جمہوریت اور لوگوں کی رائے


اکثریت اور اکثریت کی رائے، آئین و قانونی کی حکمرانی اور پارلیمنٹ کا احترام جہاں مقدم ہے، وہیں تمام ریاستی اداروں کو ذمہ داری سے اپنے کام کرنے چاہئیں، کسی بھی سیاسی بحران یا تنازع کے عسکری حل کی بجائے سیاسی حل تلاش کرنے چاہئیں۔

1967 میں ذوالفقار علی بھٹو نے ایک نئی جماعت بنائی، جسے اگلے دس سال کے دوران ملک میں مقبولیت حاصل ہوئی، عوام کی ایک بڑی تعداد نے بھٹو کی پالیسیوں اور نظریے کو درست قرار دیا۔ دو ریاستی اداروں نے بھٹو کی سوچ سے اختلاف کیا اور پھر اس اکثریت کی رائے ایک طرف رکھ دی۔

1971 سے 2017 کے درمیان یہی کچھ ہوا، دو فوجی حکومتیں، 1977 سے 1988 تک اور 1999 سے 2007 تک عوام کی خواہش کے خلاف حکمرانی رہی۔ درمیان میں سول حکومتیں 1988 سے 1990 تک، 1993 سے 1996 اور 1997 سے 1999 تک اپنی مدت پوری نہ کرسکیں اور برطرف کردی گئیں، یہ سب کچھ زیادہ تر غیر سیاسی مداخلت کے نتیجے میں ہوا۔ حکومتیں برطرف کرنے اور جمہوری عمل میں مداخلت کو عدلیہ بھی جائز قرار دیتی رہی، یعنی عوام کی رائے کا احترام اور قانون کی حکمرانی کی آئین میں لکھی تحریر کا کبھی خیال نہ رکھا۔ یہاں تک کہ بے نظیر اور نواز شریف کو کرپشن کے الزامات پر ہٹایا گیا حالانکہ یہ فیصلہ کرنا بھی عوام کا حق ہے۔ انہیں نا اہل حکمرانوں کو ہٹانے کا کبھی موقع ہی نہیں ملا۔ ریاستی ادارے یہ ذمہ داری ازخود ادا کرتے رہے، بلکہ کئی عدالتی فیصلے بھی اپنے ہاتھ لے لئے۔

عوام کی رائے کیا ہوئی، ان کے فیصلے کا احترام کون کرے گا۔ لوگوں کو اپنے نمائندے منتخب کرنے، اپنی بات کہنے کے حق سے محروم رکھا گیا۔ جس کے نا صرف ملک بلکہ یہاں کی جمہوریت نے خمیازے بھگتے ہیں، اداروں کی جانب سے اپنی سوچ اور فیصلے مسلط کرنے کے نتائج ہمیشہ نقصان دہ رہے مگر ”ہم درست اور دوسرا غلط ہے“ کی سوچ سارے نظام کو لے ڈوبتی رہی۔ معاملات ایک ہاتھ میں لینے کی خواہش کہیں بھی اور کسی بھی مہذب معاشرے میں جائز قرار نہیں دی جاتی۔

انتخابات کا عمل ہی عوام کی رائے کا پیمانہ تصور کیا جاتا ہے، اس میں ایک بڑی تعداد کو اپنے حق سے محروم کرنے کی کوشش کبھی قابل ستائش نہیں ہوگی۔ ریاستی ادارے ایک بار پھر لوگوں کی رائے بلڈوز کرنے کی مشق کر رہے ہیں۔ یہ عمل سیاسی اور جمہوری تاریخ میں اچھے الفاظ میں نہیں درج نہیں ہو گا۔ جمہوریت اور عوام کی رائے کا احترام نہ کر کے آگے بڑھنے کا عمل بھی رک جاتا ہے۔ ذمہ داروں کو اس کا زیادہ بہتر اندازہ ہو گا۔

ہم اداروں اور مجموعی طور پر ریاست کی حیثیت متنازعہ بنا دیتے ہیں۔ نئی نسل کو کس جمہوریت کا سبق پڑھائیں گے جبکہ عمل بالکل برعکس ہیں۔ کسی ایک جماعت کو ماضی میں اور اب بھی اقتدار دلانے کی مشق نہ صرف ملک میں بلکہ بیرون ملک بھی دکھائی دیتی ہے۔ یہ سب اظہار رائے کی آزادی سلب کر کے کسی اصول اور ضابطے کے خلاف کوئی نظریہ یا سوچ مسلط کرنا ہے۔ جس پر بہت شدید ردعمل کے لئے بھی تیار رہنا پڑے گا۔

Facebook Comments HS

نعمان یاور

نعمان یاور پرنٹ اور الیکٹرانک صحافت میں وسیع تجربہ رکھتے ہیں اور ان دنوں ایک نجی ٹی وی چینل سے وابستہ ہیں

nauman-yawar has 153 posts and counting.See all posts by nauman-yawar