اپنوں سے جنگ
شیرو کچھ عرصہ کی چھٹی پر اپنے گاؤں آیا تھا۔ ایک دن صبح اپنے پتھر کے گھر کے سامنے لکڑی کی ٹوٹی کرسی پر بیٹھا داس کیپٹل کھولے، مارکس کی مثالوں کو بزور تشریح سمجھنے میں مصروف تھا۔ اپنے علاقہ کی ناہمواریوں کو اس نقطہ نظر سے دیکھ رہا تھا۔ اور ساتھ میں سوچ بھی رہا تھا کہ مارکس کو پڑھتے جو انکشافات ہوئے ہیں۔ ان کو کس طرح اپنے لوگوں تک پہنچا سکوں گا۔ تھوڑی دیر بعد اسے اپنے سائیڈ پر پڑے سائلنٹ موبائل کے سکرین پر روشنی دکھی۔ جب کال اٹھائی تو دوست کی آواز دوسری جانب آنے لگی۔ یار صبح کا کالم پڑھ کر بڑا مزے آیا ہے مگر اس طرح حکومتی پالیسیوں کو تنقید کا نشانہ بنانا، آپ کے مستقبل کے لیے ٹھیک نہیں ہے۔ کیونکہ کل آپ نے کسی سرکاری ملازمت کے لئے جانا ہو گا۔ وہ سارا ریکارڈ دیکھتے ہیں۔
جی! مجھے پتہ ہے آئندہ خیال کروں گا۔
فون دوبارہ اسی جگہ رکھ دیا۔ اب کچھ ہی لمحے گزرے تھے۔ ابو جان کمرے سے باہر نکلے، ہاتھ میں کتاب دیکھ کر مصنوعی مسکراہٹ چہرے پر لائے قریب پہنچے۔ مگر کتاب کا ٹائٹل پڑھ کر بے اطمینانی سی پیدا ہو گئی۔ بیٹا! اگلے مہینے آپ کے امتحانات ہیں آپ اس وقت بھی غیر ضروری کتب کے مطالعے میں مصروف ہیں۔ کچھ اپنے مستقبل کا خیال کرو، اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کی زندگی کا بھی خیال کرو۔ اگر نمبر کم آ جاتے ہیں تو پیسہ دے کر بھی کوئی کلرک بھرتی نہیں کرے گا۔
جی! مجھے پتہ ہے آئندہ خیال کروں گا
اتنی دیر میں بڑا بھائی ابو کا شور سن کر برآمدے میں پہنچ گیا۔ ساتھ ہی کچھ کہنے کی کوشش کی مگر ابو کو بولتے پاکر چپ ہو گئے۔ جب ابو مڑ کر جانے لگا تو بھائی روک کر فیس بک پہ ڈالی پوسٹ کی رنج کا اظہار کرنے لگے، کہ بھائی آپ چھوٹے ہو، آپ کو ان کی طاقت کا نہیں پتا کتنے ظلم لوگ ہیں۔ اگلے دفعہ اس وڈیرے کے خلاف لکھتے وقت ہمارے سفید ریش باپ کو اپنے ذہن میں لانا۔
جی! مجھے پتہ ہے آئندہ خیال کروں گا
یہ سن کر ساتھ ہی نکل جاتا ہے اب شیرو کے زبان پر صرف یہی ایک جملہ تھا جو ہر کسی کے سامنے دھرتا تھا۔ اب ان سب کی باتیں سن کر شیرو کتاب بند کر کے، سوچنے لگ گیا تھا۔ کہ یہ سب اپنے پیار کا اظہار بھی سرمایہ داری نظام کے نیچے دب کر کام کرنے کو ظاہر کرتے ہیں۔ اور وہ مجھے اس جیل میں ڈالنا چاہتے ہیں جس کی چابیاں اس سرمایہ دار کے پاس ہیں جو سات سمندر پار بیٹھا ہے۔
اب اس کا کتاب پڑھنے کا دل نہیں کر رہا تھا تو موبائل اٹھا کر اس دن کا اخبار کھول کر پڑھنے لگا۔ اس کے پہلے صفحے میں آئی ایم ایف کی طرف سے حکومتی ملازمین کی پنشن کا خاتمہ اور کچھ ڈپارٹمنٹ میں عرضی ملازمتیں دینے کی شرائط پر حکومت کی رضامندی کا اعلان درج تھا۔ اور جب اگلا صفحہ پلٹا تو اس میں سندھی پروفیسر کی لاش کی تصویر چھپی ہوئی تھی۔ جس کا قصور فرانس چھوڑ کر سندھ میں آباد اپنے لوگوں کو راہ راست کا درس دینا تھا۔ جس کو گزرے دن قبائلی انتقام میں مار دیا گیا تھا۔
اتنی دیر میں موبائل کی سکرین پر ایک اشتہار کی جھلک نمودار ہوئی۔ کہ آسٹریلیا پڑھنے کا سنہری موقع۔ شیرو نے جلدی اس پر کلک کیا اور چھ ماہ بعد شیرو اپنے گھروں والوں کو خیرباد کہہ کر آسٹریلیا پہنچ گیا تھا۔ یہ اب ہر دوسرے پاکستانی نوجوان کی کہانی ہے۔ کوئی بھی اپنوں سے لڑنا نہیں چاہتا ہے۔ اور نہ کہ سسٹم کے خلاف بغاوت کا علم بلند کرنا چاہتا ہے۔ تو اس سب سے راہ فرار اختیار کرنے کی چکر میں سال بھر لگا رہتا ہے اور اکثر کامیاب ہو جاتے ہیں۔
پچھلے کچھ عرصے میں تقریباً بیس لاکھ نوجوانوں اس ملک کو خیر باد کر کے چھوڑ کر چلے گے۔ اور کئی ہزار لائن میں لگے اپنے باری کے انتظار میں ہیں۔ اب جب ہم کسی بزرگ کے پاس بیٹھتے ہیں تو ایک ہی نصیحت کرتے ہیں کہ کسی طرح باہر نکل جاؤ۔ کیونکہ اس ملک میں عام لوگوں کے لئے رہائش ناممکن بنتی جاری ہے۔ اس ملک میں تعلیم طبقاتی بن چکی ہے۔ سفارش کے بغیر روزگار کا ملنا اب ناممکنات میں سے ہے۔ سیاست یا سیاست سے وابستہ کسی عمل کا حصہ بننے پر نوجوانوں کو ہراساں کیا جاتا ہے۔
ہماری بلوچی زبان میں مشہور ہے کہ جس گھر میں زیادہ نوجوان ہوں اس گھر کا سرمہ اور مستقبل محفوظ ہاتھوں میں ہوتا ہے۔ مگر پاکستان میں سب سے بڑی نوجوان نسل ہونے کے باوجود بھی چیزیں برعکس نظر آ رہی ہیں۔ روز معاشی تنگدستی کی وجہ سے خودکشی کرنے والے نوجوانوں کی خبریں میڈیا پہ چلتی ہیں۔ ان کو دیکھ کر سوچنے پہ مجبور ہوتا ہوں کہ نوجوان تو ہر گھر میں امید کی کرن ہوتے ہیں۔ گھر والے نوجوانوں کو اپنے اچھے مستقبل کی ضمانت سمجھتے ہیں۔
اور اگر وہ نوجوان مایوسی کا شکار ہو رہے ہوں۔ تو اس گھر کے سربراہان کو سوچنا چاہیے۔ کہ مستقبل قریب میں اس گھر کی کیا شکل ہوگی۔ مزید یہ کہ ان سربراہان کو اگر پالسی بنتے وقت مشورے کا موقعہ ملے تو ان نوجوان نسل کو ذہن میں رکھیں۔ اس ملک کی پالیسیاں بنانے والے باہر دنیا میں بیٹھے سرمایہ دار کو کیا پتہ۔ کہ اب تک کتنے خاندانوں کے مستقبل تاریک ہو چکی ہیں۔ اب اس نظام سے جاں چھوڑنے کے لیے کسی بڑی تبدیلی کی ضرورت ہے۔ اور وہ تبدیلی نوجوان نسل خود لائے گی۔
ظالم ہے وہ کہ ظلم سے ہی تھک نہیں رہا
اب تو مجھے گمان پہ بھی شک نہیں رہا
یہ اور بات ہے کہ میں کوتاہ دست ہوں
دروازہ بھی تو قابل دستک نہیں رہا


