عملی زندگی میں درست اہداف کے تعین کی اہمیت
کہتے ہیں کسی ملک میں ایک نوجوان رہتا تھا۔ وہ بلا کا ذہین، باصلاحیت، اور محنتی تھا۔ ایک دن اس نے سوچا کہ کیوں نہ اپنی ان خداداد صلاحیتوں کو خلق خدا کی بہتری کے لیے استعمال کروں۔ یہ فیصلہ کرنے کے بعد اس نے خلوص نیت اور پوری ایمان داری کے ساتھ اپنی اس سوچ کو عملی جامہ پہنانے کی غرض سے محنت شروع کر دی۔ اسے یقین تھا کہ مسلسل محنت، لگن اور اپنی فطری صلاحیتوں کی بدولت وہ ایک دن اس دنیا کو بدل ڈالے گا اور اس کے نتیجے میں باقی انسانوں کی زندگی میں ایک مثبت تبدیلی آئے گی۔
کئی سالوں کی مسلسل محنت اور جدوجہد کے بعد جب اس نے دنیا کے حالات کا جائزہ لیا تو اسے احساس ہوا کہ اس کی اس کاوش کا کچھ فائدہ نہیں ہوا اور دنیا جوں کی توں ہے۔ اس تمام تر صورت حال کا تفصیلی تجزیہ کرنے کے بعد وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کا دنیا بدلنے کا فیصلہ درست نہیں تھا اور اس کے کئی قیمتی سال اور توانائی اس کے اس فیصلے کی وجہ سے ضائع ہو گئے ہیں۔
اس کے بعد اس نے دنیا کی فکر چھوڑ کر اپنا ملک ٹھیک کرنے کا سوچا اور ملک کی خاطر دل و جان سے محنت شروع کر دی۔ لیکن برسوں کی محنت کے بعد نتیجہ پھر صفر ہی رہا اور وہ کسی بھی قسم کی مثبت تبدیلی لانے میں ناکام رہا۔ وہ بتدریج اپنے نئے اہداف طے کرتا رہا اور اس نے ملک کے بعد صوبے، پھر اپنے شہر، اپنے گاؤں، اپنے محلے، اور پھر اپنے گھر کو بدلنے کی کوشش کی۔ لیکن اسے کامیابی نہ مل سکی۔ اب وہ عمر رسیدہ ہو چکا تھا اور جوانی والا جوش و جذبہ، توانائی اور ہمت باقی نہیں بچی تھی۔
اس نے اپنی اس ناکامی کے اسباب تلاش کرنے کی غرض سے جب تحقیق کی تو اسے پتہ چلا کہ اس کی ناکامی کی سب سے بڑی وجہ وہ خود تھا۔ کیوں کہ اس نے جو اہداف طے کیے تھے وہ ناقابل عمل تھے کیوں کہ اس قدر بڑے پیمانے پر تبدیلی لانے کے لیے ایک فرد کی توانائی اور محنت ناکافی تھی۔ بے شمار ایسے عوامل تھے جو اس کے دائرہ اختیار سے باہر تھے۔
اسے احساس ہوا کہ اگر وہ یہ ساری توانائی اور محنت اپنی ذات پر کرتا تو ہو سکتا تھا کہ اس کے نتیجے میں وہ ذاتی طور پر ایک زیادہ کامیاب انسان ہوتا۔ اور اس کی کامیابی کا براہ راست فائدہ اس کے خاندان کو ہوتا۔ اور اس طرح بالواسطہ طور پر اس کی کامیابی کا اثر اس کے محلے، شہر، صوبے، ملک اور کسی حد تک دنیا پر بھی ہوتا۔ اور اس کی زندگی کے قیمتی سال یوں ضائع نہ ہوتے۔
یہ کہانی ہم سے ہر ایک کی ہے۔ ہم اپنی پوری زندگی یہ طے نہیں کر پاتے کہ ہم کرنا کیا چاہتے ہیں۔ ہماری زندگی کے بیشتر فیصلے کسی عمومی رجحان یا خواہش کے زیراثر ہوتے ہیں۔ ہم اپنے اہداف یا مقاصد طے کرتے وقت زمینی حقائق، اپنی طبعی رجحان، اور صلاحیت و قابلیت ملحوظ خاطر نہیں رکھتے۔ اگر ہمارا کوئی رشتے دار، دوست یا کلاس فیلو ایک کام کر کے کامیاب زندگی گزار رہا ہے تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ اگر ہم بھی وہی کام کریں گے تو ہماری کامیابی سو فیصد یقینی ہے۔
ضرورت اس امر کی ہے کہ اپنی زندگی کے مقاصد طے کرتے وقت اپنی فطری صلاحیتوں، تمام ممکنہ مشکلات، اپنے کلچر اور اردگرد کے ماحول کو مدنظر رکھیں۔ اپنے اصل ہدف کو حاصل کرنے کے لیے اس کو کئی چھوٹے اہداف میں تقسیم کریں۔ اگر آپ دس سال بعد خود کو ایک مخصوص مقام پر دیکھنا چاہتے ہیں تو ہر چھ ماہ بعد اپنی کارکردگی کا جائزہ لیں اور دیکھیں کہ آیا پچھلے چھ ماہ کی نسبت آپ کا سفر درست سمت میں ہے یا نہیں۔ آپ کے پاس ہمیشہ ایک متبادل لائحہ عمل (پلان بی) موجود ہونا چاہیے تاکہ حالات میں تبدیلی یا دیگر عوامل کی بنیاد پر اگر آپ کو اپنے اصل منصوبے پر کام کرنے میں دشواری ہو تو آپ کے پاس اس کا حل پہلے سے موجود ہو۔



Masha Allah
Kamal tehreer
جزاک اللہ خیرا