نیند کا فالج یا Sleep Paralysis
انسانی کی وہ جسمانی کیفیت جب بندہ سو رہا ہو یا غنودگی کی حالت میں محسوس کرے کہ وہ حواس میں ہے پر نہ حرکت کر سکتا ہے اور نہ ہی بول سکتا ہے۔ اس حالت کو سیلپ پیرالائسسز کہتے ہیں۔ بندہ اس کیفیت میں مبتلا اس وقت بھی ہو سکتا ہے، جب وہ پورے حواس میں ہو۔ سلیپ پیرالائسسز کو ہماری زبانوں مختلف ناموں سے پکارتے ہیں۔ پشتو میں ”کھپس“ ہماری شنا میں ”نینگو“ ۔
اس حالت میں یہ بھی محسوس ہو سکتا ہے کہ کوئی آپ کو دبا رہا ہے۔ کوئی بندہ آپ کی سانس روک رہا ہے۔ جسم پر ثقیل اور بھاری بوجھ محسوس ہوتا ہے۔ یوں جہاں آپ سو رہے ہیں وہاں پر کوئی دوسرا بندہ بھی ہے۔ ممکن ہے کہ آپ کو یہ لگے آپ دوڑ رہے ہیں یا دوڑایا جا رہا ہے۔ بھگانے والا قدم کی دوری پر ہے اور بس وہ آ کر آپ کو جکڑ لے۔ اس سب صورتحال میں آپ ہیں کہ بے بس، تمام ہمت جواب دے جاتی ہے۔ پر یہ سب سراب ہے، حقیقت میں کچھ نہیں ہوتا۔ وہ الگ بات ہے کہ آپ ڈر اور خوف محسوس کرتے ہیں۔ یہ سب کچھ چند ساعتوں کے لئے ہی ہوتا ہے یا پھر چند منٹ۔
اس کے بارے بہت سارے اوہام اور فرضی افسانے زبان زد عام ہیں۔ ہزار منہ ہزار باتیں۔ آپ سو رہے ہیں، مگر آپ کا دماغ اس وقت متحرک ہے یعنی نیم غنودگی کی حالت، پھر بھی اس صورتحال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔ سائنس اس حوالے سے کوئی ٹھوس رائے نہیں رکھتی۔ کیونکہ اس کے لئے کوئی خاص سائنسی عمل جسم میں وقوع پذیر نہیں ہو رہا ہوتا ہے۔
البتہ سائنسی حوالے سے اس بارے میں مختلف نفسیاتی اور جسمانی disorders کو ذمہ دار ٹھہرایا جاتا ہے۔
Insomnia
نیند کا ٹھیک سے نہ ہونا، نیند کا دورانیہ چھوٹا پڑ جانا، یا کسی بھی وجہ سے نیند نہ آنے کی صورتحال سے دو چار ہونا۔ اس کو بھی ان وجوہات سے جوڑا جاتا ہے۔
Narcolepsy
ایک لمبے عرصے تک (Long term) رہنے والی کیفیت جس میں یک قلم بندہ نیند میں چلا جاتا ہے۔
PTSD (Post Traumatic Stress Disorder)
جسمانی چوٹ یا جذباتی زخموں کی وجہ سے بننے والے نفسیاتی، اعصابی اور رویے پر پڑنے والے اثرات کو بھی اس کے وجوہات میں سے ایک گردانا جاتا ہے۔
Panic Disorder
ہلچل یا دوسرے ہیجانی کیفیات سے دوچار ہونے سے بھی ایک قسم کی خوف ہراس کی صورتحال بھی موجب بنتی ہے۔
Family Background.
اس کو جینیاتی کڑی سے تو نہیں باندھا جاسکتا ہے، البتہ خاندانی روش بھی اس کا آلہ کار بن سکتی ہے۔ یعنی خاندان میں یہ سلسلہ چلتا آ رہا ہے تو آگے بھی چلے گا۔
کیا کیا جائے کہ ہم سکون کی نیند سو سکیں۔ بہتر یہی ہے کہ نیند کا دورانیہ پورا ہو۔ عموماً چھے سے آٹھ گھنٹے کی نیند کو صحت مند زندگی کے لیے موزوں سمجھا جاتا ہے۔ نیند کا وقت بھی مقرر ہونا ضروری ہے۔ مطلب کہ early to rise، early to bed پر عمل کیا جائے۔
اب جن چیزوں سے پرہیز کیا جانا چاہیے وہ یہ کہ کیفین، نکوٹن اور الکوحل پر مشتمل مصنوعات کو استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ الحمدللہ! الکوحل سے ہم مسلمان اجتناب ہی کرتے ہیں۔
ایک دوسری وجہ جس سے ہمارے بڑے بھی ہمیں منع کرتے ہیں کہ پیٹ کے بل لیٹنا یا پیٹھ پر سونا بھی اس کی وجہ ہیں۔


