پی ٹی آئی پارٹی انتخابات منسوخ کرنے والے الیکشن کمیشن کے پہلےآرڈر کی تفصیل
یہ تحریر پاکستان الیکشن کمیشن کے آرڈر مورخہ 23 نومبر 2023 کا بریف ہے جس میں اس آرڈر کو تفصیل اور آسان الفاظ میں سمجھایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ اس تحریر میں الیکشن کمیشن ایکٹ 2017، پی ٹی آئی آئین 2019 اور انٹرا پارٹی الیکشنز سے متعلق بنیادی معلومات دی گئی ہیں۔
ابتدائیہ:
پی ٹی آئی کے انتخابی نشان سے متعلق سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کا 13 جنوری، 2024 کا آرڈر مکمل اور درست تناظر میں سمجھنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم اس سارے واقعے کے بظاہر اختتام یا آخری چند لمحات کو دیکھنے کے بجائے اس کو شروعات سے دیکھیں و پڑھیں تاکہ ہمیں معلوم ہو کہ آخر معاملات یہاں تک کیونکر اور کس کی وجہ سے پہنچے۔ یہ تحریر اس ادنی سی کاوش کی پہلی کوشش ہے جس میں ہم الیکشن کمیشن کے 13 نومبر، 2023 کے اس آرڈر کا خلاصہ بیان کریں گے جس میں پی ٹی آئی کے ایک پارٹی الیکشن کو نہ صرف کالعدم قرار دیا گیا بلکہ اس کو 20 دنوں کے اندر دوبارہ الیکشن منعقد کروانے کا حکم بھی دیا گیا۔
حقائق و بنیادی معلومات:
اس آرڈر تفصیل میں جانے سے بہتر ہے کہ اس سے متعلق تفصیلی حقائق و کچھ بنیادی قانونی معلومات بیان کر دی جائیں تاکہ اس الجھے ہوئے کیس کو سمجھنے اور سمجھانے میں آسانی رہے۔
سب سے پہلے تو یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگرچہ پارٹی کے اندرونی انتخابات کے لئے پارلیمان کے بنائے ہوئے الیکشن ایکٹ 2017 میں چند ایک رہنما اصولوں سمیت انتخابات منعقد کروانے کے بعد مقررہ وقت کے اندر چند ایک ضروری کاغذات و معلومات بہ طریقہ مقررہ الیکشن کمیشن کو پارٹی نے جمع کروانے ہوتے ہیں لیکن بنیادی طور پر کسی بھی سیاسی جماعت کے اندرونی انتخابات، اس پارٹی کے اپنے آئین میں وضع کیے گئے طریقہ کار کے مطابق کروانا ہوتے ہیں اور ہر رجسٹرڈ سیاسی جماعت کے لیے الیکشن ایکٹ 2017 کے دفعہ 201 کے تحت اپنا پارٹی آئین نہ صرف الیکشن کمیشن کو جمع کروانا ہوتا ہے، اور اس آئین میں کافی ساری چیزوں کے ساتھ پارٹی کے اندرونی انتخابات کے لئے طریقہ کار، اس کی میعاد وغیرہ درج کرنا ضروری ہے، مزید یہ کہ پارٹی آئین میں کوئی بھی ترمیم یا مکمل آئین تبدیل کرنے کی صورت بھی مذکورہ دفعہ 201 میں درج طریقہ کار کے ذریعے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرنا ضروری ہے۔
دوسری بات یہ کہ پی ٹی آئی نے اپنے اندورنی انتخابات آخری بار 2017 میں کروائے تھے، اور الیکشن ایکٹ کی اس مذکورہ دفعہ پر عمل کرتے ہوئے پی ٹی آئی نے جو آئین الیکشن کمیشن کو جمع کروایا تھا، اس کے مطابق دوبارہ اندرونی انتخابات 13 جون، 2021 تک کروانے ضروری تھے لیکن پارٹی نے الیکشن کمیشن سے درخواست کی کہ کورونا وائرس کی وبا کی بنا پر مقررہ وقت یعنی 13 جون، 2021 کو پارٹی اندرونی انتخابات نہیں کروا سکتی، جس کی وجہ سے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو ایک سال کا مزید وقت اپنے اندرونی انتخابات کے لئے دے دیا، یعنی تحریک انصاف کے اندرونی انتخابات اب مورخہ 13 جون، 2022 کو منعقد ہونا قرار پائے لیکن تحریک انصاف اس ایک سال کے عرصہ میں اس وقت تک الیکشن کروانے سے متعلق خاموش رہی، جب تک الیکشن کمیشن نے اس کو ایک سال کا عرصہ ختم ہونے کے قریب کئی ایک نوٹس بھجوائے۔
مذکورہ نوسٹز کے جواب میں پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری نے 9 اور 10 جون، 2022 کو لکھے گئے، دو خطوط الیکشن کمیشن آفس کو بھجوائے، جس میں یہ اطلاع دی گئی کہ تحریک انصاف نے 8 جون 2022 کو اپنے پارٹی آئین کے آرٹیکل 5 کی شق نمبر 5 میں ترمیم کرتے ہوئے پارٹی عہدیداروں کے چناؤ سے متعلق اپنے الیکٹورل کالج، یعنی کون ان کا انتخاب کر سکتا ہے، کو تبدیل کرنے کے سمیت ووٹ ڈالنے کا طریقہ کار بھی خفیہ ووٹنگ سے شو آف ہینڈز کر لیا ہے۔ مزید بتایا گیا کہ 10 جون، 2022 کو آئین میں کی گئی مذکورہ ترمیم کے تحت پارٹی انتخابات بھی کروا دیے گئے ہیں۔
لیکن جواباً الیکشن کمیشن نے بذریعہ خط مورخہ 22 جون، 2022 کو تحریک انصاف کو آگاہ کیا کہ پارٹی انتخابات سے اور پارٹی آئین میں ترمیم سے متعلق الیکشن کمیشن کو مطلع کرنے کے واسطے محض خطوط ارسال کرنے کے بجائے، الیکشن ایکٹ، 2017 کی دفعہ 209 و الیکشن رولز، 2017 کے رول 158 میں ذکر کردہ سرٹیفیکیٹ (فارم 65 ) کو وضع کردہ طریقہ کار کے مطابق جمع کروایا جائے جس میں الیکشن انعقاد کی تاریخ، رزلٹ، کامیاب امیدوں اور ان کی تفصیل درج ہوتی ہے۔
اس کے علاوہ مزید یہ ہدایت کی کہ پارٹی آئین میں ترمیم سے متعلق منظور شدہ قرارداد بھی الیکشن ایکٹ کی دفعہ 201 میں درج قانونی تقاضوں کو پورا کر کے جمع کروائی جائے۔ جو اباً گو کہ پی ٹی آئی نے اپنے مذکورہ خامیوں کو دوبارہ ایک اور خط کے ذریعے صحیح کرنے کی کوشش کی لیکن پھر سے وہی پرانی غلطیاں دھرائی، جس کی نشاندہی الیکشن کمیشن نے اپنے خط مورخہ 8 اگست، 2022 کے ذریعہ دوبارہ کر دی۔
جواباً تحریک انصاف نے مورخہ 19 اگست، 2022 کو لکھے گئے ایک خط کے ذریعے ایک بار پھر سے اپنی پرانی غلطیاں ٹھیک کرنے کی ناکام کوشش کی اور پھر سے ادھورے کاغذات جمع کروانے کے ساتھ اس دفعہ پرانے آئین کی جگہ ایک نیا ترمیم شدہ آئین بھی الیکشن کمیشن کو جمع کروایا جس کو بقول پی ٹی آئی کے نیشنل کونسل نامی ادارہ، جو کہ پارٹی آئین کے مطابق آئین میں ترمیم کرنے یا نیا آئین بنانے و منظور کرنے کا اختیار رکھتا ہے، نے 1 اگست 2022 کو منظور کیا تھا۔
پے در پے ادھورے کاغذات اور نیا آئین جمع کروانے کی وجہ سے ایک بے یقینی کی فضا قائم ہو گئی تھی کہ پارٹی کا آئین کون سا ہے، الیکشن کب ہوئے ہیں، کس آئین کے تحت ہوئے ہیں وغیرہ۔ اس بے یقینی کے خاتمہ کے لئے الیکشن کمیشن آف پاکستان نے تحریک انصاف کے چیف الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری کو ملاقات کے لئے طلب کیا۔ اس ملاقات اور بعد میں الیکشن کمیشن میں اس کیس کی کارروائی کے دوران جمال اکبر انصاری نے استدعا کی کہ وہ مورخہ 8 جون، 2022 کو پارٹی آئین میں کی گئی پہلی ترمیم اور اس بنیاد پر منعقد کیے گئے پارٹی انتخابات کے رزلٹ کو واپس لینا چاہتے ہیں اور الیکشن کمیشن نے اپنے 28 مارچ 2023 کے آرڈر میں اس استدعا کو مان بھی لیا۔
اصولاً پہلے والا الیکشن رزلٹ واپس لینے کے بعد تحریک انصاف کو اب نئے جمع کروائے گئے آئین کی بنیاد دوبارہ پارٹی الیکشن کروانا چاہیے تھا، لیکن جب ایسا نہیں کیا گیا تو الیکشن کمیشن نے 2 اگست، 2023 کو تحریک انصاف کو شو کاز نوٹس جاری کیا جس کے جواب میں پی ٹی آئی کے وکیل نے مورخہ 24 اگست کو الیکشن کمیشن کے سامنے پیش ہو کر یہ موقف اپنایا کہ پی ٹی آئی کے چیف الیکشن کمشنر نے کبھی یہ نہیں کہا تھا کہ وہ پہلی ترمیم واپس لینا چاہتے ہیں بلکہ وہ صرف دوسری ترمیم یعنی جو نیا آئین جمع کروایا گیا تھا، کو واپس لینا چاہتے تھے، گو کہ الیکشن کمیشن اس دعوی سے متفق نہیں تھا لیکن پھر بھی اس کو مان لیا گیا۔
پہلی ترمیم کو واپس لینے کے موقف سے پیچھے ہٹنے کی وجہ خود کار طریقہ سے مبینہ طور پر 10 جون، 2022 کو کروائے گئے پارٹی الیکشن کی حیثیت بھی بحال ہو گئی جس کے متعلق تحریک انصاف کو قاعدے کے مطابق تمام معلومات و کاغذات الیکشن کمیشن کو بھی تک جمع کروانا باقی تھے۔
10 جون، 2022 کے پارٹی انتخابات اور پارٹی آئین میں پہلی ترمیم کا جائزہ:
اب چونکہ تحریک انصاف اپنا نیا جمع کروایا گیا آئین واپس لے چکی تھی، تو ضروری ہو گیا تھا کہ الیکشن کمیشن پہلے اس بات کا جائزہ لے کہ کیا 8 جون کو پارٹی آئین کے آرٹیکل 5 کی شق نمبر 5 میں مبینہ طور پر کی گئی ترمیم درست طریقے سے اور مجاز لوگوں نے کی تھی اور کیا اس ترمیم کے بعد درست انداز میں پارٹی آئین کے مطابق الیکشن کروائے گئے، اس کے علاوہ کیا اس سارے عمل سے الیکشن کمیشن کو آگاہ کرتے وقت تمام قانونی تقاضوں کو پورا کیا گیا؟
الف: اب تحریک انصاف کی پارٹی آئین میں مبینہ طور پر کی گئی ترمیم (مورخہ 8 جون، 2022 ) کے لئے جس بنیادی دستاویز پر عمل کرنا ضروری تھا، وہ پارٹی کا اپنا ہی آئین تھا اور اس آئین کے آرٹیکل 16 کے مطابق ترمیم کرنے کا پارٹی کا مجاز ادارہ نیشنل کونسل کہلاتا ہے۔ اس ترمیم کے حوالے سے چند ایک حقائق ذیل میں درج کیے جاتے ہیں :
1: ترمیم کرنے کا مجاز ادارہ جو 2017 کے پارٹی انتخابات میں منتخب ہوا تھا، کی میعاد 13 جون 2021 کو پارٹی ایگزیکٹو کمیٹی کے ساتھ ختم ہو گئی تھی، اور اس کے بعد نہ ہی اس کو الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 208 ( 3 ) پر عمل کرتے ہوئے کبھی دوبارہ منتخب کیا گیا نہ ہی اس کی میعاد بڑھائی گئی۔ جبکہ مبینہ پہلی ترمیم 8 جون، 2022 کو یعنی مجاز ادارے کی میعاد ختم ہونے کے پورے ایک سال بعد منظور کی گئی تھی، مطلب جس وقت ترمیم کی گئی، اس وقت نیشنل کونسل کا ادارہ قانونی طور پر وجود ہی نہیں رکھتا تھا۔
2: مزید یہ کہ پارٹی آئین کے آرٹیکل 16 میں وضع کردہ، ترمیم سے متعلق طریقہ کار پر عمل کرنے کے ٹھوس شواہد اور کاغذات بھی نہیں پیش کیے گئے، جیسا کہ پارٹی ایگزیکٹو کمیٹی یا نیشنل کونسل نامی ادارہ کے ممبران کی جانب سے ترمیم کے لئے قرارداد کا پیش کرنا، اس کا دو تہائی کی اکثریت سے پاس ہونا، کونسل کی میٹنگ کے مقام، اس میں حاضر ممبران کی تسلی بخش لسٹ دینا وغیرہ شامل ہے۔
اس مندرجہ بالا حقائق کی بنا پر الیکشن کمیشن نے یہ قرار دیا کہ پارٹی آئین میں 8 جون کو مبینہ طور پر ہونے والی ترمیم درست طریقے سے مجاز اشخاص نے نہیں کی ہے۔
ب: الیکشن جس ترمیم کی بنیاد پر منعقد ہوئے، اس پر سوالیہ نشان لگنے کے بعد ایک بنیادی سوال یہ سامنے آیا کہ کیا اس ترمیم کے تحت ہونے والے مبینہ انتخابات درست قرار دیے جا سکتے ہیں؟ لیکن الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنے اس آرڈر میں بنیادی طور پر اس سوال پر غور کرنے کے بجائے اس بات پر فوکس کہ کیا پارٹی الیکشن اس غیر قانونی ترمیم کے بعد سچ میں 10 جون، 2022 کو ہوئے بھی ہیں یا نہیں اور کیا الیکشن کمیشن کو قانونی طور پر وضع کردہ طریقہ کار اور میعاد کے اندر پارٹی نے آگاہ کیا یا نہیں؟ اس حوالے سے ریکارڈ پر موجود دستاویزات سے درج ذیل حقائق اخذ کیے گئے :
1: پی ٹی آئی کے الیکشن کمشنر جمال اکبر انصاری، جو پارٹی انتخابات کروانے کے ذمہ دار تھے، نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو مختلف تاریخوں میں لکھے گئے دو خطوط میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ بالترتیب 10 جون اور 7 جون 2022 درج کی تھی، جبکہ اپنے بیان حلفی میں انہوں نے یہ تاریخ 9 جون، 2022 لکھی تھی۔ اس کے علاوہ پی ٹی آئی کے موجودہ چیئرمین اور اس وقت پارٹی وکیل بیرسٹر گوہر علی خان نے الیکشن کمیشن کو لکھے گئے جواب میں انتخابات کے انعقاد کی تاریخ 7 جون، 2022 بیان کی ہے۔
2: الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ 209 اور الیکشن رولز کے رول نمبر 158 کے تحت، تحریک انصاف پابند تھی کہ پارٹی انتخابات ہونے کے 7 دنوں کے اندر، انتخابات سے متعلق الیکشن کمیشن کو مذکورہ دفعہ میں درج کاغذات (جیسے فارم 65 ) ، وضع کرد انداز میں الیکشن کمیشن کو جمع کرواتی لیکن کئی مواقع ملنے کے باوجود ایک مہینے سے زیادہ تاخیر کے بعد مطلوبہ کاغذات مکمل طور پر جمع کروائے گئے۔
الیکشن کمیشن آف پاکستان کا فیصلہ:
مندرجہ بالا حقائق کی بنا پر جب یہ بات سامنے آئی کہ نہ ہی درست اور قانونی طریقے سے پارٹی آئین میں ترمیم کی گئی ہے، نہ ہی اس ترمیم کی بنیاد پر درست انداز میں الیکشن ہوئے ہیں یا شاید سرے سے ہوئے ہی نہیں ہیں، کیونکہ تاریخ انعقاد میں واضح تضاد موجود تھا، تو قانونی طور پر الیکشن ایکٹ کی دفعہ 215 ( 5 ) کے تحت الیکشن کمیشن، تحریک انصاف سے بلے کا انتخابی نشان واپس لے سکتی تھی لیکن ایک نرم رویہ اختیار کرتے ہوئے الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو مزید ایک موقع فراہم کرتے ہوئے 20 دنوں کے اندر پارٹی کے موجودہ آئین کے تحت دوبارہ الیکشن کروانے کا حکم دیا اور مقررہ میعاد کے اندر الیکشن کے انعقاد سے متعلق تمام کاغذات درست انداز میں الیکشن کمیشن کو جمع کروانے کا حکم دیا، بصورت دیگر مذکورہ دفعہ 215 ( 5 ) کے تحت پارٹی کو بلے کے انتخابی نشان سے محروم کرنے کے ممکنہ نتیجہ سے آگاہ کیا۔
اس آرڈر کو الیکشن کمیشن کے خیبر پختونخوا سے ممبر جسٹس ریٹائرڈ اکرام اللہ خان نے تحریر کیا ہے جس کو بہتر انداز میں سمجھنے کے لئے بہتر ہے کہ قاری کیس سے متعلقہ باقی آرڈرز اور کاروائی کو بھی پڑھے۔
آرڈر حوالہ: 2022 / (Case No۔ 3 ( 10


