سمرتی ایرانی اور حرم نبوی: خرد کے شہر میں دیوانگی نہیں ہوتی

ان دنوں بھارت کے اقلیتی امور کی وزیر سمرتی ایرانی کے وفد کے ہمراہ مسلمانوں کے مقدس شہر مدینہ کے دورے کا معاملہ موضوع بحث ہے۔ سمرتی ایرانی نے 7 اور 8 جنوری 2023 ءکو سعودی عرب کا دورہ کیا۔ جدہ میں حج و عمرہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں شرکت کی اس کے بعد سعودی عرب کے وزیر حج و عمرہ ڈاکٹر توفیق بن فیضان کے ساتھ ایک ایم او یو”باہمی معاہدہ“ پر دستخط کیے، جس کے مطابق اس سال بھارتی حجاج کا کوٹہ ایک لاکھ 75 ہزار مقرر کیا گیا۔
سمرتی ایرانی پہلی غیر مسلم خاتون ہیں جنہوں نے وفد کے ہمراہ مدینہ منورہ کا دورہ کیا۔ دورے پر سوشل میڈیا میں ملا جلا ردعمل سامنے آیا کچھ صارفین ان کے سر نہ ڈھانپنے پر تنقید کر رہے ہیں تو بعض یہ کہہ رہے ہیں کہ جب حرم کی حدود میں غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے تو انہوں نے مدینہ کا دورہ کیسے کیا۔ علماء کا کہنا ہے کہ غیر مسلموں کے مدینہ جانے پر کوئی شرعی پابندی نہیں ہے۔ البتہ سعودی حکومت کے قیام کے بعد یہ روایت رہی ہے کہ کوئی غیر مسلم مدینہ کا دورہ نہیں کرتا تھا۔
سعودی سیاحتی اتھارٹی کی ویب سائٹ وزٹ سعودی کے مطابق غیر مسلم افراد مکہ اور مدینہ کی مقدس مساجد ”مسجد نبوی اور مسجد الحرام“ میں داخل نہیں ہوسکتے تاہم اس کے اطراف کے تاریخی اور ثقافتی مقامات سب کے لیے کھلے ہیں۔ سمرتی ایرانی نے اپنے قیام کی مسجد نبوی کے اطراف سے تصاویر ٹویٹ کیں۔ اس سے قبل 23 جولائی 2018 کو مکہ پولیس نے اس سعودی کو گرفتار کیا۔ جس نے یہودی رپورٹر گل تماری کو مکہ میں داخلے میں مدد کی تھی۔
اسرائیلی چینل 13 نیوز نے اس صحافی کی 10 منٹ کی رپورٹ نشر کی تھی جس میں انھیں مسجد الحرام کے سامنے سے گزرتے اور جبل رحمت پر چڑھتے دکھایا گیا تھا۔ صدارت عامہ برائے امور حرمین شریفین کے سربراہ عبد الرحمن السدیس نے مقدس مقامات کے احترام پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ کسی خلاف ورزی کو برداشت نہیں کیا جائے گا، چاہے اس کا تعلق کسی بھی قومیت یا کام کی نوعیت سے کیوں نہ ہو۔ گویا مسجد حرام میں داخلہ پر اب بھی پابندی ہے۔
حج یا عمرہ کے لئے جب آپ مکہ اور مدینہ کی حدود میں داخل ہوتے ہیں تو بورڈ پر عربی اور انگریزی زبان میں واضح طور پر ”غیر مسلموں کا داخلہ ممنوع ہے“ درج ہوتا ہے۔ اب ان بورڈز کو ”حدود حرم“ سے بدل دیا گیا ہے۔
عموماً یہ بات معروف ہے کہ غیر ”مسلم حرمین“ میں داخل نہیں ہو سکتے۔ اس سلسلے میں فقہا ء کی مختصر آراء یہ ہیں۔ عطاء بن رباح اور قتادہ کے نزدیک غیر مسلموں کا حرم میں داخلہ ممنوع ہے۔ امام مالک و شافعی فرماتے ہیں کہ : ”مشرک مسجد حرام میں داخل نہیں ہو سکتا“۔ مکہ میں داخل نہ ہونے سے مراد ہے کہ حج کے لیے حرم مکہ میں داخل نہ ہوں۔ سعودی عرب میں حنبلی مسلک رائج ہے جس کے مطابق حدود حرم ”جس کا رقبہ کعبۃ اللہ کے اطراف میں تقریباً بائیس کلومیٹر ہے“ میں غیرمسلموں کا داخلہ شرعاً منع ہے۔ نبی کریم نے حضرت ابو بکر صدیق سے 9 ہ میں اعلان کروایا ”کہ اس سال کے بعد کوئی مشرک حج نہیں کرے گا۔ تمام مسلمانوں کا اس پر اتفاق ہے کہ مشرکوں کو حج اور افعال حج سے روکا جائے گا۔
تاریخی اعتبار سے دور نبوی کی بہت سی مثالیں یہ ثابت کرتی ہیں کہ غیر مسلم مسجد نبوی میں ٹھہرائے گئے۔
•وفدبنو ثقیف کے لیے حضور اکرم نے مسجد میں قبہ تعمیر کرایا۔ صحابہ نے عرض کیا کہ یہ لوگ نجس ”ناپاک“ ہیں! تو آپ نے فرمایا لوگوں کی (بد عقیدتگی کی) نجاست زمین پر اثر انداز نہیں ہوتی۔ •حضرت ابو سفیان مسلمان ہونے سے قبل مسجد نبوی میں داخل ہوئے۔ • نبی کریم نے بنی حنیفہ قبیلے کے ثمامہ بن اثال کو گرفتار کر کے مسجد نبوی کے ستون سے باندھا۔ •مشرکین قریش اپنے بدری قیدیوں کو فدیہ دے کر چھڑانے آئے تووہ مسجد نبوی میں رات گزاری۔
•نجران کے عیسائیوں کے 60، رکنی وفد کو مسجد نبوی میں ٹھہرایا گیا۔ آیت (”اس سال کے بعد مشرک مسجد حرام کے قریب نہ آئیں“ سے مراد یہ ہے کہ وہ مسجد حرام پر غلبہ حاصل کریں، اس کے منتظم بنیں یا برہنہ طواف کریں جیسے زمانہ جاہلیت میں ان کی عادت تھی۔
المختصر غیر مسلم، اہل کتاب اور مشرکین مسجد میں یا حرمین میں داخل ہو سکتے ہیں۔ منع اس وقت کیا جائے گا جب بے ادبی، فتنہ فساد یا قبضہ کی نیت سے
آئیں۔ بھارتی وفد کے دورے پر ”ناقابل یقین“ اور دیگر عنوانات کے تحت یہ ثابت کرنے کی کوشش کی گئی کہ غیر مسلم مدینہ میں داخل ہی نہیں ہوسکتے جبکہ حقائق اس کے برعکس ہیں۔ علم نہ ہو نے کے باعث لوگوں کو غلط فہمی ہے کہ مدینہ میں غیرمسلموں کا داخلہ منع ہے حالانکہ ان کا عارضی طور پر آنا جائز، مستقل آباد ہونا منع ہے۔ اگر غیر مسلم مدینہ منورہ کے مقدس مقام پر کسی ضرورت کے تحت عارضی طور پر آتے ہیں تو حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں اس کا پابند بنائے کہ وہ بے پردگی، بے حیائی سے بچیں اور اسے تفریحی مقام نہ سمجھیں۔ سعودی حکومت نے وفد کو سمرتی کی درخواست پر تینوں مقامات کا دورہ کرنے کی خصوصی اجازت دی تھی۔ بھارتی وفد میں شامل خواتین نے ساڑھی پہن رکھی تھی۔ سر پر دوپٹہ تک نہیں تھا اس کا شکوہ بجا ہے۔
مکہ میں حدود حرم کافی وسیع ہیں جب کہ مدینہ میں نہیں۔ قبا اور جبل احد حرم نبوی سے باہر ہیں۔ دورے کی وائرل ویڈیوز کے مطابق سمرتی ایرانی مسجد نبوی کے اندر نہیں گئیں۔ تصاویر میں مسجد نبوی کے مینار کافی دور دکھائی دے رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر صارفین کی بڑی تعداد کی جانب سے یہ استفسار بھی کیا گیا کہ اس صورتحال کی ذمہ داری کس پر عائد ہوتی ہے میزبان ملک پر یا پھر مہمان ملک کے ان ارکان پر جنہوں نے مسلمانوں کے مقدس مقامات کے مذہبی تقاضوں کو ملحوظ نہیں رکھا۔
ہماری رائے کے مطابق دونوں اس کے ذمہ دار ہیں۔ ماضی میں حدود حرم میں داخلہ منع ہے کی عبارت مدینہ منورہ کے تقدس کے پیش نظر اپنائی گئی تھی کیونکہ عام تاثر یہ ہے کہ حرم مکی کی طرح حرم مدنی میں بھی غیر مسلم داخل نہیں ہو سکتے۔ آں حضرت ﷺ مدینہ تشریف لائے تو آپ نے مذہب کی بنیاد پر کسی کو بے دخل نہیں کیا بلکہ ان ہزاروں افراد کی سکونت کو تسلیم کیا گیا۔ مسلمانوں اور غیر مسلموں کے درمیان طے پانے والے امن معاہدوں اور سماجی تحفظ کے معاہدوں میں غیر مسلموں کو مکمل تحفظ دیا گیا۔
فقہی اعتبار سے حرم مکی کے برعکس حرم مدنی میں غیر مسلموں کے داخلے پر پابندی نہیں بلکہ بعض فقہاء مدینہ منورہ میں غیر مسلموں کے تجارتی مقاصد اور تعمیرات کے لیے داخلے کی اجازت کے قائل ہیں۔ اموی خلیفہ ولید بن عبدالملک نے مسجد نبوی کی توسیع کا کام عیسائیوں سے کرایا۔ مدینہ منورہ کا دینی مقام و مرتبہ اپنی جگہ مسلم ہے۔ آپ ﷺ نے اس شہر کو ایک نئی حیثیت دی۔ جس میں ”عیر سے ثور“ تک کے مقام کو حرم قرار دیا۔
22 کروڑ مسلمانوں پر مودی حکومت نے زمین تنگ کر رکھی ہے جس کا ثبوت تاریخی بابری مسجد کی جگہ رام مندر کا افتتاح ہے۔ مودی حکومت کا ایک طرف مسلمانوں پر ظلم اور دوسری جانب ایک ہندو وزیر کو سعودی عرب بھیج کر سیکولرازم کا پرچار کرنا سراسر منافقت اور دوغلا پن ہے۔ بھارت اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی کی رکنیت حاصل کے لیے بھی کوشاں رہا ہے مگر پاکستان نے ہمیشہ اس اقدام کی مخالفت کی۔ سمرتی ایرانی کے دورے میں مدینہ منورہ کے تقدس کا خیال رکھنا بہر صورت ضروری تھا۔ مسلمان اگر غیر مسلموں کے مقدس مقامات میں جاتے ہیں تو وہاں کے آداب ملحوظ رکھتے ہیں۔ محمد بن سلمان کے دور حکومت میں جدت کی حدت کچھ زیادہ ہی ہے لیکن بعض اوقات ایسے مقامات جن کے ساتھ مذہبی تقدس وابستہ ہو وہاں خرد کی ضرورت ہوتی ہے دیوانگی کی نہیں :
خرد کے شہر میں دیوانگی نہیں ہوتی

