خدا اور بارش


مارچ 2018 میں مجھے بے خوابی کا مرض ہو گیا۔ بے خوابی سے نجات کے لیے لاشعور مجھے تخیل کی دنیا میں لے گیا۔ اس دوران نظم ”خدا اور بارش“ کی آمد ہوئی۔ اگر آپ اسے پڑھتے ہوئے تخیل کی دنیا میں جانا چاہیں تو تصور کریں کہ آپ چھوٹے بچے ہیں۔ گاؤں میں رہتے ہیں جس کے چاروں طرف سر سبز فصلیں اور باغات ہیں۔ تھوڑا فاصلے پر نیم صحرائی علاقہ بھی ہے اور فاصلے پر دریا بہہ رہا ہے۔ بارشوں کا موسم ساون آ گیا ہے۔ گھنے سیاہ بادل چھا گئے ہیں اور بارش شروع ہو گئی ہے۔

گاؤں میں گڑ اور دلیہ کی دیگ پکا کر بانٹی گئی ہے۔ ہلکی ہلکی بارش سارا دن جاری ہے اور رات آ گئی ہے۔ مولوی صاحب بارش میں دوڑتا ہوا مسجد جاتا اور عشاء کی اذان دیتا ہے۔ بارش نے ٹھنڈ کی کیفیت پیدا کر دی ہے اور ہماری اماں نے اپنی شال ہمیں اڑھا دی ہے۔ اب مسئلہ ٔ یہ ہے کہ مکڑے کی شادی کی جو تاریخ طے ہوئی تھی وہ صبح آ گئی ہے۔ بارش رکے یا جاری رہے، مکڑے کی برات نے دلہن لینے دریا پار لازمی جانا ہے، وہاں انتظار ہو رہا ہے۔

باراتیوں میں آپ اور دیگر سارے بچے شامل ہیں۔ مکڑے کو کپڑے کے گھوڑے پر بٹھایا جاتا ہے جو دھم دھم ناچتا ہوا برات کے آگے آگے چلتا ہے۔ دریا کنارے آ کر ہم سب باراتیوں کو کشتی میں سوار ہو کر دوسرے کنارے جانا ہے۔ رنگ برنگی جھنڈیوں سے سجی کشتی دریا میں چل رہی ہے اور ہم سب بچے مکڑے کی شادی کے گیت گا رہے ہیں۔ ہلکی بارش جاری ہے۔ دریا میں ایسی جل پریاں ہیں جن کا چہرہ خوبصورت عورت کا اور جسم مچھلی کا ہے۔ وہ ہماری کشتی کے قریب آ کر پانی سے اپنا چہرہ نکال کر ہمیں خوش آمدید کہتیں اور ہمارے ساتھ گیت گاتی ہیں۔

ان جل پریوں نے ہم سب بچوں کو موتی، صدف اور سیپیاں تحفے میں دی ہیں۔ دریا کے دوسرے کنارے اتر کر ہم ایک چھوٹے سے سر سبز جنگل میں آ گئے ہیں۔ رنگ برنگے خوبصورت پرندے اڑان بھر کر دلہن کے گھر بتانے چلے گئے ہیں کہ برات نزدیک آ گئی ہے۔ جنگل کے ہرنوں اور خرگوشوں نے ہمارے لیے ہائی ٹی کا انتظام کیا ہوا ہے جس میں بادام والے کیک، کشمیری چائے، بادام اخروٹ اور کاجو والا سوہن حلوہ اور الائچی والی جلیبی ہے۔ یہاں سے ہرن اور خرگوش بھی برات میں ہمارے ساتھ شامل ہو جاتے ہیں۔

اب ہم دلہن کے گاؤں آ گئے ہیں جو ایک سر سبز پہاڑی کی ڈھلوان پر ہے۔ آبشاریں اور چشمے بہہ رہے ہیں نیچے شفاف پانی کی جھیل بھی ہے۔ دلہن والے رنگ برنگی چھتریاں اٹھائے کیونکہ ابھی رم جھم پھوار ہو رہی ہے، ہمارے استقبال کے لیے نکل آتے ہیں۔ ہم سب بچوں کو گلاب، چنبیلی اور موتیے کے ہار پہناتے اور رقص کرتے ہوئے گیت گاتے ہیں۔ ہم بھی رقص میں شامل ہو جائیں تو کوئی حرج نہیں یہاں ”رقص کی مخالفت کرنے والے“ ہمیں دیکھ تھوڑی رہے ہیں، پھر یہ ہماری اپنی دنیا ہے۔

دلہن والوں نے ہمارے لیے لذیذ کھانوں کا اہتمام کیا ہے۔ چاندنی والی میزوں پر ڈشیں سجی ہیں جن میں مرغ پلاؤ، مچھلی پلاؤ، ساگ ڈھوڈا، چاول کے آٹے کی بنی میٹھی چلرا روٹی، بہاولپوری توشے اور مکھانے، گڑ والے چاول اور برف والے پانی میں بھگوئے ہوئے آم شامل ہیں۔ یاد رہے کہ ہم نے شام ہونے سے پہلے واپس اپنے گاؤں لوٹنا ہے کیونکہ بارش رات کو موسلادھار ہو جاتی ہے۔ رخصتی کے وقت دلہن اپنی سکھیوں کے گلے لگ کر تھوڑا روتی ہے لیکن آپ پریشان نہ ہوں باقی زندگی مکڑے نے رونا ہے۔

میری اس سرائیکی نظم کو اردو ترجمے کے ساتھ پڑھیں اور ساتھ ساتھ تخیل کی دنیا میں بھی چلے جائیں۔
”خدا اور بارش“

نی سہیلیو! آکھو ولا رب ملن ساکوں آویسی، گھن ساکوں روہی ویسی، میگھ ملہار ڈکھا ویسی (سہیلیو! کہو، اللہ ہمیں ملنے آ جائے گا۔ وہ ہمیں روہی لے جائے گا جہاں بارش برس رہی ہے ) ساون مہینہ شروع تھیا، رم جھم پھوار وسا ویسی، گجدا بدل وسدا ہے مینھ، مٹھے چاول کھوا ویسی (ساون کا مہینہ شروع ہو گیا ہے۔ رم جھم پھوار برس رہی ہے۔ بادل گرج رہا ہے۔ ساون ہمیں میٹھے چاول کھلا جائے گا) نی رکدا مینھ پالا لگے، اماں دی شال پوا ویسی، کنٹر منٹر تھیندی رات آسی، ملاں کوں بانگ ڈیوا ویسی (رم جھم بارش رک ہی نہیں رہی، سردی لگ رہی ہے۔ ہماری اماں نے سردی سے بچانے کے لیے اپنی شال ہمیں اوڑھا دی ہے۔ اسی رم جھم میں رات آ گئی ہے۔ مؤذن بارش میں عشاء کی اذان دینے اپنے گھر سے مسجد جائے گا)

پھلاں دا باغ پینگاں پو سن، کھیڈ ساکوں لوا ویسی، گڈے گڈی دی شادی تھیسی، گھوٹ کوار سجا ویسی (ساون کے اس مہینے میں پھولوں والے باغ میں جھولے جھولے جائیں گے۔ ہم سب بچے وہاں کھیلیں گے۔ گڑیا اور گڑے کی شادی ہو گی اور دولہا اور دلہن دونوں کو سجایا جائے گا) لکڑ دی بھاہ ڈالہ پکے، ساری وستی ونڈا ویسی، کپڑے دا گھوڑا دھم دھم نچے، نال ساکوں نچا ویسی (گڑیا اور گڑے کی شادی میں لکڑی کی آگ پہ دلیہ پکایا جا رہا ہے جو شادی کی خوشی میں سارے گاؤں میں تقسیم ہو گا۔ شادی میں کپڑے کا گھوڑا بھی دھم دھم ناچ رہا ہے اور ہم سب بچے بھی اس کے ساتھ ناچ رہے ہیں )

دریا پار مکڑے دی جنج، بیڑی دی سیر کرا ویسی، عشق دا جنگل کالی جھڑی، اکبر میاں کوں پسا ویسی (دریا کے پار مکڑے کی بارات نے جانا ہے، چلو اس بہانے کشتی کی سیر ہی کر لیں گے۔ عشق کا جنگل اور کالے سیا بادل ہیں جو اکبر میاں پہ برسنے والے ہیں ) ۔

احباب! بچے معصوم ہوتے ہیں۔ اگر ہم دنیا کو جنگوں اور لڑائیوں سے پاک کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے معاشروں کو لالچ، ہوس، انتقام اور غلبہ کی خواہش اور نفرت سے پاک کرنا ہو گا۔ کبھی آپ نے چھوٹے بچوں کو بھی ایک دوسرے سے مذہب، نسل، رنگت، برادری اور زبان کی بنیاد پہ نفرت کرتے دیکھا ہے؟

بہاول پور اٹھارہویں صدی تک تو ایک بڑے گاؤں کی سطح کا تھا اور اس میں سرائیکی زبان بولنے والے رہتے تھے۔ پھر یہاں کے حکمرانوں کو سلطنت کے امور چلانے کے لیے زیادہ تعداد میں پڑھے لکھے افراد کی ضرورت پڑی تو انھوں نے برصغیر کے دیگر علاقوں سے اردو زبان بولنے والے بھی اپنے پاس بلوا لیے۔ بیسویں صدی میں یہاں باقاعدہ نہری نظام کی بنیاد ڈالی گئی تو ریاست کے وسائل میں اضافہ کرنے کے لیے صحرائی زمینوں کو آباد کرنے کے لیے پنجابی زبان بولنے والوں کو پنجاب کے مختلف حصوں سے بلوایا گیا۔ سندھی زبان بولنے والے بھی کم تعداد میں پہلے سے یہاں رہتے تھے۔

آج 25 جنوری 2024 کو میں یہ سطریں لکھ رہا ہوں تو اس وقت تک بہاول پور ایک ملٹی نیشنل سٹی بن چکا ہے۔ پشتو، کشمیری اور ہندکو بولنے والے بھی بڑی تعداد میں آ کر یہاں آباد ہو چکے ہیں۔ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور، قائد اعظم میڈیکل کالج بہاول پور، گورنمنٹ ٹیکنالوجی کالج بہاول پور اور صادق پبلک سکول بہاول پور وغیرہ میں باہر سے آنے والے بلوچی، براہوی، شینا، کھوار، گلگتی، بلتی، چترالی، پشتو، سندھی، فارسی، ہزارگی اور دیگر زبانیں بولنے والے طلباء کی تعداد سات ہزار سے بڑھ چکی ہے۔ جب سردیوں اور گرمیوں کی تعطیلات میں یہ طلباء واپس اپنے صوبوں کو جاتے ہیں تو بہاول پور کے کچھ ڈھابے، ٹی اسٹالز اور ریسٹورنٹس خالی خالی سے نظر آتے ہیں۔

یہ بات تسلیم ہے کہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاول پور میں زیرتعلیم ستر ہزار سے کچھ کم طلباء اس شہر کی معیشت کو بھی فائدہ دے رہے ہیں۔

ایک دلچسپ بات بتاؤں، باہر سے آنے والے کچھ طلباء کسی مخصوص زبان والے لہجے میں بات کر رہے تھے جس کا لہجہ کبھی انگریزی کا لگتا تھا تو کبھی جرمن زبان کا۔ پوچھا تو کہنے لگے ان کی یہ زبان گلگت۔ بلتستان کے چترال کے ساتھ لگنے والے بارڈر کے علاقہ میں بولی جاتی ہے۔ خیر۔

اچھا احباب! آپ کو ایک اور عجیب بات بتاؤں۔ لوک ورثہ اسلام آباد میں پاکستان کی علاقائی زبانوں کا فیسٹیول تھا، راقم بھی وہاں گیا۔ وہاں مجھے بتایا گیا کہ قیام پاکستان سے بھی پہلے چائنیز مسلمانوں کی ایک تعداد چین سے ہجرت کر کے گلگت۔ بلتستان میں آ کر آباد ہوئی اور یہ مسلمان چائنیز زبان بولتے ہیں یعنی چینی زبان بھی پاکستان کی ایک علاقائی زبان کے طور پہ پہلے سے چلی آ رہی ہے۔

اب باہر سے آنے والے ان طلباء کی فیمیلیز بھی بہاول پور شہر میں شفٹ ہونا شروع ہو گئی ہیں جس کی وجہ سے یہاں مکانوں کے کرائے بھی بہت بڑھ گئے ہیں تاہم یہ لوگ مقامی معیشت کے لیے ایک نعمت ہیں۔ اکبر شیخ اکبر کی دعا ہے کہ میرے شہر میں مختلف زبانیں بولنے والے یہ لوگ ہمیشہ آپس میں محبت اور چاہت کے ساتھ رہیں اور کبھی زبان کی بنیاد پر ایک دوسرے سے نفرت نہ کریں ورنہ صدیوں سے محبت کا گہوارہ چلا آنے والا یہ خطہ بھی اپنا امن کھو بیٹھے گا۔ کیا رکھا ہے نفرتوں میں؟

وفا و خلوص کے پیکر یہ سارے
کشمیر و گلگت بلتستان ہے ہمارا
کاغان و سوات خوبصورت نظارے
غیور پشتون کا وزیر ستان ہے ہمارا
ژوب گوادر ہم دل ہیں ہارے
بہادر بلوچ کا بلوچستان ہے ہمارا
صدیوں سے جس کی تہذیب کے نعرے
سندھی دلنواز کا مہر ان ہے ہمارا
زبان و الفاظ میں مٹھاس ہے پیارے
میٹھے سرائیکی کا چولستان ہے ہمارا
شائستگی میں تم سے آپ پکارے
اردو بولنے والے مان ہے ہمارا
محنت سے زمین سے نکالے تارے
یار پنجابی تو شان ہے ہمارا
اکبر میاں سب محبتوں کے مارے
خیبر و کراچی پاکستان ہے ہمارا

Facebook Comments HS