جنگوں کی سیاست اور ترقی پذیر ممالک


پہلی اور دوسری جنگ عظیم میں جنگیں بڑے اور طاقتور ملکوں نے ایک دوسرے کے خلاف لڑیں۔ اس جنگ میں چھوٹے اور کمزور ممالک بھی کسی ایک گروہ کی حلیف کے طور پر شریک ہوئیں مگر گزشتہ چند دہائیوں سے بڑے ممالک جنگ لڑنے کے لیے ترقی پذیر ممالک کا سہارا لے رہی ہیں۔ جنگ زمانہ قدیم میں ایک فائدہ مند کاروبار ہوا کرتا تھا۔ ماضی میں جتنی بھی جنگیں لڑی گئیں ان کا مقصد طاقت کا حصول یا مالی فائدہ ہی رہا ہے۔ اگرچہ جنگوں کے لیے کبھی مذہبی اختلافات کا سہارا لیا گیا اور کبھی اقوام کی باہمی چپقلشوں کو بنیاد بنایا گیا۔

مگر جنگ میں ہر فریق ہمیشہ اپنا مالی فائدہ ڈھونڈتا ہے۔ یہ فائدے کبھی فوراً حاصل کیے جاتے کبھی کبھی ان جنگوں کے فائدے دہائیوں بعد حاصل کیے جاتے ہیں۔ روس اور یوکرین کی جنگ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی تھی۔ گزشتہ کچھ دہائیوں میں سیاسی طور مقبول ہونے کے لیے بھی جنگیں شروع کی گئیں یا تنازعات کو ہوا دی گئی تاکہ اس کے سہارے اپنے ملک کے لوگوں کی حمایت حاصل کی جا سکے اور آسانی کے ساتھ حکومت بنائی جائے۔ یہ کام انڈیا، امریکہ، ایران پاکستان اور خطے کے وہ تمام ممالک کرتے ہیں جہاں الیکشن کا رواج ہے۔

زیادہ تر تنازعات کو اس وقت ہوا ملتی ہے جب الیکشن قریب ہوں۔ اس وقت دنیا میں جو جنگ لڑی جا رہی ہے وہ فلسطین کے گوریلا جنگجو حماس اور اسرائیل لڑ رہے ہیں۔ امریکہ اسرائیل کا حامی اور اتحادی ہے اور ایران فلسطینی گروپوں کا واحد سہارا ہے۔ فلسطین اسرائیل جنگ اس وقت خبروں میں ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ یوکرین، آرمینیا اور آذربائیجان، ایران، یمن، ایتھوپیا، کانگو، ہیٹی اور تائیوان میں بھی حالات جنگ کی طرف جا رہے ہیں۔

یہ جتنی بھی جنگیں ہیں ان کے پیچھے وہ سرمایہ دار ہیں جو اپنے فائدے دیکھ رہے ہیں۔ یہ سرمایہ دار لوگوں کے گروہوں کی شکل میں بھی ہیں اور حکومتوں کی شکل میں بھی ہیں۔ ان تمام ممالک میں الیکشن ایک کاروبار ہے ایک سرمایہ کاری ہے جس میں یہ سرمایہ کار کروڑوں لگا کر اربوں کماتے ہیں۔ الیکشن جتوانے کے لیے بہت زیادہ پیسے لگانے کی جگہ اگر کوئی سیاسی جماعت کوئی ایسا پروپیگنڈا بنانے میں کامیاب ہوجاتی ہے جو مخالف یا دشمن ملک کے بارے میں ہو اور اس پروپیگنڈا میں جارحیت کا عنصر بھی شامل ہو تو اس سے ووٹروں کی حمایت ہمدردی حاصل کرنے میں سہولت رہتی ہے۔

مودی حکومت نے الیکشن سے پہلے ایسا کیا تھا اور اس کا فائدہ بھی اٹھایا تھا۔ مارچ کے مہینے میں ایران میں انتخابات ہونے جا رہے ہیں۔ ایران چونکہ انقلاب کے نتیجے میں موجودہ صورت میں آیا ہے اس لیے وہاں کے شہریوں میں اسرائیل مخالف جذبات باقی دنیا کے نسبت بہت زیادہ ہیں اور ایران کی مذہبی حکومتوں نے ہمیشہ سے یہ پروپیگنڈا کیا ہے کہ وہ ہر صورت میں اسرائیلی جارحیت کا مقابلہ کریں گے اور اپنے حمایت یافتہ لوگوں کی عملی مدد کریں گے جو شام، عراق اور فلسطین میں ہیں۔

مگر جب سے اسرائیل حماس جنگ شروع ہوئی ہے ایران نے عملی طور پر اس جنگ میں حصہ نہیں لیا اور ماضی کے مقابلے میں ایرانی زیادہ سرگرم بھی دکھائی نہیں دیے۔ جس کی وجہ سے ایران میں وہ لوگ جو شدید اسرائیل مخالف ہیں اور جنگ کے حامی ہیں وہ اس وقت ایران کی موجودہ حکومت سے ناخوش ہیں جس کا یقینی اثر آنے والے الیکشن پر پڑے گا۔ اس لیے گزشتہ دنوں ایران نے شام، عراق اور پاکستان میں میزائل حملے کیے۔ جس سے ایران ایک مرتبہ پھر عالمی خبروں میں آیا۔

وہ دباؤ جو ایران پر داخلی طور پر تھا کہ وہ اسرائیل کی جارحیت کے خلاف کچھ کرے وہ کسی حد تک کم ہوا ہے۔ لیکن پاکستان کے علاقوں پر ڈرون حملوں سے اور پاکستان کے جوابی حملوں سے ایران کی حربی پوزیشن بہت زیادہ کمزور ہو گئی ہے۔ ایران کے اسرائیل کے ساتھ بنیادی نوعیت کے اختلافات ہیں لیکن پاکستان کے ساتھ ایران کا اختلاف اس نوعیت کا نہیں ہے۔ ایران کی سرحدوں میں بسنے والے سنی مسلح تنظیموں کے خلاف ایران برسرپیکار ہے اور اسی طرح بلوچ شرپسندوں کے خلاف پاکستان بھی کارروائیاں کرتا ہے۔

ایران کے سرحدی علاقوں میں بسنے والے سنی مسلح تنظیمیں جندل اللہ اور جیش العدل پاکستان سرحدی علاقوں اور پاکستان کے خلاف کارروائی کرنے والے بلوچ گروہ ایرانی سرحدی علاقوں میں پناہ لیتے ہیں۔ ان کے خلاف پاکستانی حکومت اور فوج مسلسل کارروائیاں کرتی ہے۔ مگر ان کو مکمل ختم کرنے کے لیے تاحال بڑے پیمانے پر کوئی جنگی کارروائی نہیں کی گئی۔ ایران اور پاکستان کی یہ سرحدی علاقے سمگلنگ کے جنت کہلاتے ہیں۔ سمگلروں کا عملاً ان علاقوں میں بہت اثر رسوخ ہے۔

ان علاقوں میں امن کا مطلب ہے کہ یہاں سے سمگلنگ کا خاتمہ۔ مگر یہ سمگلر ایسا کرنے نہیں دیتے۔ ان علاقوں میں حالات جتنے خراب ہوتے ہیں ان کو اس کا فائدہ ہوتا ہے۔ یہ سمگلر اتنے با اثر ہیں کہ ایران اور پاکستان حکومت ان کے خلاف واضح کارروائی نہیں کرتیں۔ ایران سے سمگلنگ میں ایران کا فائدہ اور پاکستان کا نقصان ہے۔ اس لیے کہ اربوں روپے کی ڈیزل اور دیگر اشیا ان سرحدی علاقوں سے روزانہ کی بنیاد پر سمگل ہو کر آ رہی ہیں۔

اصولی طور پر ایران کے اس حملے کے بعد پاکستان کو اس سمگلنگ کا مکمل خاتمہ کرنا چاہیے۔ اور ایران کے ساتھ اپنی سرحد کو مکمل طور پر محفوظ بنانا چاہیے۔ جس سے مستقبل قریب میں ایسے واقعات سے نجات مل جائے گی۔ ایران کی جارحیت کا پاکستان کے حوالے سے کوئی جواز نہیں تھا۔ پاکستان ایک بہت بڑی فوجی قوت رکھتا ہے۔ اور گزشتہ چار دہائیوں میں پاکستان کے پاس جدید ترین فوجی ساز و سامان بھی ہے اور اس کی فضائیہ اور بحری طاقت میں بھی بہت زیادہ اضافہ ہوا ہے۔

اور پھر پاکستان کی فوج مسلسل جنگی عملی سرگرمیوں میں مصروف رہی ہے جس کی وجہ سے خطہ میں پاکستانی فوج کا عملاً مقابلہ کرنا ایران، افغانستان اور انڈیا کی بس کی بات نہیں ہے۔ ایران کے پاس ماسوائے ڈرون ٹیکنالوجی کے کچھ بھی نہیں ہے۔ اس لیے ان کے پاس پاکستان کے خلاف عملی جنگ یا حملوں کی صورت میں جوابی کارروائی روکنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ایران اس وقت کئی ایک محاذوں پر مصروف ہے۔ شام اور عراق کی سرحدوں میں اس کو مسائل درپیش ہیں افغانستان کے ساتھ پانی اور کئی دیگر معاملات میں اسے مستقبل قریب میں مشکلات آئیں گی اور ایران کی اقتصادی حالت بھی بہت خراب ہے۔

ایران کی موجود حرکتوں کی وجہ سے امریکہ پھر سے ایران پر سخت اقتصادی پابندیاں لگوانے کی کوشش کرے گا جس سے اس کی معاشی حالت مزید خراب ہو جائے گی۔ اس لیے الیکشن میں مقبولیت حاصل کرنے کے لیے اسے پاکستان کے خلاف انڈیا کی طرح کی بھونڈی حرکت نہیں کرنی چاہیے تھی۔ پاکستان میں بھی اس وقت الیکشن کی گہماگہمی ہے لیکن پاکستان کا ووٹر جنونی نہیں ہے وہ اس طرح کی حرکتوں کی وجہ سے اپنی رائے نہیں بدلتا۔ جبکہ پاکستان کے تینوں اطراف افغانستان، ایران اور ہندوستان کا ووٹر ایسے پروپیگنڈوں سے فوراً متاثر ہوتا ہے۔

اس لیے پاکستان کی حکومت کو ان تینوں ممالک سے ان دنوں ہوشیار رہنا چاہیے جب وہاں الیکشن ہو رہے ہوں یا پھر حکومتیں تبدیل ہو رہی ہوں۔ افغانستان کے صوبہ بدخشان میں روسی طیارے کا گرنا عام واقعہ نہیں ہے۔ اس لیے کہ پچھلے ماہ روس میں طالبان مخالف گروہوں کا یکجا ہونا۔ اور اب بدخشان میں روسی طیارے کا گرنا اس بات کی طرف اشارہ کر رہا ہے کہ افغانستان کو پھر سے نسلی بنیادوں پر تقسیم کرنے پر کام شروع ہو گیا ہے۔ جس کے اثرات یقیناً پاکستان پر بھی پڑیں گے۔

افغانستان کے طالبان عبوری حکومت اور ایران کے بھی آپس میں کئی معاملات پر اختلافات شدت اختیار کرتے جا رہے ہیں۔ جو کچھ مہینوں میں ان کے آپس میں جھڑپوں کی صورت اختیار کر سکتے ہیں۔ چین کی یہ شدید خواہش ہے کہ افغانستان، ایران اور پاکستان میں جنگی صورتحال نہ ہو اس لیے کہ چین کے ان تینوں خطوں میں اقتصادی مفادات ہیں۔ حالیہ دنوں میں چین نے افغانستان اور ایران میں کثیر سرمایہ کاری کی ہے۔ امریکہ اور دیگر طاقتیں اس عمل کو روکنے کی بھرپور کوششیں کریں گی۔

روس گزشتہ برسوں سے ایران کے ساتھ اپنے تعلقات مسلسل بڑھا رہا ہے اور اسے اپنے مقاصد کے لیے استعمال بھی کر رہا ہے۔ جبکہ امریکہ میں بھی سیاست ایران مخالف بیانیہ پر انحصار کر رہی ہے۔ امریکہ میں موجود یہودی لابی ہر حال میں ایران مخالف سوچ کو مضبوط کرنے کی خواہاں ہے اور وہ اس میں کامیاب بھی ہیں۔ ہندوستان بھی ایران کے ساتھ پینگیں اس وجہ سے بڑھا رہا ہے کہ اسے پاکستان کے خلاف استعمال کیا جا سکے۔ ایرانی حملے کے وقت ہندوستانی وزیر خارجہ کا ایران میں موجود ہونا ایک بہت ہی معنی خیز عمل ہے۔

اس لیے موجودہ وقت میں ایران ایک پریشر ککر کی طرح ہے اب دیکھنا یہ ہے کہ یہ پریشر ککر کتنا دباؤ برداشت کرتا ہے اور اگر پھٹتا ہے تو کون کون اس کی زد میں آتا ہے۔ ایران حوثیوں کی براہ راست حمایت کرتا ہے۔ حوثیوں نے امریکیوں پر براہ راست حملے شروع کر دیے ہیں۔ یعنی جنگ کا دائرہ بڑھ رہا ہے۔ اس وقت دنیا کی معاشی حالت ایسی نہیں ہے کہ یہ ایک بڑے جنگ کی متحمل ہو سکے اس لیے کہ دنیا ابھی تک یوکرین روس جنگ کے معاشی اثرات سے نہیں نکل سکی ہے۔

اور موجودہ میدان جنگ اگر وسعت اختیار کرتی ہے تو تیل کی قیمتوں میں اضافہ اور پیداوار میں کمی ہو سکتی ہے جس کے نتیجے میں ایک اور معاشی بحران آئے گا۔ اور یہ جنگ تجارتی نقل و حرکت کو بھی شدید متاثر کرے گی۔ جس کی وجہ سے بھی مہنگائی میں اضافہ ہو گا۔ پاکستان چونکہ اس جنگ کے پھیلاؤ سے براہ راست متاثر ہو گا تو اسے پہلے ہی سے منصوبہ بندی کرنا ہوگی اس لیے کہ ہماری معیشت اس وقت بہت کمزور ہے یہ زیادہ دباؤ برداشت نہیں کر سکتی۔

اس لیے بروقت متبادل انتظام اور حکمت عملی اختیار نہ کی گئی تو ہماری معیشت مزید خرابی کی طرف بھی جا سکتی ہے۔ اگر ایران میں موجود فیصلہ سازوں کا ذہن پڑھا جائے تو یہ بات واضح ہے کہ وہ شدید دباؤ کا شکار ہیں۔ شام، عراق، اسرائیل، لبنان، بحیرہ احمر، یمن اور اب پاکستان میں 2024 کے پہلے ہفتوں میں میزائل اور راکٹ حملے، سبھی میں ایرانی پراکسی یا اتحادی، یا پھر خود ایران شامل رہا ہے۔ ایران نے حال ہی میں شمالی عراق میں اربیل پر میزائل داغے تھے، جس میں اسرائیل کے جاسوسی اڈے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

اس کے نتیجے میں ایرانی اثر و رسوخ کی مخالفت کرنے والے عراقیوں اور بنیادی طور پر ایران سے وابستہ عراقیوں کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ ہو گا۔ عراق ایران کے لیے بہت اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ عراقی مارکیٹ ایرانی مصنوعات کی سب سے بڑی منڈی ہے۔ بحیرہ احمر میں، ایران کے حوثی اتحادیوں کے حملوں نے غزہ میں فلسطینیوں کی حمایت میں کنٹینر شپنگ کو کامیابی سے روک دیا ہے۔ لیکن ایران کی حمایت یافتہ یہ کارروائی بھی جنگ کی صورت میں پھیل سکتی ہے۔

امریکہ اور برطانیہ نے آسٹریلیا کی لاجسٹک مدد سے حوثیوں پر فضائی حملے شروع کیے ہیں۔ جس سے یمن اور لبنان میں حالات مزید خراب ہوجائیں گے۔ دوسری طرف حزب اللہ نے بھی راکٹ حملے شروع کر دیے ہیں۔ جس کے جواب میں اسرائیل بھی راکٹوں سے حملہ کر رہا ہے۔ اسرائیل اور لبنان کے سرحدوں سے لوگوں نے انخلاء شروع کر دیا ہے یعنی جنگ کے لیے میدان تیار ہو رہا ہے۔ اس جنگ کے نتیجے میں ہزاروں لوگوں کی ہلاکت کا خدشہ ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہو رہا ہے کہ ایران اور اسرائیل یہ ثابت کرسکیں کہ وہ ان علاقوں پر اپنا اثر رسوخ رکھتے ہیں۔

ان چھوٹے چھوٹے حملوں سے ایران دیکھ رہا ہے کہ کس قسم کا ردعمل آ رہا ہے۔ یہ ٹیٹ فار ٹیٹ کی گیم اگر شدت اختیار کرتی ہے اور اسرائیل اور ایران کوئی بھی غلط اندازے لگا کر میدان میں مکمل کود پڑتے ہیں تو اس کے نتیجے میں ایک بھیانک جنگ چھڑ سکتی ہے۔ یہ اگرچہ ایک علاقائی جنگ ہے جس کا مشرق وسطیٰ نے کبھی تجربہ نہیں کیا ہے۔ اس کا نتیجہ تیل کی قیمتوں میں اضافے اور مالیاتی منڈیوں میں شدید مندی اور ایک بھیانک تباہی کی صورت میں برامد ہو گا۔

ایران کی موجودہ حکومت کی سیاسی بقاء اسی میں ہے کہ وہ مارچ کے انتخابات تک اپنے لوگوں کو اس طرح اپنے حمایت پر مجبور کرے اگر وہ ایسا نہیں کرتے تو الیکشن بری طرح ہار جائیں گے۔ اس لیے پاکستان کو مارچ تک ایرانی سرحدوں پر محتاط اور کڑی نگرانی رکھنا ہوگی۔ اور ان سرحدوں پر سمگلنگ کا مکمل خاتمہ کرنا ہو گا۔ پاکستان کے فضائی حملے نے ایران کو پسا کر دیا ہے مگر زمینی نگرانی سے ہی مستقبل میں ایرانی سیاست کو بلوچستان میں داخل ہونے سے روکا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS