اعتماد کیسے بڑھائیں؟


ہمارے تعلیمی نظام کی ایک بڑی خرابی ہے کہ یہ ہمیں نوکری کے لئے تو تیار کرتا ہے لیکن شخصیت بنانے میں مدد نہیں کرتا ہے۔ تعلیم کا مقصد صرف کیریئر بنانا نہیں بلکہ کردار سازی اور اخلاقی تربیت بھی ہے۔ ایک تعلیم یافتہ شخص کو پتا ہونا چاہیے کہ زندگی کا اصل مقصد کیا ہے، وہ جانتا ہو کہ دولت صرف پیسہ نہیں ہے، دولت وہ ہمدردی کا جذبہ بھی ہے جو دوسرے انسان کے لئے ہو۔ حق وہ نہیں جو اس کو چاہیے بلکہ حق وہ بھی ہے جو اس نے کسی کا غصب کر رکھا ہو۔

ایک بہتر شخصیت بننے کے لئے خود کی اہمیت کو سمجھنا بہت ضروری ہے، یہی اعتماد کی پہلی سیڑھی ہے۔ ہمیں یہ پتا ہونا چاہیے کہ پیسوں سے بھری جیب امیری نہیں اور خالی جیب اور بے روزگاری کے باوجود ہم غیر اہم نہیں ہیں۔

باپ بے روزگار ہو جائے تو اس میں کوئی شرم والی بات نہیں، کل کوئی اور بھی اسی جگہ ہو سکتا ہے، ضرورت صرف کوشش اور توکل کی ہے۔ آسان زندگی آسان آخرت کی گارنٹی نہیں دیتی ہے۔ اچھا اور برا وقت ہر کسی کے لئے ہے لیکن اپنے اپنے وقت پر۔

انسان کے اندر سب سے بڑا ڈر لوگوں کا ہوتا ہے۔ لوگ کیا کہیں گے، لوگ ہنسیں گے، لوگ مذاق نہ اڑائیں، لوگ کیا سوچیں گے۔ جس کا ڈر ہونا چاہیے اگر وہ ہمارے اندر آ جائے تو باقی سب ڈر ختم ہو جائیں گے۔

یہ ایک سجدہ جسے تو گراں سمجھتا ہے
ہزار سجدے سے دیتا ہے آدمی کو نجات

اعتماد کیسے بڑھایا جا سکتا ہے، آئیں سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ سوچ، احساس اور عمل کا آپس میں گہرا تعلق ہوتا ہے، اگر سوچ پر قابو پا لیا جائے تو احساس مثبت رہتا ہے اور احساس مثبت ہو تو عمل خود بخود اچھا ہو جاتا ہے، یہی وہ طریقہ ہے جس سے ہم نا صرف اپنا حال تباہ ہونے سے بچا سکتے ہیں بلکہ مستقبل کو بھی سنوار سکتے ہیں۔

ایک واقعہ سناتا چلوں۔ بہت عرصہ پہلے کی بات ہے، ایک ملٹی نیشنل ٹیلی کام کمپنی میں نوکری کے دوران پروموشن انٹرویوز چل رہے تھے۔ خوش قسمتی سے اللہ نے مجھے بھی فائنل لسٹ میں شامل ہونے کا موقع دے دیا تھا۔ میں اور میرا ایک دوسرے ڈیپارٹمنٹ کا کولیگ اپنی اپنی باری کے انتظار میں تھے کہ پینل کے سامنے جائیں۔ انٹرویو سینئر پوزیشن کے لئے تھا۔ اچانک میری نظر کولیگ پر پڑی جس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں، میں نے حوصلہ دیتے ہوئے اسے یہی بات سمجھائی کہ سوچ کو وقتی طور پر روک لو تو حال اچھا رہے گا، حالت والا حال بھی اور زمانے والا حال بھی، لیکن سوچ میں خوف شامل ہو گیا تو یہ احساس مستقبل بھی خراب کردے گا جو کچھ دیر بعد کمرے میں پینل کے سامنے شروع ہونا تھا۔ اگر یہ سمجھ لیا جائے کہ بد سے بدتر کیا ہے تو وہی ہے جو ابھی ہے، تو بہتر ہے کہ گھبراہٹ کو نہ آنے دیں تاکہ کامیابی کے امکانات بڑھ جائیں۔

علم اور سچ اعتماد کو بڑھاتے ہیں اور لوگوں کے سوچنے یا ہنسنے کی فکر ختم کر دیتے ہیں۔ ایک جاننے والے بتاتے ہیں کہ ان کے بیٹے کی کلاس میں پریزینٹیشن تھی اور وہ شدید خوف میں مبتلا تھا کہ زبان نہ رک جائے، کلاس فیلوز نہ ہنسیں بلکہ اس کے مطابق ٹیچر بھی معمولی سی غلطی ہونے پر باقی بچوں کے ساتھ ہنستی تھیں جن کی ذمہ داری شخصیت سازی اور اعتماد بڑھانا تھی۔ اس خوف کی وجہ سے بچہ شدید پریشان تھا۔ میں نے اس بچے سے بات کی اور سمجھایا کہ خود کو اہم سمجھو، علم اور سچ کو ساتھ لے کر جاؤ اور سوچ کو آنے سے کچھ دیر کے لئے روک دو تاکہ حال اور حالت قابو میں رہیں اور آنے والا وقت خراب نہ ہو۔ وقت تو گزر ہی جاتا ہے، کیوں نا اس کو تھوڑی سی کوشش سے اچھا بنا لیں۔

کچھ ماں باپ یا گھر کے بزرگ خود تربیت کی کمی کا شکار ہوتے ہیں۔ بچوں کے سامنے غیبت کرنا، جھوٹ بولنا، روپے پیسے کو پوجنا، دوسروں کو برے القابات سے نوازنا، حسد کرنا غرض کہ ہر وہ کام کرنا جو ان کی دنیا و آخرت اور بچوں کی شخصیت تباہ کردے۔ تم نالائق ہو، تم کچھ نہیں کر سکتے، یہ وہ باتیں ہیں جو بعض گھروں میں کی جاتی ہیں اور بچوں سے خود اعتمادی چھیننے کا باعث بنتی ہیں۔

میں کر سکتا ہوں یا کر سکتی ہوں، بچوں اور بڑوں کے اندر یہ رویہ موجود ہو تو اللہ کی رضا کے ساتھ دنیا کا کوئی کام ناممکن نہیں ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ ان باتوں کا خیال رکھیں جو میں اوپر بتا چکا ہوں۔ علم، سچ، اپنی اہمیت کو جاننا اور خوف والی سوچ کو روک دینا، ایسے موقع پر یہ سمجھیں کہ بد سے بد تر وہی ہے جو ابھی ہے، اس لئے اپنے اندر تبدیلی لائیں اور بڑی سے بڑی مشکلات کو آسان بنا لیں۔

Facebook Comments HS