کابل کی عبداللہ زہرہ


ایک زمانہ وہ بھی تھا جب طاقت اور دولت کے اعتبار سے دنیا میں ہمسر برطانیہ کا کوئی نہ تھا۔ ترکی سے لے کر شمالی افریقہ، اور عرب سے لے کر برصغیر تک کوئی ملک اس کی بے رحم یلغار سے محفوظ نہ تھا۔ انیسویں صدی میں برطانوی تسلط کے خلاف انسانی آزادی کی گونج مشرق کے ہر گوشے سے اٹھی۔ لیکن پہاڑوں کے دیس افغانستان میں جس ذلت آمیز انجام سے دو چار ہو کر برطانوی افواج کو پسپا ہونا پڑا، دنیا میں اس کی مثال نہیں ملتی۔ آزادی کے نام پر اٹھے قدموں کی گرد سے لے کر حریت کے اڑتے لہو کے دھاروں تک ہر ایک داستان آب زر سے لکھے جانے کے قابل ہے۔ دسمبر 1879 افغانستان کی تحریک آزادی میں مردوں کے ساتھ ساتھ میدان جنگ میں خواتین کے مجاہدانہ کردار کی عظیم داستان میں ایک نہ بھلایا جانے والا نام عبداللہ زہرہ بھی ہے۔

شہر کابل کا ایک محلہ جو عاشقان و عارفان کے نام سے آباد تھا لیکن شہرت اس محلے کے لوگوں کی ان کی بڑی بہادری تھی۔ اسی محلے میں ایک نوجوان خوبرو اور دلیر عبداللہ عاشقان بھی تھا۔ نسبت اس کی ہمسائے کی لڑکی زہرہ سے طے ہو چکی تھی۔ 13 دسمبر 1879 کو کابل کے باہر جنگ جب برطانوی افواج اور مجاہدین کے درمیان گھمسان کی جنگ چھڑی ہوئی تھی۔ ان کے نکاح کی رسم بڑی سادگی سے انجام پا گئی۔ تقریب نکاح میں زیادہ لوگ نہ تھے کیونکہ اکثر جوان جہاد پر جا چکے تھے۔ شام ہوئی تو مقامی رسم کے مطابق اس کی ماں نے بیٹے کی ایک انگلی پر مہندی لگا دی۔ یہ اس بات کی علامت تھی کہ آج ہی سہاگ کی رات ہے۔ یخ بستہ رات میں جب دولہا پہلی بار اپنی دلہن کے پاس گیا تو اس وقت کوہ آسمائی کے جنگی محاذ پر برطانوی فوج کے قبضے اور مجاہدین کی پسپائی کی خبر پھیل چکی تھی۔

ہر غیرت مند مسلمان خاتون کی طرح زہرہ بھی یہ سن کر اضطراب میں تھی اور اس بے چینی نے شادی کی خوشیوں کو بے حیثیت کر دیا تھا۔ چنانچہ زندگی کی اس پہلی اور یاد گار ملاقات کے موقع پر دلہن نے دولہا سے کہا: کیسی عجیب بات ہے کہ جب محلے کے سبھی جوان فرنگیوں سے جہاد کے لئے نکلے ہوئے ہیں اور عبداللہ حجلہ عروسی میں ہے۔ عبداللہ نے یہ سنا تو تڑپ کر بستر سے اٹھ گیا اور بولا، سچ کہتی ہو اس وقت مجھے یہاں نہیں بلکہ میدان جنگ میں ہونا چاہیے، زہرہ میں جا رہا ہوں اگر واپس نہ لوٹا تو اگلے جہان میں ہی تم سے ملاقات ہوگی۔ یہ کہ کر اس نے تلوار کمر سے لٹکائی، بندوق تھامی او ر تیزی سے محاذ جنگ کی طرف روانہ ہو گیا۔ عبداللہ کی طرح اور بھی نوجوان تھے جو مجاہدین کی پسپائی کی خبر سنتے ہی راتوں رات محاذ کی طرف چل دیے تھے۔

ان تازہ دم مجاہدین مین عثمان خان صافی اور اس کا بھائی محمد شاہ خان بھی تھے جو اپنے قبیلے کی قیادت کر رہے تھے۔

ان بھائیوں کی ایمانداری اور دلیری کے قصے مشہور تھے۔ برطانوی ایجنٹوں نے جنگ سے قبل عثمان خان کو محاذ سے واپس چلے جانے کے عوض تین لاکھ روپے کی پیش کش کی تھی جو اس مرد حر نے ٹھکرا دی تھی۔ 14 دسمبر 1879 کی جنگ میں ان بھائیوں نے ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر بہادری کے جوہر دکھائے اور فرنگیوں کے کشتوں کے پشتے لگا دیے۔ اس دن کابل کے پہاڑوں پر جرات و عزیمت کی ایک نئی داستان لکھی گئی۔ کابل کی چار سو با پردہ خواتین پہاڑی راستوں پر دوڑ دوڑ کر مجاہدین کی مدد کر رہی تھیں۔ ان کے ہاتھوں میں پانی کی چھاگلیں اور بغل میں روٹی کی پوٹلیاں تھیں۔ گولیوں اور گولوں کی بارش میں جان ہتھیلی پر رکھ کر وہ مجاہدین کو پانی، خوراک اور مرہم پٹی کا سامان فراہم کر رہی تھیں۔ ان میں سے 83 شہید ہوئیں اور اپنی قوم کو قربانی کا نہ بھولنے والا سبق دے گئیں۔

مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس دست بدست لڑائی میں انگریزوں کی لاشیں کوہ آسمائی کی چوٹی سے یوں گرتی نظر آ رہی تھیں جیسے پہاڑی تودہ کھسکنے کے بعد بلندی سے پتھروں کی بارش ہوتی ہے۔ عثمان خان گولہ باری کی زد میں آ کر زمین پر گر پڑا لیکن ساتھیوں کی پیش قدمی برابر جاری رہی، انگریزی فوج کو اپنی جدید توپیں چھوڑ کر میدان جنگ سے بھاگنا پڑا۔ جنگ کے اختتام پر تمام پہاڑی قلعے اور مورچے انگریزوں سے پاک ہو چکے تھے۔ جنرل رابرٹس اپنی بچی کھچی فوج کے ساتھ شیر پور کے قلعے میں محصور ہو گیا تھا۔ شام کو شہیدوں کے جنازے کابل میں لائے جا رہے تھے اور لوگ نہایت عقیدت سے ان کا استقبال کر رہے تھے۔ ان میں ایک جنازہ عبداللہ کا بھی تھا جو محلہ عاشقان میں لایا گیا۔

بوڑھی ماں نے اپنے بیٹے کو دیکھا تو آنکھوں سے آنسو بہہ کر جھریوں بھرے چہرے کو تر کرنے لگے۔ تب زہرہ اپنے وفا دار شوہر کے دیدار کے لئے آگے بڑھی، اس کی مہندی لگی انگلی کو بوسہ دیا اور بولی : ماں مت رو، جب تک میں زندہ ہوں عبداللہ کی جگہ تیرا بیٹا بن کر رہوں گی۔ کابل میں زہرہ اس دن کے بعد عبداللہ کے لقب سے مشہور ہو گئی۔ قوم کی یہ بیٹی جب تک زندہ رہی کابل میں اسے مثالی احترام حاصل رہا۔ کابل کی بڑی بوڑھیاں آج بھی عبداللہ زہرہ کی داستان سناتے ہوئے آب دیدہ ہو جاتی ہیں۔

یاد رہے کہ 1879 زمانہ انگریزوں کے انتہائی عروج کا تھا 1841 کی نسبت اب وہ سلطنت کی وسعت، افواج کی طاقت اور صنعتی و سائنسی ترقی کے لحاظ سے بہت آگے نکل چکے تھے۔ یورپ میں ان کا ہم پلہ کوئی نہ تھا۔ انہیں امریکا اور روس پر برتری حاصل تھی۔ ہندوستان کا ہر گوشہ ان کے قبضے میں تھا۔ عرب و عجم ان کے حلقہ بگوش تھے۔ انگریز سلطنت میں سورج ڈوبنے کا محاورہ اسی دور سے تعلق رکھتا ہے۔ اس کے با وجود دنیا کی یہ سب سے بڑی طاقت مسلمانوں کے جذبہ ایمانی کے سامنے حقیر ہو کر رہ گئی۔

برطانیہ کے لئے یہ منظر عبرت ناک تھا کہ جدید مواصلاتی نظام، اسلحہ اور توپوں سے لیس ایک منظم اور تربیت یافتہ ساٹھ ہزار افواج میں سے تیس ہزار فوج مجاہدین کے ہاتھوں جنگوں میں ماری جا چکی تھی اور باقی ماندہ منہ لٹکائے واپس آ رہی تھیں۔ اور آج ہم اپنے پرکھوں کے عظیم کارناموں کو منہ لٹکا کر سنتے ہیں اور پھر لمبی تان کے سو جاتے ہیں۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments