بوسنیا کی چشم دید کہانی-56
لوئی مجھے دوبارہ کار پر شہر چھوڑنے جانا چاہتا تھا۔ لیکن میں نے اسے شکریے کے ساتھ منع کر دیا۔ شہر جانے والی میٹرو کا اسٹیشن اس کے گھر سے کچھ زیادہ دور نہ تھا۔ میں نے سوچا وہ مجھے اپنے ہاں آنے کے لیے بذریعہ میٹرو سفر اختیار کرنے کا مشورہ دے سکتا تھا اور میرا یہاں انتظار کر سکتا تھا، لیکن اس نے اس معاملے میں بھی وہ وضع داری نبھائی جس پہ ہم اپنی سوچ کے تحت بس اپنی اجارہ داری سمجھتے ہیں۔
اسٹیشن کے راستے میں لوئی نے مجھے اس علاقے کے بازار کی سیر کروائی۔ یہاں کالوں کی تعداد گوروں کے مقابلے میں زیادہ نظر آ رہی تھی۔ دراصل یہ ایک مسلمان اکثریتی علاقہ تھا۔ دکانوں پر اسلامی کتب، مصلے، ٹوپیاں اور تسبیحیں عام پائی جاتی تھیں۔ لوئی نے مجھے کہا کہ وہ مجھے یہاں اس لیے لایا ہے کہ میں پیرس کی زندگی کا وہ رخ بھی دیکھوں جو میرے لیے بظاہر اجنبی ہو لیکن حقیقت میں اس رخ سے میں ناشناسا نہ رہوں۔ میں نے سوچا یہ کالا جس کا ہمارے نزدیک مجموعی تاثر ایک اکھڑ مزاج شخص کا رہا کس قدر روادار انسان ہے کہ مختلف العقیدہ ہونے کے باوجود اپنے مہمان کی مذہبی نسبت اس کے لیے محترم ہے جب کہ میرے ہاں ایسی رواداری اور ایسا احترام ہم مذہب لوگوں کے بیچ بھی دن بہ دن کم یاب ہوتا جا رہا ہے۔
اگلے دن بارہ بجے میری پیرس کے چارلس ڈیگال ائرپورٹ سے کروایشیا ائرلائن کے طیارے کے ذریعے روانگی تھی۔ اس شام میں دیر تک شانزا لیزے کے حسن میں کھویا رہا۔ رات جب ہاسٹل واپس لوٹا تو ولیم اور روزی کمرے میں پہلے سے موجود تھے۔ پیرس میں ان کی بھی یہ آخری رات تھی اور اگلی صبح انھیں ایمسٹرڈیم روانہ ہونا تھا۔ سامان سمیٹنے کے دوران روزی نے مجھ سے پوچھا
تم نے پیرس کو کیسا پایا
بہت حسین لیکن تم جیسی لڑکیوں کی موجودگی میں اس کا حسن ماند پڑ جاتا ہے۔ میں نے جواب دیا
وہ اس تعریف پر مسکرا دی اور ولیم کی طرف اشارہ کر کے بولی کاش اس کے خیالات بھی کچھ ایسے ہی ہوتے۔
میں چپ رہا۔ بس زیر لب فراؔز کا یہ مصرعہ گنگنا دیا
ع۔ ہم جسے چھو نہ سکیں اس کو خدا کہتے ہیں
اگلے دن سہ بطخی ہاسٹل کے عملے نے بڑے تپاک سے مجھے الوداع کہا۔ حسن اخلاق کا مظاہرہ پیرس میں جا بہ جا کچھ اس انداز سے پایا گیا کہ زونووی کا اہل فرانس کے بارے میں یورپ کی مہذب ترین قوم ہونے کا نظریہ، جو بظاہر فرانسیسی ساتھیوں کی چاپلوسی کا مظہر دکھائی دیتا تھا، مبنی بر حقیقت ماننا پڑا۔
میری پرواز وقت مقررہ پر روانہ ہوئی۔ میں دن دو بجے زغرب کے ائرپورٹ پر اترا۔ زغرب سے سپلٹ جانے کے لیے میں نے ایک مرتبہ پھر بذریعہ ریل گاڑی سفر اختیار کرنے کا فیصلہ کر رکھا تھا۔ ریل گاڑی کی روانگی کا وقت رات دس بجے تھا۔ مجھے یقین تھا کہ اب وطن روانگی سے قبل زغرب آنے کا موقع ملنے کا امکان نہیں ہے، چنانچہ میں نے سب سے پہلے ائرپورٹ کے ہمسائے میں ولیکہ گورسیہ میں واقع ڈیوٹی فری شاپ سے ضروری خریداری کا ارادہ کیا۔
اس کام میں دو اڑھائی گھنٹے صرف ہو گئے۔ اب سہ پہر ڈھلنے کو تھی۔ میں نے ائرپورٹ سے بذریعہ بس ریلوے اسٹیشن کی راہ لی۔ رات کے سفر کے لیے ٹکٹ حاصل کی اور اپنا سامان محافظ خانے میں جمع کروا کے اسٹیشن سے باہر نکل کر مرکز کی طرف جانے والی سڑک پر آ گیا۔ چنار کے عمر رسیدہ درختوں سے سجی ہوئی یہ سڑک، زغرب کی خوب صورت سڑکوں میں سے ایک تھی۔ میں ہمیشہ مرکز شہر اور ریلوے اسٹیشن کا درمیانی فاصلہ اس پر پیدل چل کر طے کرتا تھا۔
سورج غروب ہونے سے کچھ دیر قبل میں شہ سوار بان جوزف چیلا چک کے مجسمے اور ٹرام اسٹیشن کے درمیان پھیلے ہوئے وسیع پلیٹ فارم پر پہنچ چکا تھا۔ زغرب سے وابستہ ہماری یادوں کا مرکز یہی مقام تھا جسے یار لوگوں نے اس کے مجسمے کی نسبت سے ”گھوڑے شاہ“ کا نام دیا تھا۔ مغربی طرز زندگی سے ہمارا پہلا تعارف زغرب کی معرفت ہی ہوا تھا۔ اس شہر کے بے تکلف طرز زندگی کو دیکھنے کے لیے ہم روزانہ شام ڈھلنے کے بعد یہاں چلے آتے تھے۔ پھر برقی لیمپوں کے سائے میں بنے ہوئے بنچوں پر اس وقت تک بیٹھے رہتے تھے جب تک گیارہ بجے ہوٹل نووے گرادا کی سمت جانے والی آخری ٹرام یہاں آ کر نہ رکتی تھی۔ میں آج آخری مرتبہ اس پلیٹ فارم کے ایک بنچ پر کافی دیر بیٹھا رہا۔ اور میری فکر پریشان زغرب سے وابستہ یادوں کو تازہ کرتی رہی۔
زغرب کا ریلوے اسٹیشن جہاں سے کبھی میں ویانا، بڈاپسٹ اور میونخ کے سفر پر روانہ ہوا تھا۔ اب یاد ماضی بننے کو تھا۔ یہاں سے میں آج اپنے الوداعی سفر پر روانہ ہو رہا تھا۔ اب کی بار سپلٹ جانے والی ریل گاڑی میں سوار ہو رہا تھا۔
گاڑی میں مسافروں کی تعداد زیادہ نہ تھی۔ میرے کیبن میں ایک نوجوان جاپانی سیاح میرا ہم سفر تھا۔ وہ مشرقی یورپ کی سیاحت پر نکلا ہوا تھا اور آج ہی بڈاپسٹ سے یہاں پہنچا تھا۔ ہم جلد ہی گھل مل گئے اور اپنے اپنے تجربات سیاحت سے ایک دوسرے کی معلومات میں اضافے کی کوشش کرتے رہے۔
میرا تو کسی جاپانی سے اتنی تفصیلی ملاقات کا پہلا تجربہ ہے۔ کیا وہ اس سے قبل کسی پاکستانی سے ملا ہے۔ میں نے اس سے پوچھا
ہاں ہاں کیوں نہیں۔ جاپان میں پاکستانیوں کی اچھی خاصی تعداد پائی جاتی ہے۔
ان پاکستانیوں کا زیادہ تر ذریعہ معاش کیا ہے۔ میں نے سوال کیا
وہ چپ سادھ گیا۔ میں سمجھ گیا کہ مقطع میں ضرور کوئی سخن گسترانہ بات آ پڑی ہے۔ تھوڑی دیر بعد وہ شرماتے ہوئے بولا
زیادہ تر پاکستانی ٹیلی فون کے جعلی کارڈ بناتے ہیں۔ ان کارڈوں کی مقامی لوگوں کے ہاں بھی اب کافی مانگ ہے۔
اس موقع پر مجھے یاد آیا کہ 1992 ء کے موسم حج میں مکہ مکرمہ سے بذریعہ بس منیٰ جاتے ہوئے جب ایک ترکی مسافر نے بغیر کسی جان پہچان کے میرے لیے زبردستی گنجائش بناتے ہوئے مجھے اپنے ساتھ سیٹ پر بٹھایا تو کچھ فاصلے پر کھڑے ایک پاکستانی نے کہا شاید یہ دنیا کی واحد قوم ہے جو ہماری عزت کرتی ہے کیوں کہ ان پر اپنے کمالات کے اظہار کا ہمیں مناسب موقع نہیں ملا۔
میں علی الصبح سپلٹ پہنچ گیا۔ حسب پروگرام اقبال نے مجھے یہاں لینے آنا تھا۔ مجھے یقین تھا کہ دس بجے سے قبل اس کا یہاں پہنچنا ناممکن ہے چنانچہ میں ساحل پر واقع ایک کیفے بار میں ناشتہ کرنے کے بعد شہر کی طرف نکل گیا۔ اقبال کوئی ساڑھے گیارہ بجے چاند شیام کے ساتھ سپلٹ پہنچا۔ یہاں سے روانگی کے بعد راستے میں مکارسکا رکتے ہوئے ہم سہ پہر سٹولک پہنچ گئے۔


