انسانی حقوق کے نمائندوں کا کردار اور اہمیت

ہیومن رائٹس کونسل اقوام متحدہ کے نظام کے اندر ایک بین الحکومتی ادارہ ہے۔ جو پوری دنیا میں انسانی حقوق کے فروغ، تحفظ اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں سے نمٹنے اور ان پر سفارشات پیش کرنے کا ذمہ دار ہے۔ یہ کونسل انسانی حقوق کو درپیش تمام مسائل، محرکات اور حالات پر بات کرنے کی مجاز ہے۔ ایسے مسائل جن پر اس کی توجہ کی فوری ضرورت ہوتی ہے۔ یوں تو کونسل کے جنیواء میں اقوام متحدہ کے دفتر میں سوائے ہفتہ اتوار اور چھٹی کے دنوں کے سارا سال مینگیٹز، سمینارز اور کانفرنسز ہوتی رہتی ہیں۔
لیکن کونسل کے سالانہ تین بڑے اجلاس عموماً فروری مارچ، جون جولائی، ستمبر اکتوبر میں ہوتے ہیں۔ یہ اجلاس تین ہفتوں سے لے کر چھ ہفتوں تک جاری رہتے ہیں۔ جس میں اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے مستقل مندوب حکومتی نمائندے، وزراء، سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے نمائندے دنیا بھر سے شرکت کرتے ہیں۔ یہ کونسل اقوام متحدہ کے 47 رکن ممالک پر مشتمل ہے۔ جن کا انتخاب اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کرتی ہے۔ مخلتف ریجنز سے یعنی
افریقی ریاستیں تیرہ، ایشیا پیسیفک ریاستیں تیرہ، مشرقی یورپی ریاستیں چھ، لاطینی امریکی اور کیریبین ریاستیں اٹھ، مغربی یورپی اور دیگر ریاستیں سات شامل ہوتی ہی اور تین سال کی مدت کے لئے انتخاب ہوتا ہے۔
ہر تین سال کے بعد عموماً باری باری نئی ریاستوں کا انتخاب کیا جاتا ہے۔ (انسانی حقوق کونسل نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے سابق کمیشن کی جگہ لے لی۔ ان میں یونیورسل پیریڈک ریویو (یو پی آر) میکانزم بھی شامل ہے۔ جو اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک میں انسانی حقوق کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے کام کرتا ہے، مشاورتی کمیٹی جو کونسل کے ”تھنک ٹینک“ کے طور پر کام کرتی ہے۔ انسانی حقوق کے مسائل اور شکایت کے طریقہ کار پر ماہرانہ آر اور مشورہ فراہم کرتی ہے۔ جو انسانی حقوق کے نمائندوں اور تنظیموں کو انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر کونسل کی توجہ دلانے میں مددگار ثابت ہوتا ہے۔ انسانی حقوق کی کونسل اقوام متحدہ کے خصوصی طریقہ کار کے ساتھ بھی کام کرتی ہے جو سابق کمیشن برائے انسانی حقوق کے ذریعہ قائم کیا گیا تھا۔ یہ خصوصی نمائندوں، آزاد ماہرین اور ورکنگ گروپس پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جو مختلف ممالک میں انسانوں کو درپیش مسائل، یا انسانی حقوق کی صورتحال کی نگرانی اور جانچ کرتے ہیں۔
اپنی آرا اور فیکٹ فائنڈنگ کمیٹی یا مشن کی حاصل کردہ اعداد و شمار، اطلاعات اور زمینی حقائق کی روشنی میں رپورٹ مرتب کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کی سیکیورٹی یا سلامتی کونسل میں صرف اقوام متحدہ کے رکن ممالک ہی شرکت کر سکتے ہیں۔ سلامتی کونسل میں سول سوسائٹی کے لئے کوئی سپیس نہیں ہے۔ اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق وہ واحد فورم ہے۔ جس میں دنیا بھر سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر سول سوسائٹی، انسانی حقوق کے نمائندے، محکوم اور مظلوم قوموں کے نمائندے، صحافی، ، میڈیا پرسنز، معذوروں، مذہبی اقلیتوں کے نمائندے، وکلاء، خواتین اور بچوں کے حقوق کے لیے سرگرم عمل نمائندے، غرض تمام مکتبہ فکر اور دنیا بھر سے لوگ شرکت کرتے ہیں۔
یہ نمائندے نہ صرف سیمینارز، کانفرنسوں، بریفنگز کا انعقاد کرتے ہیں۔ بلکہ جنرل کونسل میں زیر بحث مخلتف ایجنڈوں پر خطاب بھی کرتے ہیں۔ اقوام متحدہ کے دفتر کے سامنے احتجاج اور مظاہرے کرتے ہیں اور یادداشتیں جمع کرتے ہیں۔ تاریخی ریاست جموں و کشمیر 1947 سے جبری تقسیم اور غلامی کا شکار ہے۔ ہمارے لوگ انسانی حقوق اور بینادی حقوق سے محروم ہیں۔ ظلم، جبری تقسیم کا شکار ہیں۔ جو کوئی بھی قانون کی حکمرانی کا مطالبہ کرے، قدرتی وسائل پر قبضے کے خلاف، حق ملکیت اور حق حکمرانی کے لئے پرامن جدوجہد کرے۔
اسے دھمکیوں، غداری، ملک دشمن، غیر ملکی ایجنٹ جیسے القابات، جبری گمشدگیوں اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ انسانی حقوق کے نمائندوں کو کونسل میں شرکت سے روکنے کے لئے اکثر ممالک خاص کر وہ ممالک جہاں قانونی کی بالادستی نہیں۔ طرح طرح کے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں۔ یہ غیر جمہوری اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے مرتکب ممالک خود تو کروڑوں، اربوں ڈالرز سالانہ اپنے مشنوں پر خرچ کرتے ہیں مشن (جینواء میں ملکوں کے سفارت خانوں کو مشن کہا جاتا ہے ) ۔
اس کے علاوہ کونسل کے ہر اجلاس میں شرکت کے لیے اپنے اپنے ملکوں سے بھاری بھرکم وفود جن کو عموماً جہاز کی بزنس کلاس میں سفر کروایا جاتا ہے۔ اور اعلیٰ اور مہنگے ترین ہوٹلوں میں ٹھہرایا جاتا ہے۔ یہ ممالک ایسی این جی اوز جن کے پاس یو این کا سپیشل ایکو ساک سٹیٹس ہوتا۔ یعنی وہ مجاز ہوتی ہیں۔ کہ انسانی حقوق کے نمائندوں کو کونسل میں شرکت کے لئے کارڈز جاری کریں۔ ان کو بڑے بڑے لالچ دیتے ہیں۔ بعض اوقات ڈرانے دھمکانے کی بھی کوشش کرتے ہیں۔
کہ انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے کو کارڈز جاری نہ کریں۔ تاکہ سول سوسائٹی اور انسانی حقوق کے لیے سرگرم نمائندوں کو اقوام کی کونسل کے اجلاسوں میں شرکت سے روکا جا سکے۔ جب ان ممالک کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ تو ان کے مشن کے لوگ جب یو این کے لابی ایریا میں بیٹھتے ہیں۔ تو اکثر انسانی حقوق کے نمائندوں کی حوصلہ شکنی کرتے نظر آتے ہیں۔ اور اقوام متحدہ کو ایک بیکار ادارہ قرار دیتے ہیں۔ پھر انھی ممالک کے بھاری بھرکم وفود کے نمائندے اور دیگر آلہ کار جو کہ مختلف روپ دھارے انسانی حقوق کے نمائندوں سے ملتے ہیں۔
تو وہ بھی رٹو طوطے کی طرح اقوام متحدہ کو امریکہ، یورپ اور عالمی طاقتوں کی لونڈی کہتے نہیں تھکتے۔ چونکہ ہم سوئٹزرلینڈ میں مقیم ہیں۔ ایسے میں ہم ان سے سوال کرتے ہیں۔ کہ ہم تو چند سو کلومیٹر کا سفر کر کے یو این میں پہنچ جاتے ہیں۔ اگر اقوام متحدہ اور اس کی کونسل اتنا ہی بیکار فورم ہے۔ تو ان ممالک کے مشنز لوگوں کے ٹیکس کے روپوں سے کیوں سالانہ کروڑوں اربوں ڈالرز کیوں خرچ کرتے ہیں۔ اپنے وفود کو ہزاروں کلومیٹر سفر کروانے کی زحمت کیوں دیتے ہیں۔ لاکھوں ڈالرز ان کے دوروں پر کیوں خرچ کرتے ہیں۔ حیرت انگیز بات ہے کہ جس فورم کو یہ بیکار کہتے ہیں۔ اپنے ملک واپسی پر بڑے فخریہ انداز میں اقوام متحدہ میں اپنی کامیاب سفارت کاری کے کارہائے نمایاں میڈیا کے سامنے پیش کرتے ہیں۔ انھی غیر جمہوری اور انسان دشمن ممالک کے دم چلھے آج کل سوشل میڈیا خاص کر سپیس میں بہت پائے جاتے ہیں۔ جو انسانی حقوق کے نمائندوں کو کہتے رہتے ہیں۔ کہ آپ لوگ اتنے عرصے سے اقوام متحدہ میں آتے ہیں۔
آپ نے کیا حاصل کر لیا۔ ہم نے کیا کھویا کیا پایا۔ یہ ہم جانتے ہیں یا وہ ممالک بخوبی جانتے ہیں۔ جن کو ہر سیشن کے بعد اور خاص کر یو پی آر میں جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔ میڈیا، سول سوسائٹی کی تنظیمیں اور انسانی حقوق کے نمائندے معاشرے کا آئینہ ہوتے ہیں۔ جو شہریوں اور حکومت دونوں کے لیے معلومات کا ایک اہم ذریعہ ہیں۔ وہ حکومتی پالیسیوں اور اقدامات کی نگرانی کرتے ہیں۔ حکومت کو جوابدہ ٹھہراتے ہیں۔ تاکہ حکومتیں انسانی حقوق کی پامالیوں سے باز آہیں۔
قانون سازی کریں اور اپنے زیر انتظام علاقوں میں بسنے والے انسانوں کو انسانی حقوق کے عالمی چارٹر کے مطابق بلا امتیاز تمام انسانی حقوق دیں۔ انسانی حقوق کے لیے سرگرم لوگوں، مظلوم و محکوم قوموں اور ان کے نمائندوں کے لئے اقوام متحدہ کی کونسل انتہائی اہم ہے۔ جس میں بھرپور شرکت کرتے ہوئے اپنے لوگوں کے حقوق کے حصول اور ان کے تحفظ کے لئے اہم کردار ادا کیا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی ممبر اسٹیٹ بخوبی آگاہ ہیں۔
ان کے تمام اچھے برے کارناموں کا ریکارڈ یو این مرتب کرتا رہتا ہے۔ اور وقت آنے پر ان ممالک کو جواب طلبی ہوتی ہے۔ ریاست جموں و کشمیر میں برصغیر کی تقسیم کے فوری بعد کیا ہوا، کس کا کیا رول رہا، کشمیر پر اقوام متحدہ کی انیس سو اڑتالیس، انچاس کی قراردادوں سے لے کر حالیہ ستمبر اکتوبر کے اجلاس کی کارروائی تک تمام معلومات ریکارڈ کا حصہ ہیں۔ 2018 اور 2019 میں کشمیر پر اقوام متحدہ کی کونسل برائے انسانی حقوق کی رپورٹس دیکھ لیں۔
اقوام متحدہ کی تاریخی ریاست جموں و کشمیر کی متنازعہ حیثیت پر کیا پوزیشن ہے۔ اور یورپین پارلیمنٹ میں کشمیر پر رپورٹ جو کہ 2007 میں کثرت رائے سے پاس کی کئی تھی۔ اس پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔ یہ رپورٹ کہتی ہے کہ ریاست جموں وکشمیر ایک متنازع ریاست ہے۔ اور کسی بھی ملک کو یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اسے اپنے ساتھ شامل کرے۔ یا مزید تقسیم کرے۔ ہمارا ماننا ہے۔ کہ غیر ضروری قربانیوں اور مہم جوئی سے اجتناب کرتے ہوئے حالات کی نزاکت کو سمجھتے ہوئے اپنے کاز کو آگے بڑھانا چاہیے۔ لیکن اپنے ملک اپنی قوم، اپنے لوگوں کے حقوق، اصولی معاملات، اپنے حقوق، وقار اور عزت نفس کی خاطر طالع آزماؤں، مذہبی جنونیوں اور حقوق سلب کرنے والوں کے سامنے چٹان کی طرح کھڑا ہونا چاہیے۔ اور ان کو ہر فورم پر جوابدہ بنانا چاہیے۔

