آج کیا پکائیں؟


بہت مشکل سوال ہے کہ آج کیا پکائیں؟ اس سوال نے یقین جانئیے کہ ہمیں پکا دیا ہے۔ سب کچھ پکا پکا کر تھک گئے ہیں یہ سوال مگر اپنی جگہ جوں کا توں موجود ہے۔ ہر روز جونہی ذرا دم لینے کو بیٹھتے ہیں تو اچانک گھر کے کسی گوشے سے یہ آواز گونجتی ہے اور خوامخواہ دماغ کو مصروف کر دیتی ہے۔ ہمارے دماغ کے سی پی یو میں ابتدائی کیلکیولیشن شروع ہوجاتی ہے جو کسی انتہائی سادہ سے جواب کی صورت باہر آتی ہے۔ اگلے ہی لمحے ’ابھی پرسوں ہی تو پکایا تھا‘ کے حوالے کے ساتھ ہمارا جواب رد ہوجاتا ہے۔

ہم سوچنے لگتے ہیں کہ ایسا کیا ہے جو ماضی قریب میں نہیں پکایا۔ سوچنے پر معلوم ہوتا ہے کہ سوائے حرام خوراکوں کے ہم تو سب کچھ پکا چکے ہیں۔ اب کیا کریں؟ کچھ سمجھ نہیں آتا۔ تنگ آ کر ہم دال پکانے کا کہہ دیتے ہیں۔ طوفان سے پہلے کی ایک خاموشی ماحول پر مسلط ہوجاتی ہے۔ ہمیں پہلے الجھن ہوتی ہے پھر باقاعدہ خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ ہم ڈرتے سہمے رک رک کر پوچھتے ہیں

’پھر لے آؤں دال؟‘

خاموشی بدستور قائم رہتی ہے۔ پہلے پہل ہم مشہور محاورے کے مطابق اس خاموشی کو نیم رضامندی سمجھ کر دال لے آتے تھے مگر تجربات سے معلوم ہوا کہ ضروری نہیں کہ ہر محاورہ ہر جگہ درست بیٹھتا ہو۔ شروع شروع میں تو جب اس قدر ’بے تکلفی‘ نہ ہوئی تھی ہماری دال گل جاتی تھی مگر اب تو صورت حال یہ ہے مہینے میں شاید ایک بار ہزاروں منتوں خوشامدوں کے بعد دال لانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ اس پر ایک نیا سوال کھڑا ہوجاتا ہے کہ آپ تو دال کھا لیں گے باقی لوگوں کا کیا قصور ہے؟ وہ کیا کھائیں گے؟

عجیب معاملہ ہے۔ جب ہم یہی بات ٹینڈوں یا بینگن کے بارے میں کرتے ہیں تو ہماری کوئی شنوائی نہیں ہوتی۔ سچ ہے کہ زبردست کی شکایت سب سنتے ہیں کمزور کی فریاد پر بھی کوئی کان نہیں دھرتا۔ کسی مہا پرش کا کیا ہی عمدہ قول ہے کہ ’بینگن اگر انسانی شکل میں ہوتا تو میں اسے چوک میں سرعام پھانسی دے دیتا۔ ‘

بینگن کے بارے میں ہماری رائے بھی کم وبیش یہی ہے فرق بس یہ ہے کہ ہمارے قول میں لفظ بینگن کے ساتھ ساتھ حسب ضرورت بے شمار نام آتے ہیں جنہیں خدشہ ء نقص امن کے تحت پوشیدہ رکھنا ہی قرین مصلحت ہے۔

عمر گزری جاتی ہے مگر ہمیں تین باتوں کی آج تک سمجھ نہ آ سکی۔ اول یہ کہ شاعری کے لئے استعمال ہونے والا علم عروض کیا بلا ہے؟ دوم یہ پاکستان چل کیسے رہا ہے؟ اور سوم یہ بینگن آخر کیا ہے؟ جبکہ اس کی ایک قسم کی بھی قطعاً ضرورت نہیں تو یہ دو اقسام میں کیوں ہے؟

نسل در نسل پکنے والے بہت سے سالن نئے زمانے میں معدوم ہوئے۔ سبزیوں سے ذائقہ اٹھ گیا۔ برائلر چکن کھا کھا کر ہم سب بھی ان ہی کی طرح ہو گئے۔ بڑا گوشت نقصان دیتا ہے۔ کھا نہیں سکتے۔ چھوٹا گوشت روز پکا نہیں سکتے۔ مچھلی صرف سردیوں میں کھا سکتے ہیں۔ اس کا سالن بھی اماں کے بعد کسی کو ٹھیک سے بنانا نہیں آتا۔ گوبھی دو دن پہلے پکا چکے ہیں۔ پائے بہت ٹائم لیتے ہیں۔ کدو کے بارے کچھ لکھنے سے قاصر ہیں۔ ڈر لگتا ہے۔ مکس سبزی کل پکائی تھی۔ ساگ پچھلے ہفتے پکایا تھا دو دن لگاتار چلتا رہا۔ کچھ سمجھ نہیں آ رہا۔ آیت الکرسی اور چاروں قل پڑھ کر جاتا ہوں۔

ہمت باندھتا ہوں۔ ایک بار دال کا پوچھ کر دیکھتا ہوں۔

Facebook Comments HS