متنازع رام مندر : وہ اپنی آگ میں خود جل کے مرنے والا ہے
1949 میں ایک مقامی سادھو نے رات کی تاریکی میں مسجد میں کچھ مورتیاں رکھ دیں۔ مقامی مجسٹریٹ نے مسجد والوں سے کہا آپ نقص امن کے خطرے کے پیش نظر چند دن یہاں نماز نہ پڑھیں۔ اس کے بعد وہاں رام مندر اور بابری مسجد تنازع شروع ہوا۔ ایک چھوٹی سی حرکت کہہ لیں یا شرارت پورے ہندوستان کا خواب بن گئی۔ رام مندر کو اس مقام پر تعمیر کیا گیا ہے جہاں صدیوں سے قائم مسجد کو 1992 میں بی جے پی کے ہندو انتہا پسندوں نے ایل کے ایڈوانی کی قیادت میں شہید کیا تھا۔
مسجد کی شہادت نے بھارت میں بدترین مذہبی فسادات کو جنم دیا اور 2 ہزار مسلمان مارے گئے۔ ملک کے نظام حکومت کو اکثریتی عقیدے کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی دہائیوں سے جاری مہم میں رام مندر کا افتتاح ’تاریخی لمحہ‘ قرار دیا جار ہا ہے۔ مندر کے افتتاح سے پہلے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے دعویٰ کیا کہ بھگوان نے مجھے بھارت کے تمام لوگوں کی نمائندگی کا ایک ذریعہ بنایا ہے۔
بھارت سیکولر ریاست ہونے کا دعوے دار ہے۔ اس کے اس جھوٹے دعوے کی حقیقت عالمی سطح پر آشکار ہوتی رہتی ہے۔ ”مودی“ فاشزم، عدم برداشت، شدت پسندی اور مذہبی انتہا پسندی کا برینڈ ٹائٹل بن چکے ہیں۔ بھارت میں جنونی ہندو اقلیتوں کے جان و مال کا جس طرح استحصال کرتے ہیں اس کی مثال شاید ہی دنیا کے کسی اور ملک سے مل سکے۔ لغت اور اصطلاحی اعتبار سے ”ہندتوا“ ہندو قوم پرستی میں انتہا پسندی تک چلے جانے کا نام ہے۔ دور حاضر میں قوم پرست ہندو رضاکار تنظیموں راشٹریہ سیوک سنگھ، وشوا ہندو پریشد اور ہندو سینا وغیرہ اس مشن پر کاربند ہیں۔
بھارت میں مودی ”ہندتوا“ پر سیاست چلا رہے ہیں۔ وہ گجرات کے وزیراعلیٰ تھے تو انہیں مسلم قتل عام کے سبب ”قصائی“ کا نام دیا گیا تھا۔ گلوبل ویلج اور ڈیجیٹل میڈیا کی تمام تر ترقی کا ادراک رکھنے کے باوجود بھارت میں انتہاپسندی بڑھتی جا رہی ہے۔ ایودھیا ’لکھنؤ کے مشرق میں لگ بھگ 140 کلومیٹر کی دوری پر واقع ہے۔ اسے 1528 ء میں مغل بادشاہ بابر کے کمانڈر میر باقی نے مٹی کے ایک اونچے ٹیلے پر آباد کیا تھا۔ بابری مسجد اس شہر کی سب سے بڑی مسجد تھی جس کے تین بڑے بڑے گنبد تھے۔
1885 ء میں ایودھیا کے ایک سادھو رگھو برداس نے فیض آباد کی عدالت میں درخواست پیش کی کہ اسے بابری مسجد کے باہر ایک چھتری تعمیر کرنے کی اجازت دی جائے مگر انگریز حکومت نے یہ درخواست مسترد کر دی تھی، کیونکہ تب تک بابری مسجد کی جگہ رام مندر تو دور کی بات‘ ہندو دھرم سے متعلق ایک چھوٹا سا نشان تک نہیں تھا لیکن بیسویں صدی میں بھارت میں انتہا پسند تنظیمیں کھمبیوں کی طرح اگ آئیں تو ”ہندوتوا“ اور ہندو بھگتی جگانے کے لیے شاطر ذہنوں نے رام مندر اور بابری مسجد کی جنگ چھیڑ دی۔ اس منصوبہ بندی کو سمجھنے کے لیے ماضی قریب کے واقعات کی جان کاری ضروری ہے۔
• 1991 میں مسلمانوں کو سیاسی اور قانونی ہر دو محاذوں پر بے چارگی کا سامنا رہا، 10 نومبر 2019 کو بھارتی سپریم کورٹ نے بابری مسجد کی سرزمین کو عقیدے کی بنیاد پر ہندوؤں کے حوالے کر دیا۔ 5 اگست 2020 کو نریندر مودی نے اس جگہ متنازع رام مندر کی تعمیر کا سنگ بنیاد رکھا اور اس کی تکمیل بہر صورت ممکن بنا کر 22 جنوری 2024 کو اس کا باقاعدہ افتتاح کر دیا۔
• 6 دسمبر 1992 ء کو شہید کی جانے والی بابری مسجد کی شہادت کو 32 برس ہو گئے ہیں اور ان تین دہائیوں میں رام مندر کے نام پر بھارت میں جس قدر مسلم خون بہایا گیا ’وہ مذہبی رواداری اور انسانی حقوق کے پرچارکوں سمیت پوری عالمی برادری کے منہ پر بھارت کا تھپڑ ہے۔ ”ہندو توا“ کو حالات و واقعات کے تناظر میں دیکھیں تو بی جے پی اور کانگریس دونوں ایک ہی صف میں کھڑی نظر آتی ہیں۔ 65
•پاکستان بننے کے بعد 22 اور 23 دسمبر 1949 ء کی شب مقامی کانگریس کے زیر نگرانی شر پسندوں نے مسجد کے اندر عین منبر کی جگہ پر بھگوان رام کی مورتی رکھ کر بابری مسجد کی شہادت کی بنیاد رکی اور ہندووں میں انتہا پسندی کا زہر گھولتے ہوئے انہیں ”بچہ بچہ رام کا ۔ جنم بھومی کے کام کا “ کا نعرہ دیا۔
• 6 دسمبر 1992 ء کو نئی دہلی سے روانہ ہونے سے پہلے ہندوؤں کے سب سے بڑے مہنت ویدناگو کی قیادت میں سادھوؤں کے ایک گروپ نے کانگریسی وزیراعظم نرسمہا راؤ سے باقاعدہ ملاقات کر کے اشیرباد لی اس کے بعد ہی بھارت بھر میں بابری مسجد شہید کرنے کی کال دی گئی تھی۔
•نومبر ’دسمبر 1992 ء کے وہ بھیانک واقعات کون فراموش کر سکتا ہے کہ جب یہ انتہاپسند جتھے بابری مسجد شہید کرنے اور مسلمانوں کا نام و نشان مٹانے کا عزم لیے جموں سے کنہیاکماری تک‘ بھارت کے کونے کونے سے ایودھیا کی جانب عازم سفر تھے تو راستے میں آنے والی بے شمار مسلم آبادیوں اور عبادت گاہوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔
• رامائن کے مطابق رام جی کی پیدائش ”اودھ“ میں ہوئی نہ کہ ایودھیا میں۔ یہ نظریہ 18 ویں صدی عیسوی میں راما نندی فرقے نے مشہور کرنا شروع کیا کہ رام چندر جی ایودھیا میں پیدا ہوئے تھے۔
•نہرو کے نواسے راجیو گاندھی بھارت کے وزیراعظم بنے تو بابری مسجد میں ہندوؤں کو کھلے عام پوجا کی اجازت دی گئی۔
• بھارتیہ جنتا پارٹی اس خونی کھیل کی آڑ میں چھوٹی ریاستوں کے ساتھ پہلی بار بھارت کے سب سے بڑے صوبے اتر پردیش کی حکمران بنی اور 7 اکتوبر 1991 ء کو یو پی حکومت کی جانب سے ایک نوٹیفکیشن جاری کیا گیا کہ ریاستی حکومت بابری مسجد کی 12 ایکڑ اراضی حاصل کرے گی۔
• رام مندر کی تحریک سے پہلے ایودھیا ایک پر امن شہر ہوا کرتا تھا۔ ہندوؤں کے ساتھ ساتھ مسلمان بھی صدیوں سے یہاں رہتے چلے آ رہے ہیں۔ یہاں مندروں کے درمیان جگہ جگہ مساجد، مقبرے، درگاہیں اور قدیم قبریں اس شہر میں مسلمانوں کی صدیوں سے آبادی کا پتہ دیتی ہیں۔ بہت سے قبرستان لودھی اور خلجی عہد کے ہیں۔
یہاں دو مسلم پیغمبروں حضرت شیث اور حضرت نوح سے منسوب دو روضے بھی ہیں۔ ان کا ذک ابوالفضل فیضی نے چار سو سال پہلے اپنی ایک تحریر میں کیا ہے۔ مسلم حکمرانوں کے دور میں یہ شہر شمالی انڈیا میں مسلمانوں کی تہذیب، مذہب اور ثقافت کا ایک اہم مرکز تھا۔ ایک ملی جلی تہذیب کے حامل لوگ میل و محبت سے زندگی گزار رہے تھے۔ ’یہ ماحول اب بدل گیا ہے۔ ہر طرف تقسیم نظر آتی ہے۔ ہندو توا کا زہر پھیلتا ہی جا رہا ہے۔ ‘ رام مندر کی تعمیر نے مذہبی قوم پرستی کی ایک نئی بنیاد رکھی ہے۔
آن دنوں پورے انڈیا سے ہزاروں ہندو عقیدت مند ایودھیا میں جمع ہیں۔ جگہ جگہ رام بھگتوں کی ٹولیاں ’جے شری رام‘ کے نعرے لگاتے ہوئے اور بھجن گاتے ہوئے نظر آتی ہیں۔ ایودھیا کے مسلمان خوف اور اندیشوں کے بیچ زندگی گزار رہے ہیں۔
اب کہا جا رہا ہے کہ ایودھیا میں بننے والا عظیم مندر ہندو مذہب کا ویٹی کن ہو گا جس طرح مسیحی مذہب ماننے والوں کا ہے۔ ہندو مذہب میں اگرچہ ایک مرکزی روحانی رہنما یا پوپ جیسی ہستی کا تصور موجود نہیں اس لیے لگتا ہے کہ نریندر مودی یہ نیا منصب بلا شرکت غیرے خود حاصل کرنے کے خواہاں ہیں۔ مودی اقتدار کے لیے جو بھی روپ دھار لیں بالآخر انہیں مکافات عمل کا سامنا کرنا ہے۔ جو الاؤ وہ بھڑکا رہے ہیں، اسی کی آگ کی نذر خود کو اور ملک کو کر کے رہیں گے :
حصار باندھ رکھا ہے حسد نے اس کے گرد
وہ اپنی آگ میں خود جل کے مرنے والا ہے


