نصير ميمن اور ان کی تحریریں
پاکستان میں ایسے لکھنے والے بہت کم ہیں جو تاریخ پر اردو یا دیگر قومی زبانوں میں لکھ سکتے ہوں اور جن کا نقطہ نظر آزادانہ اور معروضی ہو۔ ایسے لکھنے والے انگلیوں پر گنے جا سکتے ہیں۔
بلوچستان کے شاہ محمد مری نے تن تنہا وہ کام کر دکھایا جو کئی ادارے مل کر بھی نہیں کر پاتے۔ انہوں نے اردو اور بلوچی میں سو سے زیادہ کتابیں تصنیف کی ہیں۔ جن میں تاریخ کے پوشیدہ گوشوں کو اجاگر کیا ہے اور ایسے مجاہدین کے تذکرے ہیں جنہوں نے جمہوریت اور انسانی حقوق کی بالادستی کے لیے اپنی زندگیاں وقف کر دیں۔
سرائیکی زبان میں تاریخ سے زیادہ فکشن پر لکھا جا رہا ہے مگر ایسا فکشن جو تاریخ کو سمجھنے میں کار آمد ہے اور سرائیکی کے استحصال کی بڑی واضح تصویر پیش کرتا ہے۔ حفیظ خان، نذیر لغاری، رانا محبوب اختر اور رفعت عباس وغیرہ نے سرائیکی زبان و ادب کی ترویج کے لیے اکیسویں صدی میں خاصا کام کیا ہے۔
سندھی زبان میں ایک نمایاں نام نصیر میمن کا ہے جن کی تازہ ترین کتاب ”برطانوی راڄ ۾ پنجاب جی ترقی“ ان کی تحقیق کا اعلی نمونہ ہے۔ لیکن اس کتاب کی اہمیت پر بات کرنے سے قبل سندھی اور انگریزی زبانوں میں نصیر میمن کی کچھ دیگر تحریروں پر بات کرنا ضروری ہے۔
نصیر میمن اب تک دو درجن سے زیادہ کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں ملک بھر کے اور خاص طور پر سندھ کے ترقیاتی مسائل پر بات کی گئی ہے۔
مثال کے طور پر نصیر میمن کی انگریزی کتاب ”Discriminatory development paradigm of Pakistan“ یعنی ”پاکستان میں ترقی کے امتیازی طریقہ کار“ پر تفصیل سے بات کی گئی ہے۔ اس کتاب کے 2011 کے بعد کئی ایڈیشن شائع ہو چکے ہیں۔ 240 صفحات کی اس کتاب کا پہلا حصہ ملک کے سیاسی، سماجی اور معاشی مسائل کا احاطہ کرتا ہے جب کہ دوسرے حصے میں پانی اور ماحولیاتی مسائل کے ساتھ موسمیاتی تبدیلیوں اور گلیشیئروں کے پگھلنے کے ساتھ سیلاب کے اسباب پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
سن دو ہزار بارہ میں ان کی سندھی کتاب ”بدلجندڙ وقت ۽ سنڌ“ یعنی ”بدلتا دور اور سندھ“ پر بات کی گئی ہے۔
اس کتاب میں نصیر میمن نے سندھ کے بدلتے ہوئے سیاسی محرکات اور پیپلز پارٹی کے 2008 سے بعد کے دور حکومت پر لکھا ہے۔ ان کے موضوعات میں سندھ کے لیے کراچی کی اہمیت اور شہری ترقیاتی کاموں کے لیے مطلوبہ محتاط رویے شامل ہیں۔
سن دو ہزار سترہ کے بعد نصیر میمن نے تاریخ پر لکھنے کو ترجیح دی ہے۔ ان کی کتاب ”ہاڻوڪی سنڌ جی تاریخ“ یا ”آج کے سندھ کی تاریخ“ 2017 میں شائع ہوئی۔ اس میں آزادی کے بعد سندھ کے معاشی اور سیاسی ارتقاء پر بات کی گئی ہے۔ کتاب کا آغاز مرکزی حکومت اور صوبوں کے درمیان رسہ کشی سے ہوتا ہے۔
نصیر میمن کے خیال میں مرکز کے سخت رویے کے نتیجے میں ملک بھر میں قوم پرستی کے رجحانات پروان چڑھے جنہیں ون یونٹ نے مزید خراب کر دیا۔
تمام صوبوں کو ختم کر کے ایک صوبے مغربی پاکستان کی تشکیل نے لاہور کو طاقت کا مرکز بنا دیا۔
نصیر میمن کی اگلی کتاب ”سنڌ سوچی ٿی“ یا ”سندھ سوچ رہی ہے“ تھی جو 2021 میں شائع ہوئی۔ اس میں گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے اس ممکنہ لائحہ عمل کی بات کی گئی ہے جو سندھ کی ترقی کے لیے ضروری ہے تاکہ یہ صوبہ اپنے بہتر طرز حکمرانی کے ساتھ آگے بڑھ سکے۔ ان کے خیال میں سندھ کو ایک نئی فکر کی ضرورت ہے کیوں کہ سندھ میں صنعتیں زوال کا شکار ہیں اور پیپلز پارٹی کی لگا تار تین صوبائی حکومتوں کے باوجود یہاں شاید ہی کوئی نئی صنعتیں لگانے پر توجہ دی گئی ہو۔ سندھ میں دیہی اور شہری دونوں علاقوں کے عوام نے شدید معاشی مشکلات کا سامنا کیا ہے۔
سن دو ہزار تئیس میں نصیر میمن کی ایک اور سندھی کتاب منظر عام پر آئی ”پاکستان جی سیاسی تاریخ“ جس میں آزادی کے بعد سے لے کر آصف زرداری کی صدارت کے خاتمے تک کے دور کا احاطہ کیا گیا ہے۔
اس کتاب میں سندھ کے علاوہ پورے پاکستان کی سیاست کا سرسری جائزہ لیا گیا ہے اور پارلیمان کی ناکامی اور ریاست کی مضبوطی جیسے موضوع زیر بحث لائے گئے ہیں۔ شروع میں گورنر جنرل اور پھر مختلف صدر پاکستان مسلسل پارلیمان اور وزرائے اعظم کو ناکام بنانے کی سازشیں کرتے رہے۔
نصیر میمن کے خیال میں صوبائی حکومتوں کی پے درپے برطرفیاں تمام صوبوں میں مایوسی کا باعث بنیں۔
قرار داد مقاصد نے بھی آئین سازی کو نقصان پہنچایا اور پورے ملک کو مذہبی طور پر انتہا پسندی کے راستے پر ڈالا۔
اور اب بات کرتے ہیں نصیر میمن کی تازہ ترین کتاب جس کا عنوان ہے ”برطانوی راج پنجاب جی ترقی“ اس سندھی کتاب کا اردو ترجمہ ضرور ہونا چاہیے۔
اس کتاب میں مغل دور کے انتظامی اور فوجی ڈھانچے سے بات کا آغاز کیا گیا ہے اور سولہویں صدی سے لے کر برطانوی دور تک فوجی تشکیل اور اس کے پنجاب پر اثرات پر بات کی گئی ہے۔ نصیر میمن نے مختلف کتابوں، دستاویزات اور تحقیقی مقالوں کی مدد سے برطانوی راج میں پنجاب کا تجزیہ کیا ہے۔
مصنف کا یہ بھی کہنا ہے کہ اٹھارہ سو ستاون کی جنگ آزادی تک برطانوی ہند کی فوج میں پنجاب کی بالا دستی نہیں تھی کیوں کہ اس سے قبل بنگال مرکزی حیثیت رکھتا تھا اور وہیں پر برطانوی فوج کا انحصار تھا۔ جب جنگ آزادی کے نتیجے میں بنگال نے برطانیہ کے خلاف سر اٹھایا تو برطانوی حکم ران حیران رہ گئے اور پھر انہوں نے پنجاب سے زیادہ بھرتیاں کرنا شروع کیں اور توقع لگائی کہ پنجابی فوجی زیادہ فرما بردار ثابت ہوں گے۔
بتدریج برطانوی حکم ران پنجاب کی طرف مائل ہوتے گئے اور بنگال کا پسندیدہ بننا گیا جہاں سے بھرتیاں کم کردی گئیں۔ ہندوستان کے مشرقی علاقوں سے بھرتیاں کم ہوئیں تو مغربی اور شمالی مغربی علاقوں سے فوج میں زیادہ لوگ آنے لگے۔
بیسویں صدی کے آغاز تک بنگال سے فوجیوں کی بھرتی تقریباً ختم کردی گئی اور یہی وجہ تھی کہ آزادی کے وقت افواج میں بنگالیوں کی تعداد نہ ہونے کے برابر رہ گئی تھی اور پاکستان بننے کے بعد پاکستانی فوج میں بھی پنجابی اور پختون فوجی نمایاں حیثیت رکھتے تھے جو آبادی میں ان کے تناسب کے مقابلے میں کہیں زیادہ تھی۔ اب انہوں نے بھی بنگالیوں کو شک و شبے کی نظر سے دیکھنا شروع کر دیا جو جمہوری حقوق مانگ رہے تھے۔ یہ شک و شبہ دراصل انگریزوں سے ورثے میں ملا تھا جو نئے آقاؤں نے اپنا لیا۔
اس کتاب میں پہلی جنگ عظیم کا ذکر ہے جس کے نتیجے میں فوج میں پنجاب کی موجودگی میں اضافہ ہوا۔
”مارشل لائیں“ یا ”جنگ جو نسل“ کا نظریہ اس غلط فہمی پر مبنی تھا کہ کچھ ”نسلیں“ دیگر کے مقابلے میں زیادہ بہادر اور جرات مند ہوتی ہیں۔ اس نظریے کے ذریعے کوشش کی گئی کہ ایک طرح کا نسلی تفاخر پیدا کر کے کچھ لوگوں کو بڑا جنگ جو اور لڑاکا ہونے کا سبق دیا جائے۔ اس سے یہ تاثر پروان چڑھا کہ دیگر قومیتیں اتنی بہادر اور اور حوصلہ مند نہیں ہیں کہ جتنے شمال اور شمال مغربی علاقوں سے تعلق رکھنے والے لوگ۔
غالباً یہ ہی وجہ تھی کہ صوبائی حکومتوں پر اعتماد نہ کیا گیا اور انہیں برطرف کیا جاتا رہا۔ گو کہ نصیر میمن صاحب یہ وضاحت کرنے سے قاصر ہیں کہ خود سندھی وزرائے اعظم کے ادوار میں بھی صوبائی حکومتیں برطرف کی گئیں۔
نصیر میمن کا کہنا ہے کہ ریاست کے تمام شعبوں اور اداروں میں رفتہ رفتہ یہی ”مارشل لاء“ یا ”جنگ جو“ اقوام بالا دست ہوتی گئیں اور انہوں نے سول اور فوجی افسر شاہی میں فیصلہ کن مقام حاصل کر لیے جس کے نتیجے میں قومی یکجہتی کو نقصان پہنچا۔ اس کتاب میں جاگیرداروں اور مذہبی رہ نماؤں کے کردار پر بھی پردہ چاک کیا گیا ہے۔ جنہوں نے اس جنگ جویانہ نظریوں ترویج کی اور انہیں مضبوط کیا۔
برطانوی حکم رانوں نے ان ہی ”جنگ جو“ اقوام کو نئی آبادیاں بسانے کے لیے استعمال کیا اور انہیں بڑے خطہ اراضی عطا کیے جس سے زرعی معیشت کا ایک نیا معاشی ڈھانچہ وجود میں آیا جس نے دیگر قومیتوں کو نظر انداز کیا خاص طور پر سندھی اور بلوچ کو۔
آزادی کے بعد بننے والی بیراج کالونیوں میں بھی یہی رجحان نظر آتا رہا۔ ون یونٹ کے قیام کے بعد پورے مغربی پاکستان کی تقرریاں سرکاری ملازمتوں پر لاہور سے ہی ہوتی رہیں۔
ہندوستان سے آنے والے مہاجر آزادی کے بعد پاکستان کے شروع کے عرصے میں خاصے طاقت ور رہے اور ابتدائی افسر شاہی کا بڑا حصہ ان ہی پر مشتمل رہا لیکن پھر وہ ”جنگ جو“ اقوام کے مقابلے میں پیچھے ہٹنے پر مجبور ہوئے۔
نصیر میمن کے دیے گئے اعداد و شمار کے مطابق 1947 میں تقریباً پچھتر فی صد انتظامی عملہ پنجاب اور یوپی سے تعلق رکھتا تھا۔
اس کتاب کے آخری دو ابواب بہت معلوماتی ہیں جن میں جنوبی پنجاب کے جاگیرداروں کی تفصیلات بھی بھی موجود ہیں جنہوں نے برطانوی حکم رانوں کے لیے خدمات انجام دیں۔
اس کتاب کا اردو ترجمہ ضرور ہونا چاہیے کیوں کہ ان موضوعات پر انگریزی میں خاصا مواد پہلے سے موجود ہے


