پاکستان کی حالیہ معاشی تباہی اور سٹیٹ بنک کی غلط پالیسیاں


سٹیٹ بنک پاکستان کا مرکزی بینک ہے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کو یہ ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے کہ وہ معاشی پالیسی کے مقاصد کو متاثر کرنے کی کوشش کیے بغیر مانیٹری اینڈ فسکل پالیسیز کوآرڈینیشن بورڈ کی سفارشات کے ساتھ ترقی اور افراط زر کے حکومتی اہداف کے مطابق مانیٹری اور کریڈٹ پالیسی کو آگے بڑھائے۔ دنیا کے تمام ممالک کے مرکزی بنک اپنے اپنے ممالک کے مالی معاملات اور معاشی بہتری کے لیے کام کرتے ہیں۔ پاکستان نے ساٹھ کی دہائی میں دنیا کے عظیم بنکنگ دماغ پیدا کیے جنہوں نے بیرون ملک بھی بہت نام کمایا۔

لیکن بدقسمتی دیکھیں کہ موجودہ دور میں پاکستان بدترین معاشی بحران کا شکار ہے۔ غیر محتاط پالیسیوں اور بے تحاشا بیرونی قرضوں نے پاکستانی معیشت کی کمر توڑ دی ہے۔ پاکستانی کی اکانومی چند برس پہلے تک دنیا میں 24 ویں بڑی اکانومی تھی جو اب غلط پالیسیوں کی وجہ سے 42 ویں نمبر پر چلی گئی ہے اور معاشی پالیسیوں کا یہ حال رہا تو تو پاکستان کی اکانومی پوزیشن مزید نیچے چلی جائے گی۔ اگر ہم صرف اس برس کا جائزہ لیں تو رواں مالی سال میں، وفاقی حکومت نے سود کی ادائیگی کے لیے 7.3 ٹریلین مختص کیے، جو کہ دفاع، پنشن، سبسڈی، گرانٹس اور دیگر اخراجات کے لیے مشترکہ بجٹ سے زیادہ ہیں، یہ تقریباً 7.1 ٹریلین روپے بنتے ہیں۔

دسمبر 2023 کے لیے وزارت خزانہ کے ماہانہ اقتصادی آؤٹ لک کے مطابق، گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں رواں مالی سال کے پہلے پانچ مہینوں میں سود کی ادائیگیوں میں 63 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ پچھلے مالی سال میں سود کی ادائیگی 5.52 ٹریلین تھی، اور اگر موجودہ رجحان جاری رہا تو اس سال کے آخر تک ان کے 9 ٹریلین تک پہنچنے کی توقع ہے، جس سے بجٹ مختص کے مقابلے میں اصل مارک اپ اخراجات میں 1.7 ٹریلین اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ گزشتہ سال سرکاری قرضوں میں تقریباً 24 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سود کی ادائیگی کی رقم میں تقریباً 63 فیصد اضافہ ہوا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ مجموعی قرضوں کے مقابلے مارک اپ ادائیگیوں میں اتنے زیادہ اضافے کی وجہ کیا ہے؟ معیشت کی سمجھ رکھنے والے لوگ تسلیم کرتے ہیں کہ پالیسی ریٹ، یعنی سرکاری شرح سود، اس غیر متناسب اضافے کی بنیادی وجہ ہے۔ مالی سال 2022۔ 23 کے بجٹ کی تیاری کے دوران، پاکستان کا پالیسی ریٹ 13.75 فیصد تھا، جس میں سود کی ادائیگی کے لیے 3.95 ٹریلین مختص کیے گئے تھے۔

گزشتہ مالی سال کے اختتام تک، پالیسی کی شرح 21 فیصد تک پہنچ گئی تھی، جس کے نتیجے میں مارک اپ ادائیگیوں پر اضافی 1.6 ٹریلین خرچ ہوئے، جو کل 5.52 ٹریلین بنتے ہیں۔ رواں مالی سال ( 2023۔ 24 ) کے بجٹ کی تیاری کے دوران، شرح سود 20 فیصد تھی، اور مارک اپ ادائیگیوں کے لیے 7.3 ٹریلین مختص کیے گئے تھے۔ بعد ازاں، جولائی 2023 تک شرح سود مزید بڑھا کر 22 % کر دی گئی۔ نتیجتاً، مارک اپ کے اخراجات 9 ٹریلین کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

پاکستان عالمی سطح پر سب سے زیادہ پالیسی ریٹ رکھتا ہے۔ پالیسی ریٹ کا تعین اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی کمیٹی کا مینڈیٹ ہے، اور اسٹیٹ بینک ایک سرکاری ادارہ ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ ایک سرکاری ادارہ شرح سود بڑھا کر اپنی ہی حکومت پر بوجھ کیوں بڑھاتا ہے؟ وجہ یہ ہے کہ اسٹیٹ بینک کا خیال ہے کہ شرح سود میں اضافے سے ملک میں مہنگائی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کی طرف سے بھی اس پالیسی کی حمایت اور زبردستی مسلط کیا جاتا ہے۔

کیا پالیسی کی شرح مہنگائی کو کم کرنے میں واقعی مددگار ہے؟ اس معاملے میں دو طرح کے معاشی نظریات ہیں۔ پہلا نظریہ، جسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں نے بڑے پیمانے پر قبول کیا اور اس کی توثیق کی، یہ بتاتی ہے کہ شرح سود میں اضافہ سے لوگ اپنے اخراجات کو کم کرتے ہیں، جس کے نتیجے میں ملک میں مجموعی طلب میں کمی واقع ہوتی ہے اور اس کے نتیجے میں افراط زر میں کمی واقع ہوتی ہے۔ دوسرے نظریہ کے مطابق شرح سود میں اضافہ فیکٹریوں کی پیداواری لاگت میں اضافے کا باعث بنتا ہے اور کارخانے اس لاگت کو صارفین تک پہنچاتے ہیں جس سے افراط زر میں مزید اضافہ ہوتا ہے۔

نوبل انعام یافتہ کرسٹوفر سمز اور جوزف سٹیگلٹز سمیت بہت سے نامور ماہر معاشیات متبادل نظریہ کی حمایت کرتے ہیں۔ متعدد حقیقی دنیا کے واقعات، دونوں ملکی اور بین الاقوامی، اس متبادل نظریہ کی حمایت کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر پاکستان میں پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران شرح سود 14 % کے لگ بھگ تھی اور افراط زر بھی تقریباً 14 % تھی۔ مسلم لیگ (ن) کے دور حکومت میں شرح سود 5.75 فیصد تک کم کی گئی اور اسی طرح مہنگائی کی شرح میں بھی کمی ہوئی۔

اسی طرح پی ٹی آئی کی حکومت کے آغاز میں حد سے زیادہ مہنگائی پر قابو پانے کی امید میں شرح سود میں اضافہ کیا گیا لیکن مہنگائی بڑھتی ہی چلی گئی۔ 2020 میں COVID۔ 19 بحران کی وجہ سے، شرح سود میں کمی ہوئی، جس کے نتیجے میں افراط زر میں کمی واقع ہوئی۔ تاہم 2021 میں شرح سود ایک بار پھر بڑھنا شروع ہوئی اور اس کے ساتھ ہی مہنگائی میں اضافے کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ شواہد کے یہ ٹکڑے اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ پاکستان کی حالیہ معاشی تاریخ میں شرح سود میں اضافہ مہنگائی پر قابو پانے کا باعث نہیں بنا۔

اس کے باوجود اسٹیٹ بینک کا اصرار ہے کہ ضرورت سے زیادہ افراط زر کو کم کرنے کے لیے شرح سود میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ SBPکی پالیسی، جو کہ حقیقت میں متضاد اور انتہائی غیر انسانی سمجھی جاتی ہے، خود ادارے کی طرف سے اس بات کا اعتراف کیا گیا ہے کہ وہ افراط زر میں اہم کردار ادا کر رہی ہے، بنیادی طور پر خوراک کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کی وجہ سے۔ یہ نقطہ نظر بتاتا ہے کہ مہنگائی کو روکنے کے لیے ڈیمانڈ کے موثر انتظام کے لیے لوگوں کے کھانے کی کھپت میں کمی کی ضرورت ہوتی ہے، جس سے مجموعی طلب متاثر ہوتی ہے۔

سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا معاشی پالیسیوں کی وجہ سے لوگوں کو اپنی خوراک کم کرنے پر مجبور کرنا معقول ہے یا اخلاقی؟ بدقسمتی سے، اسٹیٹ بینک اور مانیٹری اکنامکس اپنے فیصلوں کے انسانی پہلوؤں سے لاتعلق نظر آتے ہیں، بظاہر بین الاقوامی مالیاتی فنڈ ( آئی ایم ایف ) کی ہدایات پر وفاداری سے عمل پیرا ہیں۔ سٹیٹ بنک ایکٹ کے مطابق سٹیٹ بینک سٹیٹ آف دی اکانومی پر ایک جامع رپورٹ مرتب کر کے پارلیمنٹ میں پیش کرنے کا پابند ہے۔

اسٹیٹ بینک ہر سال اس رپورٹ کو مرتب کرتا ہے، اور اس کی رپورٹس میں جائزے کے تجزیہ کے علاوہ سب کچھ ہوتا ہے۔ اسٹیٹ بینک کے پاس کوئی ایک بھی تشخیصی رپورٹ نہیں ہے جو مانیٹری پالیسی کی درستگی اور اس کے نتیجے میں ہونے والے مارک اپ اخراجات کا جائزہ لے۔ خلاصہ یہ کہ اگر زیادہ شرح سود کی پالیسی برقرار رہی تو رواں مالی سال کے اختتام تک سود کی ادائیگیوں پر خرچ کی جانے والی رقم نو کھرب روپے تک پہنچ جائے گی جبکہ دیگر تمام سرکاری اخراجات سات کھرب روپے سے بھی کم ہیں۔

اگر سود کی شرح کو ہندوستان یا بنگلہ دیش کی سطح پر لایا جائے تو تقریباً سات ٹریلین کی سالانہ بچت ممکن ہے، جو کہ بجٹ کی ہر دوسری مختص رقم کو دوگنا کرنے کے لیے کافی ہے۔ اس کے باوجود اسٹیٹ بینک موجودہ پالیسی ریٹ پر اصرار کرتا ہے۔ جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان آتا ہے اور عام پاکستانی مالی مشکلات کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس وقت بنگلہ دیش اور انڈیا 6.5 فیصد چین 3.5 فیصد اور جاپان منفی 0.1 فیصد شرح سود دیتا ہے۔

گزشتہ پانچ برسوں میں لوگ دنیا کے بنکوں سے دو فیصد پر قرضے لے کر وہ پیسے پاکستان لاکر یہاں سے سالانہ 20 فیصد لے کر جا رہے ہیں وہ دو فیصد وہاں کے بنکوں کو دیتے ہیں اور باقی 18 فیصد سے مزے کرتے ہیں۔ یعنی دنیا کا کون سا ایسا ملک ہو گا جو سو روپے پر بائیس روپے کما سکتا ہو۔ یہ عملی طور ممکن ہی نہیں ہے۔ اس پالیسی کی وجہ سے نہ صرف ہم پر غیر ملکی قرضہ بڑھ رہا ہے بلکہ ساتھ میں اس کی وجہ سے پاکستانی کرنسی اور ڈالر میں فرق بھی بڑھ رہا ہے۔

یہ کچھ مخصوص لوگوں کا گروہ ہے جو پاکستان کو دونوں ہاتھوں سے لوٹ رہا ہے اور اس گروہ کے ہاتھ اتنے لمبے ہیں کہ وہ اپنی مرضی کے پالیسی بھی برقرار رکھتے ہیں۔ سٹیٹ بنک پاکستان کا ادارہ ہے اس کا اولین مقصد پاکستان اور پاکستانیوں کے مفاد کا تحفظ کرنا ہے مگر یہ ادارہ اس کے برعکس کر رہا ہے۔ شرح سود چھ فیصد سے زیادہ ہونے کا مطلب ہے کہ ہم ترقی نہیں کریں گے۔ بلکہ کچھ سرمایہ دار اور بنک ہی اپنی دولت میں اضافہ کریں گے۔

اور یہی ہوا ہے گزشتہ پانچ برسوں میں دیکھا جائے تو غربت بہت زیادہ بڑھ گئی ہے لیکن گنے چنے افراد، کمپنیاں اور خصوصاً بنکوں کے منافع میں لاکھوں گنا اضافہ ہوا ہے۔ آپ کسی بھی سیاسی پارٹی کے منشور میں یہ نہیں دیکھیں گے کہ وہ اقتدار میں آتے ہی شرح سود کم کر دیں گے۔ جب شرح سود کم ہو گا تو مقامی لوگ قرضے لیں گے اور کاروبار کریں گے۔ جب زیادہ ہو گا تو عام کاروباری افراد قرضہ نہیں لیں گے۔ پاکستان میں زیادہ قرضے حکومت خود لیتی ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ حکومت زیادہ شرح سود دے گی تو اس سے حکومت کو ہی نقصان ہو گا۔ اب سٹیٹ بنک حکومت پاکستان کو کھربوں روپے کا نقصان پہنچا رہی ہے۔ مگر اس ملک میں سب خاموش ہیں۔ اس ملک کا سب سے بڑا مسئلہ ہی اس وقت شرح سود کا زیادہ ہونا ہے۔ شرح سود کم کر دیں ملک میں کاروبار چل پڑے گا۔ پیسہ گردش میں آئے گا اور روزگار مہیا ہو گا۔ روزگار ملنے سے آمدن اور اخراجات کے میزانیہ میں مطابقت آئے گی۔ جو اس وقت ہندوستان، بنگلہ دیش اور دیگر ہمسایہ ممالک میں آ رہا ہے۔

اگر یہ ملک آئی ایم ایف نے چلانا ہے تو مکمل ان کو اختیار دے دیں۔ اگر اس ملک کو پاکستان کے حکام نے چلانا ہے تو وہ کریں جو پاکستان کے فائدے میں ہو۔ پاکستانی اس وقت اتنا ٹیکس دے رہے ہیں کہ دنیا میں اس کا تصور تک ممکن نہیں ہے۔ آپ صرف بجلی اور گیس کا بل دیکھ لیں آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ اصل قیمت کے مقابلے میں تین گنا ٹیکس دیا جاتا ہے۔ یہی حال بجلی کا ہے۔ یہ سب پیسہ کہاں جا رہا ہے۔ یہ پیسہ سود کی ادائیگیوں میں جا رہا ہے۔

وہ قرضے جو ہم نے لیے ہی نہیں اور نہ وہ ہم پر خرچ ہوئے۔ اس کا سود بھرنے لیے کہ لیے ہم پر بل واسطہ اور بلاواسطہ دونوں طریقوں سے ٹیکس لگائے جا رہے ہیں۔ حکمران قرض لے کر بابو شاہی کے تعیشات کا انتظام کرتی ہے اور اس کا بوجھ عوام پر ڈالتی ہے۔ پاکستان میں جتنے بھی بزنس اور اکنامکس کے سکولز ہیں یا ادارے ہیں یہ ان کا فرض بنتا ہے کہ وہ اس کو وضاحت کے ساتھ عوام اور آن پڑھ سیاست دانوں کے سامنے لائیں اور انہیں بتائیں کہ پاکستان کی معاشی بدحالی اور تنزلی کا یہ ایک واحد محرک ہے۔

اگر حکومت کے پاس سات کھرب سے زیادہ پیسے بچ جائیں تو آپ کو اندازہ ہے اس سے پاکستان کیا کیا کر سکتا ہے۔ یہ پیسہ پاکستان کے ترقیاتی بجٹ سے دو سو گنا زیادہ ہے۔ اس ملک میں سپریم کورٹ موجود ہے کیا اس کی ذمہ داری نہیں ہے کہ اس بابت سٹیٹ بنک سے باز پرس کرے۔ ہم کب تک کبھی ڈالر مافیا، کبھی چینی مافیا اور کبھی شرح سود میں بے تحاشا اضافہ کی وجہ سے اس ملک کی شہ رگ کاٹتے رہیں گے۔ کیا حکومت پاکستانی بنکوں سے یہ پوچھنے کی جرات کر سکتی ہے کہ جب ملک ڈوب رہا ہے تو ان کو یہ بے تحاشا منافع کیسے ہو رہا ہے۔

کیا یہ حکومت کی ذمہ داری نہیں ہے کہ وہ منافع پر نظر رکھے اس کے لیے جو عالمی اصول ہے ان پر ان بنکوں اور اداروں کو کاربند کرے۔ کیا اس ملک میں جو ڈرامہ بازی سیاست کے نام پر ہوتی ہے میڈیا اس سے کچھ فرصت نکال کر ایسے موضوعات پر بھی بات کرے جو ہمارے اصل مسائل ہیں۔ کیا دانشور صرف روز شام کو ٹی وی پر بیٹھ کر کسی کو حاجی اور کسی کو غدار ثابت کرنے سے فرصت نکال کر اس جانب بھی توجہ دیں گے کہ اس وقت ملک کی ساٹھ فیصد سے زیادہ آبادی دو وقت کھانے کی استطاعت کھو چکی ہے۔

ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچے سکول جانے کی استطاعت کھو چکے ہیں۔ سات کروڑ سے زیادہ افراد علاج کرانے کی استطاعت کھو چکے ہیں۔ اگر شرح سود کم کی جائے تو جو سات کھرب بچیں گے ان میں سے ایک کھرب روپے میں سارے پاکستانیوں کو پچاس لاکھ سالانہ کی ہیلتھ انشورنس دی جا سکتی ہے۔ صرف بیس ارب روپے سے ان ڈھائی کروڑ سے زیادہ بچوں کو واپس سکول بھیجا جاسکتا ہے۔

Facebook Comments HS