دو عالمی پاگل
12 جنوری 2024 ء کی صبح:بڑے زور و شور سے کیے گئے اعلان کے بعد دو عالمی پاگلوں امریکہ اور برطانیہ نے آسٹریلیا، بحرین، کینیڈا اور ہالینڈ کی حمایت کے ساتھ یمن پر کروز میزائلوں سے حملے کر دیے۔ الحدیدہ، تعز، ذمار، البیضا اور صعدہ گورنریٹ سمیت 5 مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے دعویٰ کیا کہ امریکی فورسز نے حوثیوں کے 14 میزائلوں پر حملہ کیا جو فائر کرنے کے لیے تیار تھے۔ یہ حوثی میزائل بحیرہ احمر میں جہازوں کے لیے خطرہ تھے۔ اس سے پہلے امریکا حوثیوں کو دوبارہ عالمی دہشت گرد نامزد کرنے کا اعلان کر چکا ہے۔ ترجمان امریکی محکمہ خارجہ میتھیو ملر نے حوثیوں کو امریکی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دے دیا۔
مغربی پروپیگنڈہ مشنری اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ کچھ لوگوں کو نہیں۔ پوری دنیا کو۔ کچھ دیر کے لئے نہیں۔ بہت دیر تک۔ بیوقوف بنایا جاسکتا ہے۔ وہ کبھی ایک مسلمان ملک کو دنیا کے سامنے مجرموں کے کٹہرے میں کھڑا کر دیتے ہیں اور کبھی دوسرے ملک کو ۔ کبھی ایک مسلمان ملک عالمی امن کے لیے سنگین خطرہ بن جاتا ہے اور کبھی دوسرا۔ اس لیے کہ عالم اسلام میں جاری ان کی جارحانہ اور مجرمانہ کارروائیوں کی طرف کسی کی نظر نہ جا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل پچھلے کئی ہفتوں سے لبنان، عراق اور بالخصوص شام میں مسلسل بمباری کر رہے ہیں۔ لیکن ان حملوں کو خفیہ رکھا جا رہا ہے۔ یمن پر حملہ ان جارحانہ اقدامات کی ہی ایک کڑی اور تسلسل ہے۔
بحیرہ احمر اور باب المندب میں یہ حملے یمن کی مسلح افواج کی جانب سے اسرائیل جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کے بہانے شروع کیے گئے ہیں۔ یہ الزامات امریکا اور برطانیہ لگا رہے ہیں جو خود دنیا بھر میں وحشیانہ کارروائیوں میں مصروف ہیں۔ یہ حملے یمن کی مسلح افواج کی جانب سے غزہ کے مظلوم اور نہتے مسلمانوں کی حمایت کے جواب میں شروع کیے گئے ہیں۔ امریکا اور برطانیہ ہر اس طاقت کے درپے ہیں جو غزہ کے مجاہدین اور عوام کی مدد کرے اور اسرائیل کے لئے خطرے کا باعث بن سکے۔
اگر اسرائیل مظلوم اور نہتے تیس ہزار کے قریب اہل غزہ کو شہید کر سکتا ہے، اس سے زائد کو زخمی اور عمارتوں کے ملبے میں دفن کر سکتا ہے، ہزاروں عمارتوں کو ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کر سکتا ہے، لاکھوں مسلمانوں کو ہجرت پر مجبور کر سکتا ہے تو بحیرہ احمر میں اسرائیل کی طرف سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو کیوں نشانہ نہیں بنایا جاسکتا؟ کیا ستم ہے کہ زخمی اور بھوکے پیاسے اہل غزہ کے لیے امدادی سامان کی ترسیل اسرائیل کی اجازت کے بغیر ممکن نہیں لیکن اسرائیل سامان لے جانے والے بحری جہازوں کو نشانہ بنانے سے عالمی تجارت خطرے میں پڑ جاتی ہے! عالم اسلام کو جرات مند قیادت میسر ہوتی تو امریکا اور برطانیہ کو منہ توڑ جواب دیتی کہ انتہا پسند اور دہشت گرد مسلمان نہیں امریکا اور برطانیہ، عالمی سرمایہ دار اور صیہونیوں کے حامی مغربی حکمران ہیں جو مسلمانوں کی نسل کشی کی منظم کوششوں میں اسرائیل کا ساتھ دے رہے ہیں۔
یمن پر حملے کے موقع پر بائیڈن نے اعلان کیا تھا کہ وہ ”اپنے عوام اور عالمی تجارت کے لئے مزید لازمی اقدامات کا حکم دینے کے لئے تیار ہے“ مسلمانوں کے خلاف تعصب رکھنے والے مغربی رہنماؤں کی تقاریر کا یہ وہ مخصوص لب و لہجہ اور انداز ہے جس میں وہ درپردہ مسلمانوں کو عالمی امن، عالمی تجارت، مغربی اور امریکی عوام کی سالمیت کے لیے خطرہ قرار دیتے ہیں۔ عالمی امن اور عالمی تجارت کے لیے خطرہ اہل غزہ، شام عراق اور یمن کے مسلمان نہیں وہ جارحیت پسند مغربی طاقتیں اور امریکا ہے جو ایک آزاد قوم کے خلاف جارحیت اور بمباری کرنے کے لیے اپنی ہی خودساختہ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی کونسل سے اجازت لینے کی ڈرامہ بازی بھی گوارا نہیں کرتا۔
مغرب نے مشرق وسطی میں جس طرح مسلمانوں کے مفادات اور معاملات کو نظر انداز کیا ہے اس کی واضح وجوہات ہیں۔ امریکا سمجھتا ہے عرب اور مسلمان عوام کی بھاری اکثریت امریکا کو جمہوریت اور آزادی کا نقیب نہیں بلکہ دنیا میں جاری ظلم و جبر خصوصا مسلمانوں پر روا رکھے جانے والے مظالم کا سرچشمہ سمجھتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمانوں کے معاملے میں نہ خود مغرب کے بنائے ہوئے عالمی قوانین، پالیسیوں اور سفارت کاری کے اصولوں کو اہمیت دی جاتی ہے اور نہ ان پر عمل کیا جاتا ہے بلکہ دیو ہیکل عسکری اور اقتصادی قوت سے امریکا اور مغرب مسلمانوں کو روندتے چلے جاتے ہیں۔
بائیڈن کی پالیسیاں سردجنگ کا تسلسل ہیں جس میں سوویت یونین کی جگہ مسلمان ممالک کودے دی گئی ہے۔ نائن الیون کے واقعہ سے مسلمانوں پر دہشت گردی کے الزام میں شدت لانے میں مدد لی گئی۔ اس سے پہلے مسلمانوں کو دہشت گرد قرار دینے کے لئے بم دھماکوں کے چند واقعات اور خود کش حملوں کا سہارا لیا جاتا تھا۔ بصد کوششوں کے یہ مہم جان نہیں پکڑ رہی تھی۔ مسلمانوں کے خلاف مہم کو طوفانوں کی شدت دینے کے لئے امریکی صیہونی پا لیسی سازوں کو کسی بڑے واقعے کی ضرورت تھی۔
اس ضرورت کو پورا کرنے کے لئے ٹوئن ٹاورز کو تباہ کر کے مطلوبہ ہتھیار حاصل کیا گیا۔ طیاروں کے ٹکرانے سے عمارتوں کا پگھلنا ممکن نہیں۔ اس مقصد کے لئے کنٹرولڈ ڈیمالیشن کی تکنیک استعمال کرتے ہوئے ٹوئن ٹاورز کے مختلف حصوں میں بہت زیادہ حرارت پیدا کرنے والا دھماکہ خیز مواد پہلے ہی رکھ کر ریموٹ کنٹرول کے ذریعے اڑا دیا گیا جس سے عمارتوں کا فولادی ڈھانچہ لمحوں میں موم کی طرح پگھلتا ہوا زمین پر آ رہا۔ رائی کا پہاڑ بنانے کی یہ تیکنیک صدام حسین کے ”بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیا روں“ ، افغانستان میں اسامہ بن لادن کی موجودگی، کرنل قذافی کی ایٹمی اسلحے کی تجارت اور پاکستان کو دہشت گردوں کا محفوظ گڑھ قرار دینے سے ہوتی ہوئی بحیرہ احمر میں حوثیوں کے ہاتھوں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے اور عالمی تجارت کے خطرے کو روکنے کے لیے یمن پر حملے تک آ پہنچی ہے۔
حوثیوں کی جنگی صلاحیت کو بڑھا چڑھا کر پیش کر کے یمن کے خلاف حملوں میں برطانیہ ایک تابعدار ملازم کا کردار اداکرتے ہوئے سب سے بڑھ کر امریکا کے آگے لگا ہوا ہے۔ عراق اور افغانستان پر حملہ ہو یا مسلمان عربوں کے خلاف یہودی وجود کی تائید اور مدد برطانیہ بخوشی ایک ثانوی طاقت کا کردار ادا کرنے پر راضی ہے۔ اپنے کردار کی محدودیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے برطانیہ کبھی ایک ایسی چالاک لومڑی نظر آتا ہے امریکی تائید سے جس کا مقصد محض شکار سے اپنا بچا کچا حصہ وصول کرنا ہوتا ہے۔ ادھر بائیڈن نے یمن کے متعلق اپنے ارادے ظاہر کیے ادھر برطانیہ ”میں ہوں نا“ کی تکرار کرتا امریکا کے حضور حاضر ہو گیا۔
نیتن یاہو کی خونی جنگ ہویا امریکا اور برطانیہ کی یمن پر حملے کا پاگل پن ایک کے بعد دوسرا محاذ کھولنے کی ان کوششوں سے غزہ میں جاری جنگ سمٹنے کی بجائے مزید پھیلے گی جس کے شعلے ایک دن اسرائیل کو اپنی لپیٹ میں نہ لیں ایسا ممکن نہیں۔ امریکا برطانیہ ان کے اتحادی اور اسرائیل مسلمانوں کی نسل کشی کا شوق پورا کر کے دیکھ لیں مستقبل مسلمانوں کا ہے۔ ملیا میٹ ہو جانے کے باوجود اہل غزہ اسرائیل کی فضائی بمباریوں سے خوفزدہ نہیں ہوئے تو سخت جان جنگجو حوثی امریکی اور برطانوی پاگل پن کا اظہار کرتے چند فضائی حملوں کو کیا خاطر میں لائیں گے۔ امت مسلمہ کے اتحاد کے حوالے سے آج عالم اسلام میں مکمل تاریکی ہے لیکن سپیدہ سحر زیادہ دور نہیں ہے۔

