شہرے چنیں (بنام ایٹالو کالوینو)


naseer ahmad

کائی پنگ فو سے تین دن کی مسافت پہ آپ چند دریا، چند صحرا، چند پہاڑ اور چند درے عبور کرنے کے بعد پاکیشیا پہنچتے ہیں۔ پاکیشیا، دریاؤں، صحراؤں، پہاڑوں اور دروں والا شہر۔ یہ دریا، صحرا، پہاڑ اور درے ایک دوجے سے شدید نفرت میں مبتلا ہیں اور جہاں کہیں ملتے ہیں ایک دوسرے کو ضرر پہنچاتے ہی دکھائی دیتے ہیں۔ اپنی اپنی زبانوں میں اس عمل کو دوسروں کی اصلاح کرنا کہتے ہیں۔ جیسے دریا پہاڑوں کے نیچے مکانات کو گرا کر قانون کی عمل داری نافذ کرتے ہیں ویسے صحرا دریاؤں کو اپنے جیسا بنا کر اخلاق حسنہ کے لیے سازگار ماحول ترتیب دیتے ہیں۔ شہر کے کچھ حصوں میں دریا، صحرا، پہاڑ اور درے ایک ساتھ ہی پائے جاتے ہیں۔ شہر کے ان حصوں میں بہت شور برپا رہتا ہے۔

شہر میں دیوتاؤں کے نام پر ہنگامہ تو بہت مچا رہتا ہے جس کے معنی یہ لیے جاتے ہیں کہ شہر میں کوئی دیوتا نہیں ہے۔ جس کے نتیجے میں شہر میں دیوتاؤں کے دلاوروں کی ایک کثیر تعداد راڑ (جھگڑا) کرتی پھرتی ہے۔ شہر کا مرکزی دلاور کتا ہے جس کو نہلا دھلا کر شہر کے باشندے شیر کہہ کر بہت خوش ہوتے ہیں اور ہر شیر بنے کتے کو القاب و خطابات سے نوازتے ہیں۔ مسافر کو یاد رکھنا چاہیے کہ کچھ دلاوروں کے نام نہیں لیے جا سکتے انھیں بس علامہ، کامریڈ اور صاحب ہی کہنا پڑتا ہے۔

دوسرے شہروں کی طرح یہاں بھی شہر کے باشندے شہر کے اہل قلم کی پیروی کرتے ہیں۔ یہاں دوسرے شہروں سے مختلف بات ہے کہ یہاں کے اہل قلم کتے اور خنزیر کی پیروی کرتے ہیں اور اوٹ پٹانگ حرکتیں کرتے رہتے ہیں جیسے ہر وقت بھونکتے رہنا اور ہر وقت کیچڑ میں لت پت رہنا۔ ان حرکات کو شہر کے عظیم افسانہ نگاروں کو خراج تحسین پیش کرنا کہا جاتا ہے۔ اور شہر بھی افسانے کے سوا کوئی اور ادبی صنف رائج بھی نہیں ہے۔

شہر میں روز شادیانے بجتے ہیں کہ شہر کے امیر المومنین شہر کے ترک جرنیلوں کا تختہ الٹ دیں گے۔ اور ترک جرنیل ان شادیانوں کا جواب روزانہ امیرالمومنین کو کائی پنگ فو کی طرف جاتی سڑک پر پیٹتے ہوئے دیتے ہیں۔ اس پٹائی کو بھی شہر کے باسی شادیانے بجا کر ہی خراج تحسین پیش کرتے ہیں۔ شہر کے دانا اس معاملے میں نہیں پڑتے کہ یہ باپ بیٹے اور استاد شاگرد کا معاملہ ہے آپس میں ہی طے کر لیں تو اچھا ہے۔

شہر کے وسطی چوک کے کنارے شہر کا شاہ کار ایک شکاری کتیا کا مجسمہ کھڑا کر دیا گیا ہے۔ یہ شکاری کتیا دانت بھینچے منہ میں کچھ دبائے پیروں میں کسی کو روند رہی ہے۔ اس روندی ہوئی شے کا بس ہیولی ہی دکھائی دیتا ہے اور اس روندی ہوئی شے سے شہر کے باشندے اپنی آرزوئیں اور حسرتیں منسلک کر لیتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں یہ روندی ہوئی شے سب کچھ بھی ہے اور کچھ بھی نہیں ہے۔

اس مجسمے سے ذرا پرے برگد کا ایک درخت ہے جسے کے نیچے واہموں کا کاروبار ہوتا ہے جس کے نتیجے میں بیوی کو معشوقہ ہونے کے، معشوقہ کو فاحشہ اور فاحشہ کو بیوی ہونے کے واہمے ہوتے ہیں۔ شاعروں کو فلسفی، فلسفیوں کو شیطان اور شیطانوں کو راہ نما ہونے کے مغالطے ہوتے ہیں۔ جاہلوں کو عالم اور عالموں کو جاہل ہونے کے، بزازوں کو بادشاہ اور بھانڈوں کو فنکار ہونے کے واہمے ہوتے ہیں۔ دل چسپی کی بات یہ ہے کہ ان واہموں سے لوگ ایسے لپٹتے ہیں کہ سر پر ڈنڈے مار کر بھی جدا نہیں کیے جا سکتے ان واہموں سے لپٹا ہر کوئی مجسمے کی شکاری کتیا کی طرح دانت بھینچے، منہ میں کوئی شے دبائے اور پیروں میں کوئی شے روندتا رہتا ہے۔

اور اس شے کی نوعیت ماہیت پر بہت بحثیں ہوتی رہتی ہیں لیکن ابھی تک طے نہیں ہو سکا کہ یہ شے کیا ہے۔ افسانوی شاعری کرنے والے اسے ہر چند ہے کہ نہیں ہے کہہ خود کو بڑا دانا وبینا سمجھتے ہیں۔ پتا انھیں بھی نہیں ہے کہ یہ کیا شے ہے۔ شہر کے پرانے باشندے شہر کے بنیادی تصور کے بارے میں کسی خوبی کی دھندلی یادیں دہراتے ہیں جسے ان کے مطابق شہر کے موجودہ باشندے کبھی تجربہ ہی نہیں کر سکے جس کی وجہ سے اس شے کی نوعیت و ماہیت کے بارے میں بحثیں ہوتی رہتی ہیں۔

شہر میں اپنی خوبیوں کو اپنے ملبوسات پر درج کرنے کا رواج ہے۔ اور یہ خوبیاں صرف ان ملبوسات پر درج ہی ملتی ہیں، شہر کے ریاستی ایوانوں، شکاری کتیا کے مجسمے پر، برگد کے درخت کے نیچے، دیوتاؤں کے دلاوروں میں، دریاؤں میں، پہاڑوں میں، دروں میں اور صحراؤں میں یہ خوبیاں نہیں ملتی بلکہ کہیں بھی نہیں ملتی۔

تو اے خاقان یہ ہے پاکیشیا جس نے بنیادی شہری خوبیاں ابھی تک تجربہ ہی نہیں کی مگر یہاں کے باشندے خود کو پوری کائنات کے شہریوں سے عظیم شہری سمجھتے ہیں۔

Facebook Comments HS