ابوالفضل علامی ابن مبارک کی تصنیف "عیار دانش”: ایک مطالعہ
ابو الفضل ابن مبارک شیخ مبارک ناگوروی کے بیٹے اور ابوالفیض فیضی کے چھوٹے بھائی تھے۔ ابوالفضل کے خاندان کا تعلق یمن سے تھا۔ ان کے اجداد میں سے شیخ موسیٰ نامی بزرگ یمن سے ہجرت کر کے سیستان آئے اور وہیں سکونت پذیر ہوئے۔ وہ صوفیانہ مزاج رکھنے والے نیک آدمی تھے۔ ان کا خاندان تقریباً سو سال تک وہیں قیام پذیر رہا۔ دسویں صدی ہجری کے شروع میں ان کے پڑپوتے شیخ خضر نے ارادہ کیا کہ ہندوستان کے بزرگوں اور صوفیوں سے ملاقات کر کے گجرات کے راستے سے حجاز اور یمن میں جائے گا اور اپنے اصلی وطن کی سیر کرے گا جہاں ان کے بزرگ رہتے تھے۔
شیخ خضر سیستان سے بمبئی آئے اور ہندوستان میں صوفیا اور بزرگوں سے ملاقات کی۔ صوفیا کا ایسا اثر ہوا کہ شیخ خضر نے یمن جانے کا ارادہ ترک کر دیا اور ہندوستان میں ہی مستقل قیام پذیر ہو گئے۔ ہندوستان میں ابو الفضل ابن مبارک کے والد شیخ مبارک پیدا ہوئے۔ انہوں نے خوب علم حاصل کیا ہمایوں کے دربار سے وابستہ رہے مبارک کے بزرگ حنفی کہلاتے تھے اور صوفی تھے۔ شیخ مبارک مستقل طور پر آگرہ میں قیام پذیر ہو گئے۔ ان کے گھر میں بعض روایات کے مطابق 1551 عیسوی میں اور بعض کے مطابق 1651 عیسوی جبکہ زیادہ تر محققین کی رائے میں 1551 عیسوی میں ابو الفضل ابن مبارک کی پیدائش ہوئی۔ شیخ مبارک نے بیٹے کا نام ابو الفضل اپنی پیر کی نسبت سے رکھا۔ اب الفضل بچپن سے بہت ذہین تھے۔ تعلیم میں والد نے نہایت احتیاط سے رہنمائی کی اور تربیت میں والدین دونوں نے کوئی کسر نہ چھوڑی۔
ابو الفضل ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
ابتدا بہ مامک و مایہ نیازیدم چوطفل
زان کہ ہم مامک رقیسبم بودوہم بابای من
بچپن سے وہ جو بھی پڑھتے اسے سمجھتے اور سوال اٹھاتے۔ اپنی شک و شبہات کو بیان کرتے۔ جوان ہوئے تو ایک فرقہ ابھرنے لگا جسے لوگ ملحد فرقہ کہتے تھے۔ میر سید محمد جونپوری کے علم و فضل سے بہت سے نوجوان متاثر تھے لیکن انہیں شیخ مبارک سے عقیدت تھی۔ شیخ نے انہیں کئی بار سمجھایا کہ اپ کے خیالات درست نہیں۔ شیخ اور میر سید محمد جونپوری کی ملاقات کی وجہ سے لوگوں نے انہیں بھی ملحد کہنا شروع کر دیا لیکن یہ بات درست نہیں تھی۔ لوگوں کے رویے سے تنگ آ کر شیخ نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ گجرات کا سفر کیا جہاں بادشاہ کے پیر کی سفارش پر انہیں بادشاہ کے دربار سے منسلک کر لیا گیا۔ دربار میں اپنی ذہانت اور علم سے ابو الفضل نے اپنے بھائی کے ہمراہ خوب ترقی کی اور بڑے عہدوں پر فائز رہے۔
ابو الفضل ابن مبارک مترجم، شاعر، مورخ، سیاست دان اور مصنف تھے۔ فارسی زبان و ادب سے لگاؤ انہیں وراثت میں ملا۔ ان کی لیاقت اور علم ایسا کہ ہر مضمون پر عمدگی سے بحث کر سکتے تھے۔ ابو الفضل کے والد اور بھائی کے کتب خانے میں کتابوں کا ایک بہت بڑا ذخیرہ تھا۔ بھائی اور والد کے انتقال کے بعد وہ کتابیں ابوالفضل کے زیر مطالعہ رہیں جن سے استفادہ کرتے ہوئے انہوں نے کئی کتابوں کا مطالعہ کیا۔
بادشاہ جلال الدین محمد اکبر کے نو رتنوں میں سے ایک ابو الفضل بھی تھے۔ اپنی علمیت، ذہانت اور بادشاہ سے وفاداری اور محنت کی بدولت ابوالفضل صدر الصدور کے عہدے پر فائز ہوئے۔ اکبر کے ہر حکم کی تعمیل خود پر فرض سمجھتے تھے بادشاہ کی نظر میں انتہائی وفادار ثابت ہوئے۔ وہ قلم میں مہارت رکھتے تھے لیکن تلوار میں بھی خوب ماہر تھے۔ دربار میں ابو الفضل نے ترقی کرتے ہوئے جہاں وزیراعظم کا عہدہ حاصل کر لیا وہیں ان کے دشمن اور ہاتھ دین بھی بہت سارے بن گئے۔ شہزادہ سلیم بھی ان میں شامل تھا۔ شیخ ایک مہم میں دکن تھے تو واپسی پر انہیں قتل کروا دیا گیا۔ انتقال کے وقت شیخ ابو الفضل 52 برس کی تھے۔
ابو فضل بن مبارک کا نام آج تک ہندوستان اور ایران کے فارسی ادب میں مشہور ہے تو وہ دربار سے منسلک ہونے کی وجہ سے نہیں اور نہ ہی ان کے وزیراعظم بننے کی وجہ سے ہے، بلکہ ان کی شہرت اور نام ان کی علمی لیاقت اور انشاء پردازی کی وجہ سے ہے۔ ہندوستان میں موجود فارسی زبان و ادب سے وابستہ اہل علم ابو الفضل کا حوالہ لازمی دیتے ہیں اور ان کا فارسی زبان و ادب میں مقام و مرتبہ بتاتے ہیں۔
شیخ ابوالفضل کی انشاء پردازی کے بارے میں حافظ سمیع اللہ اپنی کتاب ”انتخاب عیار دانش“ میں لکھتے ہیں کہ:
”شیخ انشا پردازی میں بے مثل قدرت رکھتا تھا اور اس کی مطلب نگاری اپنا نظیر نہیں رکھتی۔ اس کی تصنیفات عربی و فارسی دونوں میں ہیں۔ کلام میں انتہا کی روانی اور صفائی پائی جاتی ہے۔ فارسی میں ان کا انداز تحریر دو نہج پر ہے۔ ایک میں تو وہی قدیم انداز قائم رکھا ہے جس میں الفاظ کی شان و شوکت اور بہتات۔ دوسرا انداز وہ ہے جس میں اس نے سادگی اختیار کی ہے۔ فارسی کے نئے نئے الفاظ اپنی طبیعت سے تراش کر بیان کیے ہیں۔ مختصر بیانی خاص طور پر ملحوظ رکھی ہے اور قدیم فارسی کو از سر نو زندہ کیا ہے۔“ 1
ابو الفضل بن مبارک کی تحریروں میں ایک بڑی تعداد خطوط کی بھی ہے جو انہوں نے شہنشاہ کی طرف سے دیگر ریاستوں کے سربراہان، شاہی فرمان اور سرکاری معاملات کے لیے لکھے۔ ان خطوط میں ان کا انداز تحریر انتہائی خوبصورت اور فارسی دلکش ہے۔ جو محققین اور مورخین شہنشاہ اکبر کے عہد کی تاریخ لکھنا چاہتے ہوں ان کو ابو الفضل کے خطوط سے بڑی مدد مل سکتی ہیں۔
مولوی غلام الثقلین ابو الفضل بن مبارک کے انداز تحریر کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
”ابوالفضل کا کلام بہت دقیق اور مشکل خیال کیا جاتا ہے اور اس کے ہر فقرے اور ہر سطر میں استعارے بھرے ہوئے ہوتے ہیں۔ فارسی لکھنے والوں میں ابو الفضل شاید سب سے زیادہ عربی الفاظ استعمال کرتا ہے۔ اسی سبب خالص فارسی پڑھنے والوں کو سخت مشکل پیش آتی ہے۔ ابو الفضل کے کلام سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کو فارسی اور عربی پر پوری طاقت حاصل تھی۔ کسی لفظ کے لیے اس کو رکنا نہ پڑتا تھا۔ وہ اپنے کلام کو قصداً دقیق کرنا نہ چاہتا تھا لیکن اس کی معلومات اور مطالعہ کے سامنے ممکن نہ تھا کہ وہ محدود لفظوں کا استعمال کرے۔ وہ بعض بعض فکرے نہایت سلیس اور مختصر لکھ جاتا ہے جو سادگی اور پاکیزگی میں سعدی کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں مگر ایسے فقرے بہت کم ملتے ہیں۔“ 2
ابو الفضل بن مبارک کے طرز تحریر کے بارے ناقدین کی رائے میں جو بات مشترک ہے وہ یہ ہے کہ ان کا اسلوب سادہ اور عام فہم نہ تھا۔ بعض بعض جگہوں پر سادہ اور سلیس زبان میں ملتی ہے لیکن زیادہ تر تحریروں میں مشکل اور دقیق الفاظ استعمال کیے ہیں۔ مولوی غلام الثقلین نے ابوالفضل بن مبارک کی حالات زندگی بعنوان ”ابو الفضل علامی کے سوانح عمری“ لکھ کر رسالہ حیدراباد دکن میں چھپوایا۔ اس سوانح عمری میں انہوں نے ابو الفضل کی طرز تحریر کو دقیق کہا ہے لیکن ان کے اس مشکل پسندی کی وجہ سے اتفاق کیا جا سکتا ہے کہ صاحب علم اور صاحب مطالعہ ادیب کا جیسا مطالعہ ہو گا ویسا ہی اسلوب ہو گا۔
ابوالفضل غیرمعمولی صلاحیتوں کا مالک تھا۔ ایک طرف وہ علم و فضل میں یگانہ روزگار تھا۔ دوسری جانب طاقت و شجاعت میں بے مثل تھا۔ وہ شاعر بھی تھا اور نثر نگار بھی۔ سیاست دان بھی اور دانشور بھی تھا۔ ابو الفضل مروجہ شاعری کو روحانی مرض سے تعبیر کرتے تھے۔ یہ ان کی طبیعت کا مزاج تھا کہ عاشقانہ اور رنگین مضامین اس کے مطابق نہ تھے۔ اس صف میں ان کی قلم کی روانی کم ہو جاتی ہے۔ ان کا طرز خاص رموز حکمت کا انکشاف اور سنجیدہ بحث پر گامزن تھا۔ اس میں جو کچھ لکھتے کمال لکھتے ہیں۔ ان کی تحریر میں عربی الفاظ، فقروں اور جملوں کی کثرت اور عربی اف فارسی محاورات کی بندش کا اہتمام ہے۔
ابو الفضل اپنے لیے ایک جگہ لکھتے ہیں کہ:
دود چراغ خوردہ شب آوردہ ام بدفد
معذورم از نماند دماغ مرا تری
ابوالفضل کی تقریباً تمام عمر خانقاہ اور کتب خانے میں گزری۔ ان کی علمیت اور انشاء پردازی کو فارسی زبان و ادب میں خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے۔
ابوالفضل کی اہم تصنیفات میں آئین اکبری، اکبر نامہ، عیار دانش، دیباچہ رزم نامہ، مناجات، مکاتب ابوالفضل اور دیباچہ تاریخ الفی شامل ہیں۔
اکبرنامہ و آئین اکبری:
اکبر نامہ ابوالفضل کی لکھی ایسی کتاب ہے جس میں مغل شہنشاہ اکبر اعظم کی زندگی کے احوال و قصے بیان ہوئے ہیں۔ یہ فارسی زبان میں لکھی گئی ہے۔ اس کی تین جلدیں ہیں۔ پہلی جلد تیمور، بابر اور ہمایوں وغیرہ کے دور اور خاندان کو بیان کرتی ہے۔ دوسری جلد (آئین اکبری) اور تیسری جلد اکبر کے زمانے سے اس کے انتقال تک ہو بیان کرتی ہے۔ آئین اکبری جلال الدین اکبر کے عہد کی ایک مستند دستاویزی کتاب ہے۔ اس میں اکبر کے عہد کے تمام قانون و اصول ہائے سلطنت کو بیان کیا گیا ہے۔
اکبر کی 46 سالہ نظم و نسق کی تاریخ اور سلطنت کا صوبہ وار جغرافیہ بھی شامل کیا گیا ہے۔ ابو الفضل ابن مبارک نے اکبر نامہ اور آئین اکبری لکھ کر ان آئینی ضروریات کو پورا کر دیا تاکہ کسی بھی صوبے یا علاقے کا دستاویزی ریکارڈ بھی مرتب ہو سکے۔ سر سید احمد خان نے مغلیہ عہد کی اس اہم تصنیف کی تصحیح کے بعد تاریخی اور توضیحی حواشی کا اضافہ کیا اور اسے 1855 ء میں دلی سے شائع کیا۔ اس تاریخی اور اہم کتاب کے کئی ایڈیشن چھپ چکے ہیں۔
عیار دانش مختصراً جائزہ
عیار دانش کا شمار اپنے عہد کی انتہائی اہم فارسی تصنیفات میں ہوتا ہے۔ یہ ابوالفضل کی ترجمہ شدہ کتاب ہے۔ ”عیار دانش“ دراصل ایک شاندار روایت یا تسلسل کی اہم کڑی ہے۔ ابو الفضل بن مبارک نے حسین واعظ کاشفی کی کتاب انوار سہیلی کا سلیس فارسی نثر میں جدید ترجمہ کیا۔
انوار سہیلی معروف کلیلہ و دمنہ کا عربی سے فارسی ترجمہ ہے اور کلیلہ و دمنہ سنسکرت کی کتاب پنج تنتر کا ترجمہ ہے۔ اس خوبصورت تسلسل اور کتاب کی کہانی سے پہلے اس کے پس پردہ واقعات کا مختصراً جائزہ ضروری ہے۔
ہندوستان کی قدیم تاریخ کے مطابق جب سکندر اعظم نے راجا پورس کو شکست دی تو اس نے ایک یونانی کو گورنر مقرر کر دیا لیکن عوام نے اسے قبول نہ کیا اور بغاوت کرتے ہوئے اپنا حکمران راجہ رائے دابشلیم کو منتخب کیا۔ لیکن بدقسمتی سے جب دابشلیم حاکم مقرر ہوا تو وہ تکبر اور غرور کی انا سے بد مزاج ہو گیا۔ رعایا اسے حاکم بنا کر خود پچھتانے لگی۔ لوگ اس عہد کے فلسفی برہمن پجاری ”بیدپا فیلسوف“ جس کا اصل نام ”وشنوشرما“ تھا اس کے پاس گئے اور اس سے التجا کی کہ وہ بادشاہ کو سمجھائے تاکہ وہ اپنی رعایا پر بد مزاج نا ہو اور ظلم و ستم کا سلسلہ ختم ہو۔
کسی بد مزاج کو سمجھانا آسان نہیں ہوتا، اس بدمزاجی کے ساتھ اگر وہ حکمران ہوتو سمجھانا تو دور ایسا سوچنا بھی مشکل ہے۔ برہمن وشنو شرما نہیں سوچ بچار کے بعد بادشاہ سے ملنے کا فیصلہ کیا۔ جب اس نے راجا کو سمجھانے کی کوشش کی تو راجا دابشلیم نے برہمن کو قید کروا دیا۔ خوش قسمتی سے اسی رات تاروں کی گردش نے اسے وشنو شرما برہمن کو قید سے آزاد کرنے پر مجبور کر دیا۔ راجا نے برہمن کو بلایا تو اس نے کہا میں اپ کو کہانی سنانا چاہتا ہوں بادشاہ کی اجازت کے بعد برہمن نے جانوروں کی زبان میں بظاہر جانوروں کی جو کہانیاں سنائیں۔
وہ دلچسپ اور سبق آموز ہونے کے ساتھ ساتھ امور سلطنت کے لیے رہنما بھی تھیں۔ ان میں برہمن نے وہ گر بیان کر دیے جو کامیاب حکمرانی کے لیے ضروری ہوتے ہیں۔ خوش قسمتی سے راجا رائے دابشلیم ان کہانیوں میں پوشیدہ اصل سبق کو سمجھ گیا اور ان سے متاثر ہو کر اپنی رعایا کے لیے آسانیاں پیدا کیں۔ راجا نے برہمن وشنو شرما سے ان کہانیاں کو کتابی صورت میں محفوظ کرنے کا کہا۔ وشنو شرما نے ان کہانیوں کو تخلیق کیا اور پنج تنتر کے نام سے کتاب تصنیف کی۔ جسے دیگر حکمرانوں سے پوشیدہ رکھتے ہوئے شاہی خزانے میں محفوظ رکھا گیا۔
پنج تنتر میں وشنو شرما کی تخلیق کردہ قدیم ہندوستان کی ایسی کتاب ہے جس میں جانوروں کی کہانیاں انہی کی زبان میں تحریر کی گئی ہیں۔ یہ ایسی کہانیاں ہیں جن میں اخلاقی اور سماجی پہلو ہیں۔ ان کی مدد سے انسانی جذبات و محسوسات کو وابستہ کرتے ہوئے اخلاقی خوبیوں، خاندانی اور معاشرتی پابندی کے ساتھ ساتھ دیوتاؤں، لوگوں اور جانوروں کے ساتھ جڑی ضرب الامثال اور اقوال کے ذریعے حکمرانی کے کام میں تدبر کا درس دیا گیا ہے۔ پنج تنتر پانچ ابواب پر مشتمل تھی اسی وجہ سے اسے پنج یعنی پانچ اور تنتر یعنی کتاب کہا جاتا ہے۔ اس شاندار تصنیف کا کئی زبانوں میں ترجمہ ہوا۔ یہ کتاب ہر زمانے میں ادب کے ہر شعبے پر اور ادبی تحریکات کے تمام گوشوں پر اثر انداز ہوئی ہے۔
”کلیلہ و دمنہ“ اصلاً پنج تنتر کا عربی زبان میں ترجمہ شدہ کہانیوں کا مجموعہ ہے۔ اسے خلافت عباسیہ میں مشہور عربی ادیب عبداللہ ابن المقفع نے ترجمہ کیا لیکن اسلوب اور انداز اپنا الگ اپنایا۔ اس ترجمہ کو پنج تنتر کا سب سے بہترین ترجمہ قرار دیا جاتا ہے۔ مختلف جانوروں کو مختلف کرداروں کے ذریعے کہانی میں شامل کیا ہے۔ ابن المقفع نے کتاب میں جانوروں کے جو کردار شامل کیے ہیں، ان میں شیر کو بادشاہ بنایا ہے۔ اس میں کئی موضوعات شامل ہیں جن میں سب سے اہم موضوع بادشاہ اور رعایا کے تعلقات ہیں۔
جب اصل پنج تنتر نایاب ہو گئی تو بعد کے سارے تراجم کلیلہ و دمنہ کو ماخذ بنا کر ہی کیے گئے۔ کلیلہ و دمنہ کے نام سے جو نسخے موجود تھے وہ سامنے رکھ کر نصر اللہ مستوفی نے وہ فارسی نسخہ مرتب کیا جس کی زبان اصطلاح میں جدید کہلائی۔ حسین واعظ کاشفی نے کلیلہ و دمنہ نصر اللہ سامنے رکھ کر کچھ اضافہ کیا اور نہایت پرتکلف اور شاندار زبان میں ایک تالیف بلکہ تخلیق کی۔ یہی تخلیق قدیم سنسکرت کارنامے کی معروف اور مقبول ترین شکل ہے جسے ”انوار سہیلی“ کہا جاتا ہے۔
ابو الفضل ابن مبارک نے انوار سہیلی کا جدید فارسی ترجمہ کیا اور اسے عیار دانش کا نام دیا۔ شیخ حفیظ الدین نے عیار دانش کو ماخذ بناتے ہوئے اردو میں ترجمہ کیا اور نام خرد افروز رکھا۔ یہ کتاب دو جلدوں پر مشتمل ہے اور اسے مجلسی ترقی ادب لاہور نے شائع کیا۔ مفتی رفیع الدین حنیف قاسمی نے بھی اس شاندار تصنیف کا اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ گزشتہ برس ڈاکٹر حنا جمشید نے کلیلہ و دمنہ کے نام سے اردو میں ترجمہ کیا اور اسے جہلم بک کارنر نے شائع کیا۔
ابو الفضل ابن مبارک نے ”عیار دانش“ کے نام سے فارسی زبان میں انتہائی خوبصورت اور دلکش ترجمہ کیا، اسے انوار سہیلی کا سلیس ترجمہ بھی کہا جاتا ہے لیکن ابو الفضل کی انشاء پردازی کی خوبصورتی اپنا الگ معیار رکھتی ہے۔
آئین اکبری مرتبہ سرسید احمد خان کی ابتدا میں اصغر عباس لکھتے ہیں کہ:
”اکبر اعظم کے ممتاز نو رتنوں اور وزیروں میں ابوالفضل اعلامی کا شمار ہوتا ہے۔ شیخ ابوالفضل 15 برس کی عمر میں اپنے زمانے کے علوم متدادلہ معقول و منقول پر عبور حاصل کر چکا تھا۔ اس نے کلیلہ و دمنہ کو عیار دانش کے نام سے فارسی کے قالب میں ڈھالا۔ عبداللہ شاہ بخارا اکبر اعظم کے تیروں سے زیادہ انشائے ابو الفضل کا قائل تھا۔ ابوالفضل کی تحریریں ہندوستان کے مدارس میں عرصہ دراز تک نصاب کا حصہ تھیں۔“ 3
ابوالفضل بن مبارک نے عیار دانش کا ترجمہ انتہائی محنت اور لگن سے کیا ہے۔ شاندار تصنیف میں اصل کتاب کا کوئی حصہ ایسا نہیں رہا جس کو عیار دانش میں بیان نا کیا ہو۔ اس کتاب کا مقصد اس خوبصورت تصنیف کو سادہ اور عام فہم بنانا تھا۔ ہندوستان میں کئی دہائیوں تک عیار دانش کے منتخب حصے ہائی سکول کے نصاب میں پڑھائے جاتے تھے۔ ایسا ہی ہے ایک انتخاب حافظ سمیع اللہ کا ”انتخاب عیار دانش“ کے نام سے بھی دستیاب ہے جو نصابی ضروریات کو سامنے رکھ کر ترتیب دیا گیا۔
عیار دانش میں رائے دابشلیم اور بیدپا فیلسوف (وشنوشرما) کا قصہ شامل ہے۔ اس کے علاوہ مختلف جانوروں کو مختلف کرداروں کے ساتھ شامل کرتے ہوئے بد کرداروں کی سزا، چغل خوری، دوستی، دشمنوں سے نڈر رہنا، حکایات، غفلت اور لاپرواہی کے نقصان، خون ناحق، چاپلوسی کرنے والوں سے دوری، زاہد و دانا کی حکایتیں، بادشاہ اور رعایا کے تعلقات سے آگاہی اسباق شامل ہیں۔
عیار دانش میں جن جانوروں کے ذریعے برہمن وشنو شرما کی کہانیاں شامل ہیں۔ ان جانوروں میں شیر، بیل، الو، کوے، بندر، کچھوا، چوہا، بلی، گیدڑ، لومڑی، بگلا، کبوتر اور شیرنی شامل ہیں۔
عیار دانش کے بارے میں حافظ سمیع اللہ لکھتے ہیں کہ:
” عیار دانش ایسی کتاب ہے جو حکمت کی باتوں پر مبنی ہے اور کسی متعارف مذہب و ملت سے اس کا کوئی لگاؤ نہیں۔ ہر شخص کے لیے یکساں فائدہ بخش اور باعث بصیرت ہے۔“ 4
ایسے مترجم اور مصنف بہت کم ہوتے ہیں جنہوں نے کسی تصنیف کو اس قدر محنت اور جانفشانی سے لکھا ہو۔ مصنف کے کلام میں کیسا ہی زور کیوں نہ ہو جب تک وہ اپنی ساری محنت، پوری کوشش اور مکمل توجہ کو صرف نہیں کرتا اس کی کتاب مقبول نہیں ہوتی۔
ابو الفضل زبان اور علم ادب کے لحاظ سے عیار دانش میں اپنی پوری محنت اور علمیانہ لیاقت سے کام لیتے ہیں۔
سید عابد علی عابد مقدمہ خرد افروز میں عیار دانش کے بارے میں لکھتے ہیں کہ:
”“ عیار دانش ”؛ عیار بہ کسر حرف اول کسوٹی کو کہتے ہیں اور دانش عقل و فہم و خرد ہے۔ کبھی بینشن کے ہم معانی ہوتی ہے، کبھی بینشن کے مقابلے میں اتی ہے۔ یعنی جہاں بینشن وہ علم ہو جو بہ وساطت حواس خمسہ حاصل ہوتا ہے، اس کے مقابلے میں دانش علم بطریق وجدان کو کہتے ہیں۔ ابو الفضل کا مفہوم یہ ہے کہ ہر شخص گدا ہو یا بادشاہ، تدبیر منزل اور سیاست مدن کے معاملے میں اپنے اعمال و افعال کو اس کتاب کی کسوٹی پر کس سکتا ہے۔ مطابق معانی کتاب پائے تو اس کا عمل کھرا سکہ رائج الوقت ہے، ورنہ اس کا بازار حیات کاسد ہو کر رہے گا کہ نقد ناسرہ لے کر چلا ہے۔“ 5
جلال الدین اکبر کے عہد میں ابو الفضل ابن مبارک نے کلیلہ و دمنہ پنج تنتر اور انوار سہیلی کے دستیاب نسخوں کو ماخذ بنا کر عیار دانش کے نام سے جو ترجمہ کیا، وہ اپنی تفہیم اور اسلوب میں ابو الفضل کے عمومی اسلوب سے مختلف ہیں۔ ابوالفضل کے ہاں اسلوب دقیق اور الفاظ مشکل ہوتے ہیں لیکن عیار دانش اس عمومی رویے سے مختلف، سادہ اور سلیس ہے۔ کیونکہ عیار دانش میں ابو الفضل کا مقصد ہی اس تاریخی اور شاندار تصنیف کو سادہ اور آسان بنا کر پیش کرنا تھا۔
جس میں ابو الفضل کامیاب بھی ہوئے۔ پنج تنتر کے بعد کلیلہ اور دمنہ اور کلیلہ و دمنہ کے بعد عیار دانش اپنے بعد آنے والے تراجم کا بنیادی ماخذ بنیں۔ عیار دانش اتنی شاندار تصنیف ہے کہ ہندوستان کے مدارس میں دہائیوں تک سکولوں کے نصاب کا حصہ رہی۔ اس اہم تصنیف کے تراجم کا سلسلہ عصر حاضر تک جاری ہے۔ یہ تصنیف ہر خاص و عام کے لیے مفید ہے، اگر وہ اس سے واقعی استفادہ کرنا چاہے تو۔ جانوروں کی زبان میں مشہور ناول اینیمل فارم اسی طرز کا ناول ہے۔
ایسی کہانی کا ایک فائدہ یہ بھی ہوتا ہے کہ کسی انسانی نام یا کردار کا ذکر کیے بغیر بڑے سے بڑا مقصد بھی حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جیسے برہمن نے راجا کو رعایت سے محبت کرنا سکھا دیا اور بڑا مقصد حاصل کر لیا۔ ابوالفضل کا نام سیاست اور بڑے عہدوں پر رہنے کی وجہ سے زندہ رہے یا نا رہے لیکن ادبی خدمات کی وجہ سے فارسی ادب میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔


