundikhel) کے نام سے ایک وسیع گراؤنڈ ہے جسے تمام اجتماعات خواہ شہری ہوں مذہبی یا سیاسی کے لئے مختص کر دیا گیا ہے۔ وہاں حکومت اور ضلعی انتظامیہ نے انتظامی بصیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے شہریوں کی سہولت کو مد نظر رکھا اور ایک جگہ نہ صرف مختص کی بلکہ اس بات کو بھی یقینی بنایا کہ کسی بھی صورت میں سڑکوں پر جلسوں کی اجازت نہ دی جائے۔ اب چونکہ شہری اور تمام دیگر سٹیک ہولڈرز بھی اس بات سے واقف ہیں کہ کسی بھی وابستگی کے باوجود سڑکوں پر جلسے جلوس کی اجازت نہیں دی جاتی تو وہ ایک منتظم طریقے سے اس مختص جگہ پر ہی تمام اجتماعات کرتے ہیں جس سے شہر میں ٹریفک کی روانی کم متاثر ہوتی ہے۔

سوال یہ ہے کہ ایسا فیصلہ کرنا ہمارے ملک کو مشکل کیوں ہے اور اگر فیصلہ کر بھی لیا جائے تو اس پر عملدرآمد نہیں کیوں نہیں کروایا جا سکتا؟ اس کا جواب بہت مشکل نہیں ہے۔ طاقتور حلقے اپنی ضرورت اور مرضی کے مطابق شہری انتظامیہ کو کنٹرول کرتے ہیں اور خود کسی نہ کسی صورت میں ایسی سرگرمیوں کے فائدہ کنندہ ہوتے ہیں اس لئے آئے دن شہری کسی نہ کسی مصیبت کا شکار رہتے ہیں۔

ہمارے مسائل بہت بنیادی ہیں اور ہمیں ان مسائل کے حل ایجاد نہیں کرنے۔ بس ایک مضبوط ارادے اور نیک نیتی کی ضرورت ہے۔ ضلعی انتظامیہ کو مضبوط اور خود مختار کرنے کی ضرورت ہے تا کہ فیصلے ایک مخصوص طبقے کے لئے نہیں بلکہ وسیع عوامی مفاد میں کیے جا سکیں۔

Facebook Comments HS