مذہبی پیشوایت کی جدید شکل

مسلمانوں کا ملا، عیسائیوں کا پادری، ہندوں کا پنڈت، بدووں کا بھکشو، یہودیوں کا ربی ہو یا کسی بھی مذہب کا مذہبی پیشوا۔ سب کے سب اپنے اپنے پیروکاروں کو کتابی مذہبی تعلیم دیتے رہتے ہیں۔ عملی زندگی کی حقیقی تربیت کا عنصر ہر ایک کے ہاں عنقا ہی ہے۔
چونکہ ایسے تمام مذہبی پیشوا خود کو اللہ اور اس کے رسول کے وارث بتاتے ہیں۔ اس لیے عوام خواہ کسی بھی مذہب سے تعلق رکھتے ہوں ان کو بہت ہی زیادہ احترام دیتے ہیں اور ان کی تعلیمات کو الوہی احکام سمجھتے ہوئے آنکھیں بند کر کے اس پر عمل کرتے ہیں۔ ان کی اس حیثیت، عوام کے اندھے اعتماد اور بھرپور حمایت کی وجہ سے ان کی شاہی محلات اور دیگر موثر اور کاروباری حلقوں میں بڑی تعظیم اور اکرام چلا آ رہا ہے۔
اپنی چالاکی اور عوامی جہالت کا یہ لوگ خوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔ ان لوگوں کے عوام کو مذہب کے نام پر بیوقوف بنانے اور ان کا استحصال کرنے کی داستانیں زمانہ قدیم سے تحریر و تقریر اور سینہ بہ سینہ بیان ہوتی چلی آ رہی ہیں۔
ان مذہبی پیشواؤں کے عوامی اثر و رسوخ سے بادشاہان اور امرا ہمیشہ سے خائف رہے ہیں۔ اس لیے ہر دور میں شاہان و امرا ان کی حمایت حاصل کرنے کے لیے ہر قسم کے حربے استعمال کرتے رہے ہیں۔ اور خیر سے کامیاب بھی رہے ہیں۔
فرعون و موسیٰ ( ع س) کی جنگ میں ہامان جو ایک مذہبی پیشوا ہی تھا، کا کردار اس کی بڑی مثال ہے۔ جبکہ ایسے کردار تاریخ کی ابتدا سے آج تک اپنی دینی خدمات اور حیثیت کا غلط استعمال کرتے اور اس کو بیچتے چلے آ رہے ہیں۔ جس کے لیے وہ مذہبی تعلیمات کی غلط تشریح کرتے ان کو بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں۔ اور اپنے اور اپنے آقاؤں کے مفاد کے لیے ایسے قصے۔ کہانیاں اور روایات گھڑتے رہے ہیں کہ الحفیظ الامان۔ ان پڑھ۔ جاہل اور عذاب و دوزخ کے خوف سے ان صاحبان کی ہر بات کو مذہب کا حصہ اور حق و سچ جان کر اس پر عمل کرتے ہیں۔ اور ہر قسم کے ظلم و استحصال کو ان کی مذہبی حمایت کی وجہ سے خندہ پیشانی کے ساتھ برداشت کرتے ہیں اور خوش اور مطمئن بھی رہتے ہیں۔ البتہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ان مذہبی پیشواؤں میں ایسے سچے اور با ضمیر لوگ بھی گزرے ہیں جنہوں نے حق پر کسی بھی قسم کا سمجھوتہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے نہ صرف قید و بند کی صعوبتیں برداشت کیں ہیں بلکہ دار و رسن تک کو خندہ پیشانی سے خوش آمدید کہا ہے۔ ایسے باکردار اور باضمیر لوگ اب بھی اس دنیا میں موجود ہیں۔
اس مذہبی پیشوائیت اور غیر حقیقی مذہبی کرداروں اور ان کے منفی اعمال و کردار ہی کہ وجہ سے کئی مذاہب میں نئے مذاہب جنم دیتے رہے جیسے عیسائیوں میں پروٹسٹنٹ ہندوں میں سکھ کے علاوہ دیگر بھی بہت مثالیں موجود ہیں۔ جبکہ اسلام میں اگرچہ بظاہر کوئی دوسرا مذہب تو سامنے نہیں آیا البتہ فکری اور نظری عدم موافقت کی وجہ سے کئی فرقوں نے جنم لیا ہے۔
انیسویں صدی میں جب کمیونزم اپنی جدید شکل میں سامنے آیا جو ایک خالصتاً معاشی نظام ہے اور کوئی بھی بندہ کسی بھی مذہب کا پیروکار ہو کے بھی اس نظام کی حمایت اور امداد کر سکتا تھا اور ہے۔ کمیونزم کی بالخصوص اسلام کی مخالفت ایک الگ موضوع ہے جس پر پھر کسی وقت بات کر لیں گے۔ البتہ کمیونزم کے پرچارکوں نے ہر جگہ مذہب کی نہایت شد و مد سے ایسی مخالفت کی کہ کمیونزم جیسے معاشی نظام کو لوگ ایک لا ینی اور دہریہ نظام سمجھ بیٹھے۔ اور اس کی سخت مخالفت کی۔ حتیٰ کہ افغان انقلاب کی ناکامی کی کئی دیگر وجوہات میں ایسی مذہبی مخالفت بھی ایک بلکہ بڑی وجہ تھی۔ اور اب بھی ہر کہیں اسے اسی وجہ سے عوامی مخالفت سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پر ایک بات ضرور ہے کہ اس نظام کی بنیاد پر دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی کئی سیاسی پارٹیاں اور تنظیمیں بنی اور کچھ آج بھی موجود ہیں۔ بلا شبہ ان سیاسی اور دیگر تنظیموں کو چلانے والے کمیونسٹ۔ سوشلسٹ ہی چلے آرہے ہیں۔ جو عرف عام میں ترقی پسند کہلاتے ہیں۔ حالانکہ یہ نام بذات خود عجیب لگ رہا ہے۔ کیونکہ اس سے مطلب یہ لیا جا رہا ہے جیسے صرف یہی لوگ ترقی کے خواہاں ہیں باقی سب لوگ موہنجوداڑو کے زمانے کے ہیں اور اسی سے چمٹے ہوئے ہیں۔
البتہ ایک بات بہت ہی واضح ہے۔ وہ یہ کہ ان ترقی پسند بزرگوں نے ان کی سیاسی کامیابی اور ناکامی سے بالاتر کمیونزم، مادیات اور جدلیات وغیرہ کی جو تعلیم اپنے ساتھیوں کو مختلف طریقوں اور ذرائع سے دی ہے۔ اس میں کم از کم ان کی علمی اور فکری تربیت کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ اور بہت ہی قابل ذہین دانشور پیدا کیے ہیں۔ اسی وجہ سے ایسے ترقی پسند اساتذہ کی بھی بڑی ساکھ، حیثیت اور احترام کیا جاتا ہے۔ اور ان کی ایک مضبوط اور مستحکم پوزیشن ہونے کے ساتھ ساتھ ان پر اپنے پیرووں کا غیر متزلزل یقین بھی موجود ہے۔
سوویت یونین کے خاتمے پر دنیا جب یک قطبی بن گئی۔ اور ترقی پسندوں کا قبلہ ختم ہوا تو بڑے بڑے اور جغادری کامریڈ امریکہ، یورپ اور دیگر سرمایہ دار ممالک کو چلے گئے اور خوشحال زندگی گزارنے لگے۔ جبکہ دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت نے ملک ہی میں اکثر سیاسی پارٹیوں اور تنظیموں میں خود کو ایڈجسٹ کر کے مفادات لے رہے ہیں۔ ساتھ ہی اکثر جگہوں پر اپنے ساتھیوں کو اپنے گرد جمع کر کے ان کے گرو بن گئے۔ اور بالکل مذہبی پیشواؤں کا کردار ادا کرنے لگے ہیں۔
جس طرح مذہبی پیشوا اپنے پیروکاروں کو صبر اور شکر کی تلقین کیا کرتے ہیں یہ بھی اپنی حیثیت کا فائدہ اٹھا کے اور مختلف ترقی پسند دانشوروں کے سچے جھوٹے اصلی یا منگھڑت تعلیمات اور اقوال کے حوالے دے کر اپنے پیروکاروں کو تسلیاں دے دے چپ کراتے ہیں اور سرمایہ دار مالکان۔ لیڈران اور منتظمین کے لیے پرامن ماحول بنا کے مراعات سمیٹتے رہتے ہیں۔ مگر ان کا اور ان کے ہم خیالوں کا سب سے خطرناک اور قابل نفرت وہ روش ہے جس کی رو سے وہ اپنی یک طرفہ نمائشی علمیت اور چکنی چپڑی باتوں سے عوام کو ان کے ہیروز سے بد ظن کر کے شک اور مایوسی میں مبتلا کرتے ہیں۔ اور تاریخ کو مسخ اور الفاظ کے معانی اور مفہوم بھی تبدیل کرتے رہتے ہیں۔ اور اپنی اس بے ایمانیوں اور غلطیوں پر اتراتے ہیں۔ اور بیچارے عوام حیران و پریشان کہتے ہیں :۔
خداوند! یہ تیرے سادہ دل بندے کدھر جائیں
کہ سلطانی بھی عیاری ہے درویشی بھی عیاری

