رنگ باز اور اس کی رنگ بازیاں


میں معذرت کے ساتھ عرض کرتا ہوں اور اس کے سوا چارہ بھی کیا ہے۔ لوگ سنتے ہیں ورنہ آج کل کے دور میں کون کسی کی سنتا ہے اور اگر کوئی سن بھی لے تو پھر کھری کھری سنا کر جانا اپنا فرض عین سمجھتا ہے۔ طول دینا چھوڑے دیتا ہوں اور اصل نکتہ کی طرف آتا ہوں۔ جناب من یہ غزالی آنکھیں، پنکھڑی جیسے ہونٹ، مخروطی انگلیاں، ستواں ناک، صراحی دار گردن یہ خوبصورتی و بدصورتی، چھوٹی و بڑی آنکھیں، لمبے و چھوٹے قد اور چٹا و کالا رنگ جیسے اوصاف مجھے کبھی سمجھ ہی نہ آ سکے۔

شاید میری آنکھوں کے سنسر ٹھیک سے کام ہی نہیں کرتے ہیں کہ جس کہ باعث میں جسم کے نشیب و فراز، رنگ و قد میں تفریق کر سکنے سے ہمیشہ سے قاصر رہا ہوں۔ ایسی کوئی چھلنی میرے پاس تو کم از کم نہیں ہے۔ میرے نزدیک رب کی بنائی ہوئی ہر تخلیق ہی شاہکار ہے۔ ہوا یہ کہ کچھ لکھاریوں اور شعرا نے ان رنگوں، آنکھوں اور نین و نقش کو لے کر معاشرے کی ذہن سازی اس انداز میں کی ہے کہ اب تمام معاشرہ ہی صرف ظاہری اوصاف پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ گو کہ یہ لکھاری و شاعر نہ ہوئے رنگ باز ہو گے۔

اب اس شعر کی بناوٹ پر ذرا غور کیجیے گا،
”سوہنے مکھڑے دا لین دے نظارہ، تے تیرا کیہڑا مل لگدا۔
ایہناں اکھیاں دا ہون دے گزارا، تے تیرا کیہڑا مل لگدا ”،

گو کہ اس شعر میں موصوف سستے میں دلی کہ مزے لوٹنا چاہتے ہیں لیکن چلیں اس سے بھی صرف نظر کرتے ہیں۔ اگر آپ میں سے کوئی اکنامک کا طالب علم ہے تو وہ جانتا ہو گا کہ اکنامک میں ایک قانون ہے جسے لا آف ڈامنشنگ مارجنل یوٹیلٹی کہتے ہیں جس کہ مطابق کسی بھی شے کی افادیت یا اس حاصل ہونے والے فائدے کی ایک خاص عمر ہوتی ہے۔ پھر استعمال کے ساتھ ساتھ اس کی افادیت اور اس سے لگاؤ کم ہونا ایک فطری امر ہے۔

اس کا مطلب ہے کہ وہ صاحب نظر جو اس وقت آپ کے چہرے پر اپنی نظریں مرکوز کیے ہوئے ہیں، وہ اپنی اس نگاہ آئینہ ساز کو صرف چہرے تک ہی ٹکائے ہوئے نہیں رکھیں گے بلکہ ادھر ادھر بھی لازماً ٹکٹکی باندھ کر دیکھیں گے۔ چھوڑیں بات بڑھ جائے گی تو بہت دور تلک جائے گی اور ویسے بھی میں سعادت حسن منٹو کے پائے کا لکھاری نہیں ہوں اور اگر ہوں بھی تو مجھ میں اتنی سکت نہیں ہے کہ نو گو ایریا کا بار اپنے ناتواں کندھوں پر اٹھا سکوں۔

اب وہی کرنے لگے دیدار سے آگے کی بات
جو یہ کہتے تھے کہ بس دیدار ہونا چاہیے

پھر اوصاف بیان کرنے والے تو ایسے کہ الا ماشا اللہ۔ اب آنکھوں ہی کے اوصاف اٹھائیں تو ایک مکمل جامع کتاب لکھی جا سکتی ہے کہ جس میں بہت سے تضاد کھل کر سامنے آ جائیں گے۔

جیسے شربتی آنکھیں یہ وصف بیان کرنے والا یقیناً کوئی چسکورا ہو گا جو کہ اپنے محبوب کو بھی پیس آف کیک سمجھ کر تناول کرنا چاہتا ہو گا۔ اب اس خونی آنکھوں کے وصف ہی کو دیکھ لیں کہ بھلا یہ بھی کوئی وصف ہوا۔ اب یا تو محبوب کی آنکھوں میں غصے کے سبب خون اترا ہوا ہو گا یا پھر اس وصف کو بیان کرنے والا شخص کوئی سیریل کلر ہو گا۔

اب جناب یہ نرگسی آنکھوں سے کیا مراد ہے ہر چند کہ نرگس کا پھول اور نرگسی کوفتے تو زبان زد عام ہیں۔ پیلاہٹ تو ویسے بھی یرقان کی علامت ہے اور آنکھوں کی سفیدی سفید موتیے کی علامت ہے۔

جناب اعلیٰ، جب یہ رنگ برنگی آنکھیں دو سے چار ہو کر دوچار ہو جاتی ہیں تو سب سے پہلے مٹکتی ہیں پھر تلملاتی ہیں اور پھر ایسا جھکتی ہیں کہ پھر پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ جناب اگر ان اوصاف کو بیان کرنے کا مقصد صرف کسی کے دیدوں کو پھوڑنا ہی ہے تو ہم بنا سنسر کہ ہی بھلے۔ میرے نزدیک ان تمام آنکھوں سے تو وہ بھینگی آنکھیں ہی بھلی کہ جو کم از کم بیک وقت مشرق و مغرب اور شمالاً جنوباً اپنی نگاہ کو دوڑا کر اگر چاہیں تو پھر ایک نقطے پر مرکوز ہو سکتی ہیں اور بقول بابا بھلے شاہ ایک نقطے وچ گل مک دی اے۔ لو جی گل آئیمک گئی اے۔

اب بھلا گال پر تل کیسے وصف ہو گیا؟ پھر اس سیاہ نکتے کو وصف جان کر اس تل کو اپنے ساتھ اٹھائے گھومنا یہ کہاں کی عقل مندی ہے؟ ان رنگ بازوں کی رنگ بازی پر میرا دل تلملا اٹھتا ہے کہ انہوں نے ایک گال پر تل کو بھی خوبصورتی سے تعبیر کر دیا ہے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو لوگ اس تل کو فوراً اکھاڑ پھینکتے کیونکہ یہ وہ تل ہیں کہ جن تلوں میں تیل نہیں ہے۔ ویسے اس بیماری کا علاج ممکن ہے اگر کوئی چاہے تو ۔

جناب گورے رنگ کے وصف بیان کرنے والوں نے تو حد ہی کر چھوڑی ہے۔ ایک تو اس رنگ کو فروغ دینے کے لیے ان کی طرف سے بہت زیادہ مبالغہ آرائی سے کام لیا گیا ہے اور دوسرا اس کمپین کو توڑ تک پہنچانے کے لئے پھر نسلی فسادات سے بھی گریز نہیں کیا گیا۔ جناب من ان نسل پرستوں نے چٹے رنگ کے اوصاف بیان کرنے پر ہی اکتفا نہیں کیا، بلکہ عملی طور پر بیوٹی کر یمز تک ایجاد کر چھوڑی کہ دوسرے تمام رنگوں کا قلع قمع ہی ہو جائے۔ اب دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں کہ کیا آپ نے کبھی رنگ کو کالا کرنے کی بھی کوئی کریم دیکھی ہے۔ اور اگر دیکھی ہے تو اس کی پروموشن کیوں نہیں ہوتی ہے کہ لوگ جلد سے جلد اس کو لگا کر اپنے رنگ کو کالا کر لیں۔

نگوڑے یہ فرنگی چاہتے ہیں کہ تمام گندمی و کالے لوگ اس گورے رنگ کے چکر میں ان کی یہ چٹا رنگ کرنے والی کریمیں استعمال کر کر کے ان ہی کی صفوں میں شامل ہوجائیں کہ پھر نہ کوئی بندہ رہے اور نہ ہی بندہ نواز، کہ ایک ہی صف میں کھڑے ہوجائیں محمود و ایاز۔

اوہ اللہ کے بندو اللہ کی بنائی ہوئی چیزوں میں نہ کچھ تمہارے لئے باعث فخر ہے اور نہ ہی کچھ باعث شرمندگی۔ اللہ کی بنائی ہوئی ہر تخلیق ایک شاہکار ہے بس دیکھنے والی آنکھ میسر ہو۔ لیکن ہم تو ایسے کہ لگے ہوئے ہیں ایک لکیر کو کھینچ کر لمبا کرنے میں اور اب تو حالت کچھ ایسی ہو چکی ہے کہ اکثر رشتہ کے لئے آنے والے در انداز، بچیوں کو ایسے دیکھتے ہیں کہ جیسے کوئی قربانی کے جانور کو بھی کیا دیکھتا ہو گا۔ بھلا یہ بھی کوئی بات ہوئی کہ بچیوں کو کھڑا کر کے ان کے قد کی فٹے سے پیمائش کی جائے اور پھر ان میں نقص نکالے جائیں۔

رب سوہنا کہتا ہے کہ اس نے ساتھ آسمان اوپر تلے بنائے ہیں۔ اے نظر رکھنے والے دیکھ تو سہی آسمان کی طرف کہ تو رب کی پیدائش میں کوئی سقم بھی نہ پائے گا اور اگر پھر اطمینان نہیں پڑتا تو ایک نظر اور باریکی سے ڈال کر دیکھ لے۔ تیری وہ نگاہ تیری طرف عاجز ہو کر تھکی ہوئی لوٹ آئے گی۔

ایک کائنات ہے کہ جس میں بلا کی نظر رکھنے والوں کو بھی آج تک کوئی سقم نہ مل سکا ایک ہم ہیں کہ اشرف المخلوقات میں سے مین میخیں نکال رہیں ہیں۔ شاید کہ ہماری نظر بس اشرف المخلوقات کہ لباس ہی کا احاطہ کر پائی ہے جو کہ اس کو زمین پر رہنے کہ لئے دان کیا گیا تھا۔

Facebook Comments HS