حکایت غم رفتہ و دوراں


میں نے سینکڑوں بار بند گلی کے بارے میں پڑھا ہے۔ بند گلیاں دیکھی بھی ہیں اور ان کی گھٹن کو پور پور اترتے محسوس بھی کیا ہے۔ تنگ سے تنگ گلی بھی تین اطراف سے بند ہونے کے باوجود ایک سمت سے ہمیشہ کھلی ہوتی ہے مگر ایسی بند گلی کبھی نہیں دیکھی جس سے نکلنے کی کوئی راہ نہ ہو۔ سمے کی دھارا نے دو سو انسانوں کو ایسی ہی گلی میں بے بسی سے تڑ پھڑانے کو لا کھڑا کیا ہے۔ موت کے فرشتے کے قریب آتے قدموں کی آہٹ نے ہر انسان کو اس خدا کی یاد پہ مجبور کر دیا جو رحمٰٰن اور رحیم ہے۔ اس کی رحمت وہ آخری تنکا ہے جسے مصیبت کی گھڑی میں ڈوبتا ہر انسان تھامنے کی ہر ممکن تگ و دو ضرور کرتا ہے۔ ہم انسان بھی کتنے خود غرض ہیں کہ فریب، بد عنوانی، کسی بے یار و مددگار کے پیروں کے نیچے سے زمین چھینتے اور کسی کی زندگی اجیرن کرتے ہوئے نہ ہی اس کی خدائی یاد رہتی ہے اور نہ ہی اس کا قہر ڈراتا ہے۔

خوف نے بند پنجرے کی اندرونی فضا بدل دی ہے پر کیا انسان کے اندر کی فضا بھی بدلے گی یا یوں ہی آلائشوں کی سڑاند سے اٹی رہے گی؟ وقت انسان کو بہت کچھ دکھاتا ہے مگر مشاہدہ بتاتا ہے کہ وقتی اثرات دیرپا نہیں ہوتے۔ رفتہ رفتہ سب کچھ بھولے بسرے خواب کی طرح ہو جاتا ہے۔ پینے کا پانی بوتلوں اور ٹینکروں میں بھر کر مہنگے داموں فروخت کرنے والے غاصبوں کا بس ہوا پہ نہیں چلتا وگرنہ وہ ضرورت مندوں سے چلتی سانسوں کا خراج وصول کرنے سے بھی اجتناب نہ کرتے۔

زندگی اور موت کے درمیان جب ایک ہی سانس کا فاصلہ ہے تو اتنا بکھیڑا کس لیے ؟ اس غیر معمولی صورت حالات نے ریڑھ کی ہڈی میں برف کے ٹکڑے بھر دیے ہیں۔ برف ہوتے جسم کے کاندھوں پہ ٹکے سر میں بھونچال کی سی کیفیت ہے۔ شاید میں کچھ زیادہ ہی سوچ رہی ہوں پر سوچ پہ کس کا اختیار ہے؟ سائنس کہتی ہے کہ موت کے کئی گھنٹے بعد تک انسان کا دماغ زندہ رہتا ہے تو اپنی چلتی سانس کے ساتھ میں اسے سوچنے سے کیسے روک سکتی ہوں؟

جہاز کافی نیچے آ چکا ہے اور قدرے سٹیبل ہے۔ آخری جھٹکا جہاز کو دس ہزار فٹ پہ لے آیا ہے تبھی تو کیبن پریشر بھی نارمل ہے ماسک کے بغیر بھی سانس لینے میں دقت نہیں ہو رہی لیکن دل یوں دھڑک رہا ہے جیسے پسلیاں توڑ کر باہر آ جائے گا۔ مجھے جتنی بھی دعائیں یاد تھیں ان کا ورد بھی جاری ہے۔ کھڑکی سے زمین پہ بکھرے شہر کی دھندلی روشنیاں نظر آنے لگیں ہیں۔ ایک بار پھر گڑگڑاہٹ سی سنائی دی ہے شاید لینڈنگ گیئر باہر آنے کی آواز ہے۔

پرواز اب اتنی نیچی ہے کہ نیچے شہر کی عمارتوں کے دھندلے نقوش بھی واضح ہونے شروع ہو چکے ہیں۔ یوں لگتا ہے جیسے جہاز فضا میں چکر کاٹ رہا ہے شاید مقامی ہدایات کا انتظار ہے یا کوئی اور وجہ ہو۔ دس منٹ سے زیادہ ہوئے چکر کاٹتے۔ اب زمینی روشنیاں بہت واضح ہیں شاید لینڈ نگ ہونے والی ہے۔ میں ملنے والی ہدایات کے انوسار بریسنگ پوزیشن میں چلی گئی۔ جہاز رن وے پہ تیز رفتاری سے پھسلتا جا رہا ہے رکنے کا نام ہی نہیں لے رہا۔ خدا خدا کر کے رفتار کم ہوئی تو مختل حواس ٹھکانے لگے۔ کھڑکی سے باہر فائر برگیڈ کی گاڑیاں اور ایمبولینس جہاز کے ساتھ ساتھ دوڑتی نظر آئیں۔

جہاز کے رکتے ہی کیبن میں روایتی ہڑبونگ شروع ہو گئی ہے۔ عملہ بار بار اعلان کر رہا ہے کہ اپنی نشستوں پہ بیٹھے رہیے مگر لوگ اسے در خور اعتنا نہیں گردان رہے۔ دروازے بند ہیں ایمرجنسی سلائیڈز بھی نہیں کھلیں ہیں بظاہر خطرہ نظر نہیں آ رہا مگر باہر کی صورتحال کا اس چھوٹی سی کھڑکی سے اندازہ لگانا ممکن نہیں۔ شاید مین بلڈنگ سے دوری کے باعث سیڑھی نہیں پہنچی ہے۔ کیبن میں بکھرے ہوئے سامان کے باعث عملہ کی مشکلات بڑھ گئی ہیں مگر اس کے باوجود وہ راستہ کلیئر کرنے کی کوشش میں مصروف ہیں۔ اپنا سامان سمیٹنے کی فکر کرتے ہوئے لوگ بھول چکے ہیں کہ چند لمحوں پہلے وہ کس قیامت سے گزرے ہیں۔ زخمیوں کی کراہیں مسلسل سنائی دے رہی ہیں۔ کچھ لوگ الانگتے پھلانگتے دروازے کے قریب پہنچ چکے ہیں اور عملے سے الجھ رہے ہیں کہ دروازہ کیوں نہیں کھل رہا؟ عملے نے بمشکل انہیں سیٹوں پہ واپس بھیجا۔

سیفٹی کے قواعد و ضوابط مسافروں کی فلاح کے لیے بنائے جاتے ہیں مگر رشوت، سفارش اور زور زبردستی کا کلچر انسانی اقدار کی پروا نہیں کرتا۔ مایا کا کھیل معاشرے کو جس راستے پہ لے آیا ہے وہ تباہی کا راستہ ہے۔ زندہ قومیں ایسے موقع پہ اپنے کردار کا بھرپور مظاہرہ کرتی ہیں۔ نظم و ضبط سے عاری دھکم پیل کرتی بھیڑ کا کوئی کردار نہیں ہوتا۔ قائد کے دیے ہوئے اصول سڑکوں چوراہوں پہ لکھے ہونے کے باوجود نہ یقین بچا نہ اتحاد اور تنظیم کی المناک موت کو عرصہ گزرا۔

زہرہ نگاہ نے برسوں پہلے جب کہا تھا کہ خدایا میرے وطن میں جنگلوں کا ہی کوئی دستور نافذ کر تب میں اکثر سوچتی تھی کہ حالات اتنے بھی دگرگوں نہیں ہیں مگر بعد کے برسوں میں بننے والی تصویر نے چاروں طبق روشن کر دیے۔ جہاں دستور کی حیثیت کاغذ کے اس ٹکڑے سی ہو جسے ناک پوچھ کر پھینک دیا جاتا ہے وہاں عام آدمی سے قواعد و قانون کی پاسداری کی توقع عبث ہے۔ چیزیں ہمیشہ اوپر سے نیچے کی طرف آتی ہیں۔ فی زمانہ قواعد کی پاسداری کرنے والوں کی اکثریت وہ ہے جس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ شاید میں قنوطی ہوتی جا رہی ہوں یا میرے پاس بھی کوئی دوسرا آپشن نہیں ہے۔

اندر سے اک آواز ڈپٹ کے بولی بس کر دو تطہیر فاطمہ کیوں ان کڑوی کسیلی باتوں سے خود پہ ظلم ڈھاتی ہو؟ تم خوب جانتی ہو کہ انسانیت کا بھاشن دینا دنیا کا سہل ترین کام ہے اور عمل دشوار ترین۔ گردش ماہ و سال نے تمہارے اعضا کمزور کر دیے ہیں۔ لمحہ موجود میں تم بھی حالات کے رحم و کرم پہ ہو، تمہاری کمزور ٹانگیں تو اپنے ہی وجود کا بوجھ نہیں سہار پا رہیں۔ سفر میں رکاوٹ کا مطلب یہ نہیں ہے کہ سفر ختم ہو گیا۔ ذرا سی مشکل کیا پڑی کہ یقین ہی ڈانواں ڈول ہو گیا۔ ایسی منفی سوچ رہی سہی توانائی بھی زائل کر دے گی۔ تمہاری کوتاہ نظر یہ دیکھ نہیں پائی کہ ساتھ والی سیٹ پہ بیٹھا نو عمر لڑکا کیا کر رہا ہے۔ وہ عملے کی مدد بھی کر رہا ہے اور تمہاری دیکھ بھال بھی۔ شرمندگی کے احساس سے میری سوچ گنگ ہو گئی۔

ہم دونوں جہاز سے اترنے والے آخری مسافروں میں سے تھے۔ میں اپنی جسمانی کجی اور وہ میری وجہ سے رکا رہا۔ وہ میرے لیے محض ایک کردار نہیں ہے بلکہ زندگی نام کی سرنگ کے دہانے سے نظر آنے والی وہ مدھم سی روشنی ہے جس کے سہارے انسانیت زندہ رہتی ہے۔

چار گھنٹے تک ہم ائرپورٹ پہ ہی رہے۔ اس دوران جو بھی ہوا وہی پرانی کہانی ہے جسے دھرانا دل جلانے کے مترادف ہے۔ کام کی بات یہ تھی کہ آسمانی بجلی گرنے سے جہاز کو نقصان پہنچا ہے۔ آج روانگی ممکن نہیں۔ ہوٹل کا بندوبست کر دیا گیا ہے۔ اپنے دستی سامان کی شناخت اور امیگریشن کے خصوصی کاؤنٹر سے گزرنے کے بعد ہم بے سر و سامانی کی حالت میں ہوٹل پہنچے۔ ان تمام مراحل میں وہ لڑکا مسلسل میری پرچھائیں بنا رہا اور ایک لمحے کو بھی احساس نہ ہونے دیا کہ میں تنہا ہوں۔

وقت کی ہنگامہ خیزی سے شل اعصاب کمرے تک پہنچتے ہی نیند کے غلبے کو روکنے میں ناکام رہے۔ بے خواب آنکھیں کب بند ہوئیں پتہ ہی نہ چلا۔ چھ سات گھنٹے بعد آنکھ کھلی تو باہر ہنوز ہلکا سا اندھیرا تھا مگر اس کی سرمئی رنگت کھلی نہیں کہ زندگی کے طلوع ہونے والے دن کے اجالے کی امید نے تاریکی کا احساس گھٹا دیا۔ روم سروس سے منگوائی کافی کی کڑواہٹ مجھے پھر سے اپنے گرد و پیش میں واپس لے آئی تو محسوس ہوا کہ مہر بانو میرے سامنے بیٹھی ہے۔ میں نے کہا، دیکھ لو مہرو کم یا زیادہ ہم سب اپنا اپنا جہنم کاٹتے ہیں۔

سوچ کا سلسلہ فون کی گھنٹی نے منقطع کر دیا۔ ائرلائن کی جانب سے آٹومیٹڈ میسج تھا جس میں ہوٹل سے باہر جانے کی ممانعت دھرائی گئی اور یہ کہ اگلی فلائٹ چھ سات گھنٹے میں متوقع ہے تاہم یہ حتمی اعلان نہیں کہ کام جاری ہے۔ اب تک کے حالات سے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں تھا کہ کام جاری ہے، یعنی مزید تاخیر متوقع ہے۔ دوسری کال اسی بچے کی تھی جس کا نام سے بھی میں لاعلم تھی سو میں نے چھوٹتے ہی کہا کہ برخوردار کل جس طرح تم نے میرا خیال رکھا اس کے شکریہ کے لیے الفاظ کافی نہیں اور مجھے تمہارا نام تک معلوم نہیں۔

ناصر انصاری نام ہے اور شرمندہ نہ کیجئے میم کہ آپ بالکل میری ماں جیسی ہیں۔ میں روم نمبر 105 میں ہوں۔ اہم خبر یہ ہے کہ جہاز کے پرزے ابھی تک نہیں پہنچے ہیں سو آٹھ دس گھنٹے اور لگیں گے دوسرا جہاز بھی آ سکتا ہے یا ہمیں کسی اور فلائٹ پہ بھی منتقل کیا جا سکتا ہے۔ جو بھی ہو میں ہر حال میں آپ کے ساتھ ہی رہوں گا۔ اب آپ آرام کیجیئے۔ اس غیر یقینی صورتحال میں یہ مختصر سی گفتگو بہت حوصلہ افزا تھی۔

کمرے میں چہل قدمی کرتے ہوئے سوچا کہ اب کیا کروں؟ بستر چھ سات گھنٹے میں کاٹنے شروع ہو جاتا ہے۔ تھوڑی سی دیر میں سوچ کے رکے ہوئے دھارے نے دوبارہ بہنا شروع کیا تو دھیان خود بخود مہر بانو کی طرف چلا گیا۔ بکھری سوچ یکجا ہوئی تو مجھے یاد آیا کہ مہر بانو نے بتایا تھا کہ بخاری کے جانے کے بعد حالات مزید کشیدہ ہو گئے تھے۔ حالات کے پے در پے تھپیڑوں نے حسن چچا کو چکرا کے رکھ دیا تھا۔ انہیں احساس ہو چلا تھا کہ وہ اکیلے اس گروہ کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔

بچاؤ کا آسان طریقہ یہ تھا کہ شکست تسلیم کر لو مگر اتنا سہن کرنے کے بعد یہ ذلت آمیز شکست ہوتی۔ انہوں نے حویلی فروخت کرنے کی درپردہ کوشش شروع کی مگر چھوٹے شہروں میں بات جنگل کی آگ کی طرح پھیلتی ہے۔ متوسط طبقے کے اس علاقے میں جھگڑے کی جھونپڑی کا نہ ہی کوئی خریدار تھا اور نہ ہی کوئی کرایہ دار۔ تناؤ کے اس ماحول میں رہنا ناممکن تھا۔

کسی نے خبر دی کہ سوشل ویلفیئر کے محکمے والے اس علاقے میں اپنا سنٹر بنانے کو بڑی جگہ تلاش کر رہے ہیں ان سے رابطہ کریں۔ حسن چچا کا ایک ملنے والا بھی ایسا ہی سنٹر چلاتا تھا۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق فوراً اس کے پاس پہنچے اور تمام صورتحال سے آگاہ کیا۔ وہ حویلی کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد کچھ شرائط پہ مدد کے لیے آمادہ ہو گیا۔ ایک شرط یہ تھی کہ نچلے پورشن میں فی الفور سوشل ویلفیئر سنٹر اور ڈسپنسری قائم کر دی جائے گی۔

فنڈ کی منظوری تک کرائے کی ڈیمانڈ نہیں کی جائے گی نیز یہ کہ زیادہ کی توقع نہ رکھیں کہ یہ سنٹر گورنمنٹ کی نگرانی میں بیرونی امداد سے چلتا ہے۔ ستر کی دہائی تک ایسے سنٹر عام تھے۔ جہاں سے بیرونی امداد میں آنے والے گرم کپڑے، کمبل، دوائیں خوردنی تیل، دودھ، مکئی وغیرہ ضرورت مندوں میں تقسیم ہوتی تھیں۔ اب تو قدرتی آفات میں بھی ملنے والی امداد یوں خرد برد ہوتی ہے کہ عوام الناس کو خبر تک نہیں ہوتی۔ جب بازاروں میں مہنگے داموں فروخت ہونے والی اشیا کا کوئی لیبل یہ راز فاش کرتا ہے تب تھوڑی بہت ہاہاکار مچتی ہے جو موٹی کھال رکھنے والے مگر مچھوں پہ بے اثر رہتی ہے۔

سردیوں کی اس ملگجی شام گھر لوٹنے سے پہلے کسی فیصلے پہ پہنچنے کی ادھیڑ بن میں وہ بہت دیر تک بلا مقصد سڑکوں پہ گھومتے گھومتے مشورے کی غرض سے وہ اس نیم تاریک گلی میں مڑ گئے جہاں ان کا ایک دوست رہتا تھا۔ ابھی راستے میں ہی تھے کہ اچانک کسی نے پیچھے سے چاقو سے وار کیا۔ تاریکی کی وجہ سے وار اوچھا پڑا اور چاقو شانے کو چھیلتا ہوا گزر کیا۔ مضبوط تن و توش کے مالک حسن چچا نے نہتے ہونے کے باوجود بھرپور مزاحمت کی تو حملہ آور گھبرا گیا اور اس سے پہلے کہ وہ اس کی صورت دیکھ پاتے تاریکی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے بھاگ لیا۔

ایک راہگیر کی مدد سے وہ خون سے لت پت اس دوست کے گھر پہنچے جو انہیں فوراً ڈسٹرکٹ ہسپتال لے گیا۔ رات گئے اسپتال اور تھانے سے میں رپورٹ درج کرا کے جب وہ گھر لوٹے تو دادی اور امی دونوں پریشان بیٹھی تھیں۔ گھریلو عورتیں رات کے اس پہر کس کے پاس مدد کو جاتیں۔ خون سے لت پت کپڑے دیکھتے ہی رونے لگیں۔ رونے کی آوازوں کے شور سے کچی نیند سے اٹھے بچے بھی گھبرا کر رونے لگے۔

دشمنی اس حد تک بڑھ جائے گی ایسا کسی کے وہم و گمان میں بھی نہ تھا۔ اگلے دن وہی دوست رشید جو انہیں اسپتال لے کر گیا تھا نے ممکنہ خطرے کو بھانپتے ہوئے مشورہ دیا کہ انہیں کچھ عرصے کے لیے روپوشی اختیار کرنی چاہیے کہ جان سے بڑھ کر کچھ نہیں اور وہ لوگ دوبارہ ایسا نہیں کریں گے اس کی کوئی گارنٹی بھی نہیں۔ پتھر کا بت توڑا جا سکتا ہے مگر خوف کا جو بت ان کے اندر پنجے گاڑ چکا تھا اسے توڑنے کو جو ہمت درکار تھی وہ حسن چچا میں نہیں تھی۔ اس واقعے نے انہیں تابوت میں آخری کیل جڑنے پہ مجبور کر دیا۔ اسی ہفتے انہوں نے سوشل ویلفیئر والوں کو ہاں کردی۔

پھر کیا ہوا تھا؟ ماضی اور حال میں قلانچیں بھرتا دماغ تھک گیا ہے۔ لکھتے لکھتے ہاتھ کپکپا رہے ہیں شاید بھوک ستا رہی ہے۔ لذت کام و دہن سے کس کافر کو مطلب ہے مگر زندگی سے ناتا برقرار رکھنا بھی ضروری ہے کہ حکایت غم رفتہ و دوراں تو چلتی سانسوں کے ساتھ جاری ہی رہتی ہے۔

Facebook Comments HS