اصل اور محفوظ پناہ گاہ


شہر کے اندر ہی اک چھوٹا سا سفر درپیش تھا۔ احباب دوران سفر خوش گپیوں میں مصروف تھے کہ سفر بھی کٹ جائے اور گفتگو بھی چلتی رہے۔ ایک نیک دل شخص نے سوچا کہ سب معمول کی باتوں میں مصروف ہیں تو کیوں نہ ان کو کوئی نصیحت کی جائے۔ سمجھدار انسان تھے، فوراً لٹھ لے کے نہیں دوڑ پڑے اور نہ ہی نوجوانوں کے لتے لینے لگے۔ بلکہ جیسے ہم سب بچپن میں ویڈیو گیم کھیلنے کے شوقین تھے ویسے ہی طرز پہ انہوں نے بات شروع کی۔

کہنے لگے کہ اگر اس شہر میں کوئی بہت بڑی آفت (بلا) آ جائے اور وہ ہاتھوں سے پتھر اٹھا اٹھا کے پھینکنا شروع کر دے اور مزید ستم یہ کہ منہ سے بھی آگ کے شعلے نکالنے لگے کہ سب کچھ جلا کے بھسم کرنا شروع کر دے، تو ایسی صورت میں اپنے بچاؤ کے لئے ہمیں کیا کرنا چاہیے۔ دوستوں کو یہ شغف دلچسپ لگا کہ روزمرہ کی باتوں سے ہٹ کے کوئی نئی بات نکلی ہے۔ سب اس مباحثے میں کود پڑے کہ اس پہیلی کو حل کرتے ہیں۔

ہر کوئی اپنی اپنی فہم کے مطابق اس مشکل کا حل تجویز کرنے لگا۔ ایک نے کہا کہ میں دوڑ کر اس بلا سے دور چلا جاؤں گا۔ تو جواب آیا کہ نوح علیہ السلام کے طوفان کے دوران ان کے بیٹے نے بھی کہا تھا کہ پانی کہاں تک چڑھے گا، میں دوڑ کر بلند پہاڑ پہ چڑھ جاؤں گا لیکن آخر وہ بھی ڈوب گیا تھا۔ کتنی دور بھاگو گے، آخر اس بلا کے پھینکے پتھر یا اس کی آگ کے شعلوں کی لپیٹ میں آ ہی جاؤ گے۔ سبھی اپنی اپنی سوچوں میں غلطاں تھے کہ کیا حل ہو سکتا لیکن کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔

جیسے پہیلی نہ بوجھ پانے پہ سب پہیلی پوچھنے والے ہی کی طرف رخ کرتے ہیں ایسے ہی آخر میں سب دوست انہی محترم سے پوچھنے لگے کہ آپ بتائیں کہ پھر کیسے اس بلا سے بچا جائے جو سب کو مارنے ہی کے درپے ہو گئی ہو۔ تو کہنے لگے کہ اس وقت سب سے محفوظ پناہ گاہ وہ بلا خود ہے۔ اسی کی طرف دوڑو اور اس کی گود میں بیٹھ جاؤ۔ وہاں بیٹھ کے اس کے پھینکے گئے پتھر دور جاتے ہوئے دیکھو، آگ کی لپٹیں نکلتی دیکھو، اس سب عذاب سے لیکن آپ محفوظ رہو گے۔

اس وقت کے دور طالبعلمی میں اپنے فہم کے مطابق یہ مثال سمجھ آ گئی کہ اس بلا کا مقابلہ کرنے کے لئے یہی حکمت عملی ٹھیک ہے۔ طالبعلمی کے بعد جب عملی دور کا آغاز ہوا تو یہی بات ایک بڑے تناظر میں بھی درست لگنے لگی کہ اس بلا کو اگر منبع سمجھ لیا جائے اور اس کے پتھروں اور آگ کے شعلوں کو آزمائشوں سے تعبیر کر لیا جائے تو اصل پناہ گاہ تمام جہانوں کے خالق و مالک کی ذات ہی بنتی ہے۔ اس محفوظ پناہ گاہ میں بیٹھ کے کچھ حدت کا احساس تو ہو گا لیکن وہ نرم گرم احساس اس ذات کے قرب کا باعث ہی بنے گا۔

رب سے جڑا ہوا تعلق ہی ہر قسم کی آزمائشوں اور الائشوں سے بچا کے رکھے گا۔ اب یہ ہم پہ منحصر ہے کہ وہ تعلق ہم براہ راست اس ذات سے خود جوڑتے ہیں یا اس ذات سے جڑے ہوئے کسی بندے سے جڑ جاتے ہیں کہ دونوں کی منزل ایک ہے۔ رب سے بنا ہوا تعلق اس دنیا سے نا صرف بے نیاز کر دے گا بلکہ وہ اپنی رضا بخشش دے گا، جس سے بڑی کامیابی (الفوز العظیم) اس دنیا میں شاید کوئی اور نہیں۔ پنجابی کی خوب کہاوت ہے کہ:

بندہ رب وچ یا یبھ وچ
(بندہ یا تو رب میں منہمک ہوتا ہے یا پھر اپنے مصائب میں )


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments