عالمی یوم تعلیم
”دیرپا امن کے لیے سیکھنا“ یہ اس سال کے عالمی یوم تعلیم کا موضوع ہے۔ دنیا بھر میں ہر سال 24 جنوری کو تعلیم کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ اس سال کے یوم تعلیم کے موضوع کا پاکستان کے سیاسی، معاشی اور سماجی پس منظر سے گہرا تعلق ہے۔ پچھلی سات دہائیوں سے سنہرے خوابوں کے سائے تلے ملکی مسائل بڑھتے ہی رہے ہیں، ہمارے سیاسی اور مذہبی رہنما ہماری نسلوں کو پہلے دن سے دنیا پر راج کرنے اور ستاروں پر کمند ڈالنے کے خواب تو دکھاتے آئے ہیں لیکن پیچیدہ سیاسی منظر نامے اور معاشی و سماجی مشکلات کے اندھیروں سے نکلنے کے لیے جو تعلیم کی روشنی درکار ہے اسے قبول کرنے کو تیار نہیں۔ یہ جانتے ہوئے بھی کہ تعلیم ہی روشن مستقبل کی ضامن ہے ہماری حکومتیں بچوں کے لیے معیاری تعلیم کے حصول میں حائل رکاوٹیں ہٹانے میں ناکام رہی ہیں۔
تعلیم کے شعبے میں ترقی کرنے کے لیے ہم سنجیدگی کے کس زینے پر کھڑے ہیں اور ہماری ترجیحات کیا ہیں اس کا اندازہ آپ اس تلخ حقیقت سے لگا سکتے ہیں کہ سکول جانے کی عمر کے 2 کروڑ سے زائد بچے سکول سے باہر ہیں جن میں زیادہ تعداد لڑکیوں اور دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے بچوں کی ہے۔
پاکستان اگر آج عالمی ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پست درجے پر موجود ہے تو یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ اس کی وجہ تعلیم کے شعبے کو نظر انداز کرنا ہے۔ گلوبل ڈویلپمنٹ انڈیکس 2023 کے مطابق 192 ممالک میں سے پاکستان کا درجہ 161 ہے۔ جبکہ ہمارے پڑوسی ممالک بھارت کا درجہ 131، بنگلہ دیش کا 129 اور چین کا 78 ہے۔
پاکستان اپنی جی ڈی پی کا صرف 2.8 فیصد تعلیم پر خرچ کرتا ہے جبکہ یونیسکو تجویز کرتا ہے کہ جی ڈی پی کا 4 سے 6 فیصد تعلیم پر خرچ کیا جائے۔ اگر تعلیم پر خرچ کرنے کا مقابلہ اپنے پڑوسی ممالک سے کیا جائے تو صورتحال وہاں بھی ہمارے لیے حوصلہ افزا نہیں کیونکہ بھارت تعلیم پر اپنے جی ڈی پی کا 3.1 فیصد، بنگلہ دیش 3.6 فیصد اور چین 4.1 فیصد خرچ کرتا ہے۔
تعلیم کے شعبے میں پاکستان کی مایوس کن پیشرفت کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ ہماری شرح خواندگی 62.2 فیصد ہے اور یہ شرح مردوں میں 72.1 فیصد جبکہ عورتوں میں 52.2 فیصد ہے۔
اگر پڑوسی ممالک سے شرح خواندگی کا موازنہ کیا جائے تو بھارت کی شرح خواندگی 77.7 فیصد، بنگلہ دیش کی 74.5 فیصد جبکہ چین کی 96.8 فیصد ہے۔
ہم دشمن کے بچوں کو پڑھانے کی کوشش میں اپنے بچوں کا مستقبل داؤ پر لگائے بیٹھے ہیں دشمن بھی سوچتا ہو گا کہ انہوں نے ہمارے بچوں کو کیا پڑھانا جن کے اپنے سکول جانے کی عمر کے 2 کروڑ سے زیادہ بچے سکولوں سے باہر ہیں۔ ترقی یافتہ ممالک تو درکنار ہمارے تو پڑوسی بھارت اور بنگلہ دیش وقت کی رفتار کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہے اور ہم اس مصنوعی ذہانت کے دور میں بھی یہ طے نہیں کر پائے کہ نصاب کون سا ہونا چاہیے اور کون سا نہیں، دنیاوی تعلیم زیادہ ضروری ہے یا دینی تعلیم، اردو میڈیم ہونا چاہیے یا انگریزی میڈیم۔
ترقی یافتہ ممالک بشمول چین اور یورپ میں افرادی قوت میں کمی واقع ہو رہی لیکن ہم اپنی تعلیمی صورتحال کی وجہ سے اس صورتحال کا فائدہ بھی نہیں اٹھا پا رہے۔ ہم جو انپڑھ اور غیر تربیت یافتہ لیبر بیرون ملک بھیجتے اس سے اچھی لیبر دوسرے چھوٹے ممالک پیدا کر رہے۔
پاکستان میں تعلیم کا شعبہ درجنوں مسائل کا شکار ہے، عوام میں غربت کی بڑھتی شرح، لڑکیوں کی تعلیم سے جڑا سٹگما، بڑھتی آبادی کا بوجھ، اساتذہ اور سکولوں کی کمی، غیر تربیت یافتہ اساتذہ کی سیاسی بنیادوں پر بھرتیاں اور فرسودہ نصاب تعلیم کے شعبے کی ترقی کو روکے ہوئے ہیں۔ سکیورٹی کی بگڑتی صورتحال اور ماحولیاتی تبدیلیوں خاص کر سموگ اور شدید گرمی کی وجہ سے تعلیمی عمل میں مسلسل تعطل اس شعبے کو مزید پستی میں دھکیلتا جا رہا ہے۔
ہمارے تعلیمی نظام کی گراوٹ اور بوسیدگی سے منسلک مسائل اس قدر گمبھیر اور الجھے ہوئے ہیں کہ آج کی تاریخ تک کوئی بھی حکومت چاہے آمرانہ ہو یا جمہوری لاکھ دعووں کے باوجود بھی تعلیمی میدان میں کوئی خاطر خواہ نتائج مرتب نہیں کر سکی۔ اس کی سادہ سی وجہ اب تو یہی سمجھ آتی کہ اگر آج کے بچے پڑھ گئے تو کل جھوٹے وعدوں پر کون یقین کرے گا، شخصیت پرستی اور اندھی تقلید کا شکار ہجوم کہاں سے پیدا کیا جائے گا۔
مسائل تمام ترقی پذیر ممالک کے ساتھ ہیں مگر ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہمارے پاس بدلتے حالات سے مطابقت رکھنے والی تعلیمی پالیسی نہیں ہے، ہماری ترجیحات میں تعلیم شامل ہی نہیں۔ آپ اندازہ کر سکتے کہ الیکشن سر پر کھڑا ہے مگر کسی بھی سیاسی جماعت نے اپنی سیاسی کیمپین میں تعلیم پر توجہ دینے کی بات نہیں کی لیکن جب حکومت تشکیل پا جائے گی تو سیاسی بنیادوں پر اساتذہ کی بھرتیاں زوروں پر ہوں گی، وزرا کے بچے سرکاری خرچ پر یورپ اور امریکہ پڑھنے جائیں گے اور غریب ماں باپ اور ان کے پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں ہاتھ میں لیے مغرب کی بے حیائی، بے راہ روی اور مذہب سے دوری پر تقریریں سن رہے ہوں گے۔
اس سے پہلے کہ ہم انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مصنوعی ذہانت کے سائے میں تیزی سے بدلتی ہوئی دنیا کے لیے اجنبی ہو جائیں ہماری حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر تعلیم کے شعبے میں بہتری لانے کی ضرورت ہے۔ تعلیم صرف ایک انسانی حق ہی نہیں بلکہ یہ امن، خوشحالی اور ترقی کے حصول کا موثر ذریعہ ہے۔


